دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین پارٹ 4

دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین پارٹ 4





" تمہارا اصل نام کیا ہے."...؟
" ارسہ...لیکن پیار سے مجهے سب گڑیا کہتے ہیں. " ..
" یہاں کیا کر رہی ہو.."؟
"بچوں کو دیکھ رہی ہوں." ..اس نے سامنے بچوں کی طرف اشارہ کیا. .....
" تمہارا گهر کہاں ہے. ."..؟ آیت سوال کرتی جا رہی تهی.
"میرا گهر نہیں ہے. ."..آیت چونکی...
"تمہارے امی ابو ،بہن بھائی کوئی نہیں ہے. .."؟اس بچی نے آیت کی طرف دیکها اور سر نفی میں ہلا دیا. ..
" کہاں گئے.:" ....اس کی زبان سے پهسلا.....
" مر گئے...ابو نے سب کو مار دیا."....آیت نے ہونٹ کاٹ لیے....اسے اب اس بچی کی آنکھوں میں آنسو نظر آئے.
" کیوں.."..؟
" مجهے نہیں پتا.."...
" اور تمہیں نہیں مارا انہوں نے." ..
" میں ٹیبل کے نیچے چهپ گئی تھی پهر نانا کے گهر چلی گئی .نانا مجهے لے کر لنڈن نانی کے پاس آئے." .وہ اداسی سے بتا رہی تھی ....
رام بھی مر گیا... . اس کی آنکھوں میں اداسی اتر آئی...
"اور تمہارے نانا نانی کہاں ہیں اس وقت"....؟
"صبح میں نانی کے ساتھ مارکیٹ آئی تهی..وہ جب راشن لینے لگیں تو میں ادهر ادهر کهلونے دیکھ رہی تھی پهر مجهے نہیں پتا میں بہت آگے نکل آئی اور راستہ کهو دیا..نانی نے مجهے بہت ڈهونڈا ہوگا....اور میں پارک میں چلی آئی. ...اور ابهی تک یہیں بیٹهی ہوں.....وہ جوں جوں بتا رہی تھی آیت کو حیرت میں مبتلا کر رہی تهی ..".
"کیا تمہیں اپنے نانا نانی کے گھر کا ایڈرس معلوم ہے ".؟
" نہیں میں یہاں نئی آئی ہوں".. وہ اب آنسو پونچھ رہی تهی. .آیت نے افسوس بهری نگاہ اس پر ڈالی.....
تو تم اب یہاں کیا کر رہی ہو. .وہ لوگ تمہیں یہاں تو "نہیں ڈهونڈ سکیں گے.."؟
"تو میں کہاں جاوں ؟" اس نے آیت کی آنکھوں میں دیکها. آیت سوچنے لگی....
"تم میرے ساتھ چلو...میں تمہیں اپنے گهر لے جاؤں گی اور پھر تمہارے نانا نانی کسی نیوز پیپر پر اشتہار ضرور دیں گے تب میں تمہیں وہیں پہنچا دوں گی...گڑیا سوچنے لگی...."کچھ دیر بعد وہ بولی. ...
"اوکے...."آیت اسے انوشیر کے اپارٹمنٹ لے آئی وہ اسے لے کر ہوسٹل نہیں جا سکتی تھی. ..وہاں اجازت نہیں تهی انوشیر اسے دیکھ کر حیران ہوا...اس نے گڑیا کے بارے میں نہیں پوچها آیت نے خود ہی اسے سب بتا دیا.........گڑیا سارا دن وہیں رہی ...اس نے اپنا وقت ٹی وی پر کارٹون دیکھ کر گزارا...وہ بھی اس کے ساتھ وہیں رہی ...رات کے کهانے کے وقت انوشیر گڑیا کی پسند کے چاکلیٹس لایا تها.....
"یہ انکل کافی کهڑوس ہیں...".گڑیا نے کهانے کے دوران تبصرہ کیا...وہ منہ چهپا کر ہنسنے لگی انوشیر نے سنجیدہ سی ایک نگاہ اس پہ ڈالی لیکن کہا کچھ نہیں. ..
"اور کافی خوبصورت بھی .".گڑیا نے مزید تبصرہ کیا...
اس نے گڑیا کے گال کی چٹکی کاٹی. ..اور رات وہیں گزارنے کا فیصلہ کیا..وہ گڑیا کو اکیلا نہیں چهوڑ سکتی تهی....رات کے وقت گڑیا اس کے برابر لیٹی تھی وہ اسے کہانی سنا رہی تھی. .انوشیر صوفے پر لیٹا ہوا تها...اس نے چہرے پر بازوؤں رکهے ہوئے تهے.
اچانک کہانی سنتے سنتے گڑیا کو جانے کیا خیال آیا جب وہ پوچهنے لگی. ..
"آپ دونوں ہسبنڈ وائف ہی ہو ناں..".؟ انوشیر نے چہرے سے بازو ہٹا کر اسے دیکها...گڑیا یہ سوال پہلے بھی پوچھ چکی تهی اس نے تبهی بتا دیا انوشیر اس کا ہسبنڈ ہے اور اب وہ ایک بار پھر پوچھ رہی تھی اس نے پهر سے سر اثبات میں ہلا دیا. ....
"تو پهر آپ دونوں الگ الگ کیوں سوتے ہو.." ..گڑیا نے اطمینان سے کہا. .جبکہ وہ شرم سے پانی پانی ہو گئی...انوشیر کے تاثرات کیا تهے یہ وہ نہیں دیکھ سکی..یقیناً وہ بے حد محفوظ ہوا ہوگا...اس سوال کا جواب اس نے گڑیا کو نہیں دیا اور اسے سونے کو کہا. ..وہ بھی چہرہ دوسری طرف موڑ کر سو گئی یہ جانتے ہوئے بھی کہ انوشیر اسے ہی دیکھ رہا ہے. ....
اگلی صبح سب سے پہلا کام جو اس نے کیا تها وہ تها اخبار چیک کرنا..لیکن اسے مایوسی ہوئی گڑیا کے بارے میں کسی نے اشتہار نہیں دیا. .گڑیا کو ناشتہ کرانے کے بعد وہ اسے مارکیٹ لے آئی تھی. ..اسے آئس کریم اور شاپنگ کرانے کے بعد وہ نیوز آفس پہنچی. ..اس نے انہیں اشتہار دینے کے لیے کہا...انہوں نے گڑیا کی ایک تصویر نام عمر وغیرہ سب لکھ ڈالا...لیکن یہ سن کر اسے ایک بار پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کہ یہ نیوز کل کے اخبار میں آئے گا....گڑیا تهوڑی اور مایوس ہو گئی ..وہ اسے دلاسا دینے لگی....
اگلی رات بھی اس نے یونہی انوشیر کے اپارٹمنٹ میں گزاری..مگر دوپہر تک ایک عمر رسیدہ خاتون ان کے ایڈریس پر پہنچی اس نے اشتہار میں انوشیر کے اپارٹمنٹ کا ہی ایڈرس لکها تها......گڑیا اس عورت سے جا کر چپک گئی وہ بھی اسے گلے لگا کر پیار کرنے لگی ..اس عورت نے جاتے جاتے اس کا شکریہ ادا کیا اور اس کا موبائل نمبر بھی لے لیا.......
گڑیا نے اسے بائے کہا اور وہ دونوں چلی گئیں..اس کے سر سے بہت بڑا بوجھ جیسے اتر گیا ہو.....
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
رات وہ دیر تک کهڑی چاند سے باتیں کرتی رہی...پهر کافی دیر تک سٹڈی بھی کرتی رہی... .اس لئے صبح دیر سے بیدار ہوئی ..لیکن جب اٹهی تو سب سے پہلی نظر اس کی گلدان کی طرف گئی...وہاں خوبصورتی سے پهول سجے رکهے ہوئے تهے. .لیکن نہیں وہاں صرف پهول تو نہیں تهے وہاں کچھ اور بھی تها......
ایک سفید کاغذ. وہ اٹھ کر وہ کاغذ اٹها کر دیکهنے لگی. ..اس پہ لکها تها...
اپنی زندگی میں آج کا دن میرے نام کر دو.....نیچے لکها ہوا تھا. ..آر اے....آر اے...انوشیر رضا کا مخفف نہیں تها شاید آر اے اس نے رضا انوشیر لکها ہوگا....اس نے کاغذ کو مٹهی میں دبا لیا.. .
" اف کل کو میرا پیپر ہے اور یہ جناب ."...اس نے مصنوعی غصہ کیا اور مسکرا دی...ایس ایم ایس پہ اسے" اوکے "لکها..اس نے آدهے گهنٹے بعد آنے کو کہا..وہ تب تک ناشتہ کر کے تیار ہوئی...آج اس نے دل سے میک اپ کیا..سیاہ انارکلی فراک اور ہم رنگ کڑھائی والا خوبصورت دوپٹہ.. ....اس نے بال بھی ماتهے پر خوبصورت سے تهوڑا آگے کیے.......ہلکی سی لال لپ اسٹک بھی لگائی......
ایک گهنٹے بعد انوشیر کی بائیک نے ہارن بجائی اس نے کهڑکی سے نیچے جھانکا. ..وہ اس کا منتظر تها....
وہ دوڑ کر نیچے آئی..اور نیچے آنے سے پہلے کمرے کو لاک کرنا نہیں بهولی تهی. . انوشیر ہمیشہ سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہا تها. .وہ سیڑھیوں سے اترتے رک گئی..اور کئی لمحے اسے دیکهتی رہی. ...انوشیر بائیک سٹارٹ کر چکا تها وہ بائیک پر اس کے پیچھے بیٹھ گئی. ..یونیورسٹی کے احاطے سے نکل کر اس نے بائیک کی رفتار بڑها دی. ...وہ جانتی تهی وہ بائیک کی سپیڈ کیوں بڑها رہا ہے لاشعوری طور پر وہ یہ چاہتا تھا وہ ڈر کر اسے کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے قابو کرے. ....آج پهر لنڈن کے آسمان نے بادلوں کو دعوت دے رکهی تهی...کالے کالے بادل آسمان کے رنگ کو چهپائے ہوئے تهے.........
انوشیر نے سب سے پہلے بائیک الزبتھ ٹاور کے سامنے روک دی....وہ یہاں دوسری بار آئی تهی. .پہلی بار بھی انوشیر اسے لے کر یہاں آیا تھا اور آج بھی وہ اس کے ساتھ آئی تهی. ..پہلے دن وہ اس کے لیے اجنبی تها اور آج. .آج وہ اس کا شوہر تها...کتنی جلدی رشتے بدل گئے ..وہ مسکراتے ہوئے بائیک سے اتری.....
" اف لنڈن کا وہ الزبتھ ٹاور ( اس کو بگ بین یا کلاک ٹاور بھی کہا جاتا ہے) .."اس کی لمبائی چھیانوے میٹرز ، تین سو پندرہ فیٹ تهی...اس کے چاروں طرف گهڑیال لگے ہوئے تهے جو وقت بتاتے....اسے یاد تها وہ پہلی بار نیٹ پہ اس ٹاور سے متعارف ہوئی اور تبهی سے یہ ٹاور آنکھوں کے سامنے دیکهنے کا اشتیاق پیدا ہوا تها اسے........
ویسے تو پورا لنڈن خوبصورت تها لیکن الزبتھ ٹاور کی تو بات ہی کچھ الگ تهی . انوشیر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے آگے لے آیا...وہ موبائل نکال کر تصویریں بنانے لگی. .آج انوشیر بھی اس کے ساتھ تصویریں بنوا رہا تھا. ..پندرہ منٹ تک وہاں کی سیر کے بعد انوشیر اسے ایک آئس کریم پارلر لے آیا.....وہ وہاں بیٹھ کر آئس کریم کهاتے رہے ....انوشیر کو بھی آج روزہ نہیں تها ...وہ بنا جهجک ہنس کر اس سے باتیں کر رہا تها..اس کے موتی جیسے خوبصورت دانت چمکنے لگے...اس کی مسکراہٹ بہت خوبصورت ہے اس نے آج ہی دریافت کیا. ....پہلے تو آپ ہمیشہ سنجیدہ رہتے تھے کهبی نہیں مسکرائے اب کیوں اتنا مسکراتے ہیں ....؟ وہ بے اختیار دل میں موجود سوال زبان پر لے آئی....

"کیونکہ پہلے آپ میرے لیے نا محرم تهیں. .اب آپ میری بیوی ہیں....".
(اف ...مشرقی مرد کے مشرقی اصول)
...اس نے پہلی بار اسے بیوی بلایا تها..اور وہ نگاہیں جهکا گئی....وہ اس کی اس مشرقی ادا سے بے حد محفوظ ہوا تها......
پهر وہ اسے لے کر ایک خوبصورت جهیل کے کنارے آیا..وہ اس جهیل کو دیکھ کر ہی حیران رہ گئی. .اتنا خوبصورت جهیل شاید وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی. .پہاڑ پر سے گرتا خوبصورت آبشار....اور چاروں طرف سبزہ....خوبصورت درخت...قدرتی پهول. .کتنا خوبصورت تها وہ سب کچھ. .جیسے زمین پر جنت کا کوئی ٹکڑا ہو.....اس نے انوشیر سے شکوہ کیا وہ اسے یہاں پہلے کیوں نہیں لے کر آیا ....
اس لیے کیوں کہ میں یہاں آپ کو کسی خاص موقع پر لے کر آنا چاہتا تھا. ..اس نے جواباً کہا. ..وہ دونوں وہیں اس جهیل کے کنارے بیٹھ گئے...انوشیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتهوں میں لے لیا. ....وہ دونوں وہیں اس خوبصورت کنارے پر بیٹھ کر برگر کهانے لگے...جو وہ ساتھ لے کر آئے تھے. .انوشیر اسے اپنے ہاتهوں سے برگر کهلا رہا تھا. ..اس وقت آیت کی دهڑکن عجیب انداز میں دهڑکنے لگی...یہ کون سا احساس تها..جو بھی تها بہت ہی خوب تها.......
پہاڑوں کے اوپر اڑتے وہ خوبصورت رنگ برنگے پرندے ، پهولوں پر بیٹهی وہ خوبصورت تتلیاں ، سب کتنا خوبصورت تها...اس نے یہاں بھی تصویریں بنائی تهیں.....
"میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں. "..انوشیر نے کہا ..اس نے سوالیہ نگاہوں سے انوشیر کو دیکها ..اسے وہ کچھ شرمندہ سا لگا....
"ابهی نہیں آپ کے ایگزامز کے بعد. ."..انوشیر نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا...انوشیر کے یاد دلانے پر اسے یاد آیا ...کل تو اس کا پہلا پیپر ہے اور وہ یہاں بیٹهی انجوائے کر رہی تهی. ......
" آپ مجهے یہاں لے آئے اگر میں فیل ہو گئی تو."..؟
" آپ میری وجہ سے کهبی فیل نہیں ہوں گی. ..انفیکٹ میں آپ کو فیل ہونے ہی نہیں دوں گا... اس بات کی آپ کو میں گارنٹی دیتا ہوں....".....
بہت اچانک آسمان پر موجود بادلوں نے برسنا شروع کیا..اور وہ دونوں کنارے پر بیٹهے تهے اٹھ کر درخت کے نیچے آ گئے....انوشیر درخت سے ٹیک لگا کر پاوں پھیلائے بیٹها تها. ..اور آیت کو بڑی محبت سے دیکھ رہا تھا ......وہ سردی سے کانپ رہی تھی. ..انوشیر نے اپنی لیدر کی جیکٹ اتار کر اس کے کاندھوں پر ڈال دیا....بارش ختم ہونے کے بعد انوشیر نے اسے کشتی کی سیر بھی کرائی...وہ دن اس کے لیے بہت خوبصورت ثابت ہوئی...ایک خوبصورت یاد بننے کے لیے وہ دن سرفہرست تها....کافی دیر ہو چکی تهی لیکن انوشیر کی طرف سے کوئی فکرمندی دیکهنے کو نہیں ملی اس کا انداز ایسا تها جیسے وہ پوری رات یہیں گزارنا چاہتا ہو.......
ان کی واپسی رات کو دیر سے ہوئی. .وہ اس جهیل کے کنارے سے جلد ہی روانہ ہوئے تھے لیکن راستے میں انوشیر کی بائیک خراب ہو گئی وہ ایک سنسان سڑک تها دور دور تک کوئی ورکشاپ تو دور کسی انسان کا نام و نشان بھی نہیں تها....جب تیز تیز بائیک چلاتے انوشیر کو احساس ہوا بائیک میں کچھ مسئلہ ہے تو وہ بائیک سے اتر گیا. .وہ بھی سائیڈ پر کهڑی ہو کر انوشیر کو دیکهنے لگی اس وقت وہ دونوں سڑک کے درمیان میں کهڑے تهے جس کے دونوں اطراف میں اونچے سرسبز درخت تهے...
وہ ایک خوبصورت منظر تها..انوشیر بار بار بائیک چیک کرتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا گو کہ یہ کام وہ کافی چهپ چهپ کر رہا تھا لیکن وہ دیکھ سکتی تهی....اچانک اسے یوں لگنے لگا جیسے بائیک انوشیر نے جان بوجھ کر روک دی ہے تاکہ وہ اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزار سکے. ..وہ اس کی اس شرارت پر دل ہی دل میں مسکرا دی...اس وقت اسے اپنا آپ دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی لگی...کیا کوئی کسی سے اتنی محبت بھی کرتا ہے جو اس کے لیے اتنا سب کچھ کرے. ..کیا آیت کے لیے خوشیوں کی کوئی حد باقی رہ گئی تهی وہ شخص جو اتنا خوبصورت ہے جو اتنا اچها ہے وہ اسے شوہر کے طور پر دے دیا گیا ہے .اسے اپنے آپ پر رشک آیا...اور یہی وہ لمحہ تها جب اس نے فیصلہ کیا وہ اس رشتے کو نبھائے گی آخری سانس تک....انوشیر نے ایک گهنٹے بعد بائیک سیٹ کر دی جیسے اس میں کوئی بہت بڑی پرابلم تهی .اور وہ اس کی چالاکی سمجھ لینے کے باوجود خاموش رہی......
انوشیر اسے اپنے اپارٹمنٹ لے آیا تها...وہ وہیں بیٹھ گئی جب انوشیر ہوٹل سے کهانا لینے چلا گیا...وہ تب تک میگزین اٹها کر دیکهنے لگی. ....انوشیر کی واپسی دس منٹ بعد ہوئی....وہ جا کر ڈائٹنگ ٹیبل پر بیٹھ گئی انوشیر نے خود ہی کهانا لگایا.. ..وہ کہیں سے دیسی پاکستانی کهانا ڈهونڈ کر لایا تھا اتنے عرصے بعد پاکستانی کهانا کها کر اسے پاکستان ہی یاد آگیا...وہ کهانا کافی مزیدار تها ...کهانے کے دوران بھی انوشیر اس سے باتیں کرتا رہا ....جب وہ کهانے سے فارغ ہوئے تو اس نے ٹائم دیکها...ساڑھے دس بج رہے تھے اس نے ہوسٹل واپس جانے کا کہا تو انوشیر نے بے اختیار کہا....
" مت جاو پلیز. "...اس وقت انوشیر کی آنکھوں میں ایک التجا تهی وہ انکار نہیں کر سکی....سونے کے لیے وہ اسی کمرے میں لیٹی انوشیر صوفے پر لیٹ گیا..اسے بہت برا لگا اس کی وجہ سے انوشیر کو اتنی تکلیف اٹهانی پڑی. ..اور ان کے نکاح کو ایک مہینہ ہو رہا تھا انوشیر نے ایک بار بھی اس کے اوپر اپنا حق جتانے کی کوشش نہیں کی. .لیکن اب آیت کو خود ہی برا لگ رہا تھا. .وہ اس کی تهی اور اسے خود ہی ہر اختیار دے چکی تهی تو اب کیسے پردہ. .اس رشتے کو قبول کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں تها.......
وہ انوشیر کے پاس چلی گئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے صوفے سے اٹهایا...وہ بھی مسکراتا ہوا کهڑا ہو گیا. ..وہ اسے بیڈ پہ لے آئی...وہ اس کے برابر لیٹ گیا . .وہ دونوں لیٹے لیٹے ایک دوسرے کو بڑی محبت سے دیکهتے رہے پهر آیت نے خود ہی انوشیر کا راستہ صاف کرتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے سینے پر رکھ دیا...وہ مسکرا کر اس کے اور قریب آ گیا.....بے اختیار سی کیفیت میں اس نے اپنا سر انوشیر کے دل کے اوپر رکھ دیا....اس کی دهڑکن بے ترتیب تهی...دهک دهک کرتی ہوئی ..اس کے سینے پر سر رکهے وہ اس کی دهڑکن اچهی طرح سن سکتی تهی. ......وہ پہلی بار ہی انوشیر کے اتنے قریب تهی کہ اس کے کپڑوں سے اٹهنے والی مہک اسے مسحور کر رہا تھا. ..وہ خوبصورت شخص اس کا تها یہ احساس بہت ہی خوبصورت لگا اسے...پهر وہ اس کے وجود میں کهو گئی.....
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
فریش ہونے کے بعد انوشیر نے ناشتہ بنایا..وہ دونوں ساتھ مل کر ناشتہ کرنے لگے...ناشتے کے بعد اس نے یونیورسٹی جانے کا فیصلہ کیا آج اس سے اس کے ایگزامز شروع ہو چکے تهے. .....
انوشیر کپڑے چینج کرنے واش روم میں چلا گیا .اس نے جاتے وقت اپنی شرٹ باہر اتار دی. ..وہ انوشیر کے الماری کے پاس آئی اس نے الماری کهول کر بلیو رنگ کی شرٹ نکالی...یہ شرٹ اس نے پہلے بهی کئی بار انوشیر کو پہنے دیکها تها یہ اس کا پسندیدہ کلر تها...وہ شرٹ اس نے سامنے بیڈ پر رکھ دیا. .اور وہ شرٹ جو وہ ابهی نکال کر گیا تها اسے اٹها کر الماری میں رکهنے کا سوچا. .....
شرٹ اٹها کر وہ جونہی تهوڑا آگے بڑهی. شرٹ کی جیب سے کچھ نکل کر نیچے گر گیا...اس کے چلتے قدم رک گئے...فرش پہ انوشیر کی آئی ڈی کارڈ نظر آئی...اس نے جهک کر وہ کارڈ اٹهایا ...اس پہ انوشیر کی تصویر لگی ہوئی تھی. ..آئی ڈی کارڈ میں بھی وہ کافی پرکشش لگ رہا تھا. ..وہ اس سے نگاہیں نہیں ہٹا سکی....تصویر سے نظر ہٹی تو نام پہ نظر پڑی...ایک بچهو تها جس نے اسے ڈنک مارا .....
اس نے آنکهوں کو بے یقینی سے مسل کر ایک بار پھر نام کو دیکها...اس کی آنکھوں کے سامنے زمین آسمان گهومنے لگے. ...اس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے. ...شرٹ اس کے ہاتھ سے چهوٹ کر نیچے گر گئی. .اس کے اندر کچھ ٹوٹا تها کہیں وہ دل تو نہیں تها.....؟

اس کا جسم حرکت کرنا بهول گیا...دماغ میں آندهیاں چلنے لگیں...وہ سانس لینا بھی بهول چکی تھی. .اس کے جسم سے جان نکلتی جا رہی تھی. .....
""دهوکہ. ...؟ اتنا بڑا دهوکہ. .".. اس شخص نے اسے منہ کے بل گرایا تھا اور ایسے گرایا وہ دوبارہ زندگی میں کهبی کهڑی ہونے کے قابل نہیں رہی تهی...اسے سب کچھ ختم ہوتا دکهائی دیا...سب کچھ بهاپ بن کر ہواؤں میں اڑ رہا تھا. ...اس کی زندگی کے یہ دس مہینے مکمل طور پر آتش کی زد میں تهے........
سب کچھ آنکهوں کے سامنے تحلیل ہوتا جا رہا تها وہ خود بھی کچھ لمحوں بعد تحلیل ہو جاتی ..جیسے پانی میں نظر آنے والا بلبلا. ....
اسے کہیں سے قہقہے سنائی دیے...کوئی ہنس رہا تھا اس پر ...اور ہنسنے والی دیواریں تهیں...کهڑکی تهی...پینٹنگز ، بیڈ صوفہ ، کمرے میں موجود ایک ایک چیز کے دانت نکل آئے.....سبهی اس کی حماقت پر ہنس رہے تھے. .. وہ اب کس کس سے کہے گی وہ چہروں کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے. ..؟
اس نے اپنے گالوں پر نمی کو محسوس کیا..وہ وہیں کهڑے کهڑے جم چکی تهی. .برف بن چکی تهی. . وہ جانتی تهی جب یہ برف پهگلے گا تو طوفان آئے گا. ..اس کی آنکھوں نے اس شخص کو باہر نکلتے دیکها..وہ بنا شرٹ کے وہیں رک کر اسے دیکهنے لگا. .پهر اس کی نظر اس لڑکی کے ہاتھ میں موجود آئی ڈی کارڈ پر پڑا..... بے اختیار اس نے اپنے ہونٹ کاٹ لیے.......اور وہ .وہ شخص کون تها.. ؟ وہ تو اسے پہلی بار دیکھ رہی تھی ...وہ تصویر اسی شخص کی تهی مگر وہ تها کون....؟
روحل آفتاب. .... وہ شخص جسے وہ پاکستان سے ٹهکرا کر آئی تھی. .....تو پھر وہ کون تها جو اس دن پارک میں ملا تها......
اتنا بڑا دهوکہ. ....برف پهگل چکی تهی وہ حواسوں میں لوٹ آئی لیکن کب جب سب کچھ ختم ہو چکا تها.
" دیکهو آیت ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سوچ رہی ہو."..؟.
وہ کہہ رہا تها ایسا کچھ نہیں ہے. اور وہ. وہ کیا سوچ رہی تهی وہ کیا سوچ سکتی تهی سن ذہن کے ساتھ. .اب کیا بچا تها سوچنے کے لیے سب کچھ تو واضح تها...
" میرا یقین کرو. .."..وہ ایک قدم آگے بڑھا. .بے اختیار وہ روتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہٹی. ...
"یقین. ".؟ اب یقین کرنے کے لیے کیا باقی رہ گیا. .سارا یقین اعتبار تو وہ خود ہی توڑ چکا تها اب وہ کیسے یقین کرتی.....
"دیکهو بیٹھ کر بات کرتے ہیں. .میں آپ کو پورا سچ بتاتا ہوں..."..اس سے بڑھ کر کون سا سچ باقی تها......
...فرش پہ انوشیر کی آئی ڈی کارڈ نظر آئی...اس نے جهک کر وہ کارڈ اٹهایا ...اس پہ انوشیر کی تصویر لگی ہوئی تھی. ..آئی ڈی کارڈ میں بھی وہ کافی پرکشش لگ رہا تھا. ..وہ اس سے نگاہیں نہیں ہٹا سکی....تصویر سے نظر ہٹی تو نام پہ نظر پڑی...ایک بچهو تها جس نے اسے ڈنک مارا .....
اس نے آنکهوں کو بے یقینی سے مسل کر ایک بار پھر نام کو دیکها...اس کی آنکھوں کے سامنے زمین آسمان گهومنے لگے. ...اس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے. ...شرٹ اس کے ہاتھ سے چهوٹ کر نیچے گر گئی. .اس کے اندر کچھ ٹوٹا تها کہیں وہ دل تو نہیں تها.....؟
اس کا جسم حرکت کرنا بهول گیا...دماغ میں آندهیاں چلنے لگیں...وہ سانس لینا بھی بهول چکی تھی. .اس کے جسم سے جان نکلتی جا رہی تھی. .....
""دهوکہ. ...؟ اتنا بڑا دهوکہ. .".. اس شخص نے اسے منہ کے بل گرایا تھا اور ایسے گرایا وہ دوبارہ زندگی میں کهبی کهڑی ہونے کے قابل نہیں رہی تهی...اسے سب کچھ ختم ہوتا دکهائی دیا...سب کچھ بهاپ بن کر ہواؤں میں اڑ رہا تھا. ...اس کی زندگی کے یہ دس مہینے مکمل طور پر آتش کی زد میں تهے........
سب کچھ آنکهوں کے سامنے تحلیل ہوتا جا رہا تها وہ خود بھی کچھ لمحوں بعد تحلیل ہو جاتی ..جیسے پانی میں نظر آنے والا بلبلا. ....
اسے کہیں سے قہقہے سنائی دیے...کوئی ہنس رہا تھا اس پر ...اور ہنسنے والی دیواریں تهیں...کهڑکی تهی...پینٹنگز ، بیڈ صوفہ ، کمرے میں موجود ایک ایک چیز کے دانت نکل آئے.....سبهی اس کی حماقت پر ہنس رہے تھے. .. وہ اب کس کس سے کہے گی وہ چہروں کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے. ..؟
اس نے اپنے گالوں پر نمی کو محسوس کیا..وہ وہیں کهڑے کهڑے جم چکی تهی. .برف بن چکی تهی. . وہ جانتی تهی جب یہ برف پهگلے گا تو طوفان آئے گا. ..اس کی آنکھوں نے اس شخص کو باہر نکلتے دیکها..وہ بنا شرٹ کے وہیں رک کر اسے دیکهنے لگا. .پهر اس کی نظر اس لڑکی کے ہاتھ میں موجود آئی ڈی کارڈ پر پڑا..... بے اختیار اس نے اپنے ہونٹ کاٹ لیے.......اور وہ .وہ شخص کون تها.. ؟ وہ تو اسے پہلی بار دیکھ رہی تھی ...وہ تصویر اسی شخص کی تهی مگر وہ تها کون....؟.
اتنا بڑا دهوکہ. ....برف پهگل چکی تهی وہ حواسوں میں لوٹ آئی لیکن کب جب سب کچھ ختم ہو چکا تها.
" دیکهو آیت ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سوچ رہی ہو."..؟.
وہ کہہ رہا تها ایسا کچھ نہیں ہے. اور وہ. وہ کیا سوچ رہی تهی وہ کیا سوچ سکتی تهی سن ذہن کے ساتھ. .اب کیا بچا تها سوچنے کے لیے سب کچھ تو واضح تها...
" میرا یقین کرو. .."..وہ ایک قدم آگے بڑھا. .بے اختیار وہ روتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہٹی. ...
"یقین. ".؟ اب یقین کرنے کے لیے کیا باقی رہ گیا. .سارا یقین اعتبار تو وہ خود ہی توڑ چکا تها اب وہ کیسے یقین کرتی.....
"دیکهو بیٹھ کر بات کرتے ہیں. .میں آپ کو پورا سچ بتاتا ہوں..."..اس سے بڑھ کر کون سا سچ باقی تها....
اور جهوٹ بولنے کی کوشش بھی مت کرنا مسٹر روحل آفتاب. ....وہ بهرائی ہوئی آواز میں بولی. ..اور منہ پر ہاتھ رکھ کر بهاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی....وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے آ رہا تها لیکن آیت نے اندر سے دروازہ بند کر دیا.......وہ اب دروازے کو پیٹ رہا تها وہ نہیں سن رہی تھی. ....وہ بهاگ کر گرل والی کهڑکی کے پاس آیا ....
" دیکهو آپ مجهے غلط سمجھ رہی ہو..مجهے صفائی پیش کرنے کا ایک موقع تو دیں."
.....یہ آخری جملہ تها جو اس نے سنا.. .وہ بهاگ کر اس اپارٹمنٹ سے باہر نکلی. ..اور سڑک پر روتے ہوئے چل رہی تهی. ..آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے. ....اسے نہیں معلوم اس کے قدم اسے کہاں لے کر جا رہے تھے. ..اتنا بڑا دهوکہ کها کر وہ کہاں جاتی........
روحل آفتاب تو یہ شخص روحل آفتاب تها...اتنا بڑا جهوٹ اتنا بڑا دهوکہ کوئی کیسے دے سکتا ہے. ...
وہ اسے ٹهکرا کر آئی تھی اور وہ ٹھکرائے جانے کا بدلہ لینے کے لیے لنڈن پہنچ گیا. ..اس نے ضد باندھ لی تهی وہ اس لڑکی سے بدلہ لے کر ہی رہے گا. ...اور وہ. ...وہ. ..اس دن پارک میں اس سے ملنے کون آیا تها.....؟.
"مجهے ایسا لگتا ہے جیسے انوشیر آپ کو پہلے سے ہی جانتا ہو...."؟
" آر...اے ...رضا انوشیر نہیں روحل آفتاب..."
وہ ننگے پاؤں بهاگتی ہوئی دوڑ رہی تهی اس آس پاس کچھ بھی دکهائی نہیں دے رہا تها. ...وہ تو اپنے آپ کو بھی کهو چکی تهی اس بهیڑ میں. .....
" میں لڑکیوں سے پیسے نہیں لیتا."... .
" دوپٹہ ہی لڑکیوں کا اصل زیور ہے. "....
" میں آپ کو رسوا ہونے دے سکتا ہوں کیا. "..؟
" میں آپ کو کهبی فیل ہونے نہیں دوں گا...."..

"دهڑام."...تاج محل ٹوٹ کر زمین پر آ گرا...خواب ٹوٹ کر بکھر گیا. .اور خواب کی تعبیر اتنی بهیانک ہوگی یہ اس نے نہیں سوچا تها. ..کتنے کتنے چہرے ہوتے ہیں انسانوں کے....احمق تهی وہ نادان تهی جو دنیا کو اپنے جیسا سمجهتی تهی...محبت کے نام پر طمانچہ مارا گیا تها اس کے منہ پہ....وہ محبت نہیں تهی وہ تو بدلہ تها وہ تو صرف انتقام کے لیے لنڈن آیا تھا .....
جب چہروں سے نقاب اترتے ہیں تو وہ اتنے ہی خوفناک ہوتے ہیں جب انسانوں کا باطن نظر آنے لگتا ہے تو یونہی سب ختم ہو جاتا ہے جیسے اس کا سب کچھ ختم ہو رہا تها........دس مہینے لگے تهے سب کچھ بننے میں ٹوٹنے میں دس سکینڈز بھی نہیں لگے.......وہ بهاگ کر یونیورسٹی میں داخل ہوئی سبهی سٹوڈنٹس ہاتهوں میں بکس لیے کهڑے تهے...اب کیا باقی تها...اب تو کچھ بھی نہیں بچا تها. ..وہ آنسو بہاتی بهاگ کر اپنے کمرے تک پہنچی.....غصہ، دکھ، پچهتاوا کیا کیا نہیں تها اس وقت اس کے چہرے پر. ..اس نے بیڈ کے نیچے سے وہ بیگ نکالا.....اور روتے ہوئے جا کر الماری کھولی. ...وہ اس میں اب ایک ایک چیز رکھ رہی تهی. ...دهندلی آنکھوں سے وہ اپنا سب کچھ اس بیگ میں پیک کرتی جا رہی تهی. ........
کیوں. ..کیوں. .کیوں...اس کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا اسے ہی اتنا بڑا دهوکہ کیوں ملا تها..اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا. .آج تو ماتم کا دن تھا سب کچھ ختم ہو گیا تها.....بیگ پیک کر کے اس نے ایک نظر مڑ کر اس کمرے کو بھی نہیں دیکها جس میں وہ دس مہینے سے رہ رہی تھی ...بهاگتی ہوئی وہ سیڑهاں اتری ..آنسو نہیں رک رہے تھے. ..اس رفتار سے وہ تمام سٹوڈنٹس کے سامنے بهاگتی یونیورسٹی کے گیٹ تک آئی...سبهی آج اس پاکستانی لڑکی کی بے بسی کا تماشا دیکھ رہے تھے . ..اس نے ٹیکسی کو ہاتھ کے اشارے سے روکا ...اور ٹیکسی میں بیٹھ کر ایک آخری بار اس اونچی عمارت کو دیکها جو اسے راس نہیں آئی...اسے تو لنڈن بھی راس نہیں آئی.....سب کچھ چهوڑتے اسے ایک لمحے کے لیے بھی خیال نہیں آیا آج اس کا پیپر تها اس نے یہ بھی نہیں سوچا لنڈن میں پڑهنا یہاں کی ڈگری حاصل کرنا اس کی زندگی کا سب سے بڑا خواب تها.....سب سے بڑی خواہش تهی اور آج وہ سب کچھ اپنے قدموں تلے روند رہی تھی. ......
ٹیکسی میں بیٹهے بیٹهے اس کے کانوں میں پوجا کے الفاظ گونجے تهے....
'" جہاں محبت ہوتی ہے وہ کچھ اور نہیں سوچا جا سکتا کوئی کچھ سوچ بھی نہیں سکتا...یہ بات تم نہیں سمجهو گی جب تمہیں کسی سے محبت ہوگی تب تمہیں سمجھ جاو گی". ...
محبت .؟ اس نے دوپٹے سے آنسو پونچھنے کی کوشش کی .تو کیا وہ اس سے محبت کرتی تهی. ..یی تکلیف صرف اس لیے ہو رہی ہے اس شخص نے اس کی محبت کی توہین کی.....وہ اس دهوکے سے زیادہ محبت کی توہین برداشت نہیں کر سکی .....
اس نے ایمرجنسی اپنی ٹکٹ بک کروائی اور ایئر پورٹ پہ چلی آئی....اس کے آنسو نئے سرے سے شروع ہونے لگے....اس وہ سیاہ فام لڑکی یاد آئی جو اس دن اسے لینے یہاں آئی تھی. ...تب وہ خوش تهی اور آج...؟ تب لنڈن کو وہ اپنی مٹهی میں محسوس کر رہی تهی اور آج سب کچھ اس کی مٹهی سے نکل چکا تھا. .
کتنا مختصر وقفہ تها...زندگی سے موت کا....وہ ہنستے ہوئے آئی تهی روتے ہوئے جا رہی تھی وہ کچھ پانے کے لئے آئی تهی اور اپنا سب کچھ کهو کر جا رہی تهی. ..پورا ائیر پورٹ وہیں کهڑا تها...سارے انگریز وہیں موجود تھے....ہر منظر وہیں تها سب کچھ ویسے تها... لیکن ان سب میں وہ ایک شخص کہیں بھی نہیں تها....وہ دل کے اس کهیل میں اپنا سب کچھ ہار کر جا رہی تهی. .....وہ جہاز میں آ کر بیٹھ گئی. ...اس نے کهڑکی سے ایک آخری بار لنڈن کی سرزمین کو دیکها ....اپنے خوابوں کے شہر کو دیکها. .مگر سب کچھ اسے ریت کی طرح اڑتا دکهائی دے رہا تها. ...لنڈن کہہ رہا تھا ہم نے تمہیں آزاد کر دیا اب جاو جہاں جاتی ہو...؟ اور وہ...وہ. ..سب کچھ ختم ہو جانے کے بعد اب کہاں جاتی....
" لنڈن میں نے تم سے وعدہ لیا تها مجھ سے میرا کچھ مت چهیننا...پهر بھی تو نے مجھے دهوکہ دے دیا ..تم نے مجھ سے میرا سب کچھ چهین لیا. .. میں پهر کهبی نہیں آؤں گی تیری سرزمین پہ..."
..اس نے کهڑکی سے باہر دیکهتے ہوئے سوچا..........
وہ تو پاکستان جا رہی ہے...لیکن اپنا دل انگلینڈ کے سب سے بڑے شہر کے ائیر پورٹ پر چهوڑ کر جا رہی تهی. ... .وقت کی سوئی رک جاو.تهم جاو ..اتنی جلدی بھی کیا ہے میں خود کو جہاں چهوڑ کر جا رہی ہوں وہ موڑ تو بہت پیچھے چهوٹ رہا ہے. ......
" ﺑﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﺎ ﺳﻮ ﻭﺍﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻌﻮﺭ ﮐﻮ ﺑﯿﺪﺍﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ
ﮐﭽﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺷﺘﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﻮﮮ ﮔﻠﮯ ﮐﯿﮯ
ﮐﭽﮫ ﻭﮦ ﺷﮑﺎﯾﺘﯿﮟ ﺳﺮِ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ
ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ
ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻣﺴﻤﺎﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ
ﻭﮦ ﺁﻣﻼ ﺗﻮ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﮐﭩﺘﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ
ﺑﭽﮭﮍﺍ ﺗﻮ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ
ﺑﭽﮭﮍﺍ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﺍﺩﺍ ﺳﮯ ﮐﮯ ﺭُﺕ ﮨﯽ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯽ
ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﺳﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﮐﻮ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ"

_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وہ کمرے کے اندر بند تها اور یوں اور تڑپ رہا تها جیسے بن پانی کے مچھلی...آیت اس طرح کیسے کر سکتی ہے اس کے ساتھ. ..اس نے صفائی پیش کرنے کا ایک بهی موقع نہیں دیا..یوں کوئی کسی کو سزا سناتا ہے کیا....؟
وہ دروازے کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا. ..تا کہ اسے جا کر سمجهائے اسے بتائے وہ غلط نہیں ہے اور آج تو اس کا پیپر ہے کہیں وہ پیپر ہی غلط نہ کر بیٹهے. ..اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تها وہ کیا کرے. ..پهر وہ گرل والی کھڑکیوں کے پاس آیا...اس نے گرل کو توڑنے کی کوشش مگر وہ ایسا نہیں کر سکا..وہ کافی مضبوط لوہے کا گرل تها. ..اس کا اضطراب بڑهتا جا رہا تها .....
پهر وہ دروازے کے پاس آیا اور دروازے کو زور زور سے لاتیں مارنے لگا...دروازہ لکڑی کا تها شاید ٹوٹ جاتا.....وہ آدهے گهنٹے تک مسلسل کوشش کرتا رہا اور اس کی کوشش کامیاب ہوئی...دروازہ باہر سے کهل گیا...وہ بهاگ کر کمرے سے باہر آیا اس نے بائیک کی چابی اٹهائی....نیچے آکر بائیک سٹارٹ کی اور سیدھا یونیورسٹی پہنچا......
ہال میں سٹوڈنٹس پیپر دے رہے تهے...وہ بھی انہی سٹوڈنٹس کے بیچ کہیں بیٹهی ہوگی اس نے سوچا...پهر وہ انتظار کرنے کے لیے اس کے کمرے میں آیا.....وہاں اس نے ہر چیز کو ادهر ادهر بکهرا دیکها. .دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے کپڑوں والی الماری کھولی اسے دهچکا لگا الماری خالی تهی....؟
اس کی چهٹی حس نے اسے اشارہ کیا...وہ بهاگ کر گیٹ تک آیا اور اس نے وہاں بیٹھے چوکیدار سے اس پاکستانی لڑکی کے بارے میں پوچها........
چوکیدار نے بتایا وہ بیگ لے کر کسی ٹیکسی میں بیٹهی. .اس نے بے ساختہ اپنا سر تهام لیا...محاورتاً نہیں حقیقت میں اس کے پاوں تلے ز زمین نکل گئی..
تو کیا وہ چلی گئی سب کچھ چهوڑ کر. ..اس طرح...اپنے ایگزامز. ..
وہ بائیک لے کر ائیر پورٹ پہنچا. ..اور اس نے آسمان پر اڑتے اس جہاز کو دیکها جس میں اس کی زندگی تهی.....دو آنسو اس کی گالوں پر آئے....
" اتنا بڑا ظلم تو نہیں کرنا چاہیے تها تمہیں. ..اتنی بڑی سزا تو مت دیتی مجهے. ..تم نے تو مجهے حقیقت میں مجرم بنا دیا....میری وجہ سے تم اپنے ایگزامز اپنا کیرئیر سب کچھ چهوڑ کر چلی گئیں...مجهے بهی...اب میں خود کو کیسے معاف کروں گا..:".
" تمہیں رکنا چاہیے تها کم از کم مجهے اتنی مہلت تو دیتیں میں اپنی صفائی پیش کرتا"...اس نے ہونٹ بھینچ لیے. ..اندهیرا تها ہر طرف اندھیرا تها اسے کچھ بھی دکهائی نہیں دے رہا تها. ....
وہی لنڈن ،وہی سڑکیں ، وہی سب کچھ بس وہ پاکستانی لڑکی کہیں نہیں تهی....وہ تو چلی گئی واپس اور ساتھ اس کی سانسیں بهی لے گئی.....
" دیکها ناں تونے مڑ کے بهی پیچهے____
کچھ دیر تو میں رکا تھا_______
جب دل نے تجھ کو روکنا چاہا________
دور تو جا چکا تها __________"
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
" وٹ آ پلیزینٹ سر پرائز. .."؟ یہ تم ہی ہو ناں" آیت...عروہ مسکراتے ہوئے اس کے گلے لگی تهی....وہ عروہ آپی کے گلے لگ کر سسک پڑی...وقتی طور پر عروہ کو یہی لگا وہ اتنی لمبی جدائی کے بعد پاکستان آئی ہے اس لئے رو رہی ہے. .لیکن وہ آنسو کچھ اور تهے کسی اور کے لیے تهے. ....
"امی دیکهیں تو زرا کون آیا ہے."...عروہ نے وہیں سے عمارہ بیگم کو آواز دی....اور مسکرا کر آیت کے گال چهونے لگی.....
"ارے کون آیا ہے بهئی تم...."...آیت کو دیکھ کر ان کی بات ادهوری رہ گئی. ..وہ خوشگوار حیرت کے ساتھ آ کر آیت کے گلے لگیں...........
"تو کیسا رہا تمہارے لنڈن کا سفر."...رات کے کهانے کے وقت ابو نے اس سے پوچها تها...وہ سب آیت کی طرف متوجہ ہو گئے...چمچ چهوٹ کر پلیٹ میں جا گرا...
کیسا تها وہ سوچنے لگی....وہ میری زندگی کا سب سے برا سفر تها ...میں نے اپنا سب کچھ کهو دیا...وہ کہہ نہیں سکی...منہ سے نکلا تو بس " اچها "
"لیکن تم تو ایک سال کے لئے گئی تهیں ناں..".پهر اتنی جلدی تمہارے ایگزامز ختم ہو گئے. ..عمارہ بیگم کو یاد آیا... .
"میں نے ایگزامز نہیں تهے."..سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکها. ....
" ایگزامز نہیں دیے...لیکن کیوں..:."؟ آیت نے بهر پور حیرت سے پوچھا. .....
"بس میرا دل نہیں کیا"....آواز جیسے کسی کهائی سے آئی تھی. ...عروہ اور عمارہ بیگم حیران ہوئیں..
" دل نہیں چاہا.. ؟ کیا صرف اس لیے لیکن آیت تم"....ان کے ابو نے ان کی بات کاٹ دی. ....
" اچها کیا آگئی...میں بهی یہی چاہتا تھا تم واپس آ جاو." ..انہیں کوئی فرق نہیں پڑا تها بیٹی کے دس مہینے ضائع ہو گئے....عروہ ابهی بهی الجهی ہوئی تھی. ...
کهانے کے بعد جب وہ سونے کے لیے لیٹی تهی ..تبهی عروہ نے اس سے پوچها.....
" سچ سچ بتاو کیا بات ہے آیت.".؟ وہ نگاہیں چرا گئی...
" کچھ نہیں آپی بتایا تو ہے...."بس دل نہیں لگا....اس نے ٹالنے کی کوشش کی. ....
" نہیں آیت تم صرف اس لیے تو ایگزامز نہیں چهوڑ سکتیں تهیں ..لنڈن جانا تمہارا سب سے بڑا خواب تها..بتاو کیا بات ہے". .....
" میں نہیں بتا سکتی. .."..وہ ناخن کهروچنے لگی. ..
"مطلب کوئی بات ہے. ..."عروہ نے اس کی آنکھوں میں دیکها تها. ..
"ہاں...لیکن ابهی میں نہیں بتا سکتی مجهے کچھ وقت لگے گا." ..وہ کمبل اوڑهنے لگی..عروہ نے مزید بحث نہیں کی. ...
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وہ پاکستان آ چکی تهی. ..اپنے خوابوں کے شہر کو وہیں انگلینڈ میں چهوڑ کر. ..سب کچھ ختم کر کے آئی تهی. ...گزرا لمحہ خواب لگتا اسے....وہ سب کچھ اب صرف یادیں ہی بن کے رہ گئیں تهیں...لیکن وہ یادیں اتنی تکلیف دہ ہوں گے یہ اس نے نہیں سوچا تها. .وہ تو اس ایک سال کو اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت سال بنانا چاہتی تهی...اور اچهی اچهی یادیں لے کر لوٹنا چاہتی تهی لیکن تقدیر نے اسے مہلت ہی کہاں دی...انوشیر کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ اس کی آنکھوں کے سامنے تها ایک فلم کی طرح. ...وہ ہر چیز بهلا دینا چاہتی تھی لیکن کچھ بھی بهلا نہیں پا رہی تهی. ..وہ خود کو وہیں پر چهوڑ آئی..اسی لندن میں. ..وہ اب بھی وہیں تهیں...اسی سڑک پہ. ..اسی کینٹین میں. ..اسی جهیل کے کنارے. ...الزبتھ ٹاور کے پاس تصویریں بناتے ہوئے. ..سب کچھ تو وہیں رہ گیا تها....
جیسے یہ کل کی بات ہو...جیسے وہ سب کچھ کل ہی ہوا ہو . کیا تقدیر اتنی ظالم اور سفاک ہے....اس کے مسکراتے چہرے سے لمحے بهر میں مسکراہٹ چهین لی...اور وہ معصوم سا دکهنے والا شخص دل میں اتنی بڑی سازش کیے ہوئے تها.....وہ سب کچھ دهوکہ تها سب کچھ. ...وہ اس سے ملنا اس کی مدد لینا ، اس کے ساتھ چلنا پهرنا وہ سب ایک سازش تهی.....اتنی بڑی سازش. ...اور وہ احمق اب تک یہ سمجھ رہی تھی اس نے لنڈن میں ایک مسلمان لڑکے کو دریافت کر لیا. ....

حالانکہ اس لڑکے نے اسے ڈهونڈا تها...اس دن یونیورسٹی میں اسے انوشیر رضا نہیں انوشیر رضا کو وہ ملی تھی. .اور آہستہ آہستہ سے اس نے اس معصوم لڑکی کے جذبات کے ساتھ کهیلنا شروع کیا .اس کے دل میں محبت پیدا کرنے کی کوشش کی...اور وہ ایک میگنیٹ کی طرح اس طرف کهچی چلی گئی یہ سوچا بنا وہ سب آنکھوں کا ایک دهوکہ ہے. ....
جیسے مچھلی پکڑنے کے لئے جال پهینکا جاتا ہے اور اس جال میں کچھ کهانے کی چیزیں ہوتی ہیں مچھلیوں کے لیے انوشیر رضا نے بھی تو وہی کیا......اس نے سب کچھ پلان کر رکها تها. ..وہ اس لڑکی کی مدد اس لیے کرتا تها تا کہ وہ اسے پهسا سکے اور بدلہ لے سکے اور وہ احمق یہ سمجھ رہی تھی انوشیر ہر جگہ اس کی مدد کے لیے پہنچ جاتا ہے .اس رات ریڈ لائٹ ایریا میں اسے اپنا پلان کامیاب کرنے کا ایک موقع ملا ...اور اس نے اس موقع سے فائدہ اٹھا لیا. .وہ تو ساری زندگی یہی سمجهتی انوشیر نے محض اس کی عزت بچانے کے لیے یہ سب کیا ہے. .....
لیکن وہ سب تو ایک بدلہ تها...وہ آنکهیں بند کرتی تو انوشیر کا چہرہ سامنے آ جاتا...مسکراتا ہوا چہرہ جیسے وہ کہہ رہا ہو. ...
" تم مجهے ٹهکرا کر لنڈن چلی گئی تهیں اور میں نے تمہیں تماری چال میں پھنسا دیا...میں نے بھی تم سے شادی کر کے اپنا سارا قرض وصول کر لیا " . ...
وہ انوشیر رضا نہیں تها وہ تو روحل آفتاب تها..وہی شخص جس سے اس نے پہلے دن میسج پہ بات کی اور جسے اس نے پارک میں بلایا تها....اور اس نے اپنے کسی دوست کو روحل آفتاب بنا کر پیش کیا اور اس نادان لڑکی کو بے وقوف بنایا...اور اب اسے یاد آ رہا تھا امی ابو اس کی تعریفیں کر کر کے نہیں تھکتے تھے. .کہ وہ خوبصورت ہے مذہبی ہے ..وہ یہی تها..باہر سے خوبصورت دکهنے والا اندر سے ایسا چہرہ .اس کی زبان نہیں تھکتی تهی اسلام اور مذہب کی باتیں کرتے کرتے....فلاں حدیث میں فلاں حکم ہے فلاں آیت میں یہ کہا گیا ہے. .اور خود...وہ خود کیا کر گیا. .اتنا بڑا دهوکہ دے گیا...ہونہہ دوسروں کو دین سکهانا بہت آسان ہوتا ہے لیکن خود اس پر عمل کرنا ہر دوسرے انسان کے بس کی بات نہیں ہے. .....
اب کیا وہ ساری زندگی کسی انسان پر بهروسہ کر سکے گی اور خصوصاً کسی مرد پر. .کوئی ایک چیز نہیں تها جو اس انسان نے توڑا تها...بهروسہ، یقین، دل ، خواب جانے جانے کیا کیا توڑا تها اس نے. ... ..
انوشیر کیا تمہیں معلوم ہے تم نے میرا کتنا بڑا نقصان کر دیا . کهبی کهبی وہ بیٹھ کر سوچتی...اور کهبی کهبی اسے لگتا جیسے اس نے کالا جادو کیا ہو اس پہ .وہ اس کی یاد سے نکل ہی نہیں پاتی. ...کون سی چیز تهی جو اسے سانس لینے نہیں دے رہی تهی پاکستان اجنبی لگ رہا تها اسے...وہ یہاں پر سیٹ ہی نہیں ہو پا رہی تهی اور کیسے سیٹ ہوتی یہاں تو صرف جسم لے کر آئی تهی...روح کو وہیں لنڈن میں دفنا کر....عروہ اور عمارہ بیگم اس کی اس تبدیلی کو نوٹ کر رہے تھے وہ لنڈن سے آنے کے بعد چپ چپ اور گم سم رہنے لگی تهی...کهانا پینا سب کچھ بے دلی سے کرتی. ..زیادہ باتیں کرنا بھی چهوڑ چکی تهی. ..کهبی کهبی ندی کے کنارے جا کر بیٹھ جاتی اور وہیں گهنٹوں بیٹهی رہتی. ...ایک بار عمارہ بیگم نے اس سے پوچها بھی تها انہیں ڈر تها کہیں وہ بیمار نہ ہو ......
آیت تم ٹهیک تو ہو...کیوں اتنی گم سم رہنے لگی ہو..اللہ خیر کرے کوئی بیماری تو نہیں ہے ناں...اس نے عمارہ بیگم کی آنکهوں میں دیکها. ....
"بیماری تو ہے امی..بہت بڑی بیماری. .مجهے عشق کا روگ لگا ہے جس کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں ہے." ....وہ کہہ نہ سکی....
" میں ٹهیک ہوں امی...."اس نے اتنا ہی کہا تھا. ...وہ رات کو دیر تک سو نہ پاتی...کهبی کهبی روتی..اسے جب زیادہ گهٹن ہونے لگتی تو وہ گهر سے باہر نکل جاتی اور رجو کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتی........
زندگی بہت پیچھے چهوٹ گئی تھی ...
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
" تم اتنی اداس کیوں رہتی ہو..".؟ اس دن درخت کے منڈیر تلے رجو نے اس سے پوچها. ..
" نہیں تو میں اداس نہیں رہتا..."اس نے جهوٹ بولا....
" تم جهوٹ بول رہی ہو کیونکہ تمہاری آنکهیں کچھ اور کہہ رہی ہیں. ." رجو نے اس کی آنکھوں میں دیکها. ..
بعض دفعہ آنکهیں بهی جهوٹ بولتی ہیں. ..اس نے نگاہیں چرائیں اور سامنے دیکهنے لگی. ....
"تو مان نہ مان...لندن میں تیرے ساتھ کچھ نہ کچھ تو ہوا ہے. ..ان انگریزوں نے تجھ سے تیری ہنسی چهین لی."...
"انگریزوں نے نہیں مسلمان نے. .".وہ کہنا چاہتی تھی. ..لیکن خاموش رہی...وہ فل دیہاتی ماحول تها جہاں اس وقت کهیتوں میں کام کرتی عورتیں نظر آئیں. .بچے کهیلتے نظر آئے ...اسے یاد آیا لنڈن جانے سے پہلے وہ یہیں بیٹهی تهی اور اداس تهی کیونکہ امی اسے لنڈن جانے کی اجازت نہیں دے رہے تهے. .تب اسے سب کچھ اداس لگا تها..اور آج..آج بھی وہ اسی درخت تلے بیٹهی اداس تهی ..آج بهی اسے سب کچھ اداس لگا....
چلو قلفی کهاتے ہیں.. رجو نے سامنے قلفی والے کو دیکھ کر کہا...جس پہ بچے مکهیوں کی طرح منڈلا رہے تھے. .وہ بے دلی سے رجو کے ساتھ چلتی ہوئی قلفی والے کے پاس آئی.. رجو نے دو قلفیاں خریدیں...اسے زندگی میں پہلی بار وہ قلفی پسند نہیں آ رہی تھی اس کا دل چاہا وہ اسے نیچے پهینک دے.. لیکن اگر وہ ایسا کرتی تو اسے رجو کو جواب دینا پڑتا اور اس کے پاس کوئی جواب نہیں تها.......
قلفی کهانے کے بعد رجو کو وہ چوڑیوں والا نظر آ گیا..چوڑیوں کی ریڑھی ہو اور رجو چوڑیاں نہ خریدے یہ تو ناممکن تها....وہ بهاگ کر وہاں گئی اور چوڑیاں دیکهنے لگی. ....
"تم نہیں لو گی چوڑیاں". ...اسے ادهر ادهر دیکهتے رجو نے پوچها. ...
" نہیں. .."وہ سرسبز کهیتوں کو دیکهنے لگی. ...
" کیوں تمہیں تو پسند ہیں ناں چوڑیاں". ...؟
" کهبی کهبی پسند کی چیزوں سے بھی نفرت ہونے لگتی ہے" اس نے اداسی سے سوچا.....
"ضروری تو نہیں جو چیز مجهے کهبی پسند ہو وہ ہمیشہ پسند رہے وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی سوچ اور پسند بدل جاتی ہے. "..اس نے کچھ تلخی سے کہا....
تم لندن جا کر بدل گئی ہو...رجو نے کندهے اچکا کر تبصرہ کیا. ..وہ حیران نہیں ہوئی یہ اس نے بہت بار سنا تها اور بہت بار سننا تها..رجو نے چوڑیاں خریدیں...اور وہ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی.....
اچانک کچھ یاد آنے پر وہ ٹهٹک کر رک گئی.....
" رجو تمہیں یاد ہے لنڈن جانے سے پہلے ہم یہیں آئے تهے ہم نے کچھ چوڑیاں خریدیں تهیں."..
" ہاں تو.."..رجو اپنی چوڑیوں سے کهیلنے لگی.....
" تو کیا اس دن یہاں کوئی اور بھی آیا تها مطلب کوئی اجنبی شخص جس نے چوڑیاں خریدی ہوں....جو ہمارے گاؤں کا نہ ہو.....مطلب تم نے دیکها کسی کو."...
رجو منہ کهولے اسے دیکھ رہی تھی پهر اس نے زور دار چیخ لگائی.....
"ہائے ربا...میں تے بهول ہی گئی اس دن تمہارے جانے کے بعد میں گهاس کے لیے جب واپس کهیتوں میں آئی تو کیا دیکهتی ہوں ایک خوبصورت گبرو نوجوان چوڑیاں خرید رہا تها. .ایک دم فلمی ہیرو جیسا ...کتنا خوبصورت تها وہ تمہیں کیا بتاؤں ایسا شخص میں نے زندگی میں کهبی نہیں دیکها. ..وہ جس کے لیے چوڑیاں لے رہا تھا مجهے اس پہ بہت رشک آیا وہ کتنی خوش قسمت ہوگی."...
رجو بات کو کچھ زیادہ ہی کهینچ رہی تھی اس نے رجو کو ٹوک دیا ....
"تم بتاو وہ دکهتا کیسا تها مطلب اس کا انداز اس کے کپڑے کیسے تهے.....؟" اس نے تجسس سے پوچها. ..
"دراز قد تها....فٹ باڈی....اس نے آنکهوں پہ کالا عینک لگایا ہوا تها.... اس کے ہونٹ خوبصورت گلابی تهے...اس کی داڑھی مونچھیں نہیں تهیں..بس ہلکی داڑھی تهی ہاتھ پہ گهڑی بندهی تهی....کیا بتاؤں وہ کتنا خوبصورت تها ...سچی پوچهو وہ جس کے لیے بھی چوڑیاں. .....".
رجو چہک کر بولے چلی جا رہی تهی لیکن اس سے مزید سنا نہیں گیا...اس میں زرا برابر بھی شک نہیں تها وہ انوشیر کے علاوہ کوئی اور ہو سکتا ہے. .رجو نے جو نقشہ جو شخصیت بتائی تهی وہ انوشیر کی ہی تهی....وہ یہیں تها پاکستان میں. ...اس کے اتنے پاس. .اسے نئے سرے سے سب کچھ یاد آنے لگا. ..رجو سے رخصتی لے کر وہ اسی جگہ پہ آئی..اسی ندی کے پاس اسی درخت تلے جہاں سے اسے چوڑیاں پهینکی گئی تهیں.....اس دن اسے اس سوال کا جواب نہیں ملا لیکن آج اسے جواب مل گیا تها.....اسے وہ تحریر یاد آئی جس پہ لکها تها. ..
"پاگل لڑکی لال رنگ کے کپڑوں کے ساتھ پیلی چوڑیاں کوئی نہیں پہنتا "
اسے کے زخم تازہ ہو گئے...لیکن ایک سوال اس دن وہ چوڑیاں کس طرف سے پهینکی گئیں تهیں .کیونکہ اس نے چاروں طرف دیکها کوئی نہیں تها....اسے کسی کوئل کے گانے کی آواز آئی...بے ساختہ اس کا سر اوپر کی طرف اٹھ گیا...جہاں درخت تها.....اور اسے سارے جواب مل گئے.....وہ اس دن درخت کے اوپر بیٹھ تها....اف وہ اسے اتنے قریب سے دیکھ رہا تھا اور اس نے جب وہ چوڑیاں ندی میں بہا دی تهیں تو کیا اس نے وہ بھی دیکها.....؟

اف اس کی یادیں....وہ وہاں مزید نہیں رک سکی اور نم آنکھوں کے ساتھ گهر چلی گئی.....
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اگلے سات دن وہ بخار میں مبتلا رہی ..اس رات موبائل پہ انوشیر کی تصویریں دیکهتے ہوئے وہ ساری رات روتی رہی اور جب صبح اٹهی تو ٹمپریچر ہو چکا تها...عمارہ بیگم نے ڈاکٹر کو وہیں گهر پہ بلا لیا تها. ..ڈاکٹر نے اس کا چیک اپ کیا اور کچھ میڈیسن لکھ کر دیں جو وہ نہیں لے رہی تهی ...اس شخص نے اگر اسے مارا نہیں تها تو زندہ بھی نہیں چهوڑا.....
اس دن لنڈن ائیر پورٹ پر ہی اس نے اپنی سم نکال کر وہیں پهینک دی تا کہ وہ اس شخص دوبارہ کهبی اس سے رابطہ نہ کر سکے. .اس نے یقیناً رابطہ کرنے کی کوشش ضرور کی ہوگی.. وہ جو ایک بار چلی تهی پهر کہاں ملنے والی تهی.......
وہ ابهی بهی بستر پر پڑی ہوئی تهی اس کی حالت خراب نہیں خراب ترین تهی اور وہ جیسے وقت نزع سے گزر رہی ہو...آنسو آبشار کی طرح نکل رہے تهے اس کی آنکهیں سوجهی ہوئی تهیں. ..بال الجهے ہوئے تهے ..وہ موت مانگ رہی تھی لیکن موت بھی اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تها شاید. ..وہ ان کچھ دنوں میں کافی نڈهال نظر آنے لگی جیسے برسوں کی مریضہ ہو...کهانا پینا، باہر جانا ، میک اپ کرنا یہ سب تو وہ کب کا چهوڑ چکی تهی.....دروازے پہ دستک دے کر عروہ آپی اندر داخل ہوئی اس نے آنکهیں نہیں کهولیں...کچھ دنوں سے گهر والے اس کی حالت سے کافی پریشان تهے.....وہ جانتی لیکن کچھ نہیں کر سکتی تهی ابو بہرحال اس معاملے سے آزاد تهے انہیں کوئی فرق نہیں پڑنا تها بیٹی ٹهیک ہے یا بیمار. .زندہ ہے یا مر گئی....انہوں نے ایک بار بھی پوچهنے کی زحمت نہیں کی. ......
عروہ اس کے سرہانے کی طرف آئی اور اس کے ماتهے پر ہاتھ رکھ کر اس کا بخار چیک کرنے لگی...اس نے آہستہ سے آنکهیں کهول دیں.....
" کیسی ہو آیت..."؟ عروہ نے پوچها. ..وہ کیا جواب دیتی..
"ٹهیک ہوں آپی...."وہ کمزور آواز میں کہنے لگی. .آپی وہیں بیڈ پہ اس کے پاس بیٹھ گئی اور سوپ کا جو ڈونگا وہ اپنے ساتھ لائیں تهیں اس میں چمچ ہلانے لگیں....اور پهر انہوں نے آیت کو سہارے سے اٹهایا.اور اسے سوپ پلانے لگی .....
"اور نہیں آپی.."..اس نے دو تین چمچ کے بعد احتجاج کیا.
"امی نے کہا تها آیت سے کہنا یہ سارا سوپ بنا کوئی نخرہ کیے ختم کرنا ہے. .عروہ نے ایک اور چمچ اس کی طرف بڑهائی جو اس نے بادل نخواستہ پی لی.....
آیت یہ سب کیا ہے...."؟ اس نے سوالیہ نگاہوں سے عروہ کی طرف دیکها. .
"آیت بند کرو یہ سب. .کب تک اس طرح خود کو اور ہمیں تکلیف دیتی رہو گی...آخر کون سا روگ لگا ہے تمہیں. .وہ کون سی چیز ہے جو اندر ہی اندر تمہیں کهائے جا رہی ہے. ."....الفاظ سے پہلے اس کے آنسو نکلے وہ کیا بتاتی......
"آپی میں جینا نہیں چاہتی. ."...وہ بهرائی ہوئی آواز میں بولی. ...
"کیوں آیت ...مجهے وجہ بتاو اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرو اس طرح گهٹ گهٹ کر تم مر جاو گی...کیا تمہارے ساتھ لنڈن میں کوئی حادثہ ہوا ہے...کچھ ایسا جو نہیں ہونا چاہیے تھا .".....
اس کی آنکھوں کے سامنے لنڈن کی تصویر آئی....
پوجا...انوشیر. ...مائیکل. .سب کچھ تو یاد آ گیا اسے...
"عورت کمزور کیوں ہوتی ہے. "...؟ عروہ نے سوپ کا ڈونگا ایک طرف رکها.....
"ویسے دیکهنے کو تو عورت کی بهی دو آنکهیں دو ہاتھ دو پاؤں ہوتے ہیں. .عورت چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو وہ کمزور ہوتی ہے اور مرد چاہے کتنا ہی دبلا پتلا ہو وہ عورت سے طاقتور ہوتا ہے. ...تمہیں معلوم ہے ایسا کیوں ہے". ...؟

"کیوں کہ ہم عورتیں خود کو بہت کمزور ظاہر کرتی ہیں. .ہمیں بہت شوق ہوتا ہے ہمدردی حاصل کرنے کا یہ دکهانے کا کہ ہم بہت کمزور ہیں..بے بس ہیں لاچار ہیں...حالانکہ ایسا نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی دو پاوں دو ہاتھ دیے پهر ہم کیوں کمزور ہیں. ..ایک مرد بڑے سے بڑے طوفان کا مقابلہ کر سکتا ہے اور ہم عورتیں ایک چھپکلی سے بھی ڈر جاتی ہیں کیوں ہمارے اندر یہ بات بیٹھ چکی ہوتی ہے ہم کمزور ہیں...ہم کچھ نہیں کر سکتیں....بعد صرف ہمت کی ہوتی ہے. .اور ہمت ہار جاتے ہیں تم بھی وہی کر رہی ہو. ..
اگر تمہارے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو اسے فیس کرو بہادر بن کر. .یوں رونا دهونا آنسو بہانا کمزور عورتوں کا کام ہے.....مسائل تو ہر کسی کی زندگی میں ہوتے ہیں لیکن ان کا سامنا کرنے کی ہمت تو ہونی چاہیے ناں انسان میں...اور تم اللہ پر بهروسہ کرو. ان کے فیصلے قبول کرو پهر تم کهبی مار نہیں کهاو گی".....
عروہ نے اس کے گالوں کو چهوا...اور ڈونگا لیے باہر چلی گئی. ..آپی کی ہر بات اس کے دل کو چهو گئی..واقعی وہ کمزور پڑ رہی تهی اسے حالات کا مقابلہ کرنا تها یوں آنسو بہانا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہیں....
تو وہ کیا کرے...گهر والوں کو ساری سچائی بتا دے..اور سچ جان لینے کے بعد وہ لوگ کیا کریں گے. .وہ کہاں سے ڈهونڈ لائیں گے اس اجنبی شخص کو. ..اس نے بڑی بے دردی سے اپنے آنسو پونچھ ڈالے یہ سوچ کر وہ آئندہ کهبی ہمت نہیں ہارے گی...
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
دو دن بعد اس کا بخار اترا تو وہ عروہ آپی کے ساتھ شہر میں شاپنگ کرنے آئی..پہلے کی نسبت وہ کافی بہتر لگ رہی تھی. ....مال میں رش تها ..لوگوں کا ایک ہجوم تها...اس نے آس پاس چاروں طرف دیکھا جانے کیا ڈهونڈ رہی تهی ...؟
" انوشیر رضا. .".؟ہونہہ وہ یہاں کیا کرنے آتا...اگر اسے وفا کرنی ہوتی تو وہ اسے اتنا بڑا دهوکہ کهبی نہیں دیتا...اسے یقین تها انوشیر اس کے لیے تو کهبی بهی پاکستان نہیں آئے گا.....
عروہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے مال کے اندر لے آئی..وہ اداس آنکهوں سے لوگوں کو دیکھ رہی تھی. .اسے پهر سے گهٹن ہونے لگا..ہر جگہ وہی شخص. ..وہ کہیں اور کسی اور جگہ پہنچ گئی.....لندن کا شاپنگ مال. ...وہ ڈائمنڈ رنگ. ..وہ تاریک کمرہ....پولیس. ..انوشیر. ..کیا تها جو اسے وہاں یاد نہیں آ رہا تها...ہر شخص میں اس ایک ہی شخص کی تصویر تهی...ہر منظر وہی تها....وہ ہمت ہار رہی تهی ....اور آپی کہتی ہے عورتیں کمزور ہوتی ہیں واقعی کمزور ہوتی ہیں اتنا سب کچھ سہنے کے بعد وہ مضبوط ہو بھی کیسے سکتی تهی. .....
آنکهوں کے گرد اندهیرا چهانے لگا. .جی متلانے لگا اور اگلے ہی لمحے اسے زور دار ابکائی آئی...عروہ بهاگ کر اس کے پاس آئی ..اس کا جی کچا ہو رہا تها. ..عروہ اسے سہارا دیتی ایک رکشے کے پاس لے آئی...اور اسے رکشے میں بٹها کر ایک ڈاکٹر کے پاس لے آئی .....وہ شہر کا ایک چهوٹا کلینک تها...ڈاکٹر نے اس کے کچھ ٹیسٹس کیے...عروہ وہیں بنچ پر بیٹهی دعائیں کرتی رہی........
"پریشانی کی کوئی بات نہیں. ..."وہ دونوں ڈاکٹر کے سامنے بیٹهی تهیں....
"ایسی حالت میں ایسا ہوتا رہتا ہے. آپ کو چاہیے انہیں کسی گائنا کالوجسٹ کے پاس لے جائیں"...ان دونوں نے الجهن بهری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکها. ...
"گائنا کالوجسٹ. ..؟ میں سمجهی نہیں ڈاکٹر صاحب"...؟ عروہ نے حیران ہوتے ہوئے پوچها....
"شی از پریگننٹ...یہ ماں بننے والی ہیں.."..کوئی بم تها جو ان دونوں بہنوں پر گرا تها....عروہ نے شاکڈ ہو کر آیت کو دیکها تها..........
میں آپ کو کیا بتاؤں آپی...اس نے سب ختم کر دیا میں اس پہ کتنا بهروسہ کرتی تهی اور اس نے سب کچھ توڑ دیا.....اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تها میرے ساتھ. ...میں اس سے بہت پیار کرتی تهی اور اس نے میری محبت کی توہین کر دی....آپ کو یاد ہے آپی میں ایک ناول پڑهتی تهی جس کا ہیرو مجهے بہت اچها لگتا تها..وہ بالکل ویسا تها اس سے بھی زیادہ خوبصورت کسی ملک کا شہزادہ لگتا تھا وہ اور. "'.......
وہ دو گهنٹے سے اپنے کمرے میں آپی کے سامنے بیٹھ کر اسے روتے ہوئے ساری تفصیل بتا رہی تھی شروع سے لے کر آخر تک. ...انوشیر سے مدد لینا...پوجا کی کہانی اور کیسے پوجا کی سازش کی وجہ سے وہ مشکل میں پھنسی. .....اور کیسے ان دونوں کو حادثاتی طور پر نکاح کرنا پڑا تها......
عروہ حیرت، افسوس، دکھ کے ساتھ اس کی ساری داستان سنتی گئی....آیت نے سر اٹها کر آپی کو دیکها ...لیکن وہ اسے نہیں وہ منہ کهولے دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی اس نے بھی نگاہ گهما کر دروازے کی طرف دیکها. ..اور اسے قیامت کی ایک گهڑی نظر آئی...ابو جانے کب سے وہاں کهڑے تهے اور ان کہ کی کتنی باتیں سن چکے تھے ..ان کے چہرے سے لگ رہا تها وہ کافی کچھ سن چکے ہیں. ....وہ غصے سے مٹهیاں بهینچے کهڑے تهے....عروہ آپی کهڑی ہوئی وہ بھی ڈرتے ڈرتے کهڑی ہو گئی. .
ابو نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پہ ایک زناٹے دار تهپڑ مار دیا. ...
"بے حیا ، بد بخت لڑکی یہی سب کرنے لنڈن بهیجا تها ہم نے تمہیں. ...ہم نے تم سے کہا تها ہم تم پر بهروسہ کر کے تمہیں بهیج رہے ہیں اور تو ہماری عزت اپنے قدموں تلے روند آئی ."......
وہ سر جهکائے کهڑی تهی. عمارہ بیگم بھی وہیں آ گئیں...وہ پریشان ہو کر بیٹیوں کو اور شوہر کو دیکهتی .."ابو آپ ایک بار آیت کی..."..عروہ نے اس کی طرف داری کرنے کی کوشش کی. ...
"ہمیں کچھ نہیں سننا. ...ہم نے فیصلہ کر لیا ہے ہم اس کے لیے آج ہی لڑکا دیکهیں گے...".انہوں نے غصے سے کہا...آیت مزید حیران ہوئی. ..تو اس کا مطلب انہوں نے نکاح والی بات نہیں سنی انہوں نے صرف محبت والی بات سنی تهی. ....
"جماعت اسلامی کے گروپ میں ہمارا اتنا بڑا نام ہے ہم اپنا نام ڈوبنے نہیں دیں گے...جلد سے جلد تمہارا رشتہ طے کر کے تمہیں دفع کر دیں گے....اور اگر تم نے کوئی چوں چراں کرنے کی کوشش کی تو تمہاری خیر نہیں. ..آئی بات سمجھ میں. "...وہ دهمکی دیتے باہر نکلے ..عمارہ بیگم بھی ان کے پیچھے پیچھے گئیں.
اور ان دونوں کو افسوس ہونے لگا انہوں نے دروازہ کیوں بند نہیں کیا.....آیت عروہ کے گلے لگ کر رو پڑی..وہ اسے کیا حوصلہ دیتی......
" آپی میں کسی سے شادی نہیں کروں گی"...
"میں اب کیا کر سکتی ہوں ..حالات اتنے سنگین ہیں اور تم ایسے گرداب میں پھنسی ہو میں تمہیں چاہ کر بھی نہیں نکال سکتی....تمہیں پہلے سب کچھ سوچ کے کرنا تها تمہیں اتنا جذباتی ہو کر نہیں سوچنا چاہیے تھا. .ہو سکتا ہے وہ لڑکا کسی اور وجہ سے لندن گیا ہو.. ..تم بنا سوچے سمجھے چلی آئیں..ابو کو نہیں معلوم تمہارا نکاح ہو چکا ہے اور تم کسی ایک کے نکاح میں ہوتے ہوئے کسی دوسرے سے نکاح نہیں کر سکتیں .اور یہ پریگننسی. "......
سب کچھ دهندلانے لگا تها....
"میری بات مانو تو تم ابورشن کروالو ."..عروہ نے اسے مشورہ دیا وہ اس مشورے پر کرنٹ کها کر پیچھے ہٹی ..اس نے اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکها اس ننهنے وجود کا کیا قصور جو ابهی اس دنیا میں آیا بھی نہیں تها اسے کس بات کی سزا ملتی........

"نہیں میں ابورشن نہیں کروا سکتی.؟."..وہ سسک پڑی
" دیکهو آیت ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچا..یہی وہ واحد راستہ ہے تم ابورشن کروالو اور اس لڑکے سے رابطہ کر کے اس سے طلاق لے لو....بات یہیں پہ ختم ہو جائے گی....ابو ایک بار جو فیصلہ کر لیتے ہیں پهر انہیں کوئی نہیں روک سکتا اگر انہوں نے کہا ہے وہ تمہارے لیے لڑکا ڈهونڈیں گے تو وہ ایسا ضرور کریں گے تم ڈرنا چاہیے حالات کی سنگینی سے.ابهی تک تو انہیں صرف یہ پتا چلا ہے تم کسی لڑکے میں انٹرسٹڈ ہو اگر انہیں یہ معلوم چلا کہ تم نکاح کر چکی ہو اور پریگننٹ ہو تو وہ واقعی تمہارا قتل کر دیں گے......اور وہ لڑکا اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے وہ پاکستان آئے گا بهی یا نہیں. ..اگر وہ کهبی نہیں آیا تو اس نے تم سے رابطہ نہ کیا تو تم کیا کرو گی.....؟ کیا ساری زندگی یونہی گزار دو گی...اس کی یادوں کے سہارے. .ممکن ہے وہ تمہارے لیے پاکستان آ جائے اور یہ بھی ممکن ہے وہ سب بهول جائے...لیکن ہم امکان اور ممکنات کے سہارے نہیں بیٹھ سکتے. "...
سب کچھ بهنور کی زد میں محسوس ہونے لگا تها اسے...سوچنے سمجهنے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا تها اب...جو بھی تها لیکن وہ ابورشن نہیں کروا سکتی تهی اور اس بچے کو اس دنیا میں لانا مطلب اپنے لیے ایک طوفان کهڑا کرنے کے مترادف تها........
"تم اچهی طرح بیٹھ کر سوچو...تمہیں اس رشتے کے بارے میں کیا کرنا چاہیے. ..میرا مشورہ مان لو آیت ..جذباتی ہو کر مت سوچو. ..جو تمہاری قسمت میں لکها تها وہی ہوا...تم ابورشن کروا کے طلاق لے لو...ساری مصیبتیں ختم ہو جائیں گی سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا اور جو ہو چکا ہے وہ صرف ایک خواب بن جائے گا...اگر تم اسی طرح ضد کرتی رہیں تو اپنا ہی نقصان کر دو...ابهی تمہارے سامنے پوری زندگی پڑی ہے اور اس بے نام بچے کو لے کر تم کهبی آگے نہیں بڑھ سکو گی. ....کس کس کو صفائی دو گی کس کس کے سامنے اپنی داستان دہراو گی...اور کون کون یقین کرے گا تمہاری بات پر. ....تم اسے پیٹ کو چهپا بھی نہیں سکتیں...کچھ ہی عرصے میں تمہارا پیٹ باہر نکل آئے گا تب کیا جواز پیش کرو گی. .. دنیا والوں کے لیے تو تم آج بھی کنواری ہو....اور کنواری کا پریگننٹ ہونا تمہیں معلوم ہے کیا ہوتا ہے. "...؟
" تم جو نکاح کر چکی ہو اس کا کوئی ثبوت بھی نہیں ہے تمہارے پاس. .بنا نکاح نامے کے کون تسلیم کرے گا تمہارے نکاح کو....اور اگر تم ضد کر کے اس بچے کو دنیا میں لے بھی آئیں تو اس بن باپ کے بچے کو کیسے پالو گی...کیسے دنیا والوں کو بتاو گی اس کا اصل باپ کون ہے. ...اور کسے دلچسپی ہوگی تم سے ہمدردی رکھنے میں. ..کل جب یہ بچا بڑا ہوگا اور تم سے اپنے باپ کے بارے میں سوال کرے گا تو کیا جواب دو گی اس بچے کو. ..کہاں سے پیدا کر کے لاو گی اس کے باپ کو....."..
عروہ اسے مستقبل کا بهیانک نقشہ دکها رہی تهی. .سب کچھ آنکهوں کے سامنے تها...منٹوں میں نہیں سیکنڈوں میں وہ اس خوبصورت خواب کے بهنور سے نکل کر خوفناک سچائی میں قدم رکھ چکی تهی. ..
عروہ اسے سوچنے کا وقت دے کر باہر نکل گئی اور وہ آگے کے قیامت کا انتظار کر رہی تھی اصل قیامت وہ نہیں تها جو آ چکا تھا اصل قیامت تو آگے اس کا منتظر تها.....
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وہ ایک بار پھر خود کو اسی جنگل میں محسوس کرنے لگی. .اسی ریڈ لائٹ ایریا میں. ...اس کا دم ایک بار پھر سے گهٹنے لگا. ..یہ بهیانک سچ یوں اس طرح کهل جائے گا اس نے سوچا بھی نہیں تها...
لیکن سوچا تو اس نے بہت کچھ نہیں تها...عروہ کہہ رہی تھی ابورشن اور طلاق اس مسئلے کا واحد حل ہے.
اگر ابورشن اس مسئلے کا آخری حل ہوتا تب بھی وہ ایسا نہیں کرتی. ..اتنی ظالم وہ کیسے ہو سکتی تهی یوں اس طرح کسی کی جان کیسے لے سکتی تهی وہ بھی اپنے خون کا. ..اس کے پیٹ میں اس شخص کی نشانی تهی جو ان سب کا ذمہ دار تها جس کی وجہ سے سب کچھ اس طرح ہوا تها...لیکن وہ صرف اس کی نشانی ہی تو نہیں تهی وہ اس کا خون بهی تو تها. .کوئی اس طرح اپنے خون کو یوں کیسے ختم ہر سکتا ہے. ....
" مما.."...اس کے پیٹ سے آواز آئی...اس نے پیٹ کو چهو کر دیکها. ...
"میرا تو کوئی قصور نہیں ہے مجھ کس کے گناہوں کی سزا مل رہی ہے میں نے کیا کیا ."..؟
"نہیں تم نے کچھ نہیں کیا اور میں تمہیں کسی اور کے گناہوں کی سزا نہیں دوں گی...چاہے کچھ بھی ہو جائے تم اس دنیا میں آ کر ہی رہو گے. ..اگر یہ امتحان ہے تو میں یہ امتحان دوں گی. ایک لڑکی کمزور ہو سکتی ہے ایک بیٹی کمزور پڑ سکتی ہے لیکن ایک ماں ...ایک ماں کهبی بهی کمزور نہیں پڑے گی.".
اس دن اس نے اپنے آپ سے وعدہ کیا وہ ابورشن نہیں کرائے گی..اور یہ فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تها...ایسا کرنے کی صورت میں اسے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا. .سب کا مقابلہ کرنا تها اسے...سب سے لڑنا تها اسے......
وہ انوشیر سے رابطہ نہیں کر سکتی تهی کیونکہ وہ کرنا بھی نہیں چاہتی تھی. .کیوں گرتی وہ اس ظالم شخص کے قدموں میں جس کی وجہ سے آج وہ ان حالات سے دو چار ہوئی....چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ کهبی اس سے رابطہ نہیں کرے گی اب...
گهر میں شادی اور پریگننسی والی بات صرف عروہ کوئی معلوم تهی اور وہ اسے وقتاً فوقتاً ابورشن کا مشورہ دیتی. .وہ جانتی تهی ابورشن اس مسئلے کا آخری حل ہے لیکن پهر بھی وہ یہ نہیں کرنا چاہتی تهی. ...وہ جانتی تهی اگر ابو کو معلوم چل گیا تو وہ اسے گهر سے نکال دیں گے یا اس کا قتل کر دیں گے. ..اور اسے یہ بھی معلوم تها کچھ ہی مہینوں بعد اس کا پیٹ ظاہر ہو کر باہر آئے گا تب اس حقیقت کو چهپانا مشکل ہو جائے گا. ..مستقبل اسے بہت بهیانک نظر آنے لگی...خوابوں اور خیالوں میں رہنے والی وہ البیلی سی لڑکی تقدیر کی زد میں اچانک تهی ...ہنسنے گانے کهیلنے اور چاند سے باتیں کرنے والا وہ دور تو بہت پیچھے رہ گیا. ..زندگی خوابوں خیالوں سے ہٹ کر ہے اور جیسا ناولز میں ہوتا ہے سب سہی..سب کچھ اچها..ویسا اصل زندگی میں نہیں ہوتا. .اصل زندگی میں معجزے نہیں ہوتے یہاں اپنے دم پہ اپنے بازوؤں سے لڑنا پڑتا ہے. ..یہاں آپ کو ہر مشکل سے بچانے کے لیے کوئی ہیرو نہیں آ جاتا. .......
وہ اس وقت زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہی تھی. .حالات بے قابو ہوتے جا رہے تھے ..وقت کچھ اور آگے بڑهتا جا رہا تها. .وقت کو وہ وہیں روکنا چاہتی تهی .کسی برف کی طرح جما کر. .لیکن وقت اس کے ہاتهوں میں نہیں تها ..اور وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ اس کے مسائل میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تها. .اس کا پیٹ تهوڑا سا باہر نکلنا شروع ہوا تها....ابو اس کے لیے رشتے ڈهونڈ رہے ہیں یہ بات وہ اچهی طرح جانتی تهی. ..وہ جماعت اسلامی کے ایک اہم رکن تهے جو لوگوں کو دین سکهاتے تهے....اور لوگوں کو صراط مستقیم پر چلنے کا طریقہ بتاتے تهے...وہ کهبی بهی اپنے گروپ کے سامنے اتنی بڑی ذلت کا سامنا نہیں کر سکتے تهے...ان کا مقصد صرف ایک ہی تها وہ جلد از جلد آیت کی شادی کر دیں اس سے پہلے وہ ان کی بے عزتی کا باعث بنے......
گهر میں اس کا ابو سے سامنا کم ہی ہوتا. .کهبی کهبی کهانے کی ٹیبل پر وہ نظر آ ہی جاتے اور اسے حقارت سے دیکهتے وہ بھی ان سے نگاہیں نہیں ملا سکتی تهی. ..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اور یہ انہی دنوں کی بات ہے جب اس کے ابو نے اپنے ہی جماعت کا ایک لڑکا اس کے لیے پسند کیا.....وہ لڑکا کافی مذہبی تها اور پڑها لکها بھی تها اس کی داڑھی بہت لمبی تهی ...اور جس دن وہ ان کے گهر آئے امی نے ہی آ کر اسے اطلاع دی. ....
"آیت چلو جلدی تیار ہو جاو تمہیں دیکهنے لڑکے والے آئے ہیں...".؟ یہ کوئی اتنی معمولی خبر تو نہیں تهی جو امی اتنی آسانی سے سنا گئی..
"مجهے کسی سے نہیں ملنا. ".اس نے درشتی سے کہا.
"پاگل ہو کیا جلدی تیار ہو جاو.."...انہوں نے بھی غصے سے اس کی طرف دیکها.....
"ہاں میں پاگل ہوں امی. .آپ بس چلی جائیں یہاں سے." ."تماشا مت بناؤ آیت....جو کہا جا رہا ہے وہ کرو...اگر تمہارے ابو کو پتا چلا تو وہ دو تهپڑ لگا کر تمہیں لے جائیں گے...".انہوں نے آیت کو ڈرانے کی کوشش کی. .."دو تهپڑ لگائیں یا دس لیکن میں نہیں آنے والی." ...وہ کتاب صوفے پر پٹخ کر بولی. .عمارہ بیگم اسے دیکهتی رہ گئیں..اسی وقت عروہ اندر آئی...اور اس نے عمارہ بیگم کو آنکهوں ہی آنکهوں سے جانے کا کہا ..وہ چلی گئیں تو عروہ اس کے پاس آئی......
"چلو آیت"....آپی نے اس کا ہاتھ پکڑا ..اس نے تاسف سے آپی کو دیکها. ..
""آپ جانتی ہیں آپی میں شادی شدہ ہوں...پهر بهی آپ."..عروہ نے اس کی بات کاٹ دی. ...
""فی الحال تم سے شادی کے لیے کوئی نہیں کہہ رہا...تم صرف آو انہیں دیکهو اور اپنے آپ کو بھی دکهاو بس..."..
"لیکن میں اس طرح. "...عروہ نے ایک بار پھر اس کی بات کاٹ دی.....
"پاگل ہو کیا...تمہارا نکاح تو کوئی نہیں کر رہا اس وقت. .اور کیوں سب کے سامنے خود کو ظاہر کرنا چاہتی ہو..ابهی تهوڑی دیر بعد ابو اوپر آئیں گے اور تمہارے نہ آنے کی وجہ پوچهیں گے تو کیا جواب دو گی انہیں. ..؟ بہتر ہے تم چلو اور باقی سب مجھ پہ چهوڑ دو میں کرتی ہوں کچھ...دیکهو وہ جو پوچهیں نارمل طریقے سے بتاتی جاو.." ...عروہ نے اسے تسلی دی. ..وہ آئینے کے سامنے آئی اور بال بنائے......سر پہ دوپٹہ لیا....عروہ نے سیاہ شال اس کی طرف بڑهائی. . .

"یہ کیا ہے."..؟ آیت نے شال کو حیرت سے دیکها. ...
"یہ شال ہے تم اس اچهی طرح اوڑھ لو تا کہ تمہارا جو پیٹ تهوڑا بڑها ہوا ہے وہ نظر نہ آ سکے."...اس نے شال کو اوڑھ لیا....
"اور ہاں چلتے ہوئے زرا جهک کر چلنا تا کہ پیٹ پیچھے چلا جائے.."..عروہ نے تاقید کی. ...
"اس سے میرے بچے کو تو نقصان نہیں ہوگا ناں" ..؟ وہ ڈرتے ہوئے پوچهنے لگی. ...
"نہیں. .".وہ عروہ کا ہاتھ پکڑے باہر آئی...عروہ اسے چھپانے کی کوشش کر رہی تهی اس لیے زرا آگے چل رہی تهی تا کہ وہ نظر نہ آسکے....وہ سر جهکائے عروہ کے بتائے ہوئے طریقے سے چل رہی تهی. ....ہال میں سبهی موجود تهے...ابو امی اور لڑکا اور اس کی ماں...لڑکے کی ماں اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی. ....وہ اسے لے کر ایک صوفے پر جا کر بیٹھ گئی. ....
"یہ آپ نے اسے اس طرح پکڑ کر کیوں رکها ہے"...؟ خود نہیں چل سکتی کیا.."..؟ ہال میں پوچها جانے والا پہلا سوال جو لڑکے کی ماں نے پوچها تها.......
" نہیں آنٹی ایسی کوئی بات نہیں ہے دراصل آیت کے پاوں پہ زرا موچ آ گئی ہے." ...عروہ نے جهوٹ بول کر اس کی طرف داری کی...وہ لڑکا نگاہیں جهکائے بیٹها تها اس نے سر پہ سفید ٹوپی بھی پہنی ہوئی تھی. ..اس کا ابو اور وہ باتیں کر رہے تهے....عروہ موقع کی تلاش میں تهی اور آیت کو وہیں چھوڑ کر وہ اپنی امی ابو کے صوفے کے پیچھے آئی.....اس لڑکے کی امی آیت سے پوچھ گچھ کرنے میں مصروف تهیں .سب کا چہرہ دوسری طرف تها وہ لڑکے کی طرف دیکهنے لگی. ..اسے سمجھ میں نہیں آیا وہ کس طرح اس لڑکے کو بلا لائے .......
"عروہ بیٹا چائے پانی لے آو"....اس نے اپنی ماں کی آواز سنی اور ہونٹ کاٹ کر کچن میں چلی گئی. .چائے اور سموسے ٹرے میں سجا کر وہ باہر چلی آئی. .چائے بنا کر وہ سب کو ان کے کپ تهمانے لگی.......اچانک ایک خیال بجلی کی طرح اس کے دماغ میں آیا .....اس لڑکے کی طرف کپ بڑھاتے ہوئے اس نے ہاتھ کو زرا ڈهیلا کیا اور کپ اس کے ہاتھ سے گر کر فرش پر جا پڑا...چائے ساری لڑکے کے سفید کپڑوں پہ جا گری....سبهی ان کی طرف متوجہ ہو گئے......
"اوہ...آئم....سو. ..سوری."....وہ گڑبڑانے کی ایکٹنگ کر رہی تهی. ....
"خیال سے عروہ بیٹا....".عمارہ بیگم نے اسے ٹوکا....
"آئیں میں آپ کو واش روم دکهاتی ہوں..آپ اپنے کپڑے دهو لیں.."..وہ اس لڑکے کو لیے واش روم کی طرف آئی....لڑکا اندر جا کر اپنی قمیض صاف کرنے لگا..وہ تب تک باہر کهڑی رہی......جب وہ قمیض صاف کر باہر نکلا تو وہ اس کے آگے جا کر کهڑی ہو گئی....
"دیکهیں میں نے تهوڑی دیر پہلے جهوٹ بولا تها..کہ آیت کے پاوں پہ موچ آئی ہے دراصل ایسا نہیں ہے." ...وہ ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے کهڑی تهی وہ مولوی ٹائپ کا لڑکا اسے الجهے ہوئے انداز میں دیکھ رہا تھا.
" تو....؟" اس نے پوچها. ...
" دراصل آیت نے آج کچھ زیادہ چڑها لی تهی"....
" کیا.."..؟
" شراب...".وہ لڑکا ہکا بکا ہو کر اسے دیکهنے لگا. ...
" استغفراللہ تو کیا وہ شراب پیتی ہے". ....
"نہیں ..نہیں. ..نہیں. ..وہ روز تو نہیں پیتی کهبی کهبی جب کلب جاتی ہے تو تهوڑا بہت پی لیتی ہے. "....لڑکے کی آنکهیں پهیل گئیں. ....
" کلب....توبہ نعوذبااللہ." ....
"آپ غلط سمجھ رہے ہیں وہ ہمیشہ کلب نہیں جاتی..وہ تو جب سے جیل سے ہو کر آئی ہے تب سے ہی جانے لگی ہے "..
"جیل. ..او میرے اللہ تو کیا وہ جیل بھی جا چکی ہے. ..کس جرم میں." ..؟
"قتل....."عروہ نے افسوس کے ساتھ ہونٹ سکڑ لیے....
"استغفار. .استغفار. ...تو وہ قتل بھی کر چکی ہے..".
"ہاں جب اسے مرگی کا دورہ پڑا تها."...عروہ نے بے نیازی سے بتایا. ...
"تو کیا اسے مرگی کے دورے بھی پڑتے ہیں. "..؟ اس لڑکے کی آواز بہ مشکل عروہ کو سنائی دی.....
"ہمیشہ کہاں ہیں پڑتے ہیں وہ تو تب پڑتے ہیں جب کوئی اس کا رشتہ دیکهنے آتا ہے". ...وہ لڑکا سر پہ پاوں رکھ کر ایسے بهاگا....جیسے کوئی کتا اس کے پیچھے پڑا ہو. .عروہ ہنس ہنس کر پاگل ہو رہی تهی. ..اور وہی ہوا جو اس نے سوچا تها اس لڑکے نے رشتے سے انکار کر دیا وجہ اس نے یہ بتائی اسے لڑکی ہی نہیں پسند...اب کیا ہو سکتا تھا وہ چلے گئے. ....
شام کو جب اس نے اپنا یہ نمایاں اور انوکھا کارنامہ آیت کو سنایا تو وہ یقین ہی نہیں کر سکی. .....
" یہ سب تم نے کیا ہے.."..؟ اس نے بے یقینی سے پوچها. ..
" کوئی شک. ".؟ وہ فرضی کالر جهاڑنے لگی....
"لیکن تم تو اتنی سنجیدہ مزاج ہو...تم نے یہ سب کیسے کیا...".؟
" بس ہو گیا...پہلے میرا ارادہ تها اسے سب سچ بتاوں پهر سوچا اس طرح اسے لگے لگا ہم ہی رشتہ نہیں کرنا چاہتے پهر میں نے وہ طریقہ سوچا جس سے وہ خود ہی انکار کر دیتا......اور اس نے وہی کیا. .وہ اتنی زور سے بهاگا تمہیں کیا بتاؤں. ..اس کی شکل دیکهنے لائق تهی......ہاہاہاہاہاہا. .."دونوں بہنوں نے مل کر قہقہے لگائے...وہ اتنی اداس ہونے کے باوجود اس واقعے پہ ہنس رہی تهی....
" لیکن عروہ مجهے معلوم ہے...ابو اور رشتہ ڈهونڈنے کی کوشش کریں گے وہ اس طرح نہیں بیٹهیں گے"...وہ سنجیدہ ہو کر کہنے لگی. .....
" میں جانتی ہوں. .اور ہم ہر بار یہ سب نہیں کر سکتے میری بات مانو تو ابورشن کے بارے میں پهر سے سوچو .یا اس لڑکے سے رابطہ کرنے کی کوشش کرو...".آیت نے کچھ نہیں کہا. ...
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
" تمہارے سارے مسائل کا حل مل گیا ہے مجهے". ...؟
وہ اداس ہو کر کهڑکی کے پاس کهڑی چاند کو دیکھ رہی تھی جب عروہ اخبار لیے اندر داخل ہوئی..اس کے چہرے سے ہی خوشی نظر آرہی تهی...وہ حیران ہو کر عروہ کو دیکهنے لگی. ......
"تمہارے ہر مسئلے کا حل اس میں ہے"...؟ عروہ نے اخبار کی طرف اشارہ کیا. ...اس نے بے یقینی سے اخبار کی طرف دیکها. ......
" اس میں کیا ہے. ..".؟ کهڑکی سے ٹهنڈی ہوا اندر داخل ہونے لگی...اس نے کهڑکی بند کر دی اور عروہ آپی کی طرف متوجہ ہوئی. ...
"یہ لو پڑهو...اچها ایک منٹ میں خود ہی پڑھ کر سناتی ہوں."..
"کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقے میں بابا فقیر شاہ کا ڈیرہ ..بابا فقیر شاہ روحانی علم میں اپنا ایک الگ نام رکهتے ہیں..ان کی طاقت سے کئی لوگوں کی مرادیں پوری ہوئی ہیں..یہ غائب کا علم بهی جانتے ہیں اور ایک بار جب کہتے ہیں ہو جا تو سب ہو جاتا ہے. ....ان کے ڈیرے پر روزانہ سیکڑوں لوگ پر امید ہو کر لوٹتے ہیں. اس جمرات کو خصوصی اجتماع ہے... .اولاد کا نا ہونا..گهریلو ناچاکی...محبوب آپ کے قدموں میں. ...ہر بیماری کا علاج. ...دشمنوں کو زیر کرنا....خواہ آپ کو کوئی بھی مسئلہ ہو...بابا کے پاوں چهو کر اپنی خواہشات پوری کریں.....بابا جی کی فیس صرف ایک ہزار روپے..اور آپ.."..عروہ جوش سے پڑهتی جا رہی تهی جب آیت نے غصے سے اس کی بات کاٹ دی ....
" پاگل ہو کیا آپی ". ...عروہ نے اخبار بیڈ پر رکھ دیا. ..
" اس میں پاگل ہونے والی کون سی بات ہے'". ..؟
" یہ شرک ہے....:.؟

"شرک...؟ مطلب. "..؟ عروہ الجهی.....
" شرک مطلب شریک کرنا..یعنی اللہ تعالیٰ کے برابر کسی کو لا کر کهڑا کرنا. .تم بتاو مجهے کیا اللہ تعالیٰ کے برابر کوئی ہو سکتا ہے. ..وہ جو پوری کائنات کا مالک ہے خالق ہے جس نے زمین آسمان بنائے جو ہمیں رزق عطا کرتا ہے. ..کیا کوئی اور اس کا مقابلہ کر سکتا ہے". ....؟
"نہیں آیت...یہ شرک نہیں یہ تو عقیدت ہے" ...؟ آیت کو مزید غصہ ہے.....
"کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ...؟ آپ تو پڑھی لکھی ہیں..یہ عقیدت نہیں سراسر حماقت ہے. .بے وقوف ہیں وہ لوگ جو یہ سب کر رہے ہیں. ...جو کہتا ہے کن ( ہو جا ) اور ہو جاتا ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے....کوئی اور یہ اختیار نہیں رکهتا. .اس بابا کی فیس ہزار روپے ہے اور اللہ تعالیٰ جو ہمیں رزق دیتا ہے ، انہوں نے تو کهبی کوئی فیس نہیں لی ہم سے....؟ اور اس میں لکها تها غائب کا علم. ..غائب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور کسی کو بھی نہیں. ..یہاں اس بابا میں جو جو خصوصیات بیان کی گئی ہیں..وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے یہ سب کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے. ...اور وہ بابا بھی ہم جیسا ہی ایک انسان ہے وہ خدا نہیں ہے جو یہ سب کرے.....اور نہ ہی وہ ایسا کچھ کر سکتا ہے. ..اولاد دینا نہ دینا صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے یہ کوئی انسان تو کهبی بهی نہیں کر سکتا. ...اور انسان تو انسان فرشتے اور پیغمبر بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ برابری کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے....ایک طرح سے یہ زمانے کے خدا ہوئے جو سمجهتے ہیں وہ سب کچھ کر سکتے ہیں. .سب کچھ ان کے ہاتھ میں حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو سیکنڈوں میں ان کی ہستی مٹا دے. "...
اس کی بات سن کر عروہ نے ایک گہری سانس خارج کی. ..
"آیت میرا مطلب یہ نہیں ہے لیکن تم یہ بھی تو دیکهو اتنے سارے لوگ ان کے پاس جاتے ہیں ان سے مدد لیتے ہیں. ..اتنے سارے لوگ تو غلطی نہیں ہو سکتے ناں."..؟
"یہ سب وہ لوگ ہیں جن کے دل پہ ٹھپا لگا ہوا ہوتا ہے جو کچھ دیکھ نہیں سکتے. ..انہیں نہیں معلوم ہوتا وہ اپنے لیے جہنم خرید رہے ہیں ہر گناہ معاف کیا جا سکتا ہے لیکن شرک( اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا) کهبی معاف نہیں ہوتا....یہ جاہل لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں. ..وہ جو خود بھی ان کی طرح کے انسان ہیں..ایک انسان دوسرے انسان کو کیا دے سکتا ہے. ..ان کے پاس کتنے لوگ جاتے ہیں. ..دس بی، سو ، یا ہزار. .لیکن اللہ تعالیٰ کے گهر میں اور خانہ کعبہ میں ایک ہی وقت میں کروڑوں انسان ہوتے ہیں. ..جو اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں اور اللہ سے مدد مانگتے ہیں ایک ہم ہیں جو ان لوگوں کو فالو کرتے ہیں جن کی اقلیت ہے....ہم ان دس بیس لوگوں کو فالو کرتے ہیں جو خدا سے نہیں انسانوں سے رزق مانگتے ہیں ان کروڑوں کو نہیں جو اللہ تعالیٰ کے پیروکار ہیں. ...تمہیں کیا لگتا ہے.اگر اللہ تعالیٰ کسی کو آزما رہا ہے یا کچھ نہیں دے رہا تو کیا ایسے لوگ وہ چیز دے سکتے ہیں ایسے لوگ اختیار رکهتے ہیں. .جن کا اپنی سانس پر بھی اختیار نہیں وہ کسی اور چیز پر کیا اختیار رکهیں گے....فرعون نے بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ برابری کرنے کی کوشش کی تهی اور کیا ہوا...؟ کیا وہ ایسا کر سکا. ...؟ کیا وہ کامیاب ہوا تها نہیں ناں.؟ تو پھر اس دنیا کے فرعون کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں. ..اور تم یہ اخبار لے کر میرے پاس آئیں...دس دس بیس بیس روپے میں ایمان بیچنے والے یہ انسان ...اب میں مدد لینے ان کے پاس جاؤں گی." ...؟ اس نے بلند آواز میں چلا کر وہ اخبار دور پهینک دیا...عروہ خاموشی سے اسے دیکهتی رہی. ...
"میں صرف اتنا کہہ رہی تھی یہ بہت بڑا عالم ہے تم جا کر ایک بار اس سے مل لو ہو سکتا ہے وہ تمہاری مدد کرے....عروہ نے مدهم آواز میں کہا تها..."..
" آپی بات پهر سے وہیں پر آ گئی...میں اس کے پاس کیوں جاوں مدد کے لیے. جب اللہ تعالیٰ میرے پاس ہیں میرے شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب تو میں کسی انسان کو سجدہ کرنے کیوں جاوں..".؟
"میں اس کے پاس چلی جاؤں اور ان لوگوں میں شامل ہو جاوں جو ہزار روپے فیس دے کر جہنم خرید رہے ہیں. .میں بھی جہنم خریدوں. ...آپ صلی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں اگر نمک کی بهی حاجت ہو تو اللہ سے مانگیں...اگر ہمارے پیارے نبی صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا تو ان کی بات غلط کیسے ہو سکتی ہے. ..؟
کیا اس کے علاوہ مجهے کسی اور دلیل کی ضرورت ہے کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور دلیل ہے. ....؟
آپ کہہ رہی ہیں وہ بہت بڑا عالم ہے جس عالم کو یہ تک نہیں معلوم اس کی زندگی کتنی ہے اور وہ کب مرے گا وہ کتنا بڑا عالم ہو سکتا ہے. ..یہ جو لوگ کہتے ہیں ان کے دل سے سکون غائب ہو گیا ہے. ..؟ یہ اچانک نہیں غائب ہو جاتا...؟ اللہ اچانک بنا مقصد بندے سے ناراض نہیں ہو جاتا....سب سے پہلے انسان اللہ تعالیٰ کے برابر دوسروں کو شریک کرتا ہے ...یعنی اللہ کا مقابلہ کرتا ہے. ..تب انسان کے اندر سے خوف خدا ختم ہو جاتا ہے پهر اس کے دل سے ایمان ختم کر دیا جاتا ہے. ....اور پهر سب کچھ ختم ہو جاتا ہے. ....اچانک کچھ ختم نہیں ہوتا....بندے خود ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دور ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کهبی اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا....." ....وہ مختلف دلیلیں دینے لگی.....
"تم بے کار میں مجھ سے بحث کر رہی ہو آیت ..میرے یا تمہارے کہنے اور سوچنے سے کچھ بھی بدل نہیں جائے گا...لوگ یہ سب خوشی خوشی کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے..اگر وہ غلط بهی ہیں تب بھی وہ اس غلطی پر خوش ہیں. .انہیں یہ سب سہی لگتا ہے. .چاہے وہ سہی نہ بھی ہو.....".....وہ خاموش ہو گئی اس نے افسوس بهری ایک ٹهنڈی آہ نکالی. ..واقعی عروہ سے بحث کر کے اس کیا حاصل ہونا تها جو لوگ یہ سب کر رہے ہیں وہ کسی کے رکنے سے نہیں رکیں گے........اسے دکھ ہوا بہت دکھ. ...
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وہ کهلی کهڑکی کے پاس کهڑی تهی ہوا اندر داخل ہو رہی تهی ..وہ آسمان پہ موجود اس خوبصورت چمکتے چاند کو دیکھ کر کچھ سوچ رہی تهی. ....
عروہ آپی کے خراٹے اسے سنائی دے رہے تھے وہ بڑے مزے سے سو رہی تھی لیکن وہ خود نہیں سو سکی...صبح سے اس کے اندر ایک بے چینی تهی...عروہ کی باتوں نے اور اخبار کے اس خبر نے اس کافی ڈسٹرب کیا......
"وہ بابا غائب کا علم بهی جانتے ہیں اور ایک بار جب کہتے ہیں ہو جا تو سب ہو جاتا ہے. ."..اس کے کانوں میں درد ہونے لگا. ...بے چینی بڑهتی جا رہی تهی. .کوئی انسان یہ اختیار کیسے رکهتا ہے...یہ کیسے ممکن ہے کسی انسان کے کہنے سے سب ہو جائے....
شرک. یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا.
" ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﺩ ﮐﺮﻭ ﮔﮯﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﺩ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ "
اس نے آنکهیں بند کر سوچنے کی کوشش کی. ..
" گستاخی. .."؟ تو کیا یہ گستاخ خدا نہیں. ..کیا یہ انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتنی بڑی گستاخی نہیں کر رہا. .جو کہہ رہا ہے میں سب کچھ کر سکتا ہوں جو خدائی کا دعویٰ کر رہا ہے ...اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا..
ٹهیک ہے اللہ خود ہی اسے ہدایت دے میں کچھ نہیں کر سکتی...اس نے گہری سانس لے کر ہتھیار پهینک دیے....
""تو کیا تم پہ کچھ فرض نہیں..."..دل سے آواز آئی....
" کیا تم بھی دوسرے لوگوں کی طرح برائی کا تماشا دیکهتی رہو گی اسے روکنے کی کوشش نہیں کرو گی...اگر اس بابا کی وجہ سے ایک بهی انسان گمراہ ہو کر جہنم میں چلا گیا تو کیا معاف کر سکو گی خود کو... ؟ وہ تمہارے مسلمان بہن بھائیوں کو گمراہ کر رہا ہے اور تم یہیں گهر بیٹھ کر صرف افسوس کرو گی. ..برائی کے خلاف جہاد نہیں کرو گی". .....؟
اسے اچانک لنڈن میں اسے بوڑھے سے کی گئی گفتگو یاد آئی اور اس کے اپنے الفاظ ہر طرف گونج اٹھے. ..
""زندگی میں بہت بار رسک لینا پڑتا ہے ...اور ویسے بھی میں نے اچهے کام بہت کم ہی کیے ہیں اگر زندگی نے کهبی موقع دیا تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گی...."..
موقع تو ملا تها اسے تو کیا وہ پیچھے نہیں ہٹ رہی تھی. .؟

اس رات وہ کافی دیر تک دل کے ساتھ بحث کرتی رہی اور اس بحث کے نتیجے میں اس نے کوہ سلیمان جانے کا فیصلہ کیا. .یہ علاقہ کہاں ہے کیسا ہے یہ وہ نہیں جانتی تھی اس کے دل میں صرف ایک ہی بات تهی کسی طرح بھی اپنے ان مسلمانوں کو گمراہ ہونے سے بچانا ہے جو غلط راستے پر چل نکلے ہیں...وہ انہیں ایک بار حقیقت سے آگاہ ضرور کرے گی وہ انہیں صراط مستقیم کا راستہ ضرور بتائے گی اس کے بعد وہ اللہ کو سجدہ کریں یا اس بابا کو وہ ان کا اپنا ایمان ہے....اس کی اپنی زندگی میں کئی مسائل تهے جن کے حل ابهی تک نہیں نکلے اس خود نہیں معلوم تها اس کا اور اس کے بچے کا مستقبل کیا ہوگا اور آنے والی زندگی میں کیا کیا امتحانات باقی ہیں. ..اس کی اپنی پرسنل زندگی کے مسائل بہت ہی زیادہ تهے اور ایسے میں یہ فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تها اس کے لیے خطرہ بھی تها اپنی زندگی کا خطرہ. ...وہ نہیں جانتی تھی وہ بابا کس قسم کا انسان ہے اور اس کے کتنے مرید ہوں گے....اسے چیلنج کرنا اور غلط ثابت کرنا آسان نہیں تها...مگر ہر امکانات پر غور کرنے کے باوجود بھی اس نے کوہ سلیمان جانے کا فیصلہ کر لیا...وہ اپنا فیصلہ نہیں بدلنے والی تهی. ....لیکن سب سے پہلا مسئلہ گهر والوں سے بات کرنے کا تها وہ جانتی تھی ابو اسے وہاں جانے کی اجازت نہیں دیں گے...وہ دو دن کا سفر تها جانے کیسا علاقہ کیسے اجنبی لوگ تهے.....لیکن اگر وہ ابو سے کہے وہ صرف زیارت کے لئے وہاں جا رہی ہے تو وہ اسے نہیں روکیں گے کیونکہ ابو لاکھ مزہبی اور جماعت اسلامی کے رکن ہونے کے باوجود بہت سارے غلط کام بھی کرتے تھے...اس نے مستحکم فیصلہ کر لیا تها اور ہاتھ اپنے پیٹ پر رکها...انوشیر کی تصویر آنکھوں کے سامنے آئی اس نے آنکهیں کهول دیں...سامنے چاند پہ انوشیر کی تصویر دکهائی دینے لگی....وہ کهڑکی بند کر کے اندر آئی..
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
"میں کوہ سلیمان جانا چاہتی ہوں. "...رات کے کهانے پہ اس نے اعلان کیا. .سبهی کهانا روک کر اس کا چہرہ دیکهنے لگے .. اس کا چہرہ سپاٹ تها......
" کوہ سلیمان. ...؟وہ پہاڑی علاقہ." ..؟ عمارہ بیگم نے دہرایا. ..اسے پہلی بار پتا چلا وہ پہاڑی علاقہ ہے اب اسے یاد آیا وہ کتابوں میں بھی کوہ سلیمان پہاڑوں کا سلسلہ پڑھ چکی تهی........
""وہاں کیا کرنے جاو گی تم."...؟ اس کے ابو نے کهیر کی چمچ منہ میں رکهتے ہوئے پوچها...عروہ ابهی تک حیران تهی........
"بابا فقیر شاہ کے پاس جاؤں گی ."..وہ چالوں میں چمچ گهما رہی تھی. .....
'یہ کون ہیں."...؟
"ایک روحانی عالم...جن کے پاس ہر مشکل کا حل ہے..."آخری جملہ اس نے استہزائیہ انداز میں کہا...
"اور تمارے ساتھ کیا مسئلہ ہے". ..؟
"مسئلے پیش آ سکتے ہیں. ..کهبی کہیں بھی ہو سکتا ہے میری آنے والی زندگی میں کچھ پرابلمز ہوں...".
یہ بات تم کیسے کہہ سکتی ہو. ..؟ تم کوئی نجومی تو نہیں ہو...".اب کی بار اس کے ابو نے زرا غصے سے کہا. ....
"میں نہیں جانتی لیکن بابا فقیر شاہ تو جانتے ہیں ان کے پاس تو غائب کا بھی علم ہے. ہے ناں عروہ آپی." ؟...اس کا لہجہ کچھ تلخ ہو گیا ..عروہ نے اسے گهور کر دیکها..
" تم انہیں کب سے جانتی ہو...".؟
" آج صبح سے ہی.."...
" کہیں ٹی وی میں دیکها تها کیا."..؟
"نہیں نیوز پیپر پہ... ".
" جانا ضروری ہے کیا. ...؟"
" بہت ضروری ہے. ...."
" کیوں ضروری ہے". ....؟
" بس مجهے عقیدت ہے محبت ہے.. ...اللہ سے..".آخری دو الفاظ وہ دل میں ہی بولی....اس کے ابو کچھ دیر خاموش رہے....عمارہ بیگم اور عروہ بھی ان دونوں کی گفتگو سن رہے تھے. .....
" کتنے دن کے لئے جاو گی". .؟
" پانچ دن تو لگ ہی جائیں گے". .؟
" اکیلے جا سکو گی اتنی دور".....؟
" میں سات سمندر پار لنڈن اکیلی گئی تھی اور اکیلی واپس بھی آئی ہوں"....اس نے یاد دلایا.....
" ٹهیک ہے ...چونکہ تم ایک اچهے کام کے لیے جا رہی ہو اس لیے تمہیں روکنا گناہ ہوگا...وہاں سے واپس آنے کے بعد میں نے تمہارا نکاح کر دینا ہے.."..وہ سرد مہری سے بولے...وہ کچھ نہیں بولی..........
""کیا کہا تم کوہ سلیمان جا رہی ہو..."؟ رات کو عروہ نے اس سے پوچها تها. ...
ہاں....
" اب کیوں جا رہی ہو ..؟ صبح جب میں نے تمہیں مشورہ دیا تها تب تم نے آسمان سر پر اٹها لیا اور ایک سے بڑھ کر ایک دلائل دینے لگی.....".عروہ کو غصہ آیا....
""میں وہاں کوئی دعا کوئی منت مانگنے اب بھی نہیں جا رہی. .".عروہ کے ماتهے پہ بل پڑے....
""تو پھر کس لیے جا رہی ہو تم.."..؟
" لوگوں کو گمراہی سے نکالنے اور اس جعلی بابا کا پردہ فاش کرنے."....عروہ کی آنکهیں بڑی ہو گئیں..
" تم....تم...یہ...کیا...تم پاگل تو نہیں ہو"....عروہ کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہے اسے. ....
" بہت زیادہ پاگل ہوں..."وہ بے نیازی سے بولی. .
"میری طرف دیکهو آیت.."..آیت نے عروہ کو دیکها. ..
" دنیا میں بہت کچھ غلط ہوتا ہے. .ہر جگہ کوئی نہ کوئی برائی ہو رہی ہوتی ہے ہم ہر کسی کو غلط کرنے سے روک نہیں سکتے...یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہوتی...تم ان سب چکروں میں مت پڑو تمہاری اپنی زندگی میں کم مسائل ہیں کیا...؟ تمہیں اپنے کل کا پتا نہیں اور تم دوسروں کو دینے سکھانے چل پڑی ہو...تمہیں یہ بھی نہیں پتا تمہارا اپنا مستقبل کیا ہے. .اس بچے کو کیا کرو گی..اور.."..آیت نے جھنجھلا کر اس کی بات کاٹی..
" آپی آپ پلیز مجهے سہی اور غلط مت بتائیں...اگر میں بھی دوسرے انسانوں کی طرح دور کهڑی ہو کر تماشا دیکهتی رہی تو مجھ میں اور ان میں کیا فرق باقی رہ جائے گا....میرا دل کہتا ہے وہ لوگ غلط ہیں اور اگر کوئی میری وجہ سے غلط راستے پر جانے سے رک گیا تو یہ کتنی اچهی بات ہے...اگر کوئی نہ بھی رکا تو کم از کم سوچ میں ضرور پڑ جائے گا....میں نے زندگی میں اچهے کام بہت کم ہی کیے ہیں اور اگر مجهے اللہ تعالیٰ کسی اچهے کام کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو آپ پلیز مجھے گمراہ کرنے کی کوشش نہ کریں...میری خواہش ہے میں زندگی میں کوئی تو ایسا کام کروں جس سے مجهے اپنے آپ پر فخر ہو جس سے میں اپنی نظروں میں کهڑی رہ سکوں...میں صرف ایک ڈگری حاصل کرنے کے لیے سات سمندر پار گئی تھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اتنا چهوٹا سفر نہیں طے کر سکتی. ..."
عروہ کا دل چاہا اپنا ماتها پیٹ لے .....
" میں تمہیں کیسے سمجھاؤں آیت یہ سب آسان نہیں ہے. ..اللہ کے لیے تم نماز پڑھ رہی ہو یہی کافی ہے لیکن اس طرح وہاں جانے کا مطلب تمہیں معلوم ہے" ..؟ " ایک اجنبی علاقہ اجنبی لوگ. ...اور جس بابا کو چیلنج کرنے تم چل پڑی ہو وہ کتنا بڑا عالم ہے اور لوگ اس سے کتنی محبت کرتے ہیں تمہاری کوئی بھی غلطی تمہیں موت کے منہ میں بهیج سکتا ہے. ...وہ لوگ بابا سے اس قدر محبت کرتے ہیں تمہاری کوئی بھی گستاخی سننے سے پہلے ہی تمہاری گردن کاٹ دیں گے. .تم ان ہزاروں لوگوں سے ٹکر لینے نکلی ہو....وہ بھی اکیلی...تم کوئی بہت بڑی عالم دین نہیں ہو اور نہ یہ تمہارا کام ہے زندگی ان سب چیزوں میں پڑنے کا نام نہیں ہے جو ہو رہا ہے اسے ہونے دو... تم سچ مچ احمق ہو.....اور اوپر سے تم پریگننٹ بھی ہو...سفر میں اس پہاڑی علاقے میں تمہارے ساتھ ساتھ اس بچے کی زندگی کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے. ..تم سمجهتی کیوں نہیں ہو...تم اگر اللہ تعالیٰ سے محبت کرتی ہو تو یہیں بیٹھ کر دعا کرو ..تم کوئی مضبوط لڑکے نہیں ہو ایک معمولی کمزور سی لڑکی ہو....ہر چهوٹی بات پہ رونے والی....اتنا بڑا جنگ کیسے لڑو گی....."؟
اس نے عروہ آپی کی بات سنی.....لیکن متفق نہیں ہوئی.....
" میں جانتی ہوں یہ مشکل ہے. .اس میں رسک ہے. .میری زندگی کے چانسز بھی کم ہیں لیکن اگر میری زندگی ختم بھی ہو گئی تب بھی مجهے یہ پچهتاو تو نہیں ہوگا میں نے برائی سے لڑنے کی کوشش نہیں کی.....اور یہ کوئی اتنی بڑی جنگ نہیں ہے. .کربلا کی جنگ میں مسلمانوں نے کتنی تکلیفوں کا سامنا کیا تها. .اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر طرح سے آزمایا تها پهر بھی وہ مستحکم رہے....اور میں ایک معمولی سی جنگ نہیں لڑ سکتی.....آپ پلیز مجهے غلط کرنے کو نہ کہیں. ..اگر میں یہیں بیٹھ کر نیوز پڑھ کر افسوس کرتی رہوں تو کهبی برائی ختم نہیں ہوگی. ..ہم میں سے کسی نے کسی کو کهبی نہ کهبی برائی کے خلاف نکلنا ہی پڑے گا.......ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺟﻮ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺗﻮﺍﺿﻊ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﮐﻮﺑﻠﻨﺪﮐﺮﺗﺎﮨﮯ ﺍﻭﺭﺟﻮ ﺗﮑﺒﺮﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﺴﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ" ..........
عروہ تاسف سے اسے دیکهتی رہی اسے سمجهانا فضول تها. . وہ آ کر سونے کے لیے لیٹ گئی...آیت نے لیپ ٹاپ آن کیا اور کوہ سلیمان کا نقشہ ڈهونڈ نکالا....وہ پہاڑی علاقہ تها ایک خطرناک اجنبی علاقہ...جہاں جان ہتھیلی پر رکھ کر چلنا تها لیکن اس کے باوجود ایک لمحے کے بهی اس نے اپنے ارادے کمزور نہیں پڑنے دیے......اور اپنا سامان پیک کر کے برائی کے خلاف جہاد کرنے کے لیے کهڑی ہوئی. ...
آیت کوہ سلیمان جانا چاہتی تھی کسی جعلی بابا کا پردہ فاش کرنے. .
صبح سب کو الوداع کر کے وہ بس سٹینڈ تک آئی...عروہ اسے آخر تک رکنے کا کہتی رہی لیکن وہ نہیں رکی..ٹهنڈی ٹهنڈی ہوا اس کے جسم کے پار ہونے لگی...درخت جهوم رہے تھے ...بس سٹینڈ پہ اس وقت کچھ اور مسافر بھی بیٹهے تهے. ..ٹکٹ اس کا کل ہی ہو گیا تها. ..وہ وہیں بنچ پر بیٹھ گئی...بس کے آنے میں ابھی کچھ وقت تها اس نے اپنا چهوٹا بیگ اپنے پاس رکها...بیگ میں اس نے زیادہ سامان نہیں ڈالا تها بس ضرورت کی کچھ چیزیں تهیں......

" اسلام و علیکم میڈیم. .."..اس کے پاس سے ہی کہیں آواز آئی. .اس نے سر اٹها کر مخاطب کو دیکها. ....
وہ کوئی پٹھان شخص تها .جس کی بڑی بڑی مونچھیں تهیں...لمبا کرتا اور پشاوری چپل پہنی ہوئی تھی اس نے. ...ہاتهوں میں پهولوں کا ایک ٹوکرا تها....وہ کچھ لمحے اس سے نظر نہیں ہٹا سکی پهر سلام کا جواب دیا...اس نے سلام کا جواب دیا اور اس پٹھان نے سمجها اسے بنچ پر بیٹهنے کی اجازت بھی مل گئی وہ اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا. ..درمیان میں اس کا بیگ رکها ہوا تها....
"کیسا ہے تم....؟" اب وہ ایسے پوچھ رہا تھا جیسے اسے برسوں سے جانتا ہو...آیت نے دیکها وہ چوینگم بهی چبا رہا تها. ....
"ٹهیک ہوں.."اس نے مدهم آواز میں کہا اور ایک بار پھر سڑک کی طرف دیکهنے لگی. .....
"ہمارا نام بادشاہ خان ہے ہم ادهر کو پهول بیچتا ہے". .وہ خود ہی بتانے لگا آیت کو اس اس کی طرف متوجہ ہونا پڑا...کوئی عجیب انسان معلوم ہو رہا تھا. ...
" اوہ."..وہ اتنا ہی بول سکی.....
"پهول چاہیے آپ کو...."؟ وہ اب سفید اور نیلے گلاب نکال رہا تها. ...
" نہیں. ..نہیں. .مجهے نہیں چاہیے. "...
" اچها تو کتنے کے دوں پهر. .."؟ آیت کو لگا وہ شاید بہرہ ہے. ..
"میں نے کہا مجهے گلاب نہیں چاہیے". ...وہ زرا زور سے بولی. ..
"ہاہاہاہا...آپ بهی کمال کرتا ہے میڈیم. .دہی چاہیے. اب ہم دہی کدھر سے لائے."..وہ واقعی ہی بہرہ تها آیت کو یقین آ گیا...
"تم بہرے ہو کیا....؟ کوئی مشین وغیرہ نہیں استعمال کرتے..."آیت نے دیکها وہ شرما گیا....
"ارے ناں ..ناں کوئی کریم استعمال نہیں کرتا ہم تو پیدائشی خوبصورت ہے.."..وہ خونخوار نگاہوں سے اسے دیکهتی رہی. بہروں سے بات کرنا ہی فضول ہوتا ہے. .آیت اس سے بحث نہیں کرنا چاہتی تهی بس آنے میں پانچ منٹ باقی تهے اگر انہوں نے وقت کی پابندی کی تو.....
"تو آپ کتنے کا پهول بولیں تهیں....".آیت کا دل چاہا پتهر اٹها کر اس کے سر پر دے مارے...کتنا اریٹیٹ کر رہا تها وہ...اسے لگا وہ پانچ منٹ یوں ہی اس کا سر کهاتا رہے گا اس لیے اس نے بیس روپے نکال کر اس کی طرف بڑهائے. ...اس پٹھان نے تین خوبصورت تازے گلاب اسے دیے....اچانک اسے کوئی اور یاد آ گیا..ہر صبح گلدان میں رکهے وہ خوبصورت پهول.......
"اچها اب ہم جائیں میڈیم..".؟ جیسے اس نے اسے باندھ رکها تها....
"نہیں بیٹھ جاو ...تهوڑی دیر بعد یہاں ولیمہ ہونے والا ہے وہ کها کر جائیے گا...".وہ جل کر بولی....
" نہیں. ..بیس روپے کا تین پهول ہی ملتا ہے اس سے زیادہ نہیں. ."..وہ بڑا سے ٹوکرا لیے وہاں سے چلا گیا. وہ الجهتی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکهتی رہی وہ لنگڑاتے ہوئے چل رہا تھا. ..کوئی عجیب انسان تها.......بس نے ہارن بجائی وہ چونکی. ...اس نے جلدی جلدی بیگ اٹهایا....سبهی مسافر بس کی طرف بهاگے وہ بھی تیز تیز قدم اٹھاتی بس میں آ کر بیٹھ گئی. ..کچھ مسافر اتر رہے تھے اور کچھ داخل ہو رہے تھے. .مسافروں کا میلہ تها..جو مختلف اور بهیانک آوازیں نکال رہے تھے. ..کهڑکی کا شیشہ بھی ٹوٹا ہوا تها....اور کرسیوں کی بهی یہی حالت تهی....اس نے ٹیک لگا کر ایک موند لیں..مسافروں کا چیخنا چلانا برابر آ رہا تھا. ...
"ارے اللہ کا بندی ہم کو دهکا کیوں دیتی ہے."..اس نے تیزی سے اپنی آنکهیں کهول کر انٹری ڈور کی طرف دیکها وہ پٹھان ٹوکرا لیے اندر گھسنے کی کوشش کر رہا تھا. ...
" اف.. ناٹ اگین."..وہ بڑبڑائی. .....
سیٹیں ساری فل ہو چکی تهیں..اس کے برابر والی سیٹ خالی تهی اور وہ بادشاہ خان ابهی تک اپنے لیے بیٹهنے کی کوئی جگہ ڈهونڈ رہا تها. .. اس نے شدت سے دعا کی وہ اس کے پاس آ کر نہ بیٹھ جائے مگر اس کی دعا قبول نہیں ہوئی اور وہ اس کے پاس ہی آ کر بیٹھ گیا. .....
"کیا ہم ادهر بیٹھ سکتی ہے. .."؟ یہ وہ بیٹهنے کے بعد پوچھ رہا تھا. ...
" اگر میں نہیں بولوں گی تب بھی آپ یہاں بیٹهے ہی رہو گے." .وہ غصے سے دانت چبا کر بولی....
"مہربانی. ..پهر سے تعریف کا شکریہ. ..ویسے ہم اتنا خوبصورت نہیں ہے جتنی آپ ہماری تعریف کرتی ہے." ..ماشاءاللہ آپ بھی تو بہت خوبصورت ہے آپ کون سا کریم استعمال کرتا ہے. ..".اس نے غصے سے بادشاہ خان کو دیکها. .....
" میں کریم کی نہیں مشین کا کہہ رہی تھی. .مشین یہ کان والا...پاگل". ...اس نے ہاتھ سے کان کی طرف اشارہ کیا. ..
" تم مشین کا بات کرتا ہے." ..؟
"ہاں ہم مشین کا بات کرتا ہے. .".اس نے اپنی بات سمجھ جانے پہ شکر ادا کیا...اب وہ پٹهان جیب میں ہاتھ ڈال کر کان والی مشین نکال کر کان میں لگا رہا تھا. ...وہ کهڑکی سے باہر دیکهنے لگی بس چل پڑی. ..وہ اس سے کوئی بھی بات نہیں کرنا چاہتی تهی اس کے باوجود وہ جانتی تھی وہ اس سے کوئی نہ کوئی بات ضرور کرے گا اور وہی ہوا ....
" آپ کدھر جاتا ہے." ..
" بابا فقیر شاہ کے ڈیرے پر. ...".
" کمال ہے ہم بھی وہیں جاتا ہے" ...وہ کچھ نہ بولی. .
" آپ کا نام کیا ہے میڈیم..".؟یہ پہلا سوال تها...
" آیت.."..
" پورا نام" ...؟ دوسرا. ...
"آیت انوشیر رضا. ."..بے اختیار اس کے منہ سے پهسلا . اور پهر خود ہی خاموش ہو گئی. ....
"انوشیر آپ کا ابا کا نام ہے..."..؟ تیسرا سوال اس کے بعد سوالوں کا سلسلہ چل پڑا. ....
" نہیں. ."..اس نے چہرہ دوسری طرف کیا...
" پهر کس کا ..".؟ وہ جھنجلا گئی....
' شوہر کا.."...
"واللہ آپ شادی شدہ ہے. "...وہ جوش سے پوچھ رہا تھا. .لگتا تو نہیں ہے. ....
" کتنا بچہ ہے. ."..؟
"میری شادی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا..لیکن میں ابهی پریگننٹ ہوں."...؟
" کیا ہو...".اس پٹهان کے اوپر سے گزر گیا شاید...
" مطلب ابهی بچہ میرے پیٹ میں ہے ." وہ زچ ہو چکی تهی. ..
' تو کب باہر آئے گا. ."..یہ احمقانہ سوال تها.....
" چار مہینے بعد شاید."(اف)...
" بیٹا ہے یا بیٹی. .".دوسرا احمقانہ سوال...ایسے سوالوں کی توقع ایک پاگل سے ہی کی جا سکتی تھی وہ بهی بنا سوچے سمجھے اس کے ہر سوال کا جواب دیتی جا رہی تھی. .....
" ابهی نہیں پتا.".....
" شوہر کدھر ہے. "...؟
" آپ اور کتنے سوال پوچهنے والے ہیں." ..اس نے غصے سے کہا اور وہ خاموش ہوا. ..اس نے اللہ کا شکر ادا کیا اس نے مزید کوئی سوال نہیں کیا اور باقی کا سفر خاموشی سے کٹا.......
بس راستے میں رکا...اس وقت وہ سو رہی تھی جب اچانک جهٹکے سے اٹھ بیٹهی...اس نے آس پاس دیکها..آدهے سے زیادہ مسافر رک رہے تھے پهر اس کی نظر بادشاہ خان کی طرف گئی وہ اسے عجیب نگاہوں سے دیکھ رہا تھا. ....

سو جاو ہم تمہاری سامان کا خیال رکهتی ہے...وہ اسے گھورتی ہوئی سیٹ سے سر ٹکا کر سو گئی اور اگلی بار اس کی آنکھ تب کهلی جب ہوٹل پہ بس رکا...اس وقت سبهی مسافر جاگ رہے تھے اور سبهی اتر کر ہوٹل کی طرف گئے....وہ وہیں اندر ہی بیٹهی رہی اس کے ساتھ دو چار اور مسافر بھی اندر بیٹھے تھے. ...بادشاہ خان بھی باہر چلا گیا. ..تهوڑی دیر بعد اس نے بادشاہ خان کو باہر کهڑکی سے دیکها وہ اس کی طرف آ رہا تھا. .....
" یہ لے میڈیم. ..".وہ اب اس کی طرف کچھ کهانے کی چیز بڑها رہا تھا. ..اس نے کوئی مزاحمت کیے بنا وہ چیزیں اس کے ہاتھ سے لے لیں. ..وہ ایک برگر اور کوک کی کین تهی.اس نے سب ختم کر دیا اسے احساس ہی نہیں ہوا. .کب اسے بهوک لگی. .......سفر ختم ہی نہیں ہو رہا تها وہ بور ہو چکی تهی.....یہ سفر کافی طویل تها...اور بس کی حالت ایسی تهی ایک دن کا سفر دو دن میں طے ہو رہا تها. . مسافروں کی باتیں ، مشغلے اس سب چیزوں میں اچانک دلچسپی محسوس ہونے لگی. ..کچھ دن پہلے والا اضطراب وہ بهول گئی. ..وہ تو یہ بهی بهول گئی وہ ایک بہت بڑے بابا کو چیلنج کرنے جا رہی ہے. ..اور اس کا انجام کتنا خطرناک ہو سکتا ہے. ......بادشاہ خان کافی دیر تک اس کا سر کهاتا رہا. ...اس کی باتیں عجیب تهیں بہت زیادہ عجیب. ..وہ کافی تنگ آ چکی تهی اس کی باتوں سے. ...
بیالیس گهنٹے کے بعد وہ سفر ختم ہوا...اور وہ کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقے میں کهڑی تهی....جب وہ بس سے نیچے اتری تو آس پاس کے اونچے اونچے پہاڑوں نے اس کا استقبال کیا....بادشاہ خان بھی اس کے ساتھ ہی اترا تها...وہ اس پورے سفر میں اس کے ساتھ رہا ایک ہم سفر کی طرح. ......
بادشاہ خان نے اس کا بیگ اپنے کندھوں پر رکها. .. وہ کچھ نہیں بولی اور اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی ..ہر طرف پہاڑ تهے ...درخت تهے...اور ان پہاڑوں پر خوبصورت سبزہ نظر آ رہا تها...دور نیچے ایک پانی کی جهیل بھی نظر آئی ..اسے ایک اور جهیل یاد آنے لگا. .کچھ اور یاد آنے لگا.......
اس وقت وہ جہاں کهڑی تهی اس کے سامنے ایک پہاڑی تهی جس پر بابا فقیر شاہ کا اڈہ تها.....اور اس پہاڑی کے نیچے سیکڑوں کے حساب سے گاڑیاں کهڑی تهیں...موٹر سائیکلیں تهیں بہت سارے لوگ آ جا رہے تھے. .اسے افسوس ہوا وہاں کوئی ایک انسان نہیں تها جو شرک کر رہا تھا. .وہ لاکھوں میں تهے جو اللہ تعالیٰ سے نہیں اس کے ایک ادنیٰ بندے کے سامنے جهک رہے تهے. ....
وہ پہاڑی اس کے بالکل سامنے تهی...جو بہت اونچی تهی سامنے خوبصورت پتهروں سے بنی سیڑهیاں تهیں...جو کافی چوڑی تهیں...وہ سیڑھیاں پتهروں کو تراش کر بنائی گئی تهیں. . جن سے لوگ آ رہے تهے جا رہے تهے...ہر طرف ایک ہجوم تها.. اس ہجوم میں اسے اپنا وجود اجنبی سا لگا..بادشاہ خان سیڑھیوں پر اپنا قدم رکھ چکا تها. ..وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تهی. ..کتنا بڑا خطرہ اس نے مول لیا ہے اس کا اندازہ اسے اب ہو رہا تھا. ...
کیا ہو جائے گا زیادہ سے زیادہ جان چلی جائے گی مگر مجهے یہ افسوس تو کهبی نہیں ہوگا میں نے کهبی برائی سے لڑنے کی کوشش نہیں کی. ....اس نے مسکراتے ہوئے سوچا.......
وہ اب اونچی سیڑهیاں مکمل کراس کر کے اس ڈیرے کے سامنے کهڑی تهی. .جو دور دور تک پهیلا ہوا تها..
اسے ڈیرے کے اندر جاتے ہوئے اور مزار سے باہر نکلتے ہوئے ہزاروں لوگ نظر آئے ..ہزاروں سوالی تهے ہزاروں اپنی مرادیں پوری کروانے آئے تهے.. آخر یہ لوگ ڈائریکٹ اللہ سے کیوں نہیں مانگتے .شرک کیوں کرتے ہیں. .اگر خدا سے سچے دل سے مانگیں تو کیا وہ نہیں دے گا...خدا سے مانگنے والا تو کهبی کسی کے سامنے نہیں جهکتا ، نہ قبروں پہ نہ کوٹهوں پہ نہ میناروں پہ نہ مزاروں پہ...خدا تو خدا ہے سب سے بڑا سب سے عظیم. ..وہ تو مالک ہے جو چاہے وہ کر سکتا ہے............
ڈیرے کے باہر ایک بہت بڑا بیری کا درخت تها جس کے نیچے پانی کے بہت بڑے مٹکے رکهے ہوئے تهے .وہ اب دروازے تک پہنچ چکی تهی...نیلے رنگ کا وہ ایک بہت بڑا لکڑی کا دروازہ تها جہاں سے کئی لوگ آ جا رہے تهے ...
بادشاہ خان وہ دروازہ کراس کر کے اندر آ چکا تها..وہ بھی اندر آئی .. .یہ ایک بہت ہی زیادہ وسیع اور کشادہ اڈہ تها جہاں چاروں طرف لوگ ہی لوگ نظر آئے اسے . اسے ڈر لگا اتنی سارے لوگوں میں کہیں کوئی یہ نہ جان لے کہ وہ یہاں کیا کرنے آئی ہے کیا مقصد ہے اس کا..لیکن اتنے لوگوں میں کوئی کیسے جان سکتا تها وہ بھی عام انسان تهی یہاں آئے باقی لوگوں جیسی ..تو کسی کو کیسے پتا چل سکتا تها وہ کیا کرنے آئی ہے یہاں.اس کا باطن کیا ہے.......
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
وہ خود کو بادشاہ خان کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی تهی. ..کیونکہ اس نے کہا وہ یہاں کے بارے میں سب جانتا ہے اس کی باتوں میں کتنی سچائی تهی یہ وہ نہیں جانتی تھی. ...وہ اسے لیے ایک بڑے سے کمرے میں آیا...جہاں پہلے بھی کئی عورتیں موجود تهیں...بادشاہ نے اس کا بیگ اسے دے دیا. ....
"تم بابا کا زیارت کب کرے گا..."..اس نے آس پاس دیکها اسے اندهیرا نظر آیا اس وقت وہ نہیں جا سکتی تھی وہ کل شام کو ان کے پاس جائے گی .اب تو زیادہ لوگ واپس جا رہے تھے .......اس نے سوچا......
""میں کل مل لوں گی. ...."اس نے مدهم آواز میں کہا...
"اچها ابهی آپ یہیں رہو . ".وہ چلا گیا وہ اسے ایک بار پھر دیکهتی رہی. ...اس کمرے میں کئی چهوٹے چهوٹے بچے تهے جنہوں نے بری طرح سے شور مچا رکھا تها اور عورتوں کا ہجوم تها......اس کے بیٹهنے کی کوئی جگہ ہی نہیں تهی.....دو تین بڑے بڑے چار پائیاں رکهی ہوئی تهیں لیکن ان پہ پہلے ہی قبضہ جمایا گیا تها...وہ یہاں سوئے گی کیسے رہے گی کیسے. ..؟
اور کهانے پینے کا انتظام وہ تو کچھ بھی سوچ کر نہیں آئی تھی یہ ایک سنسان علاقہ تها یہاں کم از کم کوئی کهانے کا انتظام نہیں تها اگر کہیں پہ کچھ تها بھی تو وہ نہیں جانتی تھی. ...اسے کافی مشکلات کا سامنا تها.......آدهے گهنٹے بعد بادشاہ خان واپس آیا اس کے ہاتھ میں کچھ تها جو اس نے آیت کی طرف بڑهایا وہ سمجھ گئی اس میں کچھ کهانے کی چیزیں ہیں اس نے اس کا شکریہ ادا نہیں کیا......
وہ چلا گیا اور دس منٹ بعد واپس جب آیا...تو ایک چار پائی بھی لے کر آیا...اسے نہیں معلوم اس نے یہاں چار پائی کا انتظام کیسے کیا. .مگر وہ چار پائی دیکھ کر خوش ہوئی. ...
اب اسے رکهنے کی پرابلم تهی ..وہ اسے اندر تو لے گیا مگر کوئی اسے رکهنے ہی نہیں دے رہا تها. .عورتوں نے چلانا شروع کیا...جگہ کم ہے اس لیے وہ چارپائی وہاں نہیں رکھ سکتا......
"ارے اللہ کا بندی ہمارا بیگم کدھر سوئے گا پهر. ."؟ اس نے جهٹکا کها کر بادشاہ کو دیکها ...جو چارپائی سیٹ کر چکا تها.......وہ اس کی طرف گهوما ....
" ارے معاف کرنا اگر ہم ایسا نہیں کہتا تو یہ لوگ جگہ نہیں دیتی....".وہ خاموشی سے اسے گھورتی رہی وہ چلا گیا اور وہ وہیں چار پائی پر لیٹ گئی......
صبح کی چمکتی روشنی پہاڑوں کے درمیان سے راستہ بناتی چهین کرتی زمین پر اپنی کرنیں بکھیر رہی تھی تھوڑی دیر پہلے والا اندھیرا ختم ہو گیا. .وہ صبح جلدی ہی اٹھ گئی تهی سو بهی کیسے سکتی تھی ہر طرف بچوں کے رونے کی آوازیں تهیں.........
وہ اس بڑے ہال نما پتھروں سے بنے کمرے سے باہر نکل آئی....اور وہیں کهڑی ہو کر نیچے کا نظارہ دیکھنے لگی.اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہر شے خوبصورت اور منفرد تهی ، پہاڑوں سے لے کر درختوں تک ، سبزے سے لے کر بارشوں تک......پھر بھی یہ لوگ اللہ کے سامنے نہیں انسانوں کے سامنے سجدہ کرتی ہیں. ..صبح کی اداسی اس کی آنکھوں میں اتر آئی.....وہ ہاتھ باندھے نیچے دیکھے جا رہی تھی. ..
اسلام و علیکم. ...بادشاہ خان کی آواز سنائی دی اسے.. اس نے گردن گهما کر پیچھے دیکها وہ ہاتھوں میں ناشتے کی ٹرے لیے کهڑا تها......
"ہم تمہارے لیے ناشتہ لائی ہے...'"..وہ ٹرے ادھر ہی پتھروں پر رکھتے ہوئے بولا...وہ وہیں ایک پتھر پر جا کر بیٹھ گئی. ..وہ بھی اس کے برابر بیٹھ گیا ..اور اسے عجیب نگاہوں سے دیکھنے لگا.. ..
"آپ نے ناشتہ کر لیا."....؟وہ چائے کے گھونٹ لیتے ہوئے بولی. .وہاں کی چائے کافی الگ تهی وہ ایسی چائے پہلی بار پی رہی تھی ....
" ارے میڈیم اب بسکٹ کدھر سے لائے ہم ...آپ یہی پراٹها کها لو.."...بے اختیار وہ مسکرا دی.....
"پتا ہے میرا دل چاہتا ہے یہ پتھر اٹها کر آپ کے سر پہ دے ماروں....."اس نے ایک بڑے پتھر کی طرف اشارہ کیا. ......
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
"ارے ناں...ہم پتھر نہیں بیچتے...وہ تو ہمارا دادا پر دادا کرتا تھا یہ سب کام..."...وہ اس کے لیے پانی بھی س ساتھ لایا تھا. .وہ اب پانی کا ایک گلاس پی رہی تھی اور پہاڑی کے اوپر سے نیچے دیکھ رہی تھی. .نیچے اسے ایک خوبصورت نہر نظر آئی. .اس کا دل بے اختیار چاہا وہ اس نہر کے پاس چلی جائے.......
"آپ مجھے وہاں اس نہر کے پاس لے چلو گے...اس نے نہر کی طرف انگلی سے اشارہ کیا اور پانی گلاس خالی کر کے وہیں رکھ دیا."...بادشاہ خان نے گردن لمبی کر کے نیچے دیکها......
"اب صاف ہے یا گندہ یہی پانی پیو...وہاں تک ایک گلاس کے لیے کون جائے...".وہ ادھر نہر کو ہی دیکھ رہی تھی اس کی بات سن کر اسے گهور کر دیکها ......
"تم اپنی کان والی مشین لگاو"...وہ اشارہ سمجھ کر مشین نکالنے لگا پھر اس نے غور سے آیت کی طرف دیکھا.......
"میں نے کہا آپ مجھے اس نہر کے کنارے لے چلو گے.."
"تو کیا تم پیر صاحب کا زیارت نہیں کرے گا..سیر سپاٹے کو آئی ہے. ".....
""وہ میں بعد میں کر لوں گی" ...وہ ناگواری سے بولی..اور اٹھ کھڑی ہوئی بادشاہ خان بھی اس کے ساتھ کهڑا ہو گیا...اب وہ دونوں اس پہاڑی سے نیچے اترتے نظر آئے. .راستہ کافی ڈھلوان تها اور مشکل بھی. ..اسے اترنے میں کافی دشواری پیش آ رہی تھی.

ہمارا ہاتھ پکڑ لے. ..بادشاہ خان نے اپنا ہاتھ آگے بڑهایا..کچھ لمحے وہ اس کی آنکھوں میں دیکهتی رہی.
" نہیں شکریہ". ..اس نے جیسے غصے سے کہا....
"ارے اللہ کا بندی ہم شریف لڑکا ہے کوئی ایسا ویسی حرکت نہیں کرے گا....ا"س نے بادشاہ خان کو گھورتے ہوئے اپنا ہاتھ دیا..اس کے گرم ہاتھوں نے ان نازک ہاتھوں کو پکڑ لیا. ..... اب وہ اسے لے کر نیچے اتر آیا. آدهے گهنٹے بعد وہ اس نہر کے پاس کھڑے تهے ..وہ اس نہر کے درمیان میں اپنا قدم رکھ چکی تھی اور آہستہ آہستہ پانی میں چلنے لگی...ٹھنڈا ٹھنڈا پانی اسے عجیب احساس سے دو چار کر رہا تھا اس کے پاؤں میں گدگدی ہونے لگی....بادشاہ خان نے اس کا ہاتھ پکڑا ہوا تها اسے اچانک لندن یاد آیا.........
" تم کب واپس جائے گا." ...؟
" ابهی نہیں پتا..شاید کل کو"....
""تم اپنا شوہر کو ساتھ نہیں لائی." ...
" وہ نہیں ہے." .....
" مر گئی کیا."..؟ بادشاہ خان بھرپور حیران ہوا....
" بکواس بند کرو." .....
تو کدھر ہے. ....
""لنڈن میں. ."...وہ پانی میں اپنے پاوں بهگو رہی تھی. "ادهر کیا کرتا ہے." .؟ سوالوں کا بوچھاڑ. ...
"کچھ نہیں." . ..
' پاکستان کیوں نہیں آتا"....,؟
" پتا نہیں. ..میں اس سے ناراض ہوں.."..
"کیوں. .؟" پرندوں کا ایک غول ان کے سر کے اوپر سے اڑ کر گزر گیا....
""وہ بہت برا ہے. .".وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی....
' تم کیا تم اس کو چھوڑ دیا"...؟
" اس نے مجھے چھوڑ دیا.."...
" ہمارا بیوی بھی ہم کو چھوڑ گئی"....وہ خاموش رہی..
"تم ہم سے شادی کرے گا کیا."..وہ چلتے چلتے رک گئی. اس کی آنکھوں سے دو آنسو اتر آئے.....
"ہم تو مذاق کرتا ہے. .تم روتی کیوں ہے"....؟
" تم نے ایسا کیوں کیا. "؟اس نے روتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکها....
ہم نے کیا کیا....؟
" تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا انوشیر."...؟
وہ سانس نہیں لے سکا....
تم ہم سے شادی کرے گا کیا.".
بادشاہ خان نے پوچها. ..وہ چلتے چلتے رک گئی. اس کی آنکھوں سے دو آنسو اتر آئے.....
"ہم تو مذاق کرتا ہے. .تم روتی کیوں ہے"....؟
" تم نے ایسا کیوں کیا. "؟اس نے روتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکها....
ہم نے کیا کیا....؟
" تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا انوشیر."...؟
وہ سانس نہیں لے سکا....
" کیا بولا تم ہم کو انوشیر کیوں بولا."..؟ وہ شاکڈ تها..
" کیوں کہ میں بے وقوف نہیں ہوں. ..تمہیں کیا لگا نقلی مونچھ لگا کر اور یہ لمبا کرتا پہن کر تم مجهے بے وقوف بنا لو گے اور میں بن بهی جاؤں گی". ....؟ وہ غصے سے بولی. ....
" اوہ"....وہ مسکرا دیا....
"مطلب اب تم نے مجھے پہچان لیا "...وہ اپنی مونچھ اتار رہا تھا. ....
" اب نہیں پہچانا پہلی بار تمہیں دیکھتے ہی پہچان لیا تھا. .تمہیں کیا لگا تها میں ہر دوسرے شخص کو اپنے ساتھ سیٹ میں بیٹهنے کی اجازت دوں گی اور ہر دوسرے مرد کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دے دوں گی." ..وہ غصے میں اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی. ...
"تمہارا کیا ارادہ ہے...؟ آخر تم چاہتے کیا ہو...؟ اور کتنا تنگ کرو گے مجهے اور کتنے نام ہیں تمہارے ..تمہیں کس نام سے پکاروں....انوشیر رضا...روحل آفتاب یا بادشاہ خان"........
"جو تم کو اچها لگے جان."...وہ اس کے غصے کو نظر انداز کرتا شرارت سے بولا.....
"دفع ہو جاو یہاں سے. .میں تم سے کهبی بات نہیں کروں گی تمہیں معلوم ہے تمہاری وجہ سے مجھے کتنی تکلیف اٹھانی پڑی تھی. ."......

"تکلیف تمہیں میری وجہ سے نہیں اپنی حماقت کی وجہ سے اٹھانی پڑی ہے. .کیا ضرورت تهی سب کچھ چهوڑ کر آنے کی..'...وہ بھی اب سنجیدہ ہو چکا تها...
"تو کیا کرتی میں. ...؟ کہاں جاتی...؟ اتنا بڑا دهوکہ کها کے. ."...اس کے آنسو نکل رہے تھے. ..
"میں نے تمہیں کوئی دهوکہ نہیں دیا..تم مجھے صفائی پیش کرنے کا موقع ہی نہیں دیا..یونہی سزا سنا کر چلی آئیں...ایسے کوئی کرتا ہے...تم کم از کم مجھے ایک موقع تو دیتیں. ....میں لنڈن صرف اس لئے آیا تھا کیونکہ میں آپ سے پیار کرتا تها....میں وہاں صرف آپ کے لیے ہی آیا تها... .اس دن جب آپ نے مجھ سے ملنے کے لیے کہا تو میں نے اپنے دوست کو بهیجا...میں جانتا تھا آپ مل کر اس رشتے کو توڑنے کی بات کریں گی ...اس لئے میں سامنے نہیں آیا...اس دن میں بھی اسی پارک میں کهڑا تها درخت کے پیچھے آپ کی ساری باتیں سن رہا تھا. . جب آپ نے کہا آپ کسی اور سے پیار کرتی ہیں تو مجھے صدمہ لگا..میں ساری رات سو نہیں سکا...پهر میرے دل میں خیال آیا ہو سکتا ہے آپ جهوٹ بول رہی ہوں اور اسی بات کو جاننے میں لنڈن آیا تها.".........
" تا کہ آپ کے دل میں مجهے لے کر جو بھی غلط فہمی ہو وہ صاف ہو جائے اور میں ایک نئے انسان کے روپ میں آپ کے سامنے آوں.....اور وہ نکاح ایک اتفاق تها میرا کوئی پلان نہیں تها وہ صرف تقدیر کاتب کا فیصلہ تها ہم دونوں کو ملانے کے لئے." .....

آیت بنا پلکیں جهپکائے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی اسے پہلی بار محسوس ہوا وہ جهوٹ نہیں بول رہا....
" اور میں یہ بات آپ کو بتانا چاہتا تھا یاد ہے اس دن جهیل کے کنارے بیٹهے ہوئے میں نے آپ سے کہا تھا میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں لیکن آپ کے ایگزامز کے بعد. .تا کہ ایگزامز میں آپ کو کوئی ٹینشن نہ ہو.....اور آپ کو جس دن سچ پتا چلا آپ سب کچھ چهوڑ کر چلی آئیں...اس حد تک بدگمان تهیں مجھ سے. ..میں پاگلوں کی طرح ائیر پورٹ پر آپ کو ڈھونڈتا رہا...یونیورسٹی کے ایک کونے میں. ...میں اس جهیل کے کنارے بھی گیا تھا اور الزبتھ ٹاور بھی. سب کچھ وہیں تها پورا یو کے وہیں تها ایک تم ہی نہیں تهیں.....میں اسی دن پاکستان آنا چاہتا تھا لیکن یہاں قسمت نے میرا ساتھ نہیں دیا...میں بائیک چلاتے ہوئے جا رہا تھا میری آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے میں کچھ دیکھ نہیں پایا اور ایک بس نے میری بائیک کو ٹکر مار دی. ..اور میں ساڑھے چار مہینے ہاسپٹل رہا...کیونکہ میں چل نہیں سکتا تھا. ..اس بیڈ پر پڑے ہوئے میں نے تمہیں کتنی بار یاد کیا کتنی بار تمہارا نام لیا....مجهے نہیں معلوم. ..لیکن تمہاری یاد سانس لینے کے ساتھ آتی تهی میرا دل چاہتا اڑ کر آپ کے پاس آوں اور آپ کو سب بتاؤں. .میں نے کل بھی آپ سے محبت کی اور آج بھی صرف آپ سے محبت کرتا ہوں آپ نے مجھے کل بھی غلط سمجها آپ مجهے آج بھی غلط سمجهتی ہیں. ...."...
وہ خاموش ہوا....آیت نے اسے اپنی نم آنکھیں صاف کرتے دیکها.. آخر وہ کتنی بار اس انسان کو پہچاننے میں دهوکہ کهائے گی.... اسے لگا تها وہ مظلوم ہے اور سامنے کهڑا شخص ظالم ہے. ..لیکن آج اسے معلوم ہوا وہ غلط تهی ...اس شخص نے ایک معمولی سا سچ چهپایا جو وہ بتانا چاہتا تھا. ...اور اس نے اسے اتنی بڑی سزا دی...اور آج جب وہ اس کے سامنے کهڑا تها تو وہ اس سے نگاہیں ملانے کے قابل بھی نہیں رہی تھی. ...
انوشیر نے اس کا ہاتھ پکڑا......اور مسکرا کر اپنے پوروں سے اس کی آنکھیں صاف کیں.....
" ہم بہت روئے ہیں ایک دوسرے کے لیے اب اور نہیں. .اب ہم اپنے قیمتی آنسو ضائع نہیں کریں گے." ..وہ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا. ..آیت کے حلق سے جیسے کسی نے زبان کھینچ لی ہو. ..وہ کچھ بھی بول نہیں پا رہی تھی. .یہ شخص اسے کبھی بولنے کے قابل نہیں چهوڑتا تها وہ زندگی کے ہر قدم پر اسے غلط سمجهتی آئی لیکن آخر میں ہمیشہ وہی سہی نکلا.......
"میرا بے بی کیسا ہے. ..؟" اچانک انوشیر نے اس کے پیٹ پر ہاتھ لگایا....
" بالکل تماری طرح. ..پیٹ میں آتے ہی اس نے مجهے رلانا شروع کر دیا. ".....وہ مصنوعی خفگی سے بولی انوشیر مسکرا دیا....پہاڑوں کے درمیان اس خوبصورت نہر کے کنارے چلتے ہوئے ہم سفر کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر. ..کیا زندگی اس سے بھی بڑھ کر خوبصورت ہوتی ہے. .........
"ویسے تم یہاں کیا کرنے آئی ہو..."؟ اچانک انوشیر کو یاد آیا....
""اس ڈھونگی بابا کا پردہ فاش کرنے.."...
""کیا کرنے. .."؟ انوشیر چلتے چلتے رکا تها.....
"وہ لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے. .جہنم میں دھکیل رہا ہے ...اور میں اس برائی کو ختم کرنے آئی ہوں.."..انوشیر نے ہونٹ بھینچ لیے.....
" تمہیں معلوم ہے ناں یہ سب مشکل ہے. .بلکہ ناممکن ہے. .اور تم اس طرح اپنا سب کچھ داو پر لگا کر کسی اور کی جنگ لڑنے آئی ہو....برائی تو ہر جگہ ہوتی ہے تم ایک کا پردہ فاش کرو گی تو ہزاروں اور پیدا ہو جائیں گے. .."وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا.... .
"میں جانتی ہوں ...لیکن کہیں پہ تو برائی ختم ہوگی کچھ غلط ہونے سے تو رک جائے گا ایسا ضروری نہیں ہم پوری دنیا سے برائی کو نکال کر پھینک دیں..ہم جو کر سکتے ہیں جتنا کر سکتے ہیں ہمیں اتنا کرنا چاہیے. .اگر ہم روزے نہیں رکھ سکتے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے ہمیں نماز بھی نہیں پڑهنی چاہیے. ...ویسے بھی میں جتنا کر سکی کروں گی....."...وہ پر عزم ہو کر بولی تهی......
" ارے واہ. .میری زوجہ محترمہ اتنی بہادر ہے اور مجھے کهبی معلوم ہی نہیں ہو سکا......
میں بہادر ہوں بس اللہ تعالیٰ نے اس برائی کو ختم کرنے کے لیے میرا انتخاب کیا ہے اور میں اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹوں گی. "...
انوشیر دشوار راستوں پر اس کا ہاتھ پکڑ کر چل رہا تھا وہ اسے گرنے نہیں دے رہا تھا. ہمیشہ کی طرح. .
_ _ _ _ _ _ ___ ___ _ _ _ _ _ _ _ _ _ __
وہ سیڑهیاں ایک بار پھر اس کے سامنے تهیں..وہ پہاڑی جس پر چڑھ کر اسے اپنی منزل تک پہنچنا تها...اس نے اپنا پہلا قدم اوپر رکها. ...راستہ دشوار تها لیکن دور نہیں تها...انوشیر بھی اس کے ساتھ تها......
قیامت جانے اور کتنی دور تهی وہ گناہ کی اس دلدل سے کتنی دور تهی. اس شخص سے کتنے فاصلے پر تهی جو زمین پر خدائی کا دعویٰ کر رہا تھا جو اتنا بڑا شرک کر رہا تھا اور لوگوں سے کروا رہا تھا. ...وہ خود جہنم میں کهڑا تها اور ہزاروں مسلمانوں کو بھی اس گڑھے کی طرف کھینچ رہا تها.........
وہ آہستہ آہستہ سیڑھیوں پر چڑھ رہی تھی. .لوگوں کا ایک میلہ تها آج کے دن...ہر طرف چھوٹے بڑے لوگ ہی لوگ نظر آئے اسے...پتهروں سے زیادہ انسان تهے وہاں. .......
وہ نہیں جانتی تھی اس نے کتنا بڑا رسک لیا ہے یا کیا ہونے والا ہے آگے لیکن وہ بنا کچھ سوچے سمجھے آگے بڑھ رہی تهی.......
یہی وہ وقت تها جب سوچ کو حقیقت میں بدلنا تها جب زمانے کے بادشاہوں کو بتانا تها اصل بادشاہ کون ہے ...وہ پتهروں کی سیڑهیاں عبور کر چکی تهی...سامنے ایک کهلا میدان تها ایک بہت بڑا درخت اور اس درخت کے نیچے بیٹهے شخص کو دیکھ کر اسے اس پر ترس آنے لگا. ..وہ سبز کرتے میں ملبوس تها اس کے بال بکھرے ہوئے تھے بڑے بڑے سفید اور سیاہ بال...گلے میں موتیوں والے کئی ہار اس نے پہن رکهے تهے ان کے سامنے عقیدت مندوں کی ایک لائن لگی ہوئی تهی...وہ سیکڑوں نہیں ہزاروں کے حساب سے تهے....چاروں طرف ایک ہجوم تها....اس نے انوشیر کو آنکهوں ہی آنکهوں سے کچھ اشارہ کیا. ..انوشیر نے سر اثبات میں ہلا دیا. ..اور کیمرہ سنبھال کر کهڑا ہو گیا. .وہ بھی اس لمبی لائن کے آخر میں آ کر کهڑی ہو گئی جس کی رسائی اس ظالم انسان تک تهی جس کے سامنے سبهی سجدہ کر رہے تھے. ........
انوشیر بابا جی کے پاس جا کر کهڑا ہو گیا کیمرہ اس کی شرٹ پر لگا ہوا تها تا کہ کسی کو نظر نہ آ سکے..اس کی ایک سہیلی میڈیا میں تهی اور اسی کی مدد لے کر وہ یہ کیمرہ لائی تهی جس سے ساری کوریج آن لائن لوگوں کو دکهائی جائے گی. .....
لائن آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی. ..وہ بھی اسی حساب سے چل رہی تھی. ..اس نے سیاہ چادر کو اپنے چاروں طرف اوڑھ رکها تها صرف اس کا چہرہ نظر آ رہا تھا جو دھوپ کی روشنی میں چمک رہا تها......
رش اتنا زیادہ تها لوگ اتنے زیادہ تهے اس کی باری دو گهنٹے بعد آئی اور وہ دو گهنٹے اس لائن میں کھڑی رہی....وہ اب اس انسان کے سامنے کهڑی تهی...جو ہزار روپے فیس لے کر جہنم خرید رہا تها....جو ایک ادنیٰ سا انسان تها اور خدا سے مقابلہ کرنے نکلا تها..جو ایک نطفے سے پیدا کیا گیا تها جسے یہ نہیں پتا اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے وہ لوگوں کو ان کے باطن دکهاتا تها............
وہ ان کے پاس بیٹھ گئی اور پرس سے ہزار روپے نکال کر ان کے ہاتھ میں رکھ دیا.....
" بول بچہ کیا مسئلہ ہے. ..؟" وہ پوچھ رہے تھے انوشیر اس کے پاس کهڑا تها...کیمرہ سنٹر پہ تها..یہ ساری وڈیو پاکستان ایک بہت بڑے نیوز چینل پہ دکهائی جا رہی تھی. ......
" بابا میں نے الٹرا ساؤنڈ کرایا ہے ڈاکٹر نے کہا .میرے پیٹ میں بیٹی ہے لیکن مجهے بیٹا چاہیے. .."..اس نے جهوٹ بولا اسے لگا وہ بابا الجهے گا یا کچھ اور کہے گا مگر وہ چونکی جب انہوں نے کہا .......
"ہو جائے گا.."... (ہو جائے گا اتنی جلدی. ..)
"اور مجهے ایک شخص کو قتل کروانا ہے". ..؟ اس نے رک کر بابا کے تاثرات دیکهے .....
"ہو جائے گا.اور کچھ" ..انہوں نے کہا...وہ آنکهیں بند کر کے تسبیح پڑھ رہے تهے.اسے افسوس ہوا...
"اور..اور..مجهے ابهی اسی وقت خانہ کعبہ کا دیدار کرنا ہے. ."...اس نے تیزی سے کہا.....
" ہو جا.".....وہ کہتے کہتے رکا ....اس نے آنکھیں کھول کر اس لڑکی کو دیکھا. ..آیت کو لگا وہ تهوڑا گهبرا گیا ہے اور کچھ سوچ رہا ہے. .....
" لڑکی یہ نہیں ہو سکتا". ...؟
" کیوں نہیں ہو سکتا.."...
" اس کی فیس بہت زیادہ ہے". ...وہ زور سے بولے. ..
" کتنی. ..".؟ وہ چونک گئے ....
"پچاس ہزار. "...وہ سوچ کر بولے.....
" میں دے دوں گی. ...آپ مجهے دیدار کرا دیں "...وہ ضدی ہو کر بولی..اس بابا کے تاثرات بدل گئے...اس کے چہرے پہ حیرت کے ساتھ ساتھ غصہ آیا.....
"تم اس قابل نہیں ہو کہ خانہ کعبہ کا دیدار کر سکو. .تم بہت گناہگار ہو".....وہ بولے....
" اس لئے تو دیدار کرنا چاہتی ہوں تا کہ میرے گناہ دهل جائیں بابا جی..اور کہیں پہ یہ تو نہیں لکها گنہگار انسان خانہ کعبہ نہیں جا سکتا یا نہیں دیکھ سکتا......"سبهی لوگ ان کی گفتگو سن رہے تهے...بابا نے ادهر ادهر لوگوں کو دیکها. .انہیں تهوڑی بے عزتی کا احساس ہوا...
" چلی جاو یہاں سے. ...دوسروں کو آنے دو."...وہ گرج دار آواز میں بولے ...لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی وہ ان کے سامنے بیٹهی ہوئی تهی.......
"قرآن پاک میں کتنی سورتیں ہیں. "...؟..اس نے سوالیہ نگاہوں سے بابا کو دیکھا. ..وہ چونک گئے..انہوں نے آس پاس دیکها سبهی ان کے جواب کے منتظر تھے لیکن وہ جواب تب دیتے جب انہیں خود معلوم ہوتا...
"اس میں اتنی سوچنے والی کیا بات ہے آپ کو تو جواب معلوم ہونا چاہیے ناں.؟ دوسرا کلمہ آتا ہے آپ کو"...؟
بابا خاموش تهے ان کے پاس کوئی جواب نہیں تها..لوگوں نے نگاہوں کا تبادلہ کیا.....بابا جی غصے میں تهے.......
"چلی جا لڑکی."....وہ دهاڑے لیکن اس نے جیسے سنا ہی نہیں. ..
"دوسرا کلمہ سنائیں اس وقت پچیس کروڑ عوام آپ کے جواب کا منتظر ہے. ..آپ کی یہ لائیو کوریج پورا پاکستان دیکھ رہا ہے. "......
وہ گهبرا گئے...انہوں نے تهوک نگلا....

" نہیں معلوم. .تعجب کی بات ہے ایک عالم جو لوگوں کے ہر مسئلے حل کرتا ہے لوگوں کو ان کا باطن بتاتا ہے اسے دوسرا کلمہ ہی نہیں آتا. .....جب آپ کو دوسرا کلمہ ہی نہیں آتا تو آپ لوگوں کو کیا سکهائیں گے....؟ آپ اللہ سے مقابلہ کرنے چلے ہیں. ..؟ آپ کو یہ تک نہیں پتا قرآن پاک میں کتنی سورتیں ہیں.....آپ کسی اور کو کیا کیا صراط مستقیم پر لائیں گے آپ تو خود ہی غفلت کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں ...."...
"پکڑو اس لڑکی کو.."..وہ بابا چلائے ان کے دو مرید آگے بڑهے...انوشیر گهبرا گیا ...آیت نے غصے سے ان کی طرف دیکھا. ....
" خبردار اگر کسی نے آگے بڑھنے کی کوشش کی. .واپس اپنے پیروں پر نہیں جاو گے". ...اس کی دھمکی سے وہ پیچھے ہٹے....وہ ایک بار پھر بابا کی طرف متوجہ ہوئی......
" آپ لوگوں کا ان کا باطن بتاتے ہیں ..اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں میں ردو بدل کرتے ہیں مجهے یہ جاننا ہے آپ یہ کیسے کرتے ہیں اور آپ کو یہ اختیار کس نے دیا..؟" وہ اس بابا کی آنکھوں میں دیکھ رہی تهی.......
"ہم صرف اللہ کے ولی ہیں اور ہم بشارت دی گئی ہے." ..؟ وہ بابا جی پر اعتماد ہو کر بولے......
" کس نے کہا آپ اللہ کے ولی ہیں...جو اللہ سے مقابلہ کرے وہ اللہ کا ولی کیسے ہو سکتا ہے جو کسی کو نا حق قتل کرے وہ اللہ کا دوست تو نہیں ہوتا...؟ اور کہاں سے ملی آپ کو بشارت...؟ کس نے دی آپ کو بشارت..
؟ اخبار میں آپ نے اشتہار دیا تها آپ کہیں گے ہو جا تو ہو جائے گا...کس نے آپ سے کہا آپ کے ہو جا کہنے سے سب ہو جائے گا...ابهی آپ ہو جا کہہ کر مجهے یہاں سے غائب کر دیں. . کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں کیا آپ کو یہ اختیار ہے. .".؟
وہ بابا بول نہیں سکے .ان کے حلق سے آیت زبان کھینچ چکی تهی.. وہ خوف سے آیت کو دیکھ رہے تھے. ..
سبهی لوگ اس بہادر لڑکی کو دیکھ رہے تھے جس کی ایک بهی بات غلط نہیں تهی......
"آپ نے کہا تھا آپ میرے دشمن کو قتل کرو گے. کس نے آپ کو یہ اختیار دیا. ."...
" اللہ ہی وہ ہستی ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پهر تم کو مارے گا پھر تم کو زندہ کرے گا کیا تمارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کر سکے. وہ پاک ہے اور بالاتر ہے. .......
بتاو کیوں کرتے ہیں آپ ایسا ..کیوں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں. ...خدا سے نہیں ڈرتے اس کی طاقت سے نہیں ڈرتے..اسے چیلنج کرتے ہوئے آپ کا دل نہیں کانپتا.. جو سب سے بڑا ہے جو آپ کے شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے جو چاہے ابهی کے ابهی آپ کی دهڑکن بند کر دے....جو آپ کو رزق دیتا ہے جس نے آپ کو پیدا کیا آپ اسی سے مقابلہ کر رہے ہو اس کے برابر کهڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہو...دین کوئی مذاق نہیں ہے جو ہر بندہ اپنی دوکان کهول کر بیٹھ جائے..".......اس کی آواز بهرا گئی...انوشیر نے تفاخر سے اسے دیکها....
"تم مرو گی .ہم تمہیں جہنم میں ڈال دیں گے. .".وہ بابا غصے سے چلائے. ....
"آپ مالک نہیں ہو جو مجهے جہنم میں ڈالو گے آپ میری طرح کے ایک انسان ہو...اور جہنم میں تو آپ خود کهڑے ہیں.."...
عروہ چائے کا کپ لیے لاونج میں آئی...اس نے ٹی وی آن کیا...عمارہ بیگم بھی وہیں آ کر بیٹھ گئیں....
بریکنگ نیوز. ..آیت نامی ایک لڑکی کوہ سلیمان کے علاقے ایک بہت نامور اور مشہور بابا کو چیلنج کرنے نکلے ہیں.....
عروہ کی آنکھیں پھیل گئیں. .عمارہ بیگم نے کپ رکھ کر ٹی وی دیکها...ان کے ابو جو وہاں سے گزر رہے تھے آیت کا نام سن کر رک گئے اور ٹی وی دیکھنے لگے.....وہ ایکنر بول رہی تهی...
" جی تو ناظرین آیت نامی لڑکی اتنی دور سفر طے کر کے اس ڈهونگی بابا کا پردہ فاش کرنے نکلی ہے...جو لوگوں کو گمراہ کر رہا تھا اور شرک کر رہا تها...اس وقت یہ خبر پورا پاکستان دیکھ رہا ہے. .آپ کو یہ لائیو کوریج دکهائی جا رہی ہے. ....کیسے ایک لڑکی بنا ڈر بنا خوف کے اس بابا سے سوال جواب کر رہی ہے. .پورے پاکستان کو اور مسلمانوں کو فخر ہے اس لڑکی پر.اس لڑکی نے ایک اہم برائی پر انگلی اٹھائی ہے...."...
اس کے ابو کے تاثرات بدل گئے....تو وہ کوہ سلیمان زیارت کے لیے نہیں یہ سب کرنے گئی تهی.....
انہوں نے سوچا بھی نہیں تها یہ لڑکی انہیں یوں ننگا کرے گی.....انہیں اس کے جهوٹ پہ غصہ آنے لگا...عمارہ بیگم اور عروہ گھبرائی ہوئی لگ رہی تهیں......
_ ____ ____ _______ _______
" یہ شرک نہیں ہے لڑکی...تم چلی جاو برباد ہو جاو گی..".
آیت نے حیرت سے اسے دیکھا. ..
" یہ شرک نہیں ہے. .اس سے بڑھ کر شرک اور کیا ہو سکتا ہے. ..آپ وہی کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے آپ ان کی برابری کرنے کی کوشش کر رہے ہو. ..غائب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے پھر آپ کون ہوتے ہو ؟ کسی کو اس کا مستقبل دکهانے والے. ..آپ کو کلمہ آتا نہیں ہے اور آپ چلے اتنا بڑا چیلنج کرنے. ....اور آپ جیسے سبھی لوگ جو ہزار ہزار روپے میں ایمان کا سودا جہنم سے کرتے ہیں. ..اور گمراہ ہیں وہ لوگ جو اللہ کو چھوڑ کر آپ جیسے انسانوں یا قبروں سے مانگنے لگتے ہیں. ..شرک یہی ہے شرک اس کے علاوہ کسی کو نہیں کہتے..."..
" ان اللہ لا یغفر ان یشرک به ویغر مادون ذالک لمن یشا...انسا 166
بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے...اس کے سوا وہ جس گناہ کے لیے چاہے گا معاف کر دے گا......
سب کی نگاہیں اسی کی طرف تهیں..سبهی فخر سے اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے انہیں ایسا لگ رہا تھا اس لڑکی نے انہیں جہنم میں گرنے سے بچا لیا ہو....
اللہ تعالیٰ مالک ہیں اور انسان اللہ تعالیٰ کا مقابلہ کهبی نہیں کر سکتا. ..اللہ دیتا ہے اور اللہ ہی لیتا ہے انسان کے ہاتھ میں کسی کو رزق دینا نہیں لکها گیا......
کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں آپ سہی ہیں...؟ میں آپ کو چیلنج کر رہی ہوں آپ ثابت کر کے دکھائیں آپ شرک نہیں کر رہے. ..؟ آپ مجهے ثبوت دیں اور میں آپ کو ثبوت دیتی ہوں.....وہ انہیں فاتحانہ انداز میں دیکهنے لگی...."..
"ہمارے پاس ثبوت ہے. ..ہم نے ان لوگوں کو تعویذ لکھ کر دی اور انہوں نے ہمیں سجدہ کیا ...ان کی اولاد نہیں تهی اور اب ان کا ایک بیٹا ہے. .بابا جی نے ایک جوڑے کی طرف اشارہ کیا تھا..اور ایک دوسرے بندے کو ہم نے نوکری دی اس کے پاس رزق نہیں تها."...آیت ا
" کون کہتا ہے ان کو اولاد آپ نے دی....اور جو روزانہ کروڑوں بچے پیدا ہوتے ہیں وہ سب آپ دے رہے ہیں. .آپ کے دماغ میں یہ گهٹیا سوچ آئی بھی کیسے. ..؟ اور میں. .مجھے تو آپ نے اولاد نہیں دی اور نہ ہی میں نے آپ کو سجدہ کیا ...نہ ہی آپ کے پاؤں چهوئے...ہزار روپے فیس بھی نہیں دی... تو پهر میرے پیٹ میں بچہ کہاں سے آیا...؟ آپ کہتے ہیں آپ نے ان کو اولاد دی تو آپ نے اس اب وہ اولاد چهین کر دکهاو....کیونکہ اللہ تعالیٰ اگر کچھ دیتا ہے تو وہ لینے کی استقامت بھی رکهتا ہے"........
" اور آپ نے کہا تها آپ نے کسی کو نوکری دی .رزق دیا...آپ کب سے رزق دینے لگے ..آپ رازق تو نہیں ہو رازق تو کوئی اور ہے آپ تو ایک معمولی نطفے سے پیدا ہونے والے ادنیٰ سے انسان ہو بس اور کچھ نہیں. ..
کوئی اور ثبوت ہے تو پیش کریں.."..وہ ان کے ثبوتوں کے پرخچے اڑا چکی تھی. ......وہ بابا خاموش رہے اس خاموشی کا مطلب وہ سمجھ رہی تھی. ...
" اب میں آپ کو ثبوت دیتی ہوں جسے آپ تو کیا یہاں کهڑا کوئی بھی انسان جهٹلا نہیں سکتا. .سورہ انعام میں اللہ تعالیٰ اپنے اٹهارہ برگزید انبیاء کرام کا نام بنا ذکر فرماتا ہے اور آخر میں فرماتا ہے. ..
" ولو اشرکو لحبط عنهم ما کانو یعلمون...
اگر ان سے بھی ( بفرضِ محال) شرک سرزد ہو جاتا تو ان کے اعمال بھی ضائع کر دیے جاتے.."....
اس سے بھی سخت آیت نبی کریم صل اللہ علیہ و علیہ وسلم کے لیے نازل ہوئی کہ...
" ترجمہ ..اے نبی صل اللہ علیہ و سلم اگر آپ نے بھی
( بفرضِ محال) شرک کیا تو آپ کے اعمال بھی ضائع کر دیے جائیں گے اور آپ خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں گے. ".....
" ذرا سوچیں تو سہی اللہ کے انبیاء اور خود حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم دنیا میں شرک کرنے نہیں آئے تھے بلکہ شرک کی جڑوں کو دنیا سے اکهاڑ کر پهینکنے آئے تهے. ...لیکن یہ بات ان کے حوالے سے انسانیت کو سمجھائی جا رہی ہے کہ دیکهو..شرک اتنا شنیع گناہ ہے کہ اس کے لیے انبیا اکرام کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا. ..تو پھر عوام الناس کے اعمال کی کیا حیثیت. آپ صرف پیسے لئے لوگوں کو جہنم بیچ رہے ہیں .چند کاغذ کے معمولی ٹکڑے آپ کو شرک کروا رہے ہیں". .......
سبهی لوگوں نے خوش ہو کر تالیاں بجائیں آیت کے لیے...اور گھروں میں موجود وہ لوگ جو ٹی وی دیکھ رہے تهے سب خوشی خوشی اور تفاخر سے اسے دیکھ رہے تھے. .......ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے..
" تم کس طرح اللہ سے کفر کرتے ہو حالانکہ تم بے جان تهے تو اللہ نے تم کو زندگی عطا کی پهر وہی تم کو موت دے گا پهر وہی تم کو زندہ کرے گا..پهر تم سب "اس کی طرف لوٹائے جاو گے...... البقرہ "...
" اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار کا جواب نہ دیں اور وہ تو ان کی پکار سے بے خبر ہیں. ...الاحقاف"....
" پهر فرمایا مردہ اور زندہ برابر نہیں لہذا مردوں کو پکارنا حماقت اور جہالت ہے..."
" آخر وہ اپنے گناہوں کے سبب غرقاب ہو ہوئے پهر آگ میں ڈالے گئے اور اللہ کے سوا ان کو کوئی اور حمایتی نہیں ملا..."
اس لڑکی کے پاس جو دلائل تهے وہ دنیا کے سب سے بڑے دلائل تهے جو ثبوت تهے ان کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں تهی. .وہ جس کتاب کا حوالہ دے رہی تھی وہ دنیا کی سب سے بڑی کتاب تهی.....آیت کی آنکھوں میں آنسو تهے...اس نے روتے ہوئے انوشیر کی طرف دیکھا انوشیر نے اسے ہاتھ کا اشارے سے بیسٹ آف لک کہا. ..اس بابا کی کشتی ڈوب چکی تهی کیونکہ وہ دھوکے اور جهوٹ کے ۸
پولیس آچکی تهی..وہ یہ جنگ جیت چکی تھی اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر دل ہی دل میں کہا.....
" اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں. .وہ ایک ہیں نہ کوئی ان کے جیسا ہے اور نہ ہی کوئی ان کا شریک ہے. .".وہ بابا هو دنیا کے سبهی لوگوں کو ہر مشکل سے نجات دلاتا تها اس کے پاس ایسا کوئی علاج نہیں تها جس سے وہ اپنے آپ کو بچا پاتا ...
اس کی آنکھیں نم ہو چکی تهیں..وہ کامیابی کی سیڑھی پر کهڑی تهی اس نے صرف کوشش کی تھی اور اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستے صاف کرتا گیا ...
وہ کوئی معمولی کمزور لڑکی تهی کوئی ولی نہیں تهی اس نے اللہ کی راہ میں خود کو نچھاور کر دیا اور اللہ نے اسے رسوا نہیں ہونے دیا........
انوشیر کیمرے لیا کهڑا تها..وہ نم آنکهیں لیے کهڑی ہوئی....اس نے پوروں سے آنکهوں کو صاف کیا...پولیس اس بابا کو گرفتار کر کے لے جا رہی تھی اس نے ایک آخری بار غصے سے اس لڑکی کو دیکھا جو اس کی ساری بازی الٹ چکا تها....انہوں نے اپنی پوری زندگی نام اور پیسہ کمانے میں گزار کر دی اور وہ لڑکی سیکنڈوں میں اس کا محل گرا چکی تهی....
غصے سے اس لڑکی کو دیکھتے ہوئے. ...ان کی نظر ایک پولیس والے کے بیلٹ سے بندھی پستول پر پڑی...انہوں نے اس لڑکی کو دیکھا جو مسکرا رہی تھی سکینڈ کے ہزارویں حصے میں انہوں کھینچ کر وہ پسٹل نکالی اور اس لڑکی کی طرف نشانہ لگایا....وہ نم آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی ...
انوشیر اس بابا کو پسٹل نکالتے اور نشانہ لگاتے دیکھ چکا تها...اس بابا نے تیزی سے ٹریگر دبایا اور انوشیر نے بهاگ کر آیت کو دهکا دے کر دور ہٹایا....گولی اس کے کاندھے کو جا لگی...
دوسری گولی چلانے سے پہلے پولیس اسے پکڑ چکی تهی...آیت نے انوشیر کو دیکھا اور بهاگ کر اس کی وجہ آئی .وہ زمین پر گر رہا تها.اس کی آنکھیں بند ہو رہی تهیں شور تها شور تها....آوازیں تهیں.....اور وہ........
انوشیر کو گولی لگی تھی وہ ہاسپٹل میں تها.. آیت کے آنسو جائے نماز میں جذب ہو رہے تھے ..وہ سجدے میں گری تهی ..انوشیر ایمرجنسی وارڈ میں داخل تها اس کا آپریشن ہو رہا تھا. ...وہ اس وقت وہاں اکیلی تهی...سانس لینے میں دقت ہونے لگی اسے...جانے زندگی اور کیا کرنے والی تهی اور کیا کچھ سہنا باقی تها...
ابھی تو بہت کچھ ادهورا تها وہ یوں اس طرح سب کچھ چھوڑ کر کیسے جا سکتا ہے....اس شخص کا وہ مقروض ہے اور ہمیشہ رہے گی..کیا کبھی کوئی ایسا وقت آئے گا اس کی زندگی میں جب وہ اپنے حصے کی مصیبتیں خود اٹھائے گی....ہمیشہ سے ہر قدم پہ جو دکھ تکلیف اس کے حصے کی تهیں وہ شخص اپنے حصے میں کر لیتا تھا. ......
اس کے شخص کے ساتھ اس کا رشتہ کیا تها..؟ آخر کون سا تعلق تها جو اتنا مضبوط تها.....
" یا اللہ پلیز انوشیر کو کچھ نہ ہونے دیں...وہ میری زندگی ہے میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں چاہے تو آپ میری جان لے لیں لیکن اسے مرنے نہ دیں....اس شخص نے ہمیشہ میرے لیے مصیبتیں اٹهائی ہیں آج بھی وہ میری زندگی بچانے کے لیے خود موت کے منہ میں آ گیا...جو شخص مجھ سے اتنی محبت کرتا ہے اسے یوں تو مجھ سے الگ نہ کریں......
میرے دل کی دنیا کو یوں تو نہ اجاڑیں..میں نے آج تک جتنی بھی نیکیاں کی ہیں وہ سب میزان میں ڈال کر بدلے میں مجهے انوشیر دے دیں....آپ کی پوری کائنات میں سے مجهے وہ ایک شخص چاہیے ....."....
اس کے دل میں مختلف اندیشے پیدا ہونے لگے..اگر وہ نہیں ہوگا تو کیا باقی رہے گا ...؟ اگر اسے کچھ ہوگیا تو وہ کیسے زندہ رہے گی....؟
انوشیر میرے ساتھ ایسا مت کرو میں جانتی ہوں. .میں نے تمہاری محبت کی اتنی قدر کھبی نہیں کی لیکن یوں اس طرح مجھے اتنی بڑی سزا تو مت دو....یوں تو مجھے اپنے زیر بار مت کرو...اتنا بڑا قرض تو میرے سر پر مت لا دو...اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو میں خود کو کیسے معاف کر سکوں گی.....

اسے ایمرجینسی وارڈ سے نکلتا ہوا ایک ڈاکٹر دکھائی دیا..وہ بھاگ کر اس کے پاس گئی اس ڈاکٹر کے منہ سے نکلنے والا ایک جملہ اس کی زندگی اور موت کا فیصلہ کر سکتا تها........
" ڈاکٹر صاحب وہ کیسا ہے..."؟ اس نے بہ مشکل سے نکلتے ہوئے آواز کے ساتھ پوچها...اسی لمحے اس نے شدت سے اللہ تعالیٰ کو پکارا تها.....
"مبارک ہو...آپریشن کامیاب رہا ...گولی نکالی دی گئی ہے تھوڑی دیر بعد انہیں ہوش آ جائے گا آپ ان سے مل سکیں گی..."....
ڈاکٹر چلا گیا وہ وہیں سجدے میں گر گئی...اس نے اللہ سے بہت شکوے کیے تهے اب ان کا شکر ادا کرنا تها اس نے ...اس نے گهر پہ بھی سب کو بتا دیا ہے ویسے بھی میڈیا کے ذریعے بھی انہیں معلوم ہوا ہے. عروہ نے کہا تها وہ تھوڑی دیر بعد ہاسپٹل آ رہے ہیں. ... ..
کچھ وقت گزرا تو اسے ملنے کی اجازت ملی وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اندر گئی...وہ ہوش میں تها اور دروازے کی طرف دیکھ کر اسی کا ہی منتظر تها...
وہ سست روی سے چلتی اس کے پاس بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی. .اس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تهیں....انوشیر نے اس کا نازک ہاتھ اپنے گرم ہاتھ میں دبایا. ..وہ انوشیر کی آنکھوں میں کهو گئی. .خوبصورت سنہری آنکهیں..سفید رنگت.
ہلکی سی داڑھی. .موتی جیسے چمکتے خوبصورت دانت...گلے میں لٹکتا گولڈن لاکٹ.....وہ سب پہلے بھی کئی بار دیکھ چکی تهی لیکن ہر بار دیکھنا کتنا اچها لگتا تها..... .
" میں نے تم سے کہا تها تم آئندہ آنسو نہیں بہاو گی.".؟ وہ اس کی سرخ سوجھی ہوئی آنکهیں دیکھ کر بولا...
" تم بھی تو باز نہیں آتے...ہر بار مجھے رلانے کا موقع ڈھونڈ ہی لیتے ہو ...آخر تم مجھے کتنا اور رلانا چاہتے ہو اور کتنی بار میری مصیبتیں اپنے سر پر لو گے...کھبی تو مجھے میرے حصے کے سزا بهگت لینے دو.."....وہ نم آنکھوں کے ساتھ اس سے شکوہ کر رہی تھی. .....
"جب تک میری سانسیں چل رہی ہیں تب تک تو میں تم پر کوئی بھی مصیبت نہیں آنے دوں گا..ہر طوفان کو تم تک پہنچنے کے لیے مجھ سے ٹکرانا ہوگا......اور میری ٹیچر کہتی تهیں...شادی تو سبھی مرد کرتے ہیں محبت بھی سبهی کرتے ہیں اصل مرد وہ ہے جو عورت کی حفاظت کرے...کیونکہ مرد عورت کا محافظ ہوتا ہے. وہ مرد نہیں ہوتے جو محبت کا اقرار کر کے عورت کو قید کر دیتے ہیں اور پھر آزاد ہو جاتے ہیں. ..عورت کی آنکھوں میں آنسو مرد کے لئے آنے چاہیں نا کہ مرد کی وجہ سے. ..".....
اف انوشیر اور اس کی ٹیچر اور مشرقی مردوں والی باتیں..آیت بے اختیار لمبی سانس لے کر رہ گئی. ...اسی لمحے دروازہ کهول کر کوئی اندر داخل ہوا وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی. ......
وہ عروہ تهی جو آ کر اس کے گلے لگ گئی ....
"میں جانتی تھی تم کر لو گی...کیونکہ تم ہی یہ سب کر سکتی تهیں...مجھے تم پہ فخر ہے. "...عروہ خوشی خوشی بتا رہی تھی. .....
اگلے ہی پل عروہ کی نگاہیں انوشیر سے ملیں اور وہ سانس لینا بهول گئی...یک ٹک منہ کهولے وہ سامنے لیٹے اس شخص کو دیکھ رہی تھی. ..وہ کیا تها کوئی حقیقت کوئی خواب یا کوئی معجزہ......کیا وہ وہی دیکھ رہی تھی جو سامنے تها...کیا سامنے لیٹا شخص وہی تها...وہی...او میرے اللہ. ..یہ کیسے ہو سکتا ہے. ..بے یقینی سے بے یقینی تهی..کم از کم اس شخص کو تو وہ صیح پہچان رہی تھی. ..تقدیر اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے ..........انوشیر بھی اسے دیکھ چکا تها وہ حیران ضرور تها لیکن اس کی طرح شاکڈ نہیں تها...........
"یہ ہیں انوشیر. ..تمہارے بہنوئی. ."..آیت نے تعارف کرایا....عروہ کچھ سن نہیں سکی انوشیر بھی آیت کو نہیں عروہ کو دیکھ رہا تھا. ......
"اور انوشیر یہ ہیں میری عروہ آپی"......انوشیر کے چہرے پہ کیا تها .. اس وقت ڈر ...شرمندگی. ..؟
"آیت...یہ انوشیر نہیں ہے. ....."اس نے زور سے چلا کر کہا....آیت اور انوشیر دونوں حیران رہ گئے......
"ہاں یہ انوشیر نہیں ہے یہ تو روحل آفتاب ہے."....کھلے دروازے سے ابو اور امی داخل ہوئیں.....آیت نے پلٹ کر انہیں دیکها...اس کے ابو انوشیر سے مصافحہ کر رہے تھے. .لیکن انوشیر عروہ کو دیکھ رہا تھا. ..
"لیکن یہ روحل آفتاب بھی نہیں ہے یہ تو...."..وہ آگے کچھ کہنے والی تهی...جب انوشیر نے آنکھ کے اشارے سے اسے منع کر دیا. .انوشیر کی آنکھوں میں ایک التجا تهی جو عروہ کے ساتھ ساتھ آیت بھی دیکھ چکی تهی....آیت ان دونوں کو حیرانی سے دیکھ رہی تھی وہ انوشیر کو اشارہ کرتے ہوئے دیکھ چکا تها....تو کیا کوئی اور سچ بھی ہے جو ابھی تک جاننا باقی ہے. ..؟ کیا وہ اس شخص کو پہچاننے میں ایک بار پھر سے غلطی کر گئی.....
ابو انوشیر سے مل کر خوش نظر آ رہے تھے. .کیونکہ وہ اسے پہلے سے جانتے تهے اور اسی خوشی میں انہوں نے آیت سے کچھ نہیں کہا....ورنہ وہ اس سے اس کے جھوٹ کے بارے میں سوال جواب ضرور کرتے........
"یہی وہ لڑکا تھا جس سے ہمیں تمہاری شادی کرنا چاہتے تھے جب تم لنڈن جانے کی ضد کرنے لگیں"...اس نے اپنے ابو کی آواز سنی....عمارہ بیگم نے ایک خوشگوار حیرت سے انوشیر کو دیکھا. ...اس کا دماغ ابهی بھی سن تها......
"لیکن تم اچانک غائب کہاں ہو گئے تهے..".؟ ابو انوشیر سے پوچھ رہے تھے. ..
بس انکل باہر گیا ہوا تها.....اس نے مسکرانے کی کوشش کی. ...آیت ان کی گفتگو سے لاتعلق بیٹھی تھی وہ گاہے بگاہے چوری سے عروہ آپی کو دیکھ رہی تھی. .اس کی اڑی ہوئی رنگت دیکھ کر وہ حیران تهی....سب کو گفتگو میں مگن چھوڑ کر وہ آہستہ سے باہر نکل آئی....
" کیا ابهی بھی کچھ ادهورا تها..."؟ عروہ آپی انوشیر کو دیکھ کر اتنی حیران کیوں ہوئیں. ..وہ بھی حیران تها..کیا وہ ایک دوسرے کو جانتے تھے. ..پہلے سے مگر کیسے. ...آپی کب ملی تھی اس سے. ...وہ کیسے جانتی ہے انوشیر کو....انوشیر نے اسے کیا بتانے سے منع کیا تها...؟ اور کیا ہے جو ابھی تک سامنے نہیں آیا.....اس کا سر میں پھر سے درد ہونے
لگا. ....
_ ___ __ _ __ _ __ _ __ __ _ _ _ __ _ __
انوشیر کو ہسپتال سے ڈسچارج ہوئے تین دن ہو چکے تھے وہ آیت اور اس کے ابو کے بہت اسرار کے باوجود بھی ان کے گهر نہیں آیا...اسے اپنے شہر جانا تها جو یہاں سے کافی فاصلے پر تها...اس کی طبیعت اب بالکل ٹھیک ہو چکی تهی...جاتے وقت انوشیر نے اسے خدا حافظ کہا تها اور مسکرا کر عروہ کو بھی خدا حافظ کہا تها.......
وہ اس وقت ان کی آنکھوں میں دیکھتی رہ گئی اس آخری لمحے ان کی آنکھوں میں کیسی چمک تهی ..وہ الجھ کر دونوں کو دیکھنے لگی........گهر آنے کے بعد بھی وہ اس پزل کو حل نہیں کر سکی.....شام کے وقت جب عروہ کمرے میں آئی تو اس نے عروہ سے پوچھنے کا فیصلہ کیا .....
"آپی آپ انوشیر کو کیسے جانتی ہیں. "...؟ عروہ نے سر اٹها کر اسے دیکها....آیت نے دیکھا ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا..وہ اٹھ کھڑی ہوئی. ....
"ارے واہ آیت یہ ایوارڈ کتنا خوبصورت ہے ناں.."..؟ وہ اب اس نوبل پرائز ایوارڈ کو اٹها کر دیکھ رہی تھی جو حکومت کی طرف سے اسے ملا تها اس برائی کو ختم کرنے کے لیے. .....عروہ کا انداز ٹالنے والا تها..
"آپی میں نے کچھ پوچها ہے ."...اس نے اپنے سوال پہ زور دے کر پوچها....
"وہ..وہ. .آیت دراصل میں اس سے کچھ عرصہ قبل ملی تھی. .." عروہ گڑگڑائی....اس نے صاف محسوس کیا وہ کچھ چهپا رہی ہے. .وہ بتانا نہیں چاہ رہی تھی اور اس نے بھی مزید کریدنے کی کوشش نہیں کی.......
لیکن وہ مطمئن نہیں ہوئی ہے. .انوشیر اور آپی اس سے کچھ چهپا رہے تهے کیا تها جو وہ نہیں جانتی تھی. .وہ ایک بار سب کچھ پهر سے سوچنے لگی ایسے آپی انوشیر کو دیکھ کر شاکڈ ہوئی انوشیر کی بھی یہی حالت تهی ...جیسے وہ ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہیں. ....
کوئی پرانی محبت. ...؟ یا کالج کے زمانے کا کوئی افئیر....؟ وہ سمجھ نہیں سکی......انوشیر دو دن بعد واپس آ گیا تها وہ اسے بھی کچھ نہیں بتا سکتی تهی ظاہر ہے وہ بھی ٹال دیتا. ......اس شام انوشیر نے اسے ملنے کے لئے بلایا تها...وہ تیار ہوئی ..جب وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے جا رہی تھی تبھی پیاس کا تھوڑا احساس ہوا تها اسے. ...وہ پانی پینے کے لیے کچن میں چلی گئی. ..عروہ آپی اس وقت وہیں رات کے لیے ڈنر بنا رہی تهیں....اس نے فریج سے پانی کی بوتل نکالی......
" کہاں جا رہی ہو آیت...".عروہ نے اس کی تیاری دیکھ کر پوچها تها..وہ بوتل کا ڈهکن بند کر رہی تهی....
" انوشیر سے ملنے. "...آپی نے گوشت کڑھائی میں ڈال دیا..ایک خوش ذائقہ خوشبو چاروں طرف پھیل گئی. ..
'"اچها اسے میرا سلام کہنا..'...وہ چلتے چلتے رک گئی اس نے پلٹ کر آپی کو دیکها وہ مصروف نظر آئی...وہ کچن سے باہر نکل آئی..... . .
شام کے وقت سمندر کی ساحل پہ وہ انوشیر کے ساتھ تها..انوشیر اپنے ہمیشہ والے حلیے میں تها....اس نے پینٹ کی جیب میں دونوں ہاتھ ڈالے ہوئے تهے. آستین کہنیوں تک فولڈ تهے......
شام کی آخری روشنی سمندر کے پانی میں پڑنے لگی .خوبصورت لہریں ان کے پاؤں سے ٹکرا کر واپس پلٹ رہی تهیں...ساحل سمندر پر اس وقت کافی لوگ تھے .
" عروہ کیسی ہے ."..؟ اچانک انوشیر نے پوچها....وہ چلتے چلتے رکی تھی. ...
" ٹھیک ہے. .وہ آپ کو سلام کہہ رہی تھی. ."اسے یاد آیا..انوشیر مسکرا دیا....وہ اس سے پوچھ نہیں سکی " تم عروہ کو کب سے اور کیسے جانتے ہو........
" اچها عروہ کا نمبر تو مجھے دو."...انوشیر نے جیب سے موبائل نکالا...وہ ہونٹ بهینچے کسی سوچ میں پڑ گئی پهر اس نے انوشیر کو نمبر نوٹ کروایا تها........
جب رات کو وہ واپس آئی تب بھی عروہ اس سے انوشیر کے حوالے سے باتیں کرتی رہی وہ بڑی دلچسپی سے اس کی باتیں سن رہی تھی. .جبکہ وہ دلچسپی سے نہیں بتا رہی تهی.....
" مجهے سونا ہے آپی..".بے رخی سے کہہ کر وہ کمبل کھینچنے لگی عروہ اسے دیکھتی رہ گئی. ...
_ _______ ______ _________ _______
ابو جماعت اسلامی کے ایک جلسے میں گئے ہوئے تھے. .وہ واپس آتے تو وہ انہیں سب سچ بتانے کا فیصلہ کر چکی تهی..ابو انوشیر کو جانتے پہلے سے تهے اور وہ اسے پسند بھی کرتے تھے یہ رشتہ سب سے پہلے وہی لے کر آئے تھے. .....
لیکن وہ انہیں اپنے اور انوشیر کے نکاح کے بارے میں سب بتانا چاہتی تهی اور پریگننسی کے بارے میں بھی. .کیونکہ وہ مزید یہ بوجھ اپنے سر پر لے کر نہیں گهوم سکتی تھی ویسے بھی وہ اپنی زندگی کی شروعات ایک جھوٹ کی بنیاد پر نہیں رکهنا چاہتی تھی. .....
اگر وہ سچ نہ بھی بتاتی تب بھی ایک دو مہینے کے بعد اس کے پیٹ نے بولنا تها. .اور یہ سچ سب کے سامنے آ جاتا اس سے پہلے کوئی اس کہانی کو من چاہی رنگ دیتا وہ سب کچھ صاف صاف بتانا چاہتی تهی...........
عمارہ بیگم صوفے پہ بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی وہ ناول پڑھ رہی تھی. ..اور انوشیر سے میسج پہ بات بھی کررہی تهی..عروہ بھی ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی.... .
اس نے ایک نظر اٹها کر عروہ کو دیکھا پهر ناول کی طرف متوجہ ہو گئی.....
" امی میں کیا کہہ رہی ہوں کیوں ناں ...انوشیر کو آج رات کھانے پر بلائیں"....اچانک عروہ بولی...اس نے چونک کر ناول سے نگاہ ہٹائی. .اس کے ماتھے پر لکریں نمودار ہوئیں. ....
" تمہاری مرضی.".....عمارہ بیگم نے کندھے اچکائے..آیت سمجھ میں نہیں سکی وہ اسے کھانے پر کیوں بلا رہی ہے. .... اور مزید حیرت اسے تب ہوئی جب شام کے وقت وہ کچن میں گهس کر مختلف پکوان خوشی خوشی بنانے لگی. .وہ وہیں کچن میں اس کی تھوڑی مدد کر رہی تھی اور اس کے چہرے کو بھی دیکھ رہی تهی....
" بریانی اسے بہت پسند ہے. ."..عروہ نے گوشت کاٹ کر بے ساختہ کہا اور پھر ہونٹ کاٹ کر خود ہی شرمندہ ہوئی وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی. ...اس کا مطلب اس نے سہی سوچا تھا ..کوئی پرانا تعلق ضرور تها..ورنہ آپی کو کیسے معلوم اسے بریانی پسند ہے

.یہ کوئی ایسی بات تو نہیں تھی جو ہر دوسرے کو پتا ہوتی ..یہ تو صرف وہی لوگ جانتے ہیں جو اس کے بہت قریب ہوں...وہ اس کے ساتھ لندن میں اتنا عرصہ رہی اس کے ساتھ نکاح کیا اسے آج تک یہ نہیں معلوم ہو سکا انوشیر کو کهانے میں کیا پسند ہے اور کیا نہیں اور آپی اتنی آسانی سے یہ سب کیسے کہہ گئی......
اس نے انوشیر کو کهانے کے لیے نہیں بلایا امی کے پاس بھی اس کا نمبر نہیں تها ضرور عروہ نے اسے میسج کیا ہوگا.... وہ انوشیر کو دروازے پر رسیو کرتے ہوئے سوچ رہی تھی. ....تو اس مطلب آپی کا اس کے ساتھ رابطہ رہتا ہے. ..اف یہ کیا ہو رہا ہے. ..
انوشیر امی سے عروہ سے بڑے جوش سے ملا.عروہ بھی اسے دیکھ کر خوش تهی لیکن وہ خوش نہیں ہو پا رہی تھی اسے کچھ بھی اچها نہیں لگ رہا تھا کهانے کے دوران بھی کسی نے اس کے تاثرات پر غور کرنے کی کوشش نہیں کی. ..وہ عروہ کی خوشی کو دیکھتی رہ گئی پہلی بار اسے عروہ کی مسکراہٹ زہر لگی........
"ارے واہ یہ بریانی تو بڑی زبردست ہے. "...انوشیر چمچ منہ میں رکھتے ہوئے بولا....
" ہاں عروہ کهانا بہت اچها بناتی ہے. "..وہ نگاہیں جهکا گئی اس نے کبھی اچها کهانا نہیں بنایا تها..بس گزارے کا ہی بناتی تهی اور پہلی بار اسے اپنی یہ کمزوری بری لگ رہی تھی. ........
" زبردست. .اگر عروہ نے بنایا ہے تو اس بریانی کو مزیدار ہونا ہی تھا. .."اس نے ایک نگاہ انوشیر کو پهر عروہ کو دیکھا. .دونوں مسکرا رہے تھے. .چمچ اس کے ہاتهوں سے چھوٹ کر پلیٹ میں جا گرا...کهیر کا ذائقہ اچانک کڑوا ہو گیا...اس کے سامنے رکها ہوا کوک کا گلاس مزید سیاہ ہو گیا...اس نے گرم چاولوں سے اٹھتے بهاپ کو دیکھا اس بهاپ کے اس پر انوشیر اسے دهندلا دکهائی دیا...اچانک اسے سب چیزوں سے نفرت ہونے لگی اس کا دل چاہا وہ سب کچھ اٹها کر پھینک دے....ہر شے سے وحشت ہونے لگی........دل میں ایک آگ لگی ہوئی تهی..اس نے آگ بجھانے کے لئے کوک کا گلاس اٹهایا.....
انوشیر اور عروہ ابهی بھی مسکرا رہے تھے وہ ان کی نگاہیں دیکھ رہی تهی..ان کی ہنسی میں کانٹوں جیسی چهبن تهی...جیسے وہ سب کو بے وقوف بنا رہے ہیں. ..وہ تیزی سے وہاں سے اٹهی....اور انوشیر کے سر پر جا کر کهڑی ہو گئی.....
" یہ سب کیا ہو رہا ہے. .تم لوگوں کو کیا لگتا ہے تم اس طرح مجھے بے وقوف بنا لو گے اور مجهے کچھ نظر نہیں آئے گا. .اور عروہ تم ..؟.. ڈائن بھی سات گهر چهوڑ کر وار کرتی ہے اور تم نے اپنی ہی بہن کے شوہر پہ قبضہ جمایا."
.اس نے جنونی انداز میں ٹیبل پہ پڑا ہوا چاقو اٹهایا اور عروہ کے پیٹ میں گهونپ دیا... .سب اسے دیکھتے رہ گئے. ..اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے. ...
" آیت.....".اس نے اپنی ماں کی آواز سنی....
"آیت بیٹا سب ٹھیک تو ہے تم کانپ کیوں رہی ہو." ...اس کے منہ نے اسے جھنجھوڑا اور وہ حواسوں میں لوٹ آئی. .عروہ اور انوشیر اسے ہی دیکھ رہے تھے ..وہ کچھ نہیں بولی. .سب ویسے تها...وہ ایک خیال تها اس نے سر جهٹک کر سب کچھ بهلانے کی کوشش کی ...
تم ٹھیک ہو آیت....انوشیر کی تشویش بهری آواز سنائی دی اسے.....
" ہاں میں ٹھیک ہوں "..وہ بہ مشکل بول پائی. ..
"آئی تهنک مجهے ریسٹ کرنا چاہیے". ..وہ وہاں سے اٹھ کر کمرے میں چلی آئی. .........
" تو کیا میرا شک سہی تها وہ سب کچھ ویسے ہی تها جیسا مجهے نظر آ رہا تها..اتنا بڑا دھوکہ. .ایک بار پھر سے...عروہ آپی بھی "....اسے یقین آیا وہ چہرے نہیں پڑھ سکتی...
_ __ __ _ _ __ _ __ __ __ __ __ __ __ _ _ __
اس وقت وہ ہاسپٹل میں انوشیر کے ساتھ بیٹهی تهی..اسے کچھ کمزوری ہو رہی تھی. .وہ دونوں بنچ پر بیٹهے تهے ..وہ ایک چھوٹا سا کلینک تها..
پریشانی کی بات نہیں ہے ..تھوڑی بہت کمزوری محسوس ہوگی اس کے لیے میں کچھ وٹامنز دے رہی ہوں انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا. ..اس گائنا کالوجسٹ نے انہیں تسلی دی.....وہ مایوس تهی انوشیر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اسے حوصلہ دینے کی کوشش کی. .اسے ہاتھ کا لمس محسوس نہیں ہو رہا تھا. .وہ خاموش نگاہوں سے انوشیر کو دیکھتی رہی......
تھوڑی دیر بعد ایک نرس آئی اس کے ہاتھ میں ایک انجکشن تها....
" یہ انجکشن کس کے لیے ہے..."؟ انوشیر نے پوچها...
" آپ کی مسسز کے لیے. ..." .نرس نے بتایا....
" اوہ...لیکن یہ تو بہت تکلیف دے گا.." ..نرس نے بے نیازی سے ابرو اچکائے.....
" کیا کوئی اور طریقہ نہیں ہے. ."..
" کس چیز کے لیے. ."...
" انجکشن لگانے کے لیے. ".
" انجکشن تو وینس میں ہی لگانی پڑے گی" ...نرس حیران ہو رہی تھی. . .وہ ان دونوں کی گفتگو سے لاتعلق نظر آ رہی تھی ......
" کیا ایسا نہیں ہو سکتا آپ یہ انجکشن مجهے لگا دیں اور فائدہ انہیں پہنچے...".نرس چونک کر مسکرا دی ..آیت نے پہلی بار انوشیر کو دیکھا. .جو کافی سنجیدہ لگ رہا تھا .....
" یہ انجکشن آپ کو لگاتی اگر آپ پریگننٹ ہوتے...لیکن آپ کی وائف پریگننٹ ہے تو انہیں ہی لگانی پڑے گی."..وہ بری طرح جهنپ کر مسکرا دیا...نرس بھی مسکرا رہی تھی آیت نے دیکها یہ مسکرانے کا موقع ہے تو وہ بھی مسکرا دی..... ..
نرس وینز تلاش کرنے لگی...انوشیر نے اس کا دوسرا ہاتھ پکڑ کر زور سے دبایا...وہ ڈر رہا تھا آیت سے بھی زیادہ. ....نرس اب سرنج لگا رہی تھی. .انوشیر نے آنکهیں میچ لیں آیت نے انوشیر کے سینے میں منہ چھپا دیا...نرس اپنا کام کر چکی تهی..انوشیر نے شکر ادا کیا. ..اب وہ نرس آیت کو ٹیبلٹس کی ٹائمنگ بتا رہی تھی.....
" نائس کپل."....آخر میں جاتے وقت نرس نے تبصرہ کیا..وہ جانے کے لئے کهڑی ہوئی جب انوشیر کے موبائل پہ کال آئی...وہ کال سننے کے لیے اسے وہاں بٹها کر سائیڈ پہ چلا گیا وہ حیران تهی ایسا پہلی بار ہوا تها جب انوشیر اس سے چهپ کر کسی سے بات کر رہا ہو .....جب وہ واپس آیا تو اس نے پوچھا بھی تها...کس کی کال تهی. ...
"ایک دوست کی. "..مبہم سا جواب. .نہ سچ تها نہ جهوٹ..
انوشیر اپنی کار پہ اسے اس کے گاؤں ڈراپ کر گیا...جب وہ گاڑی سے اتر رہی تھی تو اس نے انوشیر سے ایک سکینڈ کے لیے اس کا موبائل لیا تها....اس نے بنا سوچے سمجھے موبائل اس کے ہاتهوں میں دیا تها...وہ کال لاگ اوپن کرنے لگی....سب سے پہلے عروہ کا نمبر تها..اس نے کرب سے ہونٹ بھینچ لیے اب کوئی سچ باقی نہیں تها..سب کچھ سامنے تها.....
وہ بے جان قدموں کے ساتھ لاونج تک آئی اور پرس پھینک کر صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی...اس کے چہرے پہ صدیوں کی تهکان نظر آ رہی تهی......
"آپ نے کھبی کسی سے محبت کی ہے. .".؟ رات سونے سے پہلے اس نے آپی سے پوچها تها..وہ جواباً حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی. .....
" محبت. .؟ کیوں پوچھ رہی ہو تم....؟"
" بس یونہی. ."...اس نے نگاہ چرائی.....
"یونہی کیوں...آخر کوئی تو وجہ ہوگی." .عروہ کو شاید اس پر شک ہونے لگا تھا. ..وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تهی کہ وہ حقیقت تک رسائی حاصل کر چکی ہو... .
" ویسے پوچھ لیا...مطلب کالج میں یا یونیورسٹی میں کھبی کوئی پسند آیا ہو یا اسے آپ پسند آئے ہوں"....وہ سوچ سوچ کر بول رہی تهی.....
" نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا..مجهے کالج یونیورسٹی میں کهبی کسی سے محبت نہیں ہوئی....اور اگر کسی کو مجھ سے ہوئی ہے تو میں نہیں جانتی اس بارے میں ..چلو اب سو جاو..."عروہ نے لائٹ کو آف کر دیا...یہ اس بات کی طرف اشارہ تها اسے مزید بات نہیں کرنی اس ٹاپک پہ.....وہ بھی سونے کے لیے لیٹ گئی چہرے پر گہری اداسی کے نشان تهے..........
اگلی صبح جب وہ بیدار ہوئی...تو عروہ اسے بیڈ پہ نظر نہیں آئی...لیکن اسے حیرت نہیں ہوئی کیونکہ وہ صبح جلدی اٹھ کر سب کے لئے چائے ناشتہ بناتی تهی وہ گهر کے کاموں میں سست تهی...عمارہ بیگم کئی بار اس سے کہتی بهی تهیں لیکن اس گهر کے کاموں میں کهبی دلچسپی محسوس نہ ہو سکی...نومبر کے آخری دن چل رہے تهے سردیوں کی آمد شروع ہو چکی تھی. ....کمبل ہٹا کر وہ واش روم میں گئی....منہ دھوتے ہوئے آئینے کے سامنے کهڑی لڑکی کو وہ نہیں پہچان سکی. ..آنکهیں کافی سرخ تهیں..وہ برسوں پرانی مریض لگ رہی تھی. .تولیے سے منہ صاف کرتی وہ ناشتے کے لئے نیچے چلی آئی.....ناشتہ وہ ایک ساتھ نہیں کرتے تھے ابو چونکہ اکثر باہر ہوتے تهے اور امی کهبی جلدی تو کهبی دیر سے کرتیں....اور وہ دونوں بھی اپنی اپنی مرضی سے ناشتہ کرتی تهیں...
وہ عموماً ناشتہ کچن میں کرتی تهی اور آج بھی حسبِ معمول وہ کچن کی طرف چلی آ رہی تھی جب اندر سے آتی عروہ کی آواز سن کر اس کے قدم رک گئے .......
" آپ سے مل کر میں بہت خوش ہوئی تهی.."...وہ کسی سے فون پہ بات کر رہی تهی...
" اس دن جب میں نے آپ کو ہاسپٹل میں دیکها تها تو مجهے تو یقین ہی نہیں آیا میں آپ کو دیکھ رہی ہوں"....
اس کے کانوں میں طلسم توڑا گویا تها...یقین ٹوٹتا جا رہا تھا. .وہ اپنے قدم بڑھاتی آگے نہیں پیچھے جا رہی تھی. ..گهر کی ایک ایک چیز اس پر ہنس رہی تھی اس کے آنسو نہیں تهم رہے تھے.......وہ خود ایک بار پھر لنڈن کے اس بھیانک جنگل میں دیکھ رہی تھی. جہاں پوجا نے اسے تنہا چهوڑا تها....یا اس کلب کے شراب زدہ کمرے میں بند....جہاں مائیکل نے اسے بند کر دیا تها....اسے لگا وہ خوفناک منظر ایک بار پھر سے آنکھوں کے سامنے آ گئی وہ قبر جیسی زندگی اس کا پیچها نہیں چهوڑنے والی تهی. ..یہ کیسی حقیقت تهی جو وہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی. ......
بہن کا رشتہ تو کتنا عظیم ہوتا ہے جب یہی رشتہ ہی بھروسے کے قابل نہیں تو انسان کس پر بهروسہ کرے...آج رشتے اپنا اعتبار کهو رہے تهے....وہ واپس کمرے میں آ کر اوندھے منہ لیٹ گئی.. ..بات کچھ اور ہے....کیوں نہیں بتا رہے وہ اسے آخر کیا چهپا رہے ہیں کیا انوشیر اس لیے اس پہ ترس کها رہا ہے وہ پریگننٹ ہے ایسے میں ایسی کوئی تکلیف نہیں دینی چاہیے. ..
لیکن انوشیر ایسا کیسے کر سکتا ہے میرے ساتھ وہ مجهے اتنی بڑی تکلیف کیسے دے سکتا ہے وہ تو بہت پیار کرتا ہے مجھ سے. ...وہ روتے ہوئے سوچ رہی تھی. .....
ہو سکتا ہے آپی سے وہ بہت پہلے محبت کرتا ہو اور پهر وہ ایک دوسرے سے نارض ہو گئے ہوں یا بچهڑ گئے ہوں ...اور تب اسے میں ملی اور وہ مجھ سے محبت کرنے لگ گیا...اور آج برسوں بعد آپی اسے پھر مل گئی ہوگی...وہ خوش ہوگا اور میں. میرا کیا... ...؟
______ ___________ __________ _____
اب اس آنکھ مچولی کے کھیل کو ختم ہو جانا چاہیے. .اب اسے صاف صاف سب پتا کرنا ہی ہوگا...یہ سب آخر ہے کیا...آپی اور اس کا رشتہ کیا ہے. .ایک ایسا رشتہ جسے وہ اپنی محبت سے بھی چهپا رہا تھا. ...کوئی نہ کوئی تو فیصلہ ہو جانا چاہیے. ...آر یا اس پار...اس نے اگلے دن روتے ہوئے انوشیر کو میسج کیا....جس میں اس نے لکها وہ اس سے ملنا چاہتی ہے. ...وہ اس کے آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنا چاہتی تھی تا کہ کچھ بھی ابہام باقی نہ رہے. انوشیر کا جواب آیا....
آج ایک دوست کے ساتھ ڈنر ہے کل کو ملیں گے...اس نے موبائل غصے سے بیڈ پہ پھینک دیا....وہ جلد سے جلد یہ معاملہ ختم کرنا چاہتی تهی. ......
اس کے دل کا اضطراب بڑهتا ہی جا رہا تھا اس کا سکون ختم ہو گیا تھا. .وہ ساری رات روتی رہی..دور سے روشنی کی ایک کرن جو نظر آ رہی تھی وہ آخر مرجھا گئی. .وہ سب گهل ہو گیا...وہ گهپ اندھیرے میں پڑی تهی جہاں اسے اپنے وجود سے بھی ڈر لگ رہا تھا. ..مٹھی سے سب کچھ پهسلتا دکهائی دے رہا تھا اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکها....اسے ایک زندگی کا احساس ہوا....لیکن خود اس کی زندگی کیوں ختم ہو رہی تھی. ......عروہ کمرے میں چلی آئی اس نے بڑی تیزی سے اپنے آنسو صاف کیے. ..عروہ ہیل کے سٹرپ بند کرنے لگی اس کی تیاری سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کہیں جا رہی ہو.......
" کہاں جا رہی ہو آپی..".اس کے لہجے میں طنز پیدا ہو گیا..
" ایک دوست کے ہاں ڈنر پہ..."..اس پہ بم گر گیا..عروہ کہہ کر باہر نکلی..انوشیر بھی کسی دوست کے ساتھ ڈنر کی بات کر رہا تھا اور یہ بھی ڈنر کی بات کر رہی تھی. ..وہ بھی دوست کہہ رہا تھا یہ بھی دوست کہہ رہی تھی. .دونوں کے جواب مبہم تهے..نہ وہ اسے سچ بتا رہا تھا اور نہ ہی آپی..سچ کیا ہے یہ وہ آج جاننا چاہتی تهی......وہ آنسو صاف کر کے نیچے آئی ..عروہ گاڑی نکال کر نکل چکی تھی وہ دوسری گاڑی میں بیٹهی اور عروہ کا پیچها کرنے لگی. .اس کی گاڑی عروہ سے کچھ ہی فاصلے پر تهی اس نے بڑی شدت سے دعا کی وہ جو سوچ رہی ہو ایسا نہ ہو....وہ انوشیر سے نہیں کسی اور سے ملنے جا رہی ہو....عروہ کی گاڑی شہر کے ایک بہت بڑے ریسٹورنٹ کے سامنے رکی اس نے بھی اپنی گاڑی روک دی...عروہ گاڑی سے نکل کر اس ریسٹورنٹ کے اندر داخل ہو چکی تھی. ......وہ بھی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے پیچھے گئی . ..عروہ اس ٹیبل کی طرف بڑھی جس کے سامنے پہلے ہی ایک شخص کهڑا تها..اس نے آنکھوں سے دھند ہٹا کر دیکھنے کی کوشش کی. .وہ شخص. ....
ریسٹورنٹ کی چهت اچانک اس کے سر پہ آ گری..کون کیا کہہ رہا تھا وہ نہیں سن رہی تھی. .شور تھا بہت شور آوازیں تهی بہت زیادہ ...لیکن اس نے زندگی میں پہلی بار ایک سناٹا محسوس کیا. .منہ پر ہاتھ رکھ کر روتے ہوئے وہ باہر نکلی اور گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی.....
ہوا میں جیسے آکسیجن کی کمی ہونے لگی ہو اسے سانس لینا مشکل لگ رہا تھا. .اندر سے چهنک کی آواز آئی کچھ ٹوٹا تھا شاید. ..کچھ اندر ہی ..شاید وہ دل تها..
وہ تیز رفتار کے ساتھ گاڑی دوڑاتی گهر پہنچی...اور اپنے کمرے کا دروازہ تیزی سے بند کر بستر پر لیٹ گئی. .کیا سب کچھ یونہی ختم ہو جاتا ہے اتنی جلدی. . وہ روتی رہی کافی دیر تک. ..اس کی آنکھیں سوجھ گئیں...اسے آپی کے آنے کا انتظار تها وہ ان سے آج سبھی جواب چاہتی تهی وہ سب کچھ جاننا چاہتی تهی...وہ اس دھوکے اور جھوٹ پر سے پردہ اٹھانا چاہتی تهی... ..عروہ ڈیڑھ گھنٹے بعد آئی اس وقت وہ رو رو کر تهک چکی تهی..اس کی آنکھیں بالکل خشک تهیں...وہ بس عروہ کو ہیل اتارتے دیکھ رہی تھی. .عروہ خوش نظر آ رہی تھی وہ عروہ کے پاس چلی آئی. .....
"کہاں گئیں تهیں آپ آپی. ."...؟ اس نے عروہ کی آنکھوں میں دیکھ کر سوال کیا....
" ڈنر پہ بتایا تو ہے...."
" کس کے ساتھ کیا تها آپ نے ڈنر."..؟ اس کے لہجے میں تلخی گهل گئی...
" ایک دوست تها..".عروہ نے جهوٹ نہیں بولا...
"کہیں اس دوست کا نام انوشیر رضا تو نہیں تها."..عروہ کے چہرے پہ ایک رنگ آیا...اس نے نگاہیں چرائیں البتہ جواب نہیں دیا .....
"میں نے کچھ پوچھا ہے. .؟ جس کے ساتھ آپ ڈنر کر کے آئیں ہیں وہ انوشیر ہی ہے ناں...."؟ وہ ہزیانی انداز میں چلائی....پورے کمرے میں اس کی آواز سنائی دی..عروہ اس کی باتوں سے زیادہ اس کے لہجے پہ حیران ہوئی .....
"ہاں وہ وہی تها. "...اس نے مدهم آواز میں کہا ....

"کیوں آپی...کیوں کیا آپ نے میرے ساتھ ایسا...میں تو آپ کی سگی بہن تهی ناں پھر کوئی اپنی بہن کے ساتھ یہ سب کرتا ہے. "....وہ روتے ہوئے عروہ سے شکوہ کرنے لگی.....
""نہیں آیت ایسا کچھ بھی نہیں ہے." ..عروہ صفائی دینے کی کوشش کر رہی تھی. ...
"جهوٹ مت بولیں..میں سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ اور سن چکی ہوں"....
" لیکن آیت میری بات تو سنو".....
"آپ لوگ میری آنکھوں میں دهول جهونک رہے ہو ..آپ کو کیا لگتا ہے مجھے کچھ پتا ہی نہیں چلے گا.."....
"آیت ایسا نہیں ہے میری جان.".وہ نہیں سن رہی تھی.
"اس دن ہاسپٹل میں بھی انوشیر نے آپ کو اشارہ کر کے بتانے سے منع کیا تها...اور میں نے آپ کو فون پر اس سے باتیں کرتے ہوئے بھی سنا. .کیا سب جهوٹ ہے...".؟
"نہیں نہیں. ..تم غلط سمجھ رہی ہو آیت. ..میری بات تو سنو.."
" میں غلط سمجھ رہی ہوں سب اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں..جهوٹ بولنے کی کوشش بھی مت کرنا.."..
" لیکن آیت ایک منٹ میری بات سنو..."..
" مجھے کچھ نہیں سننا...بتاو کیا ہے تم دونوں کے بیچ میں کب سے ہے تم دونوں کا یہ" .....اس کی بات پوری نہیں ہوئی عروہ نے ایک زور دار تھپڑ اس کے گالوں پہ مار دیا...عروہ کا چہرہ غصے سے لال ہو چکا تها..عروہ کو دیکھتے ہوئے پہلی بار آیت کو احساس ہو رہا تھا وہ پھر کچھ غلط سمجھ بیٹهی ہے.......
"چپ کرو....بند کرو اپنی بکواس ....کب سے بولے جا رہی ہو....تم...تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہو...وہ میرے چھوٹے بھائی جیسا ہے. "........
آیت نے پهٹی نگاہوں سے عروہ کو دیکھا. .جو اب رو رہی تھی. ...وہ بھی رو رہی تهی.....
" تمہیں کچھ نظر نہیں آتا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے تم کچھ بھی سوچو گی تم اب کچھ دیکھ کر اپنی مرضی کی کہانی بنانے لگ گئی... میں نے انوشیر کو پہلی نظر میں دیکھتے ہی پہچان لیا تھا کیونکہ میں چہروں کا شناخت رکھتی ہوں...اور تم اسے ایک بار بھی نہیں پہچان سکیں.. اس نے مجھے بتانے سے منع کیا تها تا کہ تم خود اسے پہچناو.تم پتا ہے وہ کون ہے. .؟"......
آیت خاموشی سے عروہ کو دیکھنے لگی....
" وہ انوشیر رضا نہیں ہے وہ روحل آفتاب بھی نہیں ہے وہ تو رام ہے......تمہارے بچپن کا دوست. ...
بلی جیسی آنکھوں والا. . ... یاد ہے تمہیں. ...آیت ہل تک نہ سکی. ....

آیت انوشیر کے سینے پر سر رکھ کر رو رہی تھی
" مجهے یقین نہیں آتا میں تمہارے اتنے پاس کهڑی ہوں..اور تمہیں چهو رہی ہوں...لیکن تم غائب نہیں ہو رہے زندگی میں کئی بار میں نے تمہیں چهوا تها تم غائب ہوئے تھے اور پھر مجهے واپس کهبی نہیں ملے. .مجهے آج بھی ڈر لگتا ہے اس بارش سے. ..ان درختوں سے. .ان موسموں سے.....مجهے ڈر ہے اگر ان موسموں نے تمہیں پهر مجھ سے چھین لیا تو میری سانسیں کیسی چلی گئیں......."
" مجهے ڈر لگتا ہے اگر آگے بڑھ کر تمہارے گلے لگوں گی تو تم غائب ہو جاو گے جیسے پہلے ہو گئے تهے...مجهے ڈر لگتا ہے یہ موسم یہ درخت یہ سب کچھ ویسے ہوگا لیکن ان سب کے بیچ تم کہیں نہیں ہو گے...اور پھر میں تمہیں آواز دیتی رہوں گی. ..."؟
" بارش سے بھیک مانگتی رہوں گی ...؟ تمہاری واپسی کے لئے دعائیں مانگتی رہوں گی...لیکن تم واپس نہیں لوٹو گے جیسے پہلے نہیں لوٹے تهے....."...
" میں تمہیں بتاؤں تم میرے لیے کیا ہو. .؟
تم میرے لیے انوشیر رضا نہیں ہو.....
تم میرے لیے روحل آفتاب بهی نہیں ہو.....
تم میرے لیے صرف رام اگروال ہو.....".
میری بلی جیسی آنکھوں والے بچپن کے دوست. ."...وہ سسک پڑی...انوشیر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا. ..اس کے ہاتھ اس وقت کانپ رہے تهے..
" کیا میں تمہیں بتاؤں تمہاری ان بلی جیسی آنکھوں نے مجهے کتنی بار اور کتنی شدت سے رلایا ہے...آج سولہ سال بعد وہ آنکهیں میرے سامنے ہیں....جنت بوا کہتی تهی گڑیا تجھے چہرے پڑهنا نہیں آتا...سہی کہتی تهیں وہ مجهے چہرے پڑهنا کهبی آ ہی نہیں سکا...میں اس رام کو بھی کهبی نہیں پہچان سکی جو آٹھ سال میرے ساتھ رہا میں اس انوشیر کو بھی نہیں پہچان سکی...."..
"سولہ سال. ...؟ کیا تمہیں معلوم ہے سولہ سال کتنے ہوتے ہیں. ..اور ان سولہ سالوں میں نے تمہیں کتنی بار یاد کیا ہے. .کتنی بار برف کے گهر بناتے ہوئے تمہیں آواز دی....کتنی بار تمہیں پہاڑوں پر ڈھونڈتی رہی...سب کچھ وہیں تها وہ برف وہ پہاڑ وہ دسمبر..وہ جھولا..وہ آم کا درخت... لیکن تم نہیں تهے..."...
اس نے اپنے ہاتھ انوشیر کی گرفت سے آزاد کیے. ...
"تمہیں میرے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تها...اس طرح مجهے چهوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا وہ میرے بچپن کے دن تهے ..میری زندگی کے آٹھ سال...آٹھ سال جس لڑکے کے ساتھ میں کھیلتی رہی جس کے ساتھ لڑتی رہی وہ اچانک غائب ہو گیا تو میرے دل پہ کیا گزری ہو گی.....وہ لڑکا جو میرے ساتھ گڑیاں کهیلتا تها جب وہ نہیں تها تو کیا ان گڑیوں نے اسے نہیں پکارا تها....وہ آم کا درخت...وہ جهولا وہ سب کچھ تمہیں آواز دیتا رہ گیا لیکن تم یوں غائب ہوئے پهر کهبی مڑ کر نہیں دیکها......"......
وہ روتے ہوئے مدهم آواز میں کہہ رہی تھی. .انوشیر اسے دیکهے جا رہا تھا. ...ہر طرف بارش کا شور تها...
" ٹھیک ہے میں تم سے لڑتی تهی تمہیں پسند نہیں کرتی لیکن میں نے یہ تو کبھی نہیں چاہا تها تم اس طرح سے سب ختم کر کے غائب ہو جاو.....تمہیں سوچنا چاہیے تھا لیکن تم نے مجھ سے ضد باندھ لی تهی اب دوبارہ کهبی گڑیا کو اپنی شکل نہیں دکهاوں گا.........
ہر روز سکول جاتے وقت وہ برف کے ٹکڑے مجھ سے پوچهتے تهے...بتاو تمہاری بلی جیسی آنکھوں والا دوست کہاں ہے.....؟ خوبانی کا وہ باغیچہ تمہاری یاد میں سوکھ گیا .صبح سے رات تک آسمان پر موجود بادل ،چاند ستارے سبهی اس معصوم لڑکی کا تماشا دیکھتے تهے جسے اس کا دوست چهوڑ گیا تها." ....
بلکتے ہوئے اس کی نظر انوشیر کے لاکٹ پر پڑی وہ اسے پہلے بھی کئی بار دیکھ چکی تهی لیکن آج اس نے اس لاکٹ کو پہچان بھی لیا ___یہ وہی لاکٹ تها جو اس دن برف میں کھیلتے ہوئے کهو گیا تها جسے انوشیر نے اٹها لیا تها ___اور ایک شرط پر واپس دینے کی حامی بهری تهی ....
" اگر تم مجھ سے شادی کرو گی تو ہی یہ لاکٹ تمہیں واپس ملے گا__"_اس نے یہی کہا تھا وہ روتے روتے ہنس پڑی ____
_ __ _ __ ___ _ __ _ __ _ _ __ __ __
گڑیا نے رام کی موت کا سن کر اسے کہاں کہاں نہیں ڈهونڈا تها ہر بارش میں ہر موسم میں اسے وہ ایک لڑکا یاد آتا....وہ اسے صبح سے شام تک آوازیں دیتی رہتی اور ہر نماز ہر سجدے میں اس بلی جیسی آنکھوں والے لڑکے کو ڈھونڈتی تهی....اسے لگا تها یہ اس کی زندگی کا سب سے خطرناک طوفان تها لیکن ایک اور طوفان اس کا منتظر تها جب روہاب اور جنت بوا کی محبت کا پول کهل گیا.......
اسے آج بھی یاد ہے کیسے ابو نے نماز پڑھتی جنت بوا کو جلا کر مار دیا تها اس کے بعد سے اس کا انسانیت اور رشتوں پر سے بهروسہ ہی اٹھ گیا...جنت بوا نے کہا تھا اللہ معاف کر دیتا ہے انسان ہی معاف نہیں کرتے سہی کہا تها انہوں نے. .......
اس رات چوہدری افضل نے جنت کو جلا کر راکھ کر دیا تها...اس کے بعد انہیں یہی ڈر تها کہیں کسی کو پتا نہ چل جائے اور بات آگے نہ پھیل جائے.اسی ڈر سے انہوں نے گهر کے آنگن میں آم کے درخت کے نیچے بہت بڑا کهڈا کهود کر جنت کی لاش کو اس میں پھینک دیا.....دادی عمارہ بیگم رو رو کر اسے روکنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ان پر جنون سوار تها...دادی ان کے قدموں میں گر کر کہہ رہی تھی میری بیٹی کو مار تو دیا ہے اب کم از کم اس کا جنازہ تو انسانوں کی طرح ہونے دو....لیکن چوہدری افضل اس وقت سفاکی کی انتہا کو پہنچ چکے تھے رحم نام کی کوئی چیز نہیں تهی ان کے اندر....گڑیا اپنے ابو کو دیکھتی رہ گئی انسانوں کے ظلم کی کہانی اس کی ننھی آنکھوں کے سامنے تهی ......
اس نے نہیں سوچا تها انسان اتنے ظالم ہوتے ہیں. .وہ کیسے برداشت کر سکتی تهی یکے بعد دیگرے حادثات ..پہلے اس نے رام کو کهو دیا تها پهر جان سے عزیز جنت بوا کو.....ان کی ایک ایک نصیحت ایک ایک بات یاد آنے لگی اسے.......
وہ ساری رات روتی رہی اور جانتی تهی اسے زندگی بهر رونا ہے. .جنت بوا کو وہ کهبی نہیں بهلا سکے گی...زندگی اتنی ظالم تهی لمحے بھر پہلے جنت بوا کتنی خوشی تهی اور ایک لمحے بعد سب ختم ہو گیا...یہ دسمبر کا مہینہ اس کے لیے بہت اذیت ناک ثابت ہوا...اسی دسمبر نے پہلے اس سے اس کے دوست کو چھینا تها پهر دوسری دوست کو.........
وہ تو رو رو کر بھی تهک چکی تهی ان دونوں کے غم کا ازالہ اس کے آنسو تو کهبی نہیں کر سکتے تهے...اسے بہت دکھ ہوا اور بہت غصہ آیا اپنے ابو پہ...یوں کیسے وہ کسی کی جان لے سکتے ہیں ان کی نظروں میں زندگی کی یہی قیمت ہے. .اتنی معصوم اور پیاری لڑکی کو کتنی آسانی سے موت کے گهاٹ اتار دیا......
رام کے معاملے میں وہ بے بس تهی لیکن جنت.ان کے ساتھ جو انصافی ہوئی تهی ان کا بدلہ وہ کیسے چکاتی. ..وہ چهوٹی سی معصوم بچی اس وقت کر بھی کیا سکتی تهی. ....اس رات وہ سبهی گهر والے روتے رہے ماتم کرتے رہے لیکن جو چلی گئی تھی وہ تو کهبی بھی واپس نہیں آتی.......چوہدری افضل نے سختی سے سب کو ہدایت کی تهی یہ بات کسی کو نہیں بتائی جائے گی. .....
لیکن گڑیا نے اگلے ہی دن پولیس کے نام ایک چهوٹا سا خط لکھ کر ڈاک خانے میں ڈال دیا....اور چوری سے گهر واپس چلی آئی اس نے خط میں صرف یہی لکھا ان کے گهر میں قتل ہوا ہے. ..اس خط میں اس نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا تها. ...شام کے وقت پولیس آئی تهی انہوں نے گهر والوں سے کچھ باتیں پوچهیں چوہدری بهی وہیں تهے....گهر والے سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش تهے..چوہدری نے عمارہ بیگم کو طلاق دینے کی دھمکی دی تهی اور دادی اپنے اکلوتے بیٹے کی محبت سے مجبور تهیں...بچے ویسے ہی ڈرے ہوئے تهے ان سب چیزوں سے. ...کسی نے زبان نہیں کهولی...پولیس اس شام وہاں سے یہ کہہ کر چلی گئی وہ اگلے دن پهر آئیں گے تفشیش کے لیے. ....
چوہدری کے اوسان خطا ہو گئے.انہوں نے سوچا نہیں تها یہ سب ہوگا. .انہیں گهر والوں پہ شک نہیں تها انہوں نے سوچا آس پاس کسی نے اس گهر سے چیخوں کی آواز سنی ہوگی اور اسی نے ہی پولیس کو اطلاع دی ہوگی...یہ خبر ان کے لیے نہایت خطرناک تهی اور یہاں رہنے کے لیے بہت بڑا مسئلہ بن سکتا تها....اسی رات انہوں نے اس گاؤں کو چهوڑ دینے کا فیصلہ کیا تها....سبهی گهر والے روتے روتے سامان پیک کر رہے تھے. .گڑیا اقر عروج نے بھی اپنا سامان پیک کیا...یہ گڑیا کے لیے تیسری قیامت تهی...گڑیا جانتی تهی اب سب کچھ ختم ہو رہا ہے. .بلی جیسی آنکھوں والا جنت بوا...اس کا بچپن. ...برف کا وہ علاقہ. .آم کا درخت. ..وہ جهولا...سب کچھ پیچھے چهوٹ رہا تھا. .گڑیا نے اس گهر سے نکلتے وقت ایک آخری بار اس درخت کو دیکها جس کے نیچے جنت دفن تهی...اسے درخت کے نیچے ایک خوشبو کا احساس ہوا...اس کی آنکھوں سے بہت سارے آنسو بہہ رہے تھے. .وہ جا رہی تهی لیکن خود کو وہیں چهو کر اپنا سب کچھ وہیں چهوڑ کر...اس رات اندھیرے میں سب اس گاؤں سے نکلے تهے...برف باری بھی جاری ہو چکی تھی. ....
اس نے آسم آسمان کی طرف روتے ہوئے دیکها.....
"دسمبر چاہے جتنے بھی آنسو بہاو..میں تمہیں معاف کهبی نہیں کروں گی تم نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا...."
....اس رات ایک خوبصورت گهرانہ ختم ہو گیا. .پرندے یوں اڑے پهر کهبی لوٹ کر نہیں گئے...گڑیا کا خوبصورت آشیانہ بکهر گیا تها......چوہدری انہیں لے کر ایک اور گاؤں آ گیا تها یہ اس گاؤں سے کافی دور تها.......یہاں چوہدری صاحب کے کچھ دوست رہتے تهے دو دن وہ ان کے ہاں رہے تیسرے دن چوہدری نے ایک عالیشان بلڈنگ اپنے نام کرا لیا....پیسہ ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا..پیسہ کس طرح اور کن ذرائع سے آ رہا ہے. ........اس کے بعد ان کی ایک نئی زندگی شروع ہو گئی...جہاں کوئی برف کا گهر نہیں تها جہاں کوئی بلی جیسی آنکھوں والا نہیں تها کوئی لیکچر دینے والی جنت چوہدری نہیں تهی...وہاں کچھ بھی نہیں تها...پورا گهر اداس تها سب کچھ یاد آ رہا تھا ماضی کو اور گزرے لمحوں کو بهلانا آسان نہیں تها....
یوں اس طرح سب کچھ چھوڑنا آسان نہیں ہوتا..دادی سارا سارا دن روتی رہتی تهیں..کهبی انہیں رام یاد آ جاتا کهبی اپنی بیٹی جنت.....وہ کچھ نہیں بهول پا رہی تهیں...اپنی بیٹی سے شاید انہیں اتنی محبت تهی ان کے جانے کے چار مہینے بعد وہ بھی سب کچھ چهوڑ کر رخصت ہو گئیں ..گڑیا کا درد کم ہونے کی بجائے بڑهتا جا رہا تھا کوئی معمولی نقصان نہیں ہوا تھا اس لڑکی کا اس نے سب کچھ کهو دیا تها اپنا. ......
وہ سکول جانے لگی تهی...عروج بھی اس کے ساتھ تهی لیکن کچھ بھی پہلے جیسا نہیں تها وہ برف والا سکول وہ زندگی یہاں نہیں تهی....اسے اپنے ابو سے نفرت تهی ان کی وجہ سے اس نے اپنا سب کچھ کهو دیا....اس نے سوچا تها وہ بڑی ہو کر زندگی کی میں کهبی ان سے پوچھے گی ضرور مجھ سے میرا سب کچھ چھین کر آپ کو کیا ملا .......
عروہ جسے جنت بوا ہمیشہ پیار سے عروج کہتی تهی..ان کا کہنا تھا یہ ہمیشہ عروج پر رہے گی اور آیت جسے جنت گڑیا کہا کرتی تھی کیونکہ وہ تهی ہی ایک خوبصورت گڑیا جیسی...لیکن جب وہ ہی نہیں رہی تھی تو اس کے دیئے ہوئے نام بھی مٹ گئے........
وقت سب سے بڑا مرحم ہوتا ہے. ..انسان کے ہر زخم کو بهلا دیتی ہے وہ بھی جوانی میں قدم رکھ چکی تھی لیکن کچھ چیزیں بهولنا آسان نہیں ہوتا...یادیں دهندلا ضرور گئیں تهیں لیکن ختم نہیں ہوئی تهیں ..سب بهول سکتے ہیں لیکن وہ کهبی نہیں بهولی تهی کچھ. ...وہ ہر نماز ہر سجدے میں رام کو مانگتی اسے یقین تها وہ مر چکا ہے اس دن جو ہڈیاں ملی تهیں وہ رام اور مدهو کی ہی تهیں لیکن اس کے دل میں یہ سوچ ہمیشہ سے تهی وہ تو صرف ہڈیاں تهیں اور ہڈیوں سے یہ تو شناخت نہیں ہوتی ...کون کس کی لاش ہے....وہ ہر نماز پہ جنت کے لیے بھی دعا کرتی وہ اس کی زندگی تهی جس نے اسے زندگی کے ہر موڑ پر کهبی گرنے نہیں دیا...جنت کے سکھائے ہوئے سبق آج بھی اس کے دل میں محفوظ تهے...وہ ہمیشہ اس کے دل میں زندہ تهی اور زندہ رہتی.......
انہی دنوں اپنے دوستوں سے لنڈن کا ذکر وہ ہمیشہ سے سنتی تهی اور تب سے ہی اس میں لنڈن کو دیکھنے اور لنڈن میں پڑھنے کا شوق بیدار ہوا......وہ لنڈن گئی دوسرے دن وہ انوشیر سے ملی ایک لمحے کے لیے ایک پل کے لیے بھی اس نے نہیں سوچا وہ انوشیر نہیں رام ہے بلی جیسی آنکھوں والا.......

اس کا نکاح ہوا ...وہ پاکستان آئی اس نے کئی بار انوشیر کو دیکھا اسے ملی لیکن یہ وہ نہیں سوچ سکی اس کی دعا قبول ہو چکی ہے وہ لڑکا جو بچپن میں اس سے بچهڑا تها وہ سولہ سال بعد اسے ملا تها. ..معجزات اس سے بڑھ کر تو نہیں ہوتے...اور اب جب وہ لڑکا اسے ملا تها تو آیت چوہدری سے بڑھ کر بھی کوئی خوش قسمت نہیں تها اس دنیا میں. ..
________________________________
" اس رات ماں مجهے لے کر آپ کے گهر آئیں تهیں ایک رات کے لیے. ..لیکن تمہارے ابو نے ہمیں پناہ دینے سے انکار کر دیا تها...میری ماں رو رو کر ایک رات کی پناہ مانگتی رہیں لیکن تمہارے ابو کو رحم نہیں آیا...پهر وہ مجهے لے کر جب گهر پہنچیں تو ان کے ہاتهوں سے انجانے میں میرے باپ کا قتل ہو گیا .....ماں مجهے لے کر ایک جنگل میں آئیں تهیں وہ جنگل بہت خطرناک تها. .لیکن ماں نے بہادری کے ساتھ مجهے وہاں سے نکالا........شروعات میں ہمیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا...ماں نے ایک مسلمان گھرانے میں کام کرنا شروع کیا تها وہ ایک اچها گهرانہ تها...بہت خیال رکھنے والا...ماں کو اس بات پہ کهبی پچھتاوا نہیں ہوا کہ انہوں نے اسلام قبول کر کے غلطی کی ہے وہ خوش تهیں اپنے فیصلے سے ."......
وہ دونوں پارک میں بنچ کے اوپر بیٹهے تهے....بارش ابهی بھی برس رہی تھی لیکن اس میں وہ زور نہیں تها جو پہلے تها. .....وہ اب آہستہ آہستہ برس رہی تھی. .آیت نے اپنا سر انوشیر کے سینے پہ رکها ہوا تها....وہ اس کے گرد بازوؤں پھیلائے ہوئے تها..اور اس اپنی گزشتہ زندگی کی داستان سنا رہا تها........
"تم کہتی ہو تمہیں مجھ سے محبت ہے لیکن مجهے تم سے محبت نہیں ہے گڑیا...مجهے تو تم سے عشق ہے. .
تم کہتی ہو تم نے مجھے پل پل یاد کیا اور میں نے. ؟ میں نے بھی تو ہر سانس پہ تمہیں یاد کیا ہے. ..جب میں بڑا ہوا تو میری ایک بینک میں جاب لگ گئی...ماں نے مجهے اچھی سے اچهی تعلیم دلوائی اس لیے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا جاب کے لیے. .".......
جاب کے بعد میں نے گهر گاڑی سب کچھ حاصل کر لیا. لیکن تم ہی نہیں تهیں کہیں پہ. . .ماں نے مجھ سے کچھ بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی انہوں نے مجھے ماضی کے تمام حقائقوں سے آگاہ کر دیا...انہوں نے مجھے اسلام کے بارے میں بھی بتایا. .وہ اگر نہ بھی کہتیں تب بھی میں اسلام قبول کر لیتا کیونکہ یہ ایک خوبصورت دین ہے....اور مجهے فخر ہے مسلمان ہونے پر. ..ماں کو میں نے آپ کے بارے میں بھی بتایا ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے".......
"اور جنت بوا بے میری زندگی میں ایک ٹیچر کا کردار ادا کیا ہے ان کی نصیحتیں ان کی باتیں ہر قدم پر میرے ساتھ تهیں..ان کی ہر بات بے میری زندگی آسان بنا دی...وہ مجهے جینے کا قرینہ سکها گئیں....میں انہیں آخری سانس تک نہیں بهلا سکوں گا..."......
"سب سے پہلے میں نے تمہیں یونیورسٹی میں دیکها تها .اس دن یونیورسٹی میں میرا پہلا دن تها جب تم اپنی ایک سہیلی کے ساتھ بیٹهی تهیں......
ایک لمحے کے لیے بھی مجهے پہچاننے میں غلطی نہیں ہوئی وہ سامنے بیٹهی لڑکی گڑیا ہے میری گڑیا......
جس سے میں نے محبت کی جسے چاہا تها وہ میرے سامنے تهی. وہ لمحہ قیامت کا تها....تمہیں نہیں معلوم لیکن اس وقت تمہیں پہلی بار دیکھ لینے کے بعد میں سجدے میں گر گیا تها اسی یونیورسٹی میں. ......
مجهے اس دن سب مل گیا تها....سولہ سال کوئی چهوٹا عرصہ نہیں ہوتا. ...کہنا آسان ہے لیکن سولہ سال میں پانچ ہزار آٹھ سو چالیس دن ہوتے ہیں. ...ایک لاکھ چالیس ہزار ایک سو ساٹھ گھنٹے ہوتے ہیں. ...اور جانے کتنے منٹ کتنے سکینڈز ہوتے ہیں. ..ان ہر لمحے ہر سکینڈ میں نے آپ کو یاد کیا تها . سولہ سال کی جدائی ایک طویل جدائی ہوتی ہے. .میں واپس اس برفانی علاقے میں بھی گیا تها تمہیں ڈهونڈتے ڈهونڈتے مگر تم مجهے نہیں ملیں تمہارے گهر پر لگا تالا رو رہا تها ..ہم بچپن میں بچھڑے تهے اور آج ایک دوسرے کے ساتھ ہیں".........
" آپ کو یونیورسٹی میں دیکھ لینے کے بعد میں ہمیشہ آپ کو دیکھتا رہتا تھا. ..لیکن آپ کے سامنے نہیں آیا...پهر ایک دن جماعت اسلامی کی ایک محفل میں میری ملاقات چوہدری صاحب سے ہوئی...وہ ملاقات کافی طویل تهی اس میں کئی باتیں ہوئیں اور یہ سلسلہ چل پڑا. وہ مجھ سے اور میری باتوں سے کافی متاثر نظر آئے.....پهر چوہدری صاحب نے آپ کے لیے مجهے پسند کیا ہے. ..؟ میں خوش بهی تها اور حیران بھی. ..وہ کوئی معجزہ ہی ہو رہا تھا میرے ساتھ لیکن میں نے انہیں اپنے بارے میں سچ نہیں بتایا....شروع شروع میں مجهے ان پہ کافی غصہ تها انہوں نے اس رات ہماری مدد نہیں کی پهر مجهے جنت بوا کی نصیحت یاد آئی......معاف کر دینا بدلہ لینے سے بہتر ہوتا ہے تو میں نے ان کو معاف کر دیا تها.....اور آگے کی کہانی تمہیں معلوم ہے. .".
انوشیر نے اپنے پوروں سے اس کے گال کو چهوا اور اس کے آنسو صاف کرنے لگا...پهر وہ اس کے رخسار پر موجود کالے خوبصورت تل کو چهونے لگا. ..وہ اس کالے تل کو کهبی نہیں بھلا سکا. ..اسے یاد تها اس نے اس تل کی وجہ سے گڑیا کو دادی سے کئی بار ڈانٹ پلوائی آج وہ اس تل سے بھی عشق کرتا تها........
" میں تمہیں یہ نہیں بتا سکتا میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں لیکن ہر سانس پہ تم یاد آتی ہو..میری پوری زندگی میرے چوبیس سال ایک کتاب کی طرح تمہارے سامنے ہے اور اس پوری زندگی میں صرف تم ہی وہ واحد لڑکی ہو جس سے میں نے محبت کی...میرے ماضی کا ہر لمحہ گواہ ہے ایک پل پل کہ میں نے تم سے کتنی محبت کی ہے. .......
ﺗﻢ ﺍﯾﮏ “ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻣﺤﺒﺖ” ﺑﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮭﻨﺠﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ،...میں بچپن میں تمہیں تنگ کرتا تها کیونکہ میں تم سے پیار کرتا میں صرف یہی چاہتا تھا تم صرف میرے بارے میں سوچو...چاہے غصے سے یا نفرت سے لیکن تمہارے دل میں اور کوئی نہیں آنا چاہئے. ..."...
" اور تم ہو کیا گڑیا...؟ تم نے کیسا ڈیرہ ڈال دیا میرے دل پہ میں تمہارے علاوہ نہ کهبی کچھ دیکھ سکا اور نہ کهبی کچھ سوچ سکا...میرے لیے ابتدا تم ہو اور انتہا بھی تم ہی ہو.....اس زمین و آسمان کے درمیان اگر اللہ تعالیٰ کے بعد کسی سے مجهے عشق ہوا ہے تو وہ تمہارے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا". ....
وہ سن رہی تھی. ..اور بعض دفعہ سننا بہت اچها لگتا ہے اس کی آواز میں ترنم تهی....ایک سنگیت کی طرح...کسی کوئل کی طرح......بارش کے قطرے اچانک خوبصورت ہونے لگے......
" تم میرے لیے ہو کیا..؟ دل کے اندر جہاں تمہاری رسائی ہے وہاں کسی اور انسانی رشتے کی پہنچ نہیں ہے...جب میں نے اسلام قبول کیا تھا تو سب سے پہلے عمرہ کے لیے گیا...اس دن سعودی عرب کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی میں نے اللہ تعالیٰ سے معافی بعد میں مانگی اور تمہیں پہلے مانگا....میں ہمیشہ سے یہی سوچتا رہا تم مجهے سے ناراض ہوگی..کیونکہ تم یہی سمجھتی تهیں میں تم سے نفرت کرتا ہوں اور میں تمہیں آخری وقت تک بھی یہ نہیں بتا سکا میں نے کهبی تم سے نفرت نہیں کی....میں ہمیشہ تم سے محبت کرتا تها...کل بھی آج بھی. ...یہ موسم یہ درخت یہ ہوائیں سب گواہ ہیں ....بلی جیسی آنکھوں والے نے صرف تم سے ہی محبت کی ہے. ...وہ صرف تمہارا ہے اور آخری سانس تک تمہارا ہی رہے گا..".....
آیت نے سر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکها...گہری سنہری خوبصورت آنکهیں. ..اور خوبصورت ہونٹ...اس شخص نے اسے بہت رلایا تها....اور اس شخص کی محبت پر اسے کبھی بے یقینی نہیں تهی...جو شخص ایک ہی لڑکی سے چوبیس سال تک محبت کر سکتا ہے اس کی محبت پر تو وہ کبھی بدگمان نہیں ہو سکتی. ..اس نے انوشیر کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا....اور اپنا سر ایک بار پھر اس کی سینے پر رکھ دیا. ......
اس کے سانسوں کی خوشبو اس کی سانسوں میں اتر رہے تھے. .انوشیر نے اسے اپنے مضبوط بانہوں کی زنجیر میں جکڑ لیا.......
___ _ __ _ __ _ __ ___ _ _ _ __ __ _ __

"ہم نے روحل کے ساتھ تمہارا نکاح کرنے کا فیصلہ کیا ہے". .رات کے وقت چوہدری افضل اس کے کمرے میں آئے اور انہوں نے آیت کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا...آیت سپاٹ چہرے کے ساتھ کهڑی ہو گئی....
" آپ کو پتا ہے وہ کون ہے ابو. .".؟..اس نے ہاتھ باندھ کر اعتماد کے ساتھ اپنے باپ کی آنکھوں میں دیکھا...چوہدری صاحب کی آنکھوں میں الجھن کے تاثرات ظاہر ہوئے جیسے پوچھ رہے ہوں .." کون ہے "
" مدهو کا بیٹا.."..
" کون مدھو"... چوہدری صاحب کو فوری طور پر یاد نہ آ سکا. ....
"مدھو اگروال.....بچپن میں جو ہماری پڑوسن تهی..".اس نے اپنے ابو کے تاثرات دیکهے جن پہلے حیرت پهر ناگواری اور غصہ تها....وہ خاموشی سے ان کے بدلتے رنگ دیکھ رہی تهی....
" اس کافر عورت کا بیٹا.؟"..وہ حقارت سے چلائے..
" وہ اسلام قبول کر چکا ہے ابو"....آیت نے بتایا. ...
"لیکن ہے تو وہ ایک کافر کا بیٹا ہی ناں..".؟
" مدهو بھی اسلام قبول کر چکی ہے". ...اس لیے وہ مسلمان ہیں....
"وہ کافر ہی ہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا انہوں نے اسلام قبول کیا ہے یا نہیں." .؟ ان کا اشتعال بڑهتا جا رہا تھا. ...
"فرق پڑتا ہے ابو کیوں فرق نہیں پڑتا ..یہ بات معنی نہیں رکهتی انہوں نے کب اسلام قبول کیا ہے اصل بات یہ ہے انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور وہ مسلمان ہیں....."اس کے اعتماد میں کوئی کمی نہیں آئی...
" اس حرام زادے نے ہمیں دهوکہ دیا ہے اس کی یہ جرات. ہم اس کافر کو چهوڑیں گے نہیں. ."..چوہدری غصے سے چلائے.....
"انہوں نے آپ کو دهوکہ نہیں دیا ابو. .."آیت ان کا دفاع کرنے لگی....
"تم تو چپ ہی رہو..اب ہم تمہارا نکاح اس کے ساتھ کهبی نہیں کریں گے."...انہوں نے غصے سے آیت کو دیکھا. ..
"مجهے بھی نکاح نہیں کرنا..کیونکہ میں اس کے ساتھ نکاح کر چکی ہوں...اب صرف رخصتی باقی ہے". .چوہدری کو کوئی سانپ ڈنک مار گیا تها.....
" کیا بکواس کر رہی ہو ..؟ ہوش میں تو ہو"....
"بہت دیر لگی لیکن آخر ہوش میں آ ہی گئی ہوں"...وہ افسردگی سے کہنے لگی....
"اور بکواس نہیں. .ہم جانتے ہیں تم یہ سب اس لیے کہہ رہی ہو تا کہ ہم تمہارا نکاح اس کافر سے کر دیں..لیکن ایسا ہر گز نہیں ہوگا ہم اس لاوارث کافر سے تمہارا نکاح کهبی نہیں ہونے دیں گے....جماعت اسلامی میں ہمارا ایک بہت بڑا نام ہے اپنی ساری زندگی محنت کر کے ہم نے وہ سب حاصل کیا ہے...اس نام کو ہم اتنی آسانی سے خراب نہیں ہونے دیں گے سنا تم نے. ؟ "
انہوں نے انگلی اٹھا کر آیت کو دکهائی ..
"آپ کو کس بات پر اعتراض ہے وہ کافر ہے یا آپ کا بہت بڑا نام ہے...".؟
" اگر وہ غریب ہوتا اور ایک اچها سچا مسلمان ہوتا تب ہمیں اتنے اعتراضات نہ ہوتے لیکن اب ہم اس بات کو کهبی تسلیم نہیں کریں گے."......
"وہ اچها مسلمان نہیں ہے ابو تو کیا آپ اچھے مسلمان ہیں.: ..؟ آیت نے استہزائیہ انداز میں پوچھا ...وہ دنگ رہ گئے زندگی میں پہلی بار ان کی بیٹی ان کے روبرو آ کر ان سے سر اٹها کر سوال کر رہی تهی...آج تک کهبی کسی کی ہمت نہیں ہوئی ان کے سامنے اونچی آواز میں بات کرنے کی......وہ شاکڈ ہی تو تهے.....
" تم انگلی اٹها رہی ہو ہمارے مسلمان ہونے پر..."؟وہ دھاڑے. ..
"میں صرف پوچھ رہی ہوں..".اس نے تصیح کی......ہم "تمہیں بتانے کے روادار نہیں ہیں سمجهی...ہم ایک اچھے مسلمان ہیں پوری دنیا جانتی ہے آج تک کسی کی کهبی ہمت نہیں ہوئی ہم پر انگلی اٹها سکے....الحمدللہ جماعت اسلامی میں ہمارا اونچا مقام ہے ایک الگ پہچان ہے. ."...چوہدری صاحب تفاخر سے بتانے لگے. .....
" میں یہ نہیں پوچھ رہی آپ کا کتنا بڑا نام ہے ..جماعت اسلامی میں لاکھوں ممبزر ہیں سب کی ایک پہچان ہے ...لیکن میں ان کا نہیں پوچھ رہی میں صرف آپ سے سوال کر رہی ہوں کیا آپ اچھے مسلمان ہیں". ....؟
وہ مدهم مگر مستحکم لہجے میں پوچھ رہی تھی. ...
"ہم نماز پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں اور بهی کئی عبادات کرتے ہیں تو کیا ہم اچھے مسلمان نہیں ہیں." ..؟
"نماز روزے یہ سب کئی لوگ کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں سب اچھے مسلمان ہیں. ..پتا ہے کیوں. .؟کیونکہ وہ یہ سب دنیا کے لیے کرتے ہیں انسانوں کے لیے کرتے ہیں دکھاوے کے لیے کرتے ہیں اللہ کے لیے نہیں. .".....
چوہدری کے سر پہ بم گرا.....
"تم کہنا کیا چاہتی ہو ہم دکھاوا کر رہے ہیں ہماری ساری عبادات جھوٹی ہیں".....؟ وہ غصے سے بلند آواز میں پوچھ رہے تھے. ...
" مجهے تو یہی لگتا ہے ابو. .کیونکہ میں وہی کہہ رہی ہوں جو دیکھ رہی ہوں. .آپ مسجد میں جا کر نماز پڑھتے ہیں لیکن بعض اوقات گهر میں نہیں پڑھتے. .آپ بڑے بڑے ذکاتی اداروں کو لاکھوں زکوٰۃ ڈونیٹ کرتے ہیں لیکن اگر آپ کے دروازے پر کوئی اللہ کے نام پہ مدد لینے آئے تو آپ اسے بے عزت کر کے نکال دیتے ہیں. لوگوں کو دکها کر آپ لاکھوں خرچ کرتے ہیں جبکہ اللہ کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں . ..آپ پوری دنیا کے سامنے اپنی عبادات کا کھلا اعتراف کرتے ہیں ..آج میں نے نماز پڑهی آج روزہ رکھا آج..فلاں غریب کی مدد کی...؟ اچھے اور سچے مسلمان چھپ کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں یوں سر عام سب کے سامنے اپنی نیکیوں کے بارے میں ڈهول نہیں بجاتے....کہتے ہیں اگر اللہ کی راہ دو تو یوں دو بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو...لیکن آپ اگر کسی کو ہزار روپے بھی دیں تو پریس میڈیا ، نیوز پیپرز سب پہ اشتہارات لگواتے ہیں....آپ کہتے ہیں مدهو اور انوشیر اچھے مسلمان نہیں ہیں میری نظر میں تو آپ بھی ایک اچھے مسلمان نہیں ہیں. ."
"تڑاخ...".ایک زناٹے دار تھپڑ کی آواز پورے کمرے میں گونجی. .کیونکہ چوہدری اس کی بے لگام زبان روکنے کے لیے یہی کر سکتے تھے. ....وہ لڑکی ان کی ساری عبادات ساری نیکیاں مٹی میں ملا رہی تھی. .سیکنڈوں میں. .....
"تم کون ہوتی ہے ہم سے سوال کرنے والی ..کیا تم خود بڑی نیک لڑکی ہو .ہم اپنی پوری زندگی جماعت اسلامی میں گزار چکے ہیں کیا ہمیں معلوم نہیں ہوگا ...کل کی پیدا ہوئی لڑکی جس کے منہ سے دودھ کی بو آتی ہے وہ ہمیں دین سکھائے گی....لنڈن سے دو چار کتابیں کیا پڑھ کر آئی ہو تم ہماری عبادات پر انگلی اٹھانے لگ گئے......تم اپنا علم اپنے پاس رکهو ..ایک کافر لڑکے کے لیے تم ہم سے بحث کر رہی ہو .وہ جس کے دین ایمان کا پتا نہ ہو. ...ہم نے اپنی پوری زندگی اللہ کی راہ میں گزاری ہے کون سی نیکی ہے جو ہم نے نہیں کی ...سب کی مدد کرتے ہیں اگر ہمارے دروازے پر کوئی سوالی آئے تو اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے."....آیت نے تیزی سے ان کی بات کاٹی. ....

" تو اس رات جب مدهو آپ کے پاس پناہ مانگنے آئی تهی تو اس کی مدد کیوں نہیں کی آپ نے. ...؟اسے کیوں خالی ہاتھ لوٹایا اس وقت آپ کا دین کہاں تها....؟
وہ ایک کافر عورت تهی اس لیے ہم نے اس کی مدد نہیں کی "....وہ درشتی سے کہنے لگے. ...
"لیکن جب وہ آئی تهی تو اسلام قبول کر چکی تهی تب تو وہ مسلمان تهی تب کیوں مدد نہیں کی اس کی....وہ عورت اسلام کے لیے سب کچھ چھوڑ کر جا رہی تھی ..اور صرف ایک رات کے لیے آپ کے پاس پناہ مانگنے آئی تهی ابو..اس نے کوئی جائیداد کوئی بنگلہ نہیں مانگا تها صرف ایک رات گزارنے کی اجازت مانگی تهی....کیا ہو جاتا اگر آپ اس کی مدد کرتے ایک رات اسے پناہ دینے سے آپ کی جائداد میں کون سی کمی آ جاتی...بقول آپ کے. ..وہ مسلمان نہیں تهی لیکن آپ تو مسلمان تهے ناں..ایک مسلمان ہونے کے ناطے کیا آپ کا یہی فرض تها ایک مجبور عورت کو دھکے مار کر دهتکار دو........وہ آپ سے اللہ کے نام پہ مدد مانگ رہی تھی ...مذہب کے ناطے نہ سہی پڑوسی کے ناطے نہ سہی انسانیت کے ناطے بھی نہ سہی کم از کم اللہ کے نام پہ تو اس کی مدد کر ہی سکتے تھے ناں آپ ؟
وہ آپ سے رحم مانگ رہی تھی لیکن آپ کو رحم نہیں آ رہا تھا. .اگر وہ اللہ سے یا در مصطفی سے مانگتی تو کیا وہ بھی یوں اس مجبور عورت کو دهکے مار کر ٹهکرا دیتے...وہ آپ کے قدموں میں گری تهی ابو. . آپ کو یہ حق تو نہیں تها آپ اسے دهکے دیتے. ..آپ نے اس کی مدد نہیں کی تو کیا اللہ نے بھی اس کی مدد نہیں کی.....جو عورت اللہ کے لیے نکلی تهی اور اللہ تعالیٰ خوفناک جنگل میں خطرناک جانوروں کے بیچ کیا اسے زندہ نہیں نکالا تها..".........
"مہ...مہ...میں...".چوہدری صاحب کے پاس الفاظ ختم ہونے لگے تهے یہ لڑکی واقعی ان کی نیکیاں خراب کر رہی تهی......
" چپ کرو اس معاملے میں مجھ سے بحث مت کرو تم..بس تم خاموش ہو جاو". ...ان کے الفاظ میں بے ربطگی تهی جیسے اب بولنے کے لیے کچھ بچا ہی نہ ہو پهر بھی وہ اپنا دفاع کر رہے تهے ...."
.ٹھیک ہے اس معاملے کو یہیں ختم کریں...ایک سادہ سا سوال...جنت بوا کو کیوں قتل کیا آپ نے". ...؟
چوہدری کا وجود پرخچے سے اڑا دیا گیا. ..وہ راز جو زندگی میں وہ دفن کر چکے تھے وہ سب کچھ سامنے آگیا تها ایک بار پھر. ...آیت ہاتھ باندھے ان کے جواب کا منتظر تهی. ....
" نام مت لو اس کا....وہ بے غیرت لڑکی تهی "...وہ دانت چبا کر غصے سے بولے...
" تو کیا آپ غیرت مند ہیں. "..؟ دوسرا بم پهٹا...چوہدری کو لگا تها وہ کسی عدالت میں کھڑے ہیں اور سامنے کهڑی لڑکی ایک وکیل ہو جو ان سے تمام حساب لینا چاہتی تھی. ...
" بے شرم ..بے غیرت تم مجھے اپنے باپ کو بے غیرت کہہ رہی ہو.اللہ کے غضب سے ڈر نہیں لگتا.."...؟ ان کی زور دار آواز پورے کمرے میں گونج اٹهی ...
"آپ کو ڈر لگا تها اللہ کے غضب سے...."وہ ان سے بھی بلند آواز میں چلائی......
" بتائیں کیوں کیا آپ نے ایسا "..؟
" کیوں کہ وہ تهی ہی اس قابل اس بے غیرت نے ہماری عزت کا جنازہ اٹها دیا تها....،..... وہ غیرت کے نام پر قتل کی گئی ..اس نے جو گناہ کیا تھا اسے اس کی سزا ملی."ان کا غصے سے برا حال ہو رہا تها چہرہ لال ہو چکا تها
"آپ کون تهے سزا دینے والے. .آپ خدا تو نہیں تهے آپ کو یہ اختیار کس نے دیا تها آپ کسی کو سزا یا جزا دیں..اس نے صرف ایک غلطی کی آپ وہ بھی معاف نہیں کر سکے آپ نے اس کی بھی سزا دی یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ خود ایک انسان ہیں ..اور آپ بھی گناہ کر سکتے ہیں اور آپ نے بھی کیے ہوں گے. ..کیا آپ نے زندگی میں کهبی کوئی گناہ نہیں کیا.....؟ اللہ جو ہم سب سے بڑا ہے وہ دن کو ہزاروں غلطیاں معاف کرتا ہے تو آپ کیوں نہیں. ...کیا حق تها آپ کو جنت یا جہنم دینے کا"......؟
کسی کو سزا یا جزا دینے کا اختیار آپ کے پاس نہیں تها آپ بھی ایک انسان تهے __ سہی کہا تها جنت بوا نے اللہ معاف کر دیتا ہے انسان ہی کبهی معاف نہیں کرتے
چوہدری صاحب بول نہیں سکے...حلق سے زبان کھینچ لینے کی طاقت رکهتی تهی وہ لڑکی. ..ہر جواب دم توڑنے لگا تها....آیت کی آنکھوں میں آنسو تهے اور آنسو کے اس پار جنت کی تصویر تهی......
" اس رات آپ کے ظلم سے آسمان کانپ رہا تھا لیکن آپ کا دل نہیں کانپا. ..وہ لڑکی نماز پڑھ رہی تھی اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتی ہوئی اس لڑکی کو قتل کر دیا تها...اور آپ بات کرتے ہیں کافر اور مسلمان کی.انوشیر مسلمان نہیں تها لیکن اس نے اپنی زندگی اللہ کی مرضی سے گزاری اور آپ سچے اور اچھے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں پهر بھی آپ نے وہ کام کیا جسے کرتے ہوئے کافروں کا بھی دل کانپ جائے.......جنت بوا نے ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی مرضی سے گزاری. .کهبی کوئی گناہ نہیں کیا ..دل جو ان کے بس میں نہیں تها محبت ہو گئی تهی انہوں نے پهر بھی انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا...اپنی حدیں پار نہیں کیں....ان کی محبت پاک تهی پر آپ نے تو اسے بھی غلاظت میں ڈبو دیا.....روز محشر اللہ تعالیٰ بھی میزان میں ایک طرف نیکیاں اور ایک طرف گناہ ڈالتے ہیں لیکن آپ نے اس کے ایک گناہ کو دیکھا آپ کو اس کی کوئی نیکی کوئی اچھائی نظر نہیں آئی.".......وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہہ رہی تھی. ...
چوہدری صاحب کی نگاہیں جهک گئیں..یہ زندگی کا وہ لمحہ تها جب انسان اپنے سائے سے بھی ڈر جائے وہ بھی ڈر رہے تھے. .....
" ﻭﺗٌﻌِﺰٌ ﻣَﻦ ﺗَﺸَﺎﺀٌ ﻭَ ﺗٌﺬِﻝٌ ﻣَﻦ
ﺗَﺸَﺎﺀ "
" اور اللہ جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے...تو آپ کون تهے کسی کو عزت یا ذلت دینے والے ابو.."..
اس آیت کا ترجمہ نہیں سنا آپ نے
" جو بھی کسی مسلمان کو ناحق قتل کرے گا تو اسی کی سزا جہنم ہے اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہے گا..اس پہ اللہ تعالیٰ کا غضب اور لعنت ہو .اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کیا گیا ہے". .......
" اور حضرت محمد صلی علیہ وسلم کا وہ ارشاد مبارک آپ نے نہیں سنا مومن کا قتل کیا جانا اللہ تعالیٰ کی نظر میں ساری دنیا ختم ہونے سے زیادہ بڑی بات ہے ..
آپ تو اپنے عمل سے خوش ہیں... لیکن حضرت محمد صلی علیہ وسلم کا ارشاد کچھ اور ہے .اب کس کی بات سہی ہے کون سچا ہے آپ یا حضرت محمد صلی علیہ وسلم. ...یقیناً وہ سہی ہیں اور وہی سچے ہیں آپ نہیں."
" آپ ان دونوں کی شادی کرا سکتے تھے اسلامی طریقے کے مطابق لیکن آپ خود کو خدا سمجهنے لگ گئے __
ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺎﺑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ۔۔۔ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ‏( ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ‏) ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ۔۔۔ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ۔۔۔ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﯾﺘﯿﻢ ﻟﮍﮐﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔۔۔ﺟﺲ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡ۔۔۔ﺍﯾﮏ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻭﺭ۔۔۔ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﻧﮯﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔۔۔ﻟﮍﮐﯽ
ﻏﺮﯾﺐ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ۔۔۔ﮨﻢ ﺍﻣﯿﺮ ﮐﻮ۔۔۔
ﺁﭖ ‏(ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ‏) ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔۔۔
" ﺩﻭ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ " ۔۔۔
" ‏(ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﮧ 1847 ‏)"
چوہدری کا دل چاہا خاموش کرادے اسے....اس کی باتیں تیر بن کر ان کے دل میں اتر رہی تهیں..وہ ان کے وجود کو زخمی کر رہی تهیں.........
" غیرت. .ہونہہ...اتنے بڑے گاؤں کے اتنے بڑے چوہدری کی غیرت یہی تهی نماز پڑھتی ایک لڑکی کا قتل کر دیا وہ تب جب وہ نہ اپنی صفائی میں کچھ کہہ سکتی تهی اور نہ ہی اپنا دفاع کر سکتی تهی......
غیرت کے نام پر حوا کی اور کتنی بیٹیاں قتل ہوں گی ابو...اور کب تک سزا صرف معصوم لڑکیوں کو ملتی رہے گی...آدم کے بیٹے اپنی مرضی سے گناہ کریں گے اور انہیں کوئی سزا نہیں ملے گی.. ہر بار ہر سزا بیٹی کے لیے. .غیرت صرف بیٹی کے نام پر.......ابوجہل کے دور میں بھی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا آج وہ وقت ایک بار پھر سے واپس آ رہا ہے. .اگر جنت کی جگہ آپ کا کوئی بهائی ہوتا یا کوئی بیٹا ہوتا تو کیا آپ اسے بھی یونہی غیرت کے نام پر قتل کر دیتے. .......
وہ بلک پڑی. ...
نہیں ابو آپ ایسا کبهی نہیں کرتے.....ہم لڑکیاں مہمان بن کر آپ لوگوں کے پاس آتی ہیں آدھی زندگی باپ کے گھر اور آدھی زندگی شوہر کے گھر . .اپنے مہمانوں کے ساتھ ایسا سلوک تو کوئی نہیں کرتا ابو...
بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں اس طرح زمین سے رحمت کو ختم نہ کریں ورنہ کچھ بھی باقی نہیں رہے گا. ..اگر بیٹیاں نہ ہوئیں تو باپوں کے جنازے سناٹے میں اٹهیں گے والدین کے لیے مصیبتوں کے وقت دعا کرنے والے ہاتھ ختم ہو جائیں گے ..اگر اس طرح حوا کی بیٹیاں قتل ہوتی رہیں ناں تو وہ دن دور نہیں جب پوری دنیا میں ایک قیامت برپا ہوگی....اور ہر بیٹی اپنے باپ جیسے عظیم رشتے پر سے بھروسہ کهو دے گی"........
وہ روتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی. ...اور چوہدری افضل کے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے کر گئی......وہ افسوس اور دکھ کی اس سیڑھی پر کھڑے تهے جہاں سب کچھ نظر آتا ہے کوئی بھی دهند باقی نہیں رہتا....بہت بڑا آئینہ سامنے ہوتا ہے اور اس میں انسان کے اپنے اعمال ہی نظر آنے لگتے ہیں. ....وہ چوہدری جنہوں نے اپنی ساری زندگی شان و شوکت کے ساتھ گزاری آج اپنے سائے سے ڈر رہے تھے ..
ساری زندگی کی عبادات نیکیاں انہیں ایک پل میں اڑتا ہوا محسوس ہوئیں....سب کچھ اڑ کر ایک دهویں کی طرح تحلیل ہو رہا تھا. ....وہ جس پل پر برسوں سے چلتے آ رہے وہ دونوں اطراف سے کاٹ دی گئی اور وہ منہ کے بل گر پڑے..... اور پھر سب ختم ہو گیا....ان کے نام کی وہ بلند و بالا عمارت ان کے غرور اور انہکار کا تاج محل پل بھر میں ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گیا...
__________ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
پهر ان دونوں کے قدم اس نگر پر پڑ رہے تھے جہاں انہوں نے برسوں پہلے ایک آشیانہ بنایا تها جسے ہوا کے تیز جھونکوں نے اجاڑ دیا____
وہ سب کچھ وہی تها ویسے ہی جیسے برسوں پہلے تهے__ آسمان سے خوبصورت برف گرنے لگی تهی__وہ انوشیر کا ہاتھ تهامے آگے بڑھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں آنسو تهے جن پر اس کا اختیار نہیں تها __ ماضی کی دھندلی یادیں ایک بار پھر سے تازہ ہونے لگیں _____
" اتنی دیر کہاں کر دی گڑیا ___؟ " پہاڑ اور درخت اس سے پوچھ رہے تھے وہ کچھ بھی نہیں بول سکی __
اس برف کی زمین پر اسے ایک کمی کا احساس ہوا کوئی تها جو نہیں تها ___سب کچھ وہی تها __ایک وہی کہیں نہیں تهی آج ___
" وہ کہاں ہے___؟" اس نے برف کے ٹکڑے ہاتھ بڑها کر اپنی مٹھی میں قید کر لیے __وہ برستی برف سے پوچھ رہی تھی اس لڑکی کے بارے میں جسے وہاں ہونا چاہیے تھا جو قدم قدم پہ ان کے ساتھ تهی لیکن آج وہ کہیں نہیں تهی _____
سب کچھ اداس لگا تها اسے ____
یہ برف اجنبی لگا اسے__یہ سب تو کبهی اجنبی نہیں تها اس کے لیے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ شاید سب کچھ اجنبی ہو جاتا ہے ___ہر لمحہ انسان کی زندگی میں ایک بار آتا ہے اور یادیں چهوڑ جاتا ہے_____
آسمان آج اس کا غم میں شریک تها وہ لڑکی بھی آنسو بہا رہی تھی اور آج تو اس کے ساتھ آسمان بھی رو پڑنے والا تها آج تو آسمان کے بهی آنسو نہیں تهم رہے تھے____
" دسمبر میں تمہیں معاف کهبی نہیں کروں گی"____
اس نے روتے ہوئے اس رات دسمبر سے کہا تها __چاند ستارے سبهی گواہ تهے اس کے ____
دسمبر نے اس سے سب کچھ چهین لیا تها ____اور آج سولہ سال بعد دسمبر آ کر اس کے قدموں میں گرا تها __اس لڑکی کے وہ اس سے معافی مانگ کر کہہ رہا تها 'میں نے تم سے جو چهینا تمہیں وہ واپس بھی کر دیا ___" تمہیں تمہاری بلی جیسی آنکھوں والا لوٹا دیا __ اب تو مجهے معاف کر دو "_____
""نہیں__نہیں___ نہیں میں تمہیں پهر بھی معاف نہیں کروں گی تم نے صرف اسے تو نہیں چھینا تها تم نے مجھ سے میری خوشیاں میرا بچپن میری جنت مجھ سے چھینی تهی وہ سب بھی تو مجھے واپس لا کر دو"_____
وہ روتے ہوئے بے آواز دسمبر سے مخاطب تهی __دسمبر جواب میں خاموش رہا __وہ دونوں چلتے ہوئے اس جگہ آئے جہاں سکول سے چهٹی کے بعد وہ برف کے گهر بناتے تهے __وہ برف بھی تها موقع بھی تها دسمبر بھی تها لیکن وہ بچپن کہیں نہیں تها ____
اسے ہر طرف دیکھ کر کچھ نہ کچھ یاد آ جاتا ہر طرف کوئی نہ کوئی یاد دفن تهی ___پهر وہ باغیچے کی طرف آئے جس سے وہ تینوں بچے چوری خوبانیاں چراتے تهے ___وہ باغ اپنے مکینوں کی یاد میں ایسے اجڑا پهر نہ جڑ سکا ___
واقعی اب بہت کچھ بدل چکا تھا یا پهر شاید اس کی یادداشت بدل چکی تھی___ وہ علاقہ اس کے لیے اجنبی تها اور وہ بھی ان کے لیے اتنی ہی اجنبی تهی _______ نگاہوں کو چاروں طرف گهماتے اسے اس وقت کیا کیا یاد نہیں آ رہا تها_________
وہ برف جس میں اس کی زندگی کا کافی حصہ گزرا تها کهبی یوں اس طرح اسے اجنبی کر جائے گا سوچا نہیں تها ___ لیکن سوچا تو خیر اس نے بہت کچھ نہیں تها ___ آج وہ یادیں اسے معاف نہیں کرنے والی تهیں
اب کچھ نہیں بچا تھا صرف یادیں ہی باقی رہ گئیں تهیں ___
جو لمحے کهبی ہمارے لیے اتنی تکلیف دہ ہوتے ہیں آگے چل کر ہماری زندگی کی سب سے قیمتی یادیں بن جاتی ہیں___
میری خواہش ہے میں لوٹ سکوں ایک بار پھر اپنے بچپن میں اسی برف میں ___ لیکن نہ میں لوٹ سکتی ہوں نہ کبھی بچپن لوٹ آئے گا___ گڑیا نے سسکتے ہوئے خواہش کی ____
زندگی ہمیشہ آگے جاتی ہے ہر سکینڈ زندگی میں صرف ایک بار آتا ہے اور پهر یادیں چهوڑ جاتا ہے______
اور وہی یادیں کهبی سانپ بن کر انسان کو ڈسنے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں____
" کهبی ریت کے اونچے ٹیلوں پہ جانا _____
گهروندے بنانا بنا کے مٹانا _____
وہ معصوم چاہت کی تصویر اپنی_____
وہ خوابوں کهلونوں کی جاگیر اپنی ______
نہ دنیا کا غم تها نہ رشتوں کے بندهن _____
بڑی خوبصورت تهی وہ زندگانی______"
"بچپن تم کہاں ہو__پهر سے ایک بار لوٹ آو دیکهو میں لوٹ آئی ہوں__ پهر سے وہیں پریوں والی زندگی گزاریں __جس میں کوئی آنسو نہیں تها جس میں شرارتیں تهیں خوشیاں تهیں _____دیکهو میں بھی ہوں بلی جیسی آنکھوں والا بھی ہے صرف تم ہی دور چلے گئے ہو____"

اس کے دل میں ایک تکلیف ہونے لگی__ہر منظر آنکھوں کے سامنے تها___چلتے چلتے اچانک اسے روہاب کی یاد آئی __جنت بوا تو شہید ہوئی تهیں اور وہ __ کہاں چلا گیا تها __شاید اس نے جنت کا بہت انتظار کیا ہوگا___شاید وہ اسے ان برف کی پہاڑوں پر ڈهونڈتا رہا ہوگا __شاید اس نے مایوس ہو کر انہی پہاڑوں میں سے کسی ایک پہاڑ سے چھلانگ لگا دی ہو _____
جنت بوا نے کہا تھا زندگی میں ضروری نہیں ہر کہانی پوری ہو کچھ کہانیاں ادھوری بھی رہ جاتی ہیں _اور ان پہاڑوں کے درمیان اس کی اپنی محبت کی داستان بھی تو ادهوری رہ گئی _____
وہ دونوں اس گهر میں آئے تهے جو کهبی ان کے لیے ایک خوبصورت پناہ گاہ تها ایک خوبصورت آشیانہ اور آج __؟
آج وہ صرف ایک مکان تها ایک ویران مکان جو اپنے مکینوں کی یاد میں اداس تها __خاموش تها _گهر انسانوں سے بنتے ہیں جب انسان ہی نہ ہوں تو گهر ویران ہو جاتے ہیں___وہ بھی شاید ان کی جدائی برداشت نہیں کر سکا _____ اور آج جب اتنے سال بعد گڑیا واپس آئی تو کچھ بھی نہیں تها وہاں __اس نے آنے میں بہت دیر کر دی ___
_____وہ اس آم کے درخت کو دیکھ رہی تھی__جس میں وہ گھنٹوں جهولے لیتی تهی __اور رام اکثر وہ جهولا کاٹ دیا کرتا تھا اور وہ نیچے گر جاتی _____وہ نم آنکھوں کے ساتھ مسکرائی تهی __آج وہ جهولا وہاں نہیں تها__آم کا درخت پہلے سے زیادہ خوبصورت اور سبز ہو چکا تھا___وہ جانتی تھی کیوں ____
آم سے ہوتے ہوئے اس کی نگاہیں اس جگہ گئیں جہاں کئی خوبصورت پهول تهے__جو باڑ کی شکل میں تهے __اسے یاد آیا یہاں کچھ قیمتی دفن ہے ___
اور وہ پهول__؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام تهے اس لڑکی کے لیے جس نے موت کو سامنے دیکھ کر بھی نماز نہیں چهوڑی ___تو ایسا کیسے ہو سکتا اللہ تعالیٰ اس لڑکی کو عزت نہ دیتا __ایک انسان اس کے منہ پر کالک مل دی تهی اور رحمن نے اس کی قبر کو چاروں طرف پهولوں سے سجا دیا تها___
وہاں ویسی ہی خوشبو تهی جو گڑیا نے اس گهر سے نکلتے وقت محسوس کی تهی وہ خوشبو آج بھی مہک رہی تھی___شہید زندہ ہوتے ہیں مرتے نہیں کهبی __وہ جس نے اللہ کی عبادت کرتے ہوئے اپنی زندگی گوا دی وہ شہید ہی تو تهی ___سولہ سال سب کچھ بدل جانے کے بعد بھی اس جگہ سے ویسی ہی خوشبو آ رہی تھی جیسی پہلے تهی _______
وہ انوشیر کے ساتھ وہیں سائیڈ پر بیٹھ کر فاتح پڑهنے لگی __آنسو تو آج ویسے بھی نہیں رکنے تهے ___
وہ اپنے ہم سفر کا ہاتھ پکڑ کر اس سنسان اور خاموش گهر سے باہر نکل رہی تھی ____
اس نے دروازے سے نکلتے ہوئے ایک بار مڑ کر پیچھے دیکها __ یادیں کو پوٹلی میں سمیٹتے ہوئے وہ کچھ اور یادیں بکهیر رہی تهی_____
وہ مسکرائی تهی لیکن بهیگے چہرے کے ساتھ وہ ایک بار پھر خود کو یہیں چهوڑ کر جا رہی تھی____اسی دسمبر کے پاس_____
ختم شد


0 Comments: