____بسم اللہ الرحمان الرحیم____
_______"مكمل ناول"_______

______""عزت كا قرض""______

زندگی پہلو پر لکھی جانے والی بہت اہم تحریر آپ سب کے لیۓ اسپیشلی آج کے نوجوان لڑکوں کے نام.

°°°°°°°°°°°°°°
ماں مجھے اور نئ پڑھنا.
بس مجھے اب بالکل بھی یونی نہیں جانا.
ارے بیٹا تم پاگل تو نئ ہو گئ ہو.
تمھارا آخری سمسٹر چل رہا ہے کتنی مشکل سے تمھارے ابا نے محنت مزدوري کر کے تمھارے اب تک کے اخراجات اٹھاۓ اور اب آ کے تم ضد پہ آگئ کہ مجھے اب نئ پڑھنا.
آخر ایسی بات کیا ہوئی ہے.کچھ بتاتی بھی نئ ہو بس ایک ہی رٹ لگا رکھی کے نئ پڑھنا.

ہاں مجھے نئ پڑھنا تو بس نئ پڑھنا.
مگر نہ پڑھنے کی وجہ بھی تو ہوگی.اس وقت تمھارے ابا کی کتنی منتیں کر کے تمھارا داخلہ بھجوایا تھا.اس وقت تمھاری ضد تھی مجھے آگے پڑھنا ہے.اور اب جب آخری سمسٹر آ پہنچا تو پڑھائی چھوڑنے لگی.
اور اچھا خاصا تو پڑھ رہی تھی آج ایک دم تمھیں ہو کیا گیا ہے.استادوں نے تو نئ کچھ کہا.
نہیں انھوں نے کچھ بھی نہیں کہا.بس میرا پڑھائی سے دل اکتا گیا ہے.
لو اب آخری ہی تو سمسٹر ہے.
ماں پلیز آپ مجھے مجبور مت کریں.
آؤ بیٹا اطمینان سے بات کرتے ہیں.
آخر ایسی کیا بات ہے جو آج اتنی سہمی سہمی لگ رہی ہو.
مگر عاصمہ کے ساتھ جو پیش آیا وہ ماں کو بھی بتانے سے ڈر رہی تھی.
وہ بتانے سے گھبرا رہی تھی.مگر ماں کے اصرار پر اسے وجہ بتانی ہی پڑی.
وہ ماں....وہ آج جب......جب؟؟؟
بتانے سے پہلے ہی اسکی انکھوں سے آنسوں ٹپکنے لگے.
میرا پتر گھبرا کیوں ری ہے.بتاؤ ناں کیا ہوا.

وہ ماں آج جب میں یونی سے واپس آرہی توکچھ لڑکوں نے.....
عاصمہ کی زباں ایک بار پھر خاموش ہوگئ.ایک بار پھر کچھ ناں بتا سکی.
اب ماں کا چہرہ بھی پریشانی کے آثار دکھانے لگا.
میرا پتر رو مت کیا کیا لڑکوں نے مجھے بتاؤ میں خود جا کے ان کی خبر لوں گی.
ثریا اپنی بیٹی کے قریب بیٹھتے ہوئے اسکا هاته تھام کر اسے حوصلہ دینے کی کوشش کی.
عاصمہ ایک بار پھر اپنی بات کوآگے بڑھا نے لگی.
اب اشکوں کے ساتھ ساتھ سسکیاں بھی محسوس ہونے لگی.
وہ ماں....جب میں یونی سے نکلی تو کچھ لڑكوں نے میری عزت....عاصمہ کی زباں ایک بار پھر کچھ ناں بول سکی...اس بار عاصمہ ماں کے سینے سے لگ کے زارو قطار رونے لگی.
عزت لفظ سنتے ہی ثریا کے چہرے کا رنگ بھی اڑ گیا.
وہ گھبرا کے پوچھنے لگی.
عاصمہ کیا کیا لڑکوں نے تم آگے کچھ بولتی کیو نئ ھو.جو بات ہے وہ ساری مجھے بتاؤ.تمھیں کچھ نہیں ہوگا گھبراو مت.
ثریا نے ایک بار پھر حوصلہ دینے کی کوشش کی..
عاصمہ تم ساری بات بتاؤ کیا کہا آوارہ کتوں نے.
عاصمہ کچھ نا بول سکی.
ثریا نے عاصمہ کے دونوں کندھے پکڑ کے اسے اپنے سامنے کیا.
اور اپنے ہاتھوں کی ہتھیلی سے اس کے آنسوں صاف کرتے ہوۓ مخاطب کیا. عاصمہ یہ میں ہوں تمھاری ماں ہو.تمھارے ساتھ جو ہوا وہ بتاؤ اپنی ماں کو...
عاصمہ نے ایک بار پھر اپنی شرمناک آب بیتی بتانے کےلیۓ خود کو تیار کیا.
وہ ماں....جب.....جب میں...
وہ ڈر ابھی بھی اس کے دل سے نہیں جا رہا تھا.
جب میں...میں یونی سے گھر آرہی تھی تو کچھ لڑکوں نے میر عزت میں ہاتھ ڈالنا چاہا اور ایک لڑکے نے میرے سر سے ذبردستی ڈوپٹا اتار لیا...
عاصمہ ایک بار پھر زور زور سے رونے لگی اور اپنی ماں کے ساتھ چپک گئ.
کیوں ماں ایسا کیوں ہوا میرے ساتھ میں نے تو کبھی کسی غیر مرد کی طرف آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھا.خود کو ہمیشہ اس دنیا سے چھپا کے رکھا.پھر کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا..کیوں ، کیوں ، کیوں ،عاصمہ سسکیاں بھرتے ہوۓ زور زور سے چلا رہی تھی.
بہت کتابوں میں پڑھاتھا اگر لڑکی خود کو بچا کے رکھے تو کسی غیر مرد کی جئرات نہیں ہوتی وہ لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کے بھی دیکھے.اور میں بھی تو ہمیشہ خود کو چھپا کے رکھا پھر کیوں میری عزت کو اچھالا گیا.
کیوں ماں.....کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا...
ٹھیک ہے بیٹا آج کے بعد تم کبھی یونی نئ جاؤ گی...
میں اور تمھارے ابا نے یونی میں ایڈمیشن لینے سے اس وقت بھی روکا تھا مگر تمھاری ضد تھی کے محلے کی لڑکیوں جتنا پڑھنا چاہتی ہوں.مگر اب جو پڑھ لیا ہے وہ بھی بہت ہے.اور اگر تم بالکل بھی ان پڑھ ہوتی تو بھی ہم معاشرے میں جی لیتے مگر ہماری بیٹی بے عزت ھو کے گھر آۓ ہمیں معاشرے کو دکھانے کے لیئے ایسی ڈگریاں نہیں چائیے...تمھارے ابا شام کو آتے ہیں تو میں انھیں بھی بتادوں گی کہ عاصمہ کل سے یونی نئ جائے گی.
اور عاصمہ ہمیں فخر ہے کہ ہمیں اللہ نے عاصمہ جیسی نیک پاک لڑکی عطا کی...
ماں مجھے ابو پھر یونی نہیں بھیجے گے ناں..
عاصمہ کے دل سے ابھی بھی ان جنگلی درندوں کا خوف نہیں جا رہا تھا....
ہاں ، ہاں پتر نہیں بھیجے گے...
اب یہ اندر کا ڈر دور کرو اور جا کےکھانا کھا لو..

شام ہوتے ہی عاصمہ کے ابا کام سے گھر آگۓ...وہ روز آتے ہی پہلے عاصمہ کے پاس جاتے.آج جب عاصمہ کے روم میں گۓ تو وہ بیچاری ابھی بھی پلنگ پر لیٹی سسکیاں بھر رہی تھی...
نزیر احمد دیکھتے ہی گھبرا گۓ...
او میرا پتر کیا ھوا ہے.رو کیوں رہی ہو...

میں بتاتی ہوں عاصمہ کیوں رو رہی ہے.پیچھے سے ثریا کی آواز سنائی دی .....
ثریا عاصمہ کے ابا کو دوسرے کمرے میں لے گئ اور بتایا کہ کل سے عاصمہ سکول نہیں جاۓ گی.
مگر ہوا کیا ہے.آج آپ دونوں اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو..؟؟؟
ثریا نے ساری بات نزیر احمد کو بتا دی...
یہ سنتے ہی نزیر احمد ساری بات سمجھ گۓ.
وہ اپنا ندامت بھرا چہرہ لیۓ عاصمہ کے کمرے میں گۓ.
عاصمہ ابھی بھی پلنگ پہ لیٹی رو رہی...
بیٹی مجھے معاف کر دو پلیز خدا کےلئے مجھے کردو.
نذیر احمد نیچے فرش پر بیٹھے ہاتھ جوڑے عاصمہ سے معافی مانگ رے تھے...
ابا یہ آپ کیا کر رہے ہیں.عاصمہ ایک دم اٹھی.اور بابا کے ہاتھوں کو پکڑ کر چومنے لگی...
بیٹی یہ ہاتھ آپ کے پیار کے قابل نئ یہ آپ کے بہت بڑے مجرم ہیں مي خود آپ کا بہت بڑا مجرم ہوں.مجھے معاف کردو...
ابا آپ ھوش میں تو ہیں ایسا کیوں کر رہے مجھے شرمندہ نہ کریں آپ...
ہاں بیٹا آج ہی تو ہوش آئی ہے.
میں آپ کو شرمندہ نہیں کر رہا میں خود تم سے شرمندہ ہوں.
ابا پلیز آپ ایسا نہ بولے.
اور بیٹی اب بھی تم پڑھنے جاؤ گی.اب بے دھڑک ہو کے پڑھنے جاؤ.کوئی تمھاری طرف انکھ اٹھا کے بھی نہیں دیکھے گا..
ابا پلیز یہ ظلم نہ کرے مجھ پہ.میں اب کبھی گھر سے باہر قدم بھی نہیں رکھوں گی.
بیٹا کہا نا اب کوئی تمھاری طرف آنکھ اٹھا کے بھی نی دیکھے.بھروسہ رکھو اپنے ابا پہ.
مگر ابا آپ اتنی طاقت نہیں رکھتے کے کسی کو روک لو.
ہاں میں اتنی طاقت نہیں رکھتا مگر وہ اوپر والا بہت طاقت رکھتا ہے.
وہ تمھاری عزت کی حفاظت کرے گا...
وہ تو پہلے بھی میرے ساتھ ہی ہوتا تھا.مگر پھر کیوں ہونے دیا ایسا میرے ساتھ.

بیٹا وہ اوپر والا بہت بے نیاز ہے.اس نے یہ میرا قرض مجھے واپس لوٹایا ہے.جو میں بھول چکا تھا مگر وہ نہیں بھولا.
ثریا اور عاصمہ دونوں چونک گئ.
کیا مطلب ہے آپ کا ابا؟؟؟
بیٹا جب میں 21 سال کا تھا اور سکول پڑھتا تھا.تب یہ قرض میں نے اٹھایا تھا.میں نے بھی ایک لڑکی کاکسی کی بیٹی کا دوپٹہ اتارا تھا.تب تو میری شادی بھی نہیں ہوئی.آج اس بات کو 30 سال ہوگۓ ہیں اتنے سالوں بعد بھی اوپر والے نے میرا قرض یاد رکھا.اور میں نے صرف یہ ایک قرض ہی اٹھایا تھا جو آج مجھے واپس مل چکاہے.اب اس کے بعد وہ خود تمھاری حفاظت کرے گا..
اس کے بعد اگلے سمٹر تک عاصمہ روز يونی جاتی مگر پھر کبھی کسی نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھا.
izat ka qarz full novel

0 Comments: