دل ہوا کرچی کرچی (مکمل ناول)

دل ہوا کرچی کرچی (مکمل ناول)





دل ہوا کرچی کرچی (مکمل ناول)

تحریر: محمد اقبال شمس

کلاس شروع ہونے میں ابھی پندرہ منٹ تھے نورین اپنی سہیلی صاعقہ کے ساتھ خوشں گپیوں میں مگن تھی کہ اچانک کالی وہاں نورین پر نظریں ڈالتے ہوئے گزرا...نورین بولی دیکھو ہم پر کیسے نظریں ڈالتے ہوئے گزرا ہے رنگ دیکھا ہے اس کا کتنا کالا ہے بلکل توے جیسا دل کرتا ہے اسی توے پر دو روٹیاں پکا کر اسے ہی کھلادوں... صاعقہ نے یہ سن کر ایک قہقہہ لگایا اور بولی میڈم وہ ہم پر نہیں تم پر نظریں ڈالتے ہوئے گزرا ہے عاشق جو ہے تمھارا.... پھر وہ گانا شروع کردیتی ہے... ہم کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں ... ہم تیرے تیرے تیرے چاہنے والے ہیں.. ہم کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں..... نورین بولی: ارے بند کرو اپنی بھونڈی آواز.... کیا بھونڈی آواز !! ارے اگر یہ گانا میں ابھی فیس بک پر ڈالوں تو کیسی لائک اور کمنٹس کی برسات ہوتی ہے ..یہ کہہ کر وہ ایک زور دار قہقہہ لگاتی ہے...نورین بولی: ارے اور لڑکوں کا کام کیا ہے لڑکیوں کی پوسٹ پر تو ایسا جھپٹتے ہیں جیسے کوئی شکاری اپنے شکار پر...اور یہ جو تم کالی کے بارے میں بات کررہی ہو ایسے دل پھینک تو ہزاروں ملیں گے یونیورسٹی میں....ہاں کہتی تو تم بلکل ٹھیک ہو...پر کوئی ایک تو ہوگا تو تمھاری زندگی میں تمھارے خوابوں کا شہزادہ بن کر آئے گا... جب آئے گا جب دیکھا جائے گا ابھی تو فی الحال اٹھو کلاس کا ٹائم شروع ہونے والا ہے ...دونوں نے اپنی کتابیں اٹھائیں اور اپنی کلاس روم کی طرف چل دیں

*****************************

کالی جس کا اصل نام مراد تھا پر اپنے کالے رنگ کی وجہ سے پوری یونیورسٹی میں کالی کے نام سے مشہور تھا کالی نورین کو بے انتہا پسند کرتا تھا پر آج تک اس نے اسکا اظہار اس سے نہیں کیا تھا کیونکہ اس کو معلوم تھا جواب سوائے انکار کے اور کچھ نہ ہوتا...اس لئے بس وہ اسے دیکھ کر اپنی نگاہوں کو تسکین کا سامان مہیا کردیتا..

****************************
آج موسم کافی خوشگوار تھا صبح سے ہی فضا میں ٹھنڈی ہواوں کا راج تھا .. نورین اپنے بھائی کے ساتھ اسکوٹر پر بیٹھی یونیورسٹی آرہی تھی..عمیر آج موسم کتنا پیارا ہے ناں..نورین اپنے بھائی سے بولی...ہاں پیارا تو ہورہا ہے .. کہی یونیورسٹی سے چھٹی کا ارادہ تو نہیں ہورہا... نہیں نہیں بھلا چھٹی کیوں کرونگی لگتا ہے تمھارا اردہ ہورہا ہے دفتر سے چھٹی کا... نہیں بھئی دفتر میں کام بہت ہے میں تو ویسے بھی چھٹی نہیں کرسکتا.....یونیورسٹی آچکی تھی نورین نے اسکوٹر سے اتر کر اسے خدا حافظ کہا اور یونیورسٹی میں جیسے ہی داخل ہوئی اچانک اس کی نظر ایک لڑکے پر گئ جو اچانک اس کے سامنے آکر کھڑا ہوا اور بولا : جی میں اس یونیورسٹی میں نیو ایڈمیشن ہوں مجھے کلاس کا معلوم کرنا تھا... جی کس کلاس کا معلوم کرنا ہے اس نے کلاس کا بتایا تو وہ بولی ارے اتفاق سے میری بھی یہی کلاس ہے... اوہ گریٹ یہ تو اچھا ہوگیا پھر دونوں کلاس روم کی طرف چلدئے

*************************
اس کا نام سفیر تھا سفیر اس کو پہلی ہی نظر میں بھا گیا اس نے اس کا اظہار صاعقہ سے کیا تو وہ اچھل پڑی... ارے واہ تو آخر کارفائنلی میڈم کو بھی عشق کے بخار نے لپیٹ لیا لیکن دیکھو خیال رہے یہ بخار بڑا خطرناک ہوتا ہے جو سیدھا دل اور دماغ پر چڑھ جاتا ہے اور پھر اترتا بڑی مشکلوں سے ہے اور اس کا تو ابھی تک علاج بھی دریافت نہیں ہوا ہے...صاعقہ بولے جارہی تھی.. نورین اسے گھورتے ہوئے بولی...بس تمھاری بکواس ختم ہوگئی...کیوں اب آپ نے شروع کرنی ہے.. صاعقہ کی بچی اب تو میرے ہاتھوں سے پٹے گی..اور یہ جو تو بکواس کررہی ہے ایسا کچھ نہیں ہے بس ایسے ہی اچھا لگا تھا وہ.... میڈم بس یہی کافی ہے.. کہ بس اچھا لگا تھا پھر کچھ دنوں بعد بس یہی سب کچھ ہے...کیوں صحیع کہا ناں میں نے...صاعقہ کی بچی تو ایسے نہیں مانے گی ٹہر میں تجھے بتاتی ہوں ...یہ کہہ کر وہ اسے مارنے کے لئے اٹھی اور صاعقہ ہنستے ہوئے بھاگ کھڑی ہوئی

***********************
سنیں اگر آپ برا نہ مانے تو مجھے آپ کی ہیلپ چاہیئے ....سفیر نورین سے بولا ...جی مجھ سے ہیلپ؟ پر کیسی ہیلپ ؟ دراصل آپ کو تو معلوم ہے کہ میں نیا آیا ہوں مجھے کچھ نوٹس چاہیئے اگر ممکن ہو تو عنایت فرمادیں گی...جی ٹھیک ہے میں نوٹس ایک دو دن میں دے دونگی...جی بہت شکریہ ...
نورین نے نوٹس کیا دئیے یہی سے ان کی دوستی کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ۔۔۔۔
ایک دن ان کی کلاس کے پروفیسر صاحب نے اعلان کیا کہ یونیورسٹی کی طرف سے ایک پکنک کا پروگرام بنایا جارہا ہے جو اسٹوڈینٹ جانے کے خواہش مند ہوں وہ کل تک نام لکھوادیں ...یہ سن کر پوری کلاس میں خوشی کی لہر دوڑ گئی..
*******************
امی ہماری یونیورسٹی پکنک کا پروگرام بنا رہی ہے آپ ابو سے اجازت دلوادیں ...نورین اپنی امی کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے بولی...اچھا ٹھیک ہے شام کو تمھارے ابو آئینگے تو ان سے بات کرتی ہوں..لیکن بیٹا خیال رکھنا یوں لڑکیوں کا اس طرح باہر نکلنا بھی مناسب نہیں ہوتا....ارے امی زمانہ بدل گیا ہے..اب تو عورت مرد کے شانہ بشانہ چل رہی ہے دفتروں میں کالج و یونیورسٹی میں لڑکا لڑکی ساتھ ساتھ ہیں اب ایسی کوئی معیوب والی بات نہیں سمجھی جاتی ...ٹھیک ہے زمانہ ترقی کرگیا ہے لیکن بیٹا لڑکی کو اپنی حدیں معلوم ہونا چاہئیے اور کبھی بھی اسے پار
کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئیے بس اتنا خیال ہر لڑکی کو ضرور رکھنا چاہئیے....جی امی آپ کی نصیحتیں تو میرے لئیے مشعل راہ ہے..آپ فکر نہ کرئیں مجھے اپنی حدیں اچھی طرح معلوم ہے ......چلیں میں آپ کو اچھی سی چائے پلاتی ہوں.....ارے ہاں چائے کی تو ویسے بھی مجھے طلب ہورہی تھی...نورین چائے بنانے کے لئیے کچن کی طرف چل دی.....
********************
Dil hua kirchi kirchi by Muhammad Iqbal Shams

پکنک پر جانے کے لئے بس تیار کھڑی تھی آہستہ آہستہ تمام طلبا اس میں بیٹھنے لگے تھوڑی دیر میں بس اپنی منزل کی طرف چل دی...بس میں ایک ہلہ گلہ مچا ہوا تھا کہ اچانک ایک لڑکے کی آواز گونجی...Hey girls and boys ہم چاہتے ہیں کہ یہ سفر انجوائے کرتے ہوئے گزرے تو گانا ہوجائے پھر کچھ دیر تک گانے کا سلسلہ چلتا رہا پھر اچانک وہ ہی لڑکا بولا..اب سفیر ہمیں ایک نظم سنائیں گے ..نورین نے فورا پیچھے مڑ کر دیکھا تو سفیر کو مسکراتے پایا یہ دیکھ کر صاعقہ نے نورین کو کہنی ماری ...سفیر نے نظم پڑھنا شروع کی...
کاش میں تیرا موبائیل سام سنگ ہوتا
شام و سحر اسی بہانے تیرے سنگ ہوتا....
واہ واہ... پوری بس واہ واہ سے گونج اٹھی.
کاش میں تیرا موبائیل سام سنگ ہوتا
شام و سحر اسی بہانے تیرے سنگ ہوتا
سجا سنوار کے رکھتی بڑی چاہت سے مجھ کو
ہر روز مجھ میں ایک نیا رنگ ہوتا
نازک انگلی کے پوروں سے جب چھوتی مجھ کو
اپنی قسمت پر میں تو بس دنگ ہوتا
لگاتی مجھ کو سماعت سے بات کرنے کے لئیے
میرے انگ انگ میں اک جلترنگ ہوتا
سکھا دیا تو نے اپنا کر سلیقہ جینے کا
تو نہ اپناتی تو پھر میں بے ڈھنگ ہوتا
واہ واہ تمام لڑکے سفیر کی نظم کو داد دینے لگے جب کہ لڑکیاں مسکرا کر رہ گئی ..صاعقہ نے نورین کے کان میں کہا... لو موصوف تو عشق میں شاعر ہوگئے ہیں اور اپنے شعروں کہ ذریعے کیا خوبصورت خراج تحسین پیش کیا ہے آپ کو....یہ سن کر نورین شرما کر رہ گئی....یونہی ہلے گلے میں سفر خوب کٹا اور پھر ان کی پکنک کا پوائینٹ آگیا۔۔وہ جگہہ سی سائیڈ تھی لائین سے ہٹ بنے ہوئے تھے ایک ہٹ ان کا بھی بک تھا وہاں سب نے اپنے اپنے سامان رکھے اور پھر لڑکیوں نے الگ اور لڑکوں نے الگ ٹولیاں بنا کر انجوائے منٹ شروع کردی...نورین اور صاعقہ ننگے پاوں ساحل پر سیر قدمی کرتے ہوئے خوش گپیوں میں مگن تھی..اچانک اس کے موبائیل پر میسیج آیا اس نے دیکھا تو میسیج سفیر کا تھا.......لکھا تھا ...اب اپنی سہیلی کا پیچھا چھو ڑ کر کچھ ٹائم ہمیں بھی دے دیں میں پاس ہی وائیٹ رنگ والے ہٹ کے پاس ہوں....کس کا میسیج ہے؟ صاعقہ نے پوچھا.....سفیر کا ہے....او تو اچھا موصوف نے بلایا ہوگا جائیں مل لیں میں کباب میں ہڈی نہیں بنتی ہوں......ارے نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے....نہیں ایسی ہی بات ہے جاو مل لو ورنہ بیچارا سمندر میں کود کر کہی جان ہی نہ دے دے....صاعقہ تم بھی نہ....اچھا میں ابھی آتی ہوں... یہ کہہ کر وہ وائٹ ہٹ کی طرف چلدی جہاں سفیر اس کا انتظار کر رہا تھا.....شکر ہے آگئ ورنہ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ پکنک پر آنے کا مطلب ہی فوت ہوگیا ہے....اچھا ایسی بات ہے....وہ بولی.....جی... سفیر اس سے باتیں کرتے ہوئے ہٹ میں داخل ہوگیا.....اسی دوران ایک شخص بھی ان کا پیچھا کرتے ہوئے ہٹ میں داخل ہوا....ارے یہ کس کا ہٹ ہے اور ہم یہاں کیوں آگئے چلیں یہاں ہمیں کوئی دیکھ لے گا تو خواہ مخواہ باتیں کرئے گا..نورین بولی...ارے پریشان نہ ہو یہ ہٹ میرے ایک دوست کا ہے بس یہاں بیٹھ کر سکون سے بات کرتے ہیں پھر چلے جائیں گے فکر کیوں کرتی ہے...یہ کہہ کر اس نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا...ارے ہاتھ تو چھوڑیں کیا کررہے ہیں...کیوں مجھ سے ڈر لگ رہا ہے....ڈر کی بات نہیں ہے پر یوں ہاتھ پکڑنا مناسب نہیں ہے ...اچانک نورین کو اپنی ماں کے الفاظ یاد آنے لگے.....دیکھو بیٹا جب تنہائی میں دو نامحرم ملتے ہیں تو تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے وہ شیطان جس نے حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوا کو بہکا کر جنت سے نکلوادیا تھا تو ہماری کیا حیثیت اس لئے کسی نامحرم سے تنہائ میں نہ ملنا........اس نے فورا ہاتھ چھڑایا اور جانے لگی کہ اچانک سفیر نے اس کا راستہ روکا اور بولا..ایسے کیسے چلی جاوگی اتنی مشکلوں سے تو مچھلی جال میں آئی ہے یوں ہی چھوڑ دو.. یہ کہہ کر اس نے اس کو اپنی طرف کھینچھا اس سے پہلے کہ وہ اس کے ساتھ کوئی زبردستی کرتا اچانک ایک مکا سفیر کے منھ ہر پڑا..سفیر نے غصے سے پلٹ کر دیھا تو وہاں کالی کھڑا تھا جو پیچھا کرتے ہوئے ان کے پیچھے آیا تھا۔کالی کو دیکھ کر نورین ہکا بکا رہ گئی ..کالی چیخاخبردار جو تم نے ایک قدم آگے بڑھایا اور نورین پر بری نظر ڈالی ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا چلیں آپ ...اس نے نورین سے کہا..پھر دونوں باہر آگئے...دیکھیں نورین یہ جو بھی سب کچھ ہوا ہے اس کا تذکرہ کسی سے مت کیجئے گا جو ہوا بھول جائیں کیونکہ آپ نے کسی سے کچھ کہا تو بدنامی آپ ہی کی ہوگی جو مجھے کسی طور گورارہ نہیں ...نورین اس سے کافی شرمندہ نظر آرہی تھی اور سوچنے لگی کہ جس کو ہمیشہ سے دھتکارا آج اسی نے اس کی عزت بچا لی انسان کا رنگ روپ کوئی معنی نہیں رکھتا بس انسان کا دل خوبصورت ہونا چائیے.......
***************
نورین نے آخر کالی سے شادی کا فیصلہ کرلیا اور پھر دونوں کی شادی ہوگئی .........
ان دونوں کی زندگی اسی طرح ہنسی خوشی سے گزرنے لگی اور چھ مہینے پلک جھپکتے گزر گئے پھر ایک روز وہ ہوا جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا.....
نورین اور کالی دونوں کمرے میں بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ اچانک کالی کا موبائیل فون بجا اس نے نمبر دیکھا پریشانی اس کے چہرے پر نمودار ہوئی..اس نے نورین سے کہا ذرا ایک گلاس پانی لانا..نورین فورا اٹھ کر پانی لینے چلی گئی...کالی نے فون رسیو کیا...ہیلو سفیر کہاں غائب ہوگئے ہو ؟ تم تو فورا ہی یونیورسٹی چھوڑ کر چلےگئے تھے ویسے تم نے میرے ساتھ دوستی خوب نبھائی..جب میں نے دیکھا کہ تم نورین میں کوئی دلچپسی نہیں رکھتے تو میں نے تمھارے ساتھ پلان بنایا پکنک ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوا پلان کے مطابق تم نے اسے بلایا اور میں بھی پیچھے چلا آیا پھر تم نے اس کے ساتھ زبردستی کی اور میں فلمی ہیرو کی طرح موقعہ پر پہنچ کر اس کی عزت بچا کر اس کے دل می جگہہ پیدا کرنے میں کامیاب ہوا..بڑا نخرہ تھا کیسے قابو میں آئی....اچھا اب بعد میں بات کرتے ہیں وہ پانی لینے گئی ہے آجائے گی....یہ کہہ کر اس نے موبائیل بند کردیا.....نورین جو دروازے کی اوٹھ میں پانی کاگلاس لئے کھڑی سب کچھ سن چکی تھی ...یہ سن کر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا پانی کا گلاس اس کے ہاتھ سے گرا..اور شیشے کے گلاس کی طرح اس کا دل بھی کرچی کرچی ہوچکا تھا................
ختم شد


0 Comments: