دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین پارٹ 3

دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین پارٹ 3





" بے غیرت عورت میرے پاوں چهوڑو"......
"جنت اٹهو بهاگ جاو یہاں سے." ...انہوں نے جنت کو آواز دی...دادی گرل والی کھڑکیوں سے باہر کا منظر روتے ہوئے دیکھ رہی تهیں....
" جنت بیٹا...نماز چهوڑو اور بهاگ جاو.."...دادی نے زور سے چلا کر جنت کو کہا..لیکن جنت نے جیسے سنا ہی نہیں وہ ابهی تک نماز پڑھ رہی تھی. .چہرے پہ ہمیشہ والا سکون تها...چوہدری صاحب اپنے قدم چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے. ....چاند دور آسمان پر کهڑا ہو کر بے بسی کا یہ تماشا دیکھ رہی تها ...آج بنا طوفان کے بجلی گرنے والی تهی. . ...
"جنت اللہ کے واسطے نماز توڑ ڈالو اور بهاگو یہاں سے. .اپنی زندگی بچاو".....دادی نے کہا تها. .لیکن جنت نماز توڑنے والوں میں سے ہرگز نہیں تهی وہ اللہ سے محبت نہیں عشق کرتی تهی ایسے میں اللہ کی نافرمانی کرنے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتی.....چوہدری نے اماں کو بالوں سے پکڑ کر اوپر کهینچا اور گهیسٹ کر انہیں بھی اس کمرے میں بند کر دیا. ...وہ بھی بهاگ کر گرل والی کهڑکی پہ آئیں...پهر چوہدری صاحب نے بچوں کو اندر جانے کو کہا...وہ بیچارے تو پہلے ہی ڈرے ہوئے تھے بهاگ کر اندر چلے گئے چوہدری نے دروازے کو باہر تالا لگا دیا......
گڑیا کو لگا قیامت ابهی آئی نہیں تهی وہ تو قیامت کا ایک چهوٹا سا منظر تها اصل قیامت تو اب آنا تها...موت کا کهیل رام اور مدهو کی زندگی نگل کر ختم نہیں ہوا...موت نے تو گڑیا کا در ہی دیکھ لیا.......
دادی، اماں عروج اور گڑیا کی زور دار چیخیں گونج رہی تهیں وہ کهڑکی سے باہر کا منظر اچهی طرح دیکھ سکتے تھے. ...وہ سب کچھ برباد ہوتے ہوئے دیکھ رہے تھے. ...چوہدری نے آگے بڑھ کر سجدے میں گری جنت کو ایک زور دار لات ماری اور پٹرول کی کین اٹها کر اس پر پهینکنے لگا. ....
"افضل رحم کر. ..تجهے اللہ کا واسطہ ایسا مت کر. .خدا سے ڈرو.."...اماں اور دادی اس سے التجائیں کر رہی تهیں....گڑیا کی آنکھوں سے آنسو تهم نہیں رہے تهے...جنت بوا کیا ساتھ کیا ہونے والا تها .یہ رات اس سے کیا چھیننا چاہتا تھا. ...چوہدری نے جنت کے پورے جسم پر پٹرول چهڑک دی ..وہ سجدے سے اٹھ کر اتا حیات پڑھ رہی تھی. ..اس نے نماز نہیں توڑا.....چوہدری نے ماچس اٹهائی ...گڑیا زور زور سے چیخنے چلانے لگی .پورا گهر چیخ رہا تھا. ..وہ یہ بهیانک منظر کهلی آنکهوں سے دیکھ رہے تھے .....
" حرام خور ہمارے سامنے پارسا ہونے کا ڈرامہ کرتی ہے" ..انہوں نے ماچس جلا کر جنت کے اوپر پهینک دی..وہ نماز مکمل کر چکی تهی. ..اس کا پورا جسم شعلوں کی لپیٹ میں تها...ہر طرف آگ ہی آگ تها.....
دادی اور گڑیا کی چیخیں دلخراش تهیں سب کچھ ان کے سامنے برباد ہو رہا تها اور وہ کچھ نہیں کر پا رہے تهے ایسے ظلم پر تو آج آسمان بھی کانپ رہا تھا. .....
چاند فوراً بادلوں کے پیچھے چهپ گیا وہ یہ خوفناک منظر نہیں دیکھ پا رہا تها وہ انسانوں کے ظلم نہیں دیکھ پا رہا تها گڑیا نے اپنی آنکهیں میچ لیں وہ سب کچھ کهلی آنکهوں سے دیکهنے کی طاقت نہیں رکهتی تهی. ...تین منٹ بعد سب کچھ ختم ہو چکا...حوا کی ایک اور بیٹی غیرت کے نام پر قتل ہو چکی تهی. اگر آدم کے بیٹے بھی یوں غیرت کے نام پر قتل ہونے لگے ناں تو یہ دنیا دوسرے دن ہی ختم ہو جائے گی..گڑیا نے آنکهوں کو کهولا اس نے دادی کی طرف دیکها جو تڑپ رہی تهیں اماں بھی رو رہی تهیں عروج کی آنکھوں میں بھی آنسو تهے پهر اس نے کهڑکی سے باہر دیکها . ساری آوازیں آنا بند ہو گئیں خاموشی تهی دلوں کو چیر دینے والی خاموش. ..وہ برف بن گئی اسے لگا اب وہ کهبی پهگل نہیں سکے گی وہ کهبی ہل نہیں سکے گی ... اسے پوری دنیا سناٹے میں اترتا محسوس ہوا. .سامنے جنت چوہدری کی بے جان لاش پڑی ہوئی تھی سب ختم ہو گیا. .سب کچھ......
اس دسمبر نے تو اس سے سب کچھ چهین لیا. ..اب زندگی پهر اس علاقے کی طرف واپس نہیں آنی تهی...دو آنسو کے قطرے گالوں سے لڑهک کر گریبان تک آئے.....جنت کی جهلسی ہوئی لاش دیکھ کر اس کے کانوں میں اسی کے کہے کچھ الفاظ گونجے....
" اللہ معاف کر دیتا ہے انسان ہی معاف نہیں کرتے. ..اللہ انسان کی بڑی سے بڑی کوتاہی بھی دور کر دیتا ہے اور انسان ایک چهوٹی سی غلطی پر دوسرے انسان کو جہنم میں پهینک دیتے ہیں." ......
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
آیت لنڈن کی سرزمین پر تهی __ اس وقت اندهیری رات کو وہ اٹھ کر کهڑکی تک آئی اس نے کهڑکی کهولا__
کهڑکی کهلتے ہی ٹهنڈی ہوا کا جھونکا اس کے وجود سے ٹکرایا...چاندنی رات تهی اور چاند کی دھیمی دھیمی روشنی زمین پر پڑ رہی تهی. ...چاند ہمیشہ کی طرح سب سے منفرد تها ہمیشہ کی طرح ہزاروں ستاروں کے درمیان سر اٹهائے کهڑا نظر آ رہا تھا. ......
کیسے ہو. ...اس نے چاند سے پوچها...چاند سے باتیں کرنے کی عادت اسے ہمیشہ سے تهی..اسے لگتا تھا ہم جو باتیں کرتے ہیں چاند سنتا ہے. ........
"تم جواب کیوں نہیں دیتے .."؟ اس نے چاند کو خاموش دیکھ کر پوچها ...وہ اب بھی ویسے ہی خاموش رہا....
پتا نہیں اسے اس وقت انوشیر کیسے یاد آ گیا...چاند کے سامنے ایک بادل کا ٹکڑا آ گیا اور وہ مکمل طور پر چهپ گیا...
"اوکے چهپو مجهے بهی تم سے بات کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے. ."...اس نے زور سے کهڑکی بند کر دی..کافی ٹهنڈی ہو چکی تهی ...کپ سے بهاپ اٹهنا بالکل بند ہو چکا تها... .وہ تیزی سے گهومی اور پھر بے اختیار ٹهٹک گئی....
پوجا الجهے بالوں کے ساتھ نیند میں اسے حیران ہو کر دیکھ رہی تھی. ...
"کس سے بات کر رہی تهیں تم.."...؟
""چاند سے."...وہ کندهے اچکا کر بولی.....
"کیا تم پاگل ہو...".؟ پوجا بهر پور حیران ہونے کے بعد بولی.....
" ہاں بہت سارا"......وہ بال پیچھے جهٹک کر بولی....
اور کچن کی طرف بڑهی..پوجا بھی اس کے پیچھے پیچھے آئی....
"آئندہ تمہیں چاند سے بات کرنی ہو یا ستاروں سے لیکن تم میری نیند خراب نہیں کرو گی..."..پوجا کو اپنی نیند خراب کیے جانے پہ بہت دکھ تها....آیت نے اسے گهورنا مناسب سمجها....
"اور تم جو چالیس ہزار فریکوئنسی کے خراٹے لیتی ہو وہ. ..؟ کهبی سوچا ہے میں کیسے سوتی ہوں...."
"ہاں ....وہ...تو میں. ..مطلب وہ تو خود ہی نکلتے ہیں." ..پوجا نے نگاہیں چرائیں اور ایک بار پھر بیڈ پہ جا کر لیٹ گئی....وہ سنک سے کپ دهو کر بیڈ پہ آئی....اور اپنا موبائل چارجنگ پہ لگا کر سونے کے لیے لیٹی..وہ رات کو ہمیشہ موبائل چارجنگ پہ لگا کر ہی سوتی تهی دن کو تو پوجا میڈم کا موبائل لگا رہتا تھا. ......
شکر تها جو پوجا جاگ گئی ورنہ وہ کهبی سو ہی نہیں پاتی اور اب وہ پندرہ منٹ بعد نیند کی وادی میں اتر گئی...لیکن وہ زیادہ دیر سو نہ سکی ...اسے جیسے کوئی آواز دے رہا ہو ...کوئی اس کا نام لے رہا ہو ..اسے لگا وہ خواب دیکھ رہی ہے مگر وہ خواب نہیں تها وہ اٹھ کر بیٹھ گئی. ..اس نے ماتهے کو پوروں سے چهو کر دیکها جہاں پسینہ تها..وہ کافی بوکهلائی ہوئی نظر آ رہی تھی. .....
اچانک اسے کمرے میں سایا نظر آیا کوئی چلتا ہوا سایا...اس کی آنکهیں خوف سے پهیل گئیں. .وہ بنا پلکیں جهپکائے اس سائے کو دیکهے جا رہی تھی. ....
پهر اس کی نظر وہاں سے ہوتے ہوئے کهڑکی تک گئی اور اسے جهٹکا اس وقت لگا جب اس نے کهڑکی کو کهلا پایا....اسے یاد تها وہ کهڑکی بند کر کے آئی تهی ....م
"تم اب تک واپس نہیں گئی. "..؟ پورے کمرے میں ایک بهاری مردانہ آواز گونجی. ..اور اس نے آنکهوں پر ہاتھ رکھ کر ایک زور دار چیخ ماری. ..پوجا ہڑابڑا کر اٹھ بیٹھی....اس نے لیمپ آن کیا.....
"کیا ہوا. .".؟ وہ ڈر کر رونے لگی...پوجا اسے حیرت سے دیکهے جا رہی تھی. ....
" ابهی کوئی کمرے میں تها..".اس نے ہچکیوں کے درمیان اپنی بات مکمل کی.....

"پاگل ہو کیا...یہاں کوئی نہیں ہے". ..پوجا نے خفگی سے سے دیکها پهر اس نے چاروں طرف دیکھا واقعی کمرے میں کوئی نہیں تها. ...
"میرا یقین کرو ابهی کوئی تها یہاں. .".؟ اس نے پوجا کو یقین دلانے کی کوشش کی. ......
"پلیز سو جاو ...دیکهو کوئی نہیں ہے ضرور تم نے کوئی خواب دیکها ہوگا اس دن کی طرح." ...پوجا اسے ملامت کرتی کمبل کهینچ کر سو گئی اور لیمپ بھی آف کر دیا...وہ ابهی بهی سمٹ کر بیٹهی تهی اور آس پاس دیکھ کر جیسے کسی کو تلاش کر رہی تهی...پوجا کہہ رہی تھی وہ وہم ہے لیکن وہ وہم نہیں تها اسے یقین تھا. ..اسے پچهلے سارے واقعات بھی ترتیب سے یاد آنے لگے تهے....اس نے صبح انوشیر سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا. .وہ اسے سب کچھ بتائے گی...وہ ضرور کوئی نہ کوئی حل نکال لے گا اس کے مسئلے کا....
وہ ڈرتے ڈرتے پهر سے سونے کے لیے لیٹی اس نے کمبل کهینچ کر اپنے اوپر کر لی اور کروٹ بدل کر کهڑکی کی طرف مڑ گئی. ...کهڑکی کهلی نظر آئی....
ٹهنڈ کے باوجود اس میں اتنی ہمت نہیں تهی جا کر کهڑکی بند کر دے...وہ آنکهیں کهول کر کهڑکی سے باہر چاند کو دیکھ رہی تھی. .نیند تو اسے آنی ہی نہیں تهی....اسے ایک بار پھر کرنٹ لگا...جب اس نے کسی کو کهڑکی کے اوپر چڑھتے دیکها....وہ جهٹکا کها کر کهڑی ہو گئی. ..وہ کهڑکی سے اندر آتا شخص باہر کود گیا...ایک سانپ تها جس نے اسے کاٹا تها...وہ بهاگتی ہوئی کهڑکی تک آئی......
اور پهٹی ہوئی آنکھوں سے اس شخص کو چاند کی روشنی میں دور جاتا دیکھ رہی تھی. ..وہ اس شخص کو پہچان سکتی تهی. .وہ انوشیر تها جو لمبے لمبے قدم اٹهاتا اس سے دور جا رہا تها. ...لیکن حیرت اسے اس بات پہ ہوئی یہ شخص اس کے ساتھ یہ سب کر رہا تھا. .مگر کیوں ...؟ انوشیر یہ سب کیوں کر رہا تھا. ..؟ وہ اسے کیوں مارنا چاہتا تھا اور اگر مارنا چاہتا تھا تو وہ اسے بچاتا کیوں تها.......ایک نام جو وہ زندگی بهر نہیں سوچ سکتی تهی وہی نام اس کے سامنے تها.....
انوشیر یہ کیوں چاہے گا وہ واپس پاکستان چلی جائے...اور اس دن وہ ڈائمنڈ رنگ اس کے پرس میں "انوشیر نے ہی رکها تها اور پھر لوڈر "...؟
بے یقینی سے بے یقینی تهی...جس شخص کے اوپر وہ اتنا بهروسہ کرتی تهی...وہ یہ سب کیوں کر رہا تھا. ...؟وہ تو ایک مذہبی لڑکا تھا اسلام اور اللہ سے محبت کرنے والا پهر وہ اس کی جان کیوں لینا چاہتا تھا. ..؟
او میرے اللہ. ..وہ سر تهام کے بیٹھ گئی..ہزاروں سوالوں کے درمیان ایک سوال کا بھی جواب اس کے پاس نہیں تها...لیکن وہ جواب حاصل کرنا چاہتی تهی وہ انوشیر سے بات کرنا چاہتی تهی...وہ اس سے سب کچھ جاننا چاہتی تهی.....
وہ اس سے ایک بار پھر ملنا چاہتی تهی. .......
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
لندن کی خوبصورت اور ٹهنڈی ہوا آیت کے جسم سے ٹکرائی اور وہ انگڑائی لے کر بیدار ہوئی...اس کی نظر سامنے والے بستر پر گئی جو خالی تها ...پوجا صبح صبح ہی واک پر نکل جاتی ہے. ....وہ اٹھ بیٹهی کمبل کو پیروں سے ہٹا کر وہ واش روم میں آئی. ..چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتے ہوئے اسے رات کا واقعہ یاد آیا...وہ بے اختیار رک کر آئینے کو دیکهنے لگی....
کل رات کا واقعہ ناقابلِ فراموش تها اور اس پہ جو انکشاف ہوا وہ حد سے زیادہ بهیانک تها...انوشیر اسے مارنے کی کوشش کر رہا ہے ...لیکن کیوں یہ اسے نہیں معلوم. .....
الجهتے ذہن کے ساتھ وہ کچن میں آئی...چائے بنانے لگی دماغ ابهی بهی انہی سوالوں کے درمیان گهرا ہوا تھا. .کچھ چیزیں حالات دکهاتی ہیں کچھ آنکهیں دیکهتی ہیں جانے اس وقت کون سا منظر سہی تها...انوشیر کے خلاف اتنی بڑی بات سوچنے کے لیے اس کا دل نہیں مان رہا تها کتنی بار اس نے اس کی مدد کی اس کا ساتھ دیا اسے کئی بار مصیبتوں سے بچایا...لیکن کل رات جو اس نے دیکها وہ کیا تها......
چائے بنا کر وہ کهڑکی کے پاس آئی. ..کهڑکی کهول کر وہ وہیں کرسی رکھ کر بیٹھ گئی ...اور باہر سٹوڈنٹس کو دیکهنے لگی. .صبح صبح کا وہ منظر کافی خوبصورت ہوتا اگر اس کی ذہن میں کئی سوالات نہ ہوتے ........چائے بھی وہ جیسے رسمی طور پر پی رہی تھی ہر شے سے اچانک دل اچاٹ ہو گیا....
تم پارٹی میں چلو گی میرے ساتھ آیت..؟شام کے وقت پوجا نے اس سے پوچها...وہ تیار ہو رہی تهی ..ہفتے میں چار دن تو وہ کسی نہ کسی پارٹی میں جاتی ہی رہتی تهی. ...
" آئم سوری پوجا تم چلی جاو. .میں نہیں آ سکتی"..ناول پڑهتے ہوئے اس نے سر اٹها کر پوجا کو جواب دیا. .
: تم واقعی بور لڑکی ہو"...پوجا نے آئی شیڈ درست کرتے ہوئے ہمیشہ والا تبصرہ کیا وہ کچھ نہ بولی....پوجا اٹھ کر چلی گئی. ....اس نے موبائل نکال کر انوشیر کا نمبر ملایا....پوجا رات کو دیر سے واپس آتی تھی اور یہی موقع تها ان سوالوں کے جواب جاننے کا جو اس لے دل میں تهے.......
"اسلام و علیکم ...انوشیر کی آواز سنائی دی."...کچھ لمحے وہ کچھ بول نہیں سکی.. .اس نے ہونٹ بھینچ لیے....
"ہیلو. ..کوئی کام تها.."...آواز دوبارہ آئی...ہمیشہ کی طرح تشویش سے بهری...
" جی وہ....آپ کو روزہ ہے"....؟
" جی ہاں.". ...
"تو آپ افطاری میرے ہاں کیجیے گا. . ".دوسری طرف کچھ لمحے خاموشی رہی...
"اوکے.."..اس نے فون کٹ کر دیا. ..لہجہ ہمیشہ کی طرح مہذب شائستہ. ..تو پھر. ..؟
وہ کسی بھی سوال میں اس وقت الجهنا نہیں چاہتی تھی اس لیے خاموشی سے کچن میں چلی آئی....بال کهلے ہوئے تھے جنہیں اس نے چهوٹی سی پونی میں قید کردیا. ....کهانا اور افطاری تیار کرنے میں اس کافی وقت لگا...جب انوشیر آیا اس وقت مغرب ہونے میں فقط پندرہ بیس منٹ باقی تهے...اس نے انوشیر کو کهانے کی ٹیبل پہ بٹهایا....اور خود کهانا لگانے لگی. .سر پہ دوپٹے کا وہ اضافہ کر چکی تهی کیونکہ انوشیر کو بنا دوپٹے والی لڑکیاں نہیں پسند تهیں...
انوشیر کے چہرے پہ سنجیدگی ہمیشہ کی طرح تهی..وہ کریم کلر کی ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھا اوپر سیاہ لیدر کی جیکٹ تهی....بال سلجھے ہوئے ...دودھیا رنگت. ..سنہری آنکهیں....کلائی پہ ایک خوبصورت ہینڈ واچ.....وہ وہیں کچن میں کهڑی ہو کر لمحہ بھر اسے دیکهتی رہی. .سب کچھ سیٹ کرنے کے بعد وہ بھی وہیں بیٹھ گئی. .انوشیر نے اب تک خیر خیریت کے علاوہ کوئی بات نہیں کی اسے بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی وہ باتیں کم ہی کرتا تها..
افطاری کے بعد اس کا پکا ارادہ تها وہ انوشیر سے ان سوالوں کے جواب حاصل کرے جن کے لئے وہ رات سے بے قرار ہے. .. .آس پاس کوئی مسجد نہیں تهی اس لیے ازان کی آواز نہیں آنی تهی انوشیر نے اپنے کسی دوست کے ذمے لگا رکها تها وہ اسے عین افطاری کے وقت میسج کرتا....دو منٹ بعد اس نے میسج کیا. . سب سے پہلے انوشیر نے کھجور منہ میں رکها. ......
کتنا معصوم کتنا خوبصورت دکهنے والا یہ شخص کیا اندر سے اتنا سخت دل ہے. ..وہ انوشیر کو دیکھ کر سوچنے لگی...وہ اب ملک شیک پی رہا تھا وہ بھی چاولوں کے ڈونگے میں یونہی چمچ گهما رہی تھی. ..وہ اب کچھ فروٹس کها رہا تها وہ اسے دیکهنے لگی. .پهر اس نے چاولوں کی ایک پلیٹ انوشیر کی طرف بڑهائی....انوشیر عجلت میں لگ رہا تھا شاید نماز پڑهنے کی جلدی تهی اسے. ..انوشیر نے چالوں کا پہلا چمچ منہ میں رکها پهر دوسرا، تیسرا وہ اسے دیکهے جا رہی تھی انوشیر اس کی طرف متوجہ نہیں تها. ..پهر اس نے کچھ اور دیکها....انوشیر کو زور سے ابکائی آئی اور خون کی ایک ندی الٹی کی صورت میں اس کے منہ سے نکلا...وہ بدحواس ہو کر انوشیر کے پاس گئی وہ گلے کو پکڑے بری طرح کهانس رہا تها...اس کے منہ سے خون نکل رہا تھا. ..وہ جگ اٹها کر گلاس میں پانی نکالنے لگی...پانی نکال کر وہ انوشیر کی طرف مڑی...وہ اوندھے منہ فرش پر گرا پڑا تها....آیت کی آنکهیں پهیل گئیں یہ کیا ہوگیا. ...؟

جگ اس کے ہاتهوں سے گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا وہ انوشیر پر جهکی ...وہ بے ہوش تها خون کے قطرے اس کے منہ سے نکل رہے تھے. ..آیت رو رہی تهی بدحواس تهی پریشان تهی....اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا کرے......پهر وہ تیزی سے فون تک آئی...
ایمرجنسی وارڈ کے سامنے وہ اس وقت ایک بنچ پر بیٹهی تهی. .آنسو تهے کہ تهم ہی نہیں رہے تهے ..انوشیر اندر ایڈمٹ تها تین گهنٹے ہو چکے لیکن وہ ابهی تک ہوش میں نہیں آیا تها....وہ کچھ سمجھ نہیں سکی اچانک انوشیر کو ہو گیا ہے. ...دوپٹہ سر پر لیے وہ مسلسل اللہ تعالیٰ سے انوشیر کی زندگی مانگ رہی تھی. .....
ہسپتال میں اس وقت ایک گہما گہمی تهی اور وہ اکیلی بیٹهی ڈاکٹرز کے باہر آنے کی منتظر تهی. ..انگلینڈ یونیفارم میں ملبوس دو پولیس والے اچانک اسے اپنی طرف آتے دکهائی دیے ...وہ آکر اس کے بالکل پاس کهڑے ہو گئے وہ حیران پریشان ہو کر انہیں دیکهنے لگی...
"بیڈ نمبر سیون کے پیشنٹ آپ کے ساتھ ہیں. .".؟ ان میں سے ایک نے انگریزی میں سوال کیا. .وہ کهڑی ہو گئی آنسو پونچھ کر اس نے سر اثبات میں ہلا دیا. .....
" کیا ہوا تها ان کے ساتھ." ....؟
اس نے سامنے دیکها ایمرجنسی وارڈ میں ایک چهوٹی سی کهڑکی تهی جس کے اندر سے انوشیر لیٹا دکهائی دے رہا تها. ...وہ اس وقت بے ہوش تها آکسیجن ماسک کے سہارے سانس لیتا ہوا ....اسے دیکھ کر بے اختیار آنسو ایک بار پھر گرنے لگے. .......
پولیس والے جواب کا منتظر تهے...اس نے شروع سے لے کر آخر تک ساری بات بتائی یعنی اس کے روزے سے چاول اور پهر اس کی بے ہوشی. .......
مگر اس کے بعد پولیس نے جو کہا وہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا. ...
" یو آر انڈر اریسٹ" ( آپ کو گرفتار کیا جاتا ہے)
وہ حیران ہو کر انہیں دیکهنے لگی. ....
" کیوں."...؟ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا.....
"کیونکہ ان چاولوں میں زہر ملا ہوا تھا. ."...آیت کو لگا اسے بھی آکسیجن کی ضرورت ہے. .اسے گهٹن محسوس ہونے لگی. ...
"زہر...."؟اس نے کهڑکی سے نظر آتے انوشیر کی طرف دیکها...
"ہاں" ..اور پهر ایک نے آگے بڑھ کر اسے ہتهکڑی لگائی..
" مہ...مہ. .میں نے کچھ نہیں کیا...."؟..اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں سن رہے تھے. .وہ اسے کهینچ کر زبردستی ہاسپٹل سے باہر لے جانے لگے. ..دوپٹہ اس کے سر سے اتر گیا...اس نے پیچھے مڑ کر انوشیر کو دیکها اور زور سے چیخ کر اسے آواز دی...اس کے بے ہوش وجود نے حرکت کی. ....اور پھر آہستہ آہستہ اس نے آنکهیں کهولیں.....آیت نے جهٹکے سے خود کو پولیس کی گرفتار سے آزاد کیا اور بهاگ کر ایمرجنسی کے اندر داخل ہو گئی ...انوشیر ہوش میں آ چکا تھا وہ گهٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھ گئی. ..وہ رو رہی تھی. ..انوشیر اسے دیکھ رہا تھا. ..
پولیس والے بھی اس کے پیچھے پیچھے اندر آئے....
"مہ...مہ. ..میں نے آپ کو زہر نہیں دیا...آپ پلیز پولیس والوں کو بتائیں ناں " . .وہ گڑگڑا کر اسے جهنجوڑ رہی تهی انوشیر نے پولیس کو دیکها.....اور روتی ہوئی اس معصوم لڑکی کو....
" سر شی از مائی فرینڈ." .....وہ کہہ رہا تها.
"اس نے مجهے زہر نہیں دیا...اور نہ ہی کهبی یہ ایسا کر سکتی ہے." ...بڑی مشکل سے اس کی آواز آئی....پولیس والے چلے گئے. .وہ وہیں بیٹهی تهی. ...
تهوڑی دیر بعد پوجا بھی وہیں چلی آئی...اس نے جیسے ہی سنا وہ بهاگ کر انوشیر کی طبیعت کے بارے میں دریافت کرنے آئی...اس نے آیت کو دلاسا دیا..اور زبردستی اسے کهانا بهی کهلانے لگی. ...وہ بس روئے چلی جا رہی تهی.
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
ٹیکسی والے کو کرایا دے کر وہ نیچے اتری...اس نے اپنے سامنے بنے اس پرشکوہ عمارت کو دیکها. ..
اپنا پہلا قدم اس نے اپارٹمنٹ کی سیڑھی پر رکها اور دوپٹہ سنبهالتی اوپر پہنچ گئی. .اپنے مطلوبہ فلیٹ کے سامنے رک کر اس نے گهنٹی پہ انگلی رکهی......
دو بار بیل دینے کے بعد دروازہ کھلنے کی آواز نے اسے متوجہ کیا. .سامنے انوشیر کهڑا تها اس نے شرٹ نہیں پہنی تھی...اس کا سفید جسم اور گلے میں لٹکتا لاکٹ صاف نظر آ رہا تھا. .بے اختیار اس نے نگاہیں چرائیں انوشیر بھی زرا جهنپ گیا....وہ اندر چلا گیا اور شرٹ پہن کر واپس آیا وہ تب تک وہیں کهڑی رہی....
اندر آئیں .....وہ اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے پہلی بار اس کے فلیٹ میں آئی تھی. .وہاں موجود ایک ایک چیز سلیقے سے رکهی ہوئی تھی. .وہ صرف اپنے معاملے میں ہی نہیں ہر معاملے ستهرا اور سنجیدہ ہے آیت نے سوچا...انوشیر کو ہاسپٹل سے گهر آئے ہوئے دوسرا دن تها وہ ہاسپٹل تو اس کے ساتھ رہی لیکن ڈسچارج ہونے کے بعد وہ فون پر تو اس سے خیریت پوچهتی لیکن باقاعدہ ملنے پہلی بار آئی تهی......
انوشیر نے اسے صوفے پر بیٹهنے کو کہا.....وہ جهجکتے ہوئے بیٹھ گئی. وہ شرمندہ شرمندہ سی لگی انوشیر کو.....
":کیا لیں گی آپ...؟"
انوشیر نے پوچها....وہ ناخن کهروچتے رک سی گئی..
":کچھ نہیں آپ کی طبیعت اب کیسی ہے." ...؟ وہ انوشیر کی آنکھوں میں دیکهنے سے کترا رہی تھی. .."میں بالکل ٹهیک ہوں. ..چائے یا کافی". ...اس نے سر اٹها کر اسے دیکها. ....
"چائے..."جیسے وہ ہار مانتے ہوئے بولی.....انوشیر اپنے چهوٹے سے کچن میں چلا گیا. ..وہ وہیں صوفے پر بیٹهی رہ گئی.کافی دیر ادهر ادهر دیکهنے کے بعد وہ اس کے پیچھے کچن میں چلی گئی.....
وہ اسے دیکھ چکا تھا لیکن پهر بھی نظر انداز کیے ہوئے تها ..پورے انہماک سے کام کرتے ہوئے وہ یہ تاثر دے رہا تها جیسے اس کے علاوہ کوئی نہیں ہے وہاں....
"آپ ناراض ہو مجھ سے." ...؟ آیت کی زبان سے جانے کیسے یہ بات پهسل گئی وہ ہاتھ روک کر اسے دیکهنے لگا.
"ناراض. .."؟ اس کے خوبصورت ہونٹ بھینچ گئے...
"میں آپ سے ناراض کیوں ہوں گا.."...وہ اب کپ میں چائے نکال رہا تھا. ...آیت کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا کہے بڑی دیر بعد وہ بولی. ....
"آئم سوری اس دن جو ہوا مجهے نہیں پتا کیسے ہوا...چاولوں میں زہر کیسے آیا میں نہیں جانتی آپ. .."
انوشیر نے اس کی بات کاٹ دی.....
"میں نے آپ سے کچھ کہا...".؟ وہ روہانسی ہو گئی .
"نہیں لیکن آپ میرا یقین کریں...مجهے خود نہیں پتا یہ سب کیسے ہو گیا...آپ کو میری وجہ سے کتنی تکلیف اٹهانی پڑی ...".آنسو ابل پڑے....
"مجهے آپ پر بهروسہ ہے اور مجهے کوئی تکلیف نہیں ہوئی. .وہ ایک آزمائش تها اور آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں جن پہ ہمیں صبر کرنا چاہیے. ."...

وہ کپ اس کی طرف بڑها رہا تھا. ..جو اس نے برستی آنکھوں کے ساتھ تهام لی...انوشیر نے اپنا کپ اٹهایا....
ویسے میں اتنی بری چائے نہیں بناتا جتنے آپ آنسو بہا رہی ہیں....وہ کچن سے نکلتے ہوئے بولا..اس کے چہرے پہ کوئی مسکراہٹ نہیں تهی لیکن آیت نم آنکھوں کے ساتھ مسکرا دی....وہ پندرہ منٹ انوشیر کے پاس بیٹهی رہی. ..واپس ہوسٹل اسے انوشیر نے اپنی بائیک پر ہی ڈراپ کیا......وہ کئی سوچیں لیے اپنے کمرے میں داخل ہوئی....جن جن سوالوں کے جواب وہ تلاش کر رہی تهی ان کی تعداد میں اضافہ ہو چکا تها. ...
پہلے اگر اسے انوشیر پر شک تها تو اب وہ شک دهندلانے لگا ..اس رات انوشیر کو یونیورسٹی میں دیکهنے کے بعد وہ سمجھ رہی تھی انوشیر شاید اسے مارنا چاہتا ہے. ..اور وہ اس ایکسیڈنٹ اور شاپنگ مال والے واقع کو بھی انوشیر کے ساتھ جوڑ رہی تهی لیکن اس رات جو ہوا اس نے اسے مزید سوچنے پر مجبور کر دیا. ..وہ چاول اس نے اپنے ہاتهوں سے بنائے تهے ان میں زہر کہاں سے آیا....اور اگر انوشیر ہی یہ سب کر رہا تھا تو وہ خود چاول کها کر اتنے بڑے حادثے کا شکار تو نہیں ہوتا. ..اور اگر وہ بے گناہ تها تو اس رات کهڑکی سے اندر آ کر وہ اسے دهمکی کیوں دے رہا تها. .....لیکن کچھ تو تها کچھ غلط کچھ بہت غلط جو وہ سمجھ نہیں پا رہی تهی. ......
"آج کی پارٹی میں کون سا سوٹ پہنوں"....؟ پوجا اچانک اس کے سامنے نمودار ہوئی وہ بے اختیار چونک گئی....وہ ہاتهوں میں دو سوٹ لیے کهڑی تهی اس کا دل چاہا وہ اپنا ماتها پیٹ لے...پوجا کی پارٹیاں ختم ہی نہیں ہوتیں.....
"کیا تم لندن یہی سب کرنے آئی ہو."...؟ اس نے جل کر سوال کیا......
"ہاں...لائف کو انجوائے کرنے."...وہ بے نیازی سے بولی...
"کیا تم سارے انڈین اتنے نکمے ہوتے ہو". ...؟
"نہیں. .لیکن کیا سارے پاکستانی اتنے ہی بور ہوتے ہیں جتنی تم ہو...".؟ پوجا نے سرگوشی کے انداز میں سوال کیا....وہ برا مان گئی ...
ہ" م پاکستانی بور نہیں ہوتے اور نہ ہی میں کوئی بور لڑکی ہوں.....میں بہت زندہ دل لڑکی ہوں...".پوجا نے گہری سانس خارج کی....
"اوکے تم بور نہیں ہو زندہ دل ہو...اب بتاو میں کون سا سوٹ پہنوں".....وہ ایک بار پھر ہینگرز اس کے سامنے لے آئی.....
"یہ والا...".کالے سکرٹ پر انگلی رکھ کر وہ واش روم میں گهس گئی ....
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _

پوجا لیپ ٹاپ لیے کمرے میں داخل ہوئی. ..آیت اس وقت بیڈ پہ اوندھی لیٹی ناول پڑھ رہی تھی. ....
اس نے تاسف سے ایک نگاہ آیت کو دیکها اور لیپ ٹاپ میز پر رکھ دیا اور خود چهلانگ لگا کر بیڈ پر کود گئی...آیت اس اچانک حملے سے بوکهلا گئی. ...
اس نے گهور کر پوجا کو دیکها....وہ ہمیشہ کی طرح بنا بازوؤں والی ٹی شرٹ میں ملبوس تهی.....
پوجا نے غور سے اسے پهر اس کے ناول کو دیکها. .
اس کے ہاتهوں میں ہمیشہ وہی ایک ناول دیکهنے کو ہی ملتا.....پوجا نے دیکھا دن میں کم از کم دو گهنٹے اس ناول کو ضرور پڑهتی ..لیکن تعجب کی بات یہ نہیں ہے حیرانی کی بات تو یہ تهی وہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناول پڑهتی ہی نہیں تهی یہ ختم ہو جانے کے بعد پهر سے شروع کر دیتی وہ ناول........یہ بات خود آیت نے ہی اسے بتائی تهی اور وہ سن کر ہی ساکت رہ گئی.......
پوجا کو یاد نہیں یہ ناول اس نے پہلی بار کب اس کے ہاتهوں میں دیکها تها شاید بہت عرصہ پہلے.جب وہ اس کے روم میں شفٹ ہوئی تهی.. .اب تو اس کتاب کی جلد اور اوراق بھی بوسیدہ ہو چکے تھے لیکن وہ دن بدن اس کے عشق میں مبتلا ہوتی جا رہی تهی. ..
دراصل وہ اس ناول سے زیادہ اس کے ایک کردار سے محبت کرتی تهی. جو اس ناول کا ہیرو تها اسے اس کا کردار پسند تها..
.اس وقت بھی وہ ناول میں گم سم تهی.جب پوجا اس کے پاس بیڈ پر پہنچی........
" تم پهر سے وہی ناول لیے بیٹهی ہو." ...؟ پوجا نے مصنوعی غصے سے کہا. ....
":ہاں تو" ..؟ وہ بے نیازی سے بولی .....
"میں نے تم سے کتنی بار کہا ایسے ہیروز صرف ناولوں میں ہوتے ہیں حقیقت میں نہیں اس کی تمنا کرنا چهوڑ دو.".....
"اول تو تمہاری سوچ ہی غلط ہے پوجا. ..جس رائٹر نے بھی یہ ناول لکها اس نے ہیرو کا کردار کہیں سے دیکھ کر ہی لکها ہوگا...اتنی بڑی دنیا ہے کہیں نہ کہیں تو ضرور ہی ہوگا....اور اگر وہ نہ بھی ہوا تو اس کے جیسا کوئی نہ کوئی تو ہوگا". ...
".مجهے یقین ہے میں اس سے ایک دن ضرور ملوں گی.. .اور دوسری بات میں نے اس کی تمنا تو نہیں کی میں صرف اس کے کریکٹر کو پسند کرتی ہوں" ...
.وہ ہمیشہ کی طرح پوجا کو مختلف دلائل دے رہی تهی..........
"مجهے تمہاری باتیں سمجھ نہیں آتیں. ".....وہ سر جهٹک کر بولی.....
"تمہیں سمجھ آئیں گی بھی نہیں اور سمجهنے کی کوشش بھی مت کرو". ..اب آیت وہ ناول بند کر رہی تهی. ..
"ویسے تمہارے ناول کا ہیرو تمہارے بوائے فرینڈ سے زیادہ خوبصورت ہے کیا"....؟ پوجا نے شرارت سے اس کی آنکھوں میں دیکها...آیت کے ماتهے پہ شکنیں نمودار ہوئیں. ...
" بوائے فرینڈ. ..".؟
"ہاں وہی جو ہر وقت تمہارے ساتھ رہتا ہے کتنا خوبصورت ہے ناں وہ"..؟
" وہ میرا بوائے فرینڈ نہیں ہے. ."...آیت کو برا لگا...
:اوہ...مجهے لگا تمہارا بوائے فرینڈ ہوگا...".وہ کندهے اچکا کر کهڑی ہوئی. ...آیت کے فون کی گھنٹی بجی. .پاکستان سے عروہ آپی کی کال تهی......
"کیسی ہو آپی."...فون کان پر رکھ کر وہ مسکرائی...
" میں ٹهیک ہوں تم سناو...واپس کب آ رہی ہو. ..؟ بہت مس کر رہی ہوں تمہیں." ...
" بس آپی اب کم وقت ہی رہ گیا ہے جلد ہی آؤں گی پاکستان. ".....وہ دس منٹ تک عروہ سے باتیں کرتی رہی پهر کال ڈسکنٹ کر کے وہ کهڑکی کے پاس آئی..
آیت کا تعارف مائیکل کے ساتھ پوجا نے ہی کروایا تھا وہ پوجا کا بوائے فرینڈ تها...پوجا کا کوئی ایک بوائے فرینڈ نہیں تها وہ روز نئے بناتی اور روز بریک اپ کرتی.....
دو تین دن رونے دھونے کے بعد وہ ایک نئے بوائے فرینڈ کی تلاش میں نکل پڑتی....آیت کو اس کی یہ عادت پسند نہیں تهی لیکن وہ مسلمان نہیں تهی اور نہ ہی اسے ان سب باتوں سے کوئی فرق پڑنا تها....
مائیکل چوبیس سال کا ایک انگریز تها..وہ لنڈن کا رہائشی تھا رنگت زرا سانولی سی تهی...لیکن کافی خوش اخلاق معلوم ہوتا تها....آیت پہلی ملاقات میں ہی اس سے کافی متاثر ہوئی......
وہ کافی دیر تک اس سے باتیں کرتی رہی اور باتوں کے دوران ہی اسے معلوم ہوا وہ پاکستانیوں کو بہت پسند کرتا تها...خصوصاً اسے آیت کی عادتیں کافی پسند تهیں.....
وہ اسی یونیورسٹی میں پڑهتا تها لیکن آیت اسے پہلی بار دیکھ رہی تھی. ..پوجا کا کہنا تھا یہ اس کا آخری بوائے فرینڈ ہے لیکن وہ جانتی تھی پوجا جهوٹ بول رہی ہے یہ صرف کچھ دنوں کے لیے ہی ہے.....وہ ان کے کمرے میں آیا اور وہیں کافی دیر تک بیٹھ کر باتیں کرتا رہا.. ..پوجا نے اس کے لیے چائے بنائی جو اس نے خود ہی پی کیونکہ اس کی بنائی ہوئی چائے ہوئی دوسرا کهبی نہیں پی سکتا تها......
آیت سمجھ نہیں سکی پوجا مائیکل کی کسی خوبی سے متاثر ہوئی کیونکہ وہ زیادہ خوبصورت نہیں تها اس کے نین نقش معمولی تهے...ضرور وہ اس کی دولت سے متاثر تهی یہی دونوں چیزیں ہی پوجا کو متاثر کر سکتی تهیں.......
پہلی ملاقات کمرے میں ہوئی اور اگلی ملاقات پارک میں ہوئی تهی آیت کی اس سے. ...پوجا تیار ہو رہی تهی وہ بیٹهے بیٹهے کافی بور ہو رہی ہے تو اس نے پوجا سے کہا وہ اس کے ساتھ پارٹی میں چلے گی ...پوجا خوشی سے جهوم اٹهی لیکن یہ بات اسے بعد میں پتا چلی وہ کسی پارٹی میں نہیں مائیکل سے ملنے جا رہی ہے اور یہ سنتے ہی اس نے پوجا کے ساتھ جانے سے منع کر دیا لیکن پوجا اب کہاں ماننے والی تهی. ...وہ اسے زبردستی کهینچ کر لے گئی. ..اسے اس وقت پوجا ایک نمبر کی احمق لگی ..ان دونوں کے بیچ میں اس کا کیا کام...مفت کا کباب میں ہڈی. ...
مائیکل پوجا کا انتظار کر رہا تھا وہ یہ سوچ رہی تهی مائیکل اسے پوجا کے ساتھ دیکھ کر خفا ہو جائے گا مگر وہ غلط تهی مائیکل اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا....اور پوجا سے زیادہ اس سے ہی باتیں کرتا رہا...یہ پہلا انگریز تها جو اس سے اس طرح بے تکلف ہو کر بات کر رہا تھا. .......
مائیکل کی زیادہ باتیں لنڈن کے بارے میں ہوتیں تهیں...اور وہ اسے پاکستان کے بارے میں بتاتی مائیکل اس کے منہ سے نکلنے والا ہر لفظ بڑے تحمل اور خوش دلی سے سنتا. ....
وہ اسے عام انگریزوں کے مقابلے میں اچها لگا...اس وقت وہ یہ نہیں جانتی تھی مائیکل اس میں دلچسپی لے رہا ہے اس وقت وہ جان بھی نہیں سکتی. ..یہ انکشاف بعد میں کهلا جب بہت دیر ہو چکی تهی. ......
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وہ مائیکل کے ساتھ اس کی آخری ملاقات نہیں تهی اس کے بعد بھی وہ کئی بار کئی مقامات پر ملے ..لیکن وہ اس سے اکیلی کهبی نہیں ملی ہر بار پوجا اس کے ساتھ ہوتی...مائیکل یا تو ان کے کمرے میں آ جاتا یا پھر وہ دونوں اس سے کسی پارک یا تاریخی مقام پر ملتیں. ...مائیکل کی باتیں کافی دلچسپ ہوتی تهیں اسی وجہ سے وہ اس سے رابطہ رکهے ہوئے تهی اور دوسری وجہ یہ بھی تهی اس میں کوئی اخلاقی برائی نہیں تهی......کم از کم بات کرتے ہوئے یا دیکهنے پر تو یوں ہی نظر آتا تها....اور آیت کو بہت ناز تها اس بات پر وہ چہرے پڑھ سکتی ہے. .......
اس دن چهٹی کا دن تها. ..چهٹی کے دن عموماً سٹوڈنٹس کہیں سیر یا ہوٹلز میں جاتے ...اب تک کی چھٹیوں والے دن وہ انوشیر کے ساتھ کہیں پکنک پہ جاتی یا کهانے پہ.....وہ زیادہ بولتا نہیں تها اس کا انداز ایسا تها جیسے ہر وقت روٹها ہوا ہے. ..اس وجہ سے بھی وہ اس کے ساتھ زیادہ انجوائے نہیں کرتی تهی مائیکل البتہ بہت بولتا تها....اور اس کی باتوں میں بھی زیادہ کشش ہوتی......
وہ تیار ہو چکی تهی. ..مائیکل نیچے کار میں بیٹها بار بار ہارن بجا رہا تھا اور اس نے جھنجھلا کر پوجا کو دیکها....جو بڑی ریلکس ہو کر اپنا لپ اسٹک درست کر رہی تهی. .....
" پوجا اب پلیز چلو بهی .."..وہ زچ ہو کر بولا...پوجا کا میک اپ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا. ...
" بس دو منٹ اور.."....پوجا نے وہی جملہ کہا جو وہ آدهے گهنٹے سے کہہ رہی تھی. ..
دس منٹ بعد وہ دونوں بهاگتے ہوئے مائیکل کی کار تک پہنچے اس کے انداز سے ہی الگ رہا تھا وہ اس انتظار سے کافی تنگ آ چکا تھا. ...وہ دونوں کهلی چهت والے کار کے پچهلے سیٹ پر بیٹھ گئیں...
بیس منٹ کی مسافت کے بعد کار ایک شاندار ریسٹورنٹ کے سامنے رکی..وہ دونوں اتر گئیں ..مائیکل نے کار پارکنگ میں کھڑی کی اور سن گلاسز اتار کر کرسیوں پہ ان دونوں کے مقابل آ بیٹها....پوجا آس پاس کے ماحول کو کافی انجوائے کر رہی تهی ....وہ بھی اس خوبصورت منظر سے کافی لطف اندوز ہو رہی تهی. ......
کهانے کے بعد وہ لوگ کافی دیر تک باتیں کرتے رہے..ان کی واپسی دو گهنٹے بعد ہوئی...شام کے وقت وہ پارک میں بیٹهی تهی ...بچے سامنے کهیلتے ہوئے نظر آئے...وہ بے دھیانی سے انہیں دیکھ رہی تھی .....ایک اسی سال کا انگریز بزرگ آ کر اس کے بالکل برابر بیٹھ گیا. ..وہ چونک گئی...وہ بزرگ اسے دیکھ کر مسکرانے لگا ......
"پاکستانی. ."...؟ اس نے سوالیہ انداز میں آیت کی طرف دیکها اس نے سر اثبات میں ہلا دیا. ......آیت نے اسے گہری سانس خارج کرتے دیکھا. ......
"پاکستان میں کیا کیا ہے...".؟ وہ اردو میں پوچھ رہا تھا. .آیت کو حیرانی اس کی اردو سن کر ہوئی اور اس کے سوال پر بھی ........
"پاکستان میں سب کچھ ہے. "....اس نے جواب دیا یا پھر سوال کیا وہ خود ہی نہیں سمجھ سکی. ......
وہ بوڑھا شخص الجهن بهری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے اس کی بات سمجھ نہیں آئی .....
اس نے پاکستان کے کئی خوبصورت مقامات اور خوبصورت اشیا کے نام گنوانا شروع کر دیے....وہ ایک ایک پهل ایک ایک سبزی بتائے جا رہی تهی وہ بوڑھا خاموشی سے سن رہا تها جب وہ خاموش ہوئی تو انہوں نے کہا. ......
" پاکستان میں کرپشن اور قتل و غارت بھی کافی حد تک ہوتی ہے. ..".اس کی نگاہیں بے اختیار جهک گئیں......
"ہر ملک میں ہوتا ہے یہ سب انفیکٹ ہر جگہ ہوتی ہے کرپشن اور قتل و غارت. ..کچھ ممالک کی میڈیا شو کرتی ہے ان سب چیزوں کو جبکہ کچھ ممالک اپنی خامیوں کو چهپا لیتے ہیں. .انڈیا میں بھی تو کافی حد تک سننے میں آیا ہے...اور لنڈن جیسے بڑے اور خوبصورت ملک میں بھی تو یہ سب ہوتا نظر آتا ہے....ان سب کا تعلق کسی خاص ملک کسی خاص جگہ سے نہیں ہوتا...برے اور اچهے لوگ ہر سوسائٹی ہر علاقے میں پائے جاتے ہیں. .".......
آیت اپنے ملک کی دفاع کرنے کی کوشش کرنے لگی .
" میں نے ابهی کچھ دنوں پہلے ایک خبر دیکهی جس میں پاکستان کی ایک لڑکی کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے."
اور ایسی ہی خبریں میں ہمیشہ سنتا رہتا ہوں. ..وہ بوڑها عجب اداسی سے کہہ رہا تها. ......
وہ بھی اداس ہو گئی....جو وہ کہہ رہے تھے وہ سب سہی تها پاکستان میں ہر دوسرے دن سیکڑوں لڑکیاں غیرت کے نام پر قتل ہونے لگی تهیں...لیکن افسوس کی بات یہ تهی کوئی اس معاملے میں کچھ کر بهی نہیں رہا تھا. ..گناہ آدم کے بیٹے بھی کرتے ہیں لیکن قتل ہمیشہ حوا کی بیٹیوں کا ہی ہوتا....اگر عورت کو سزا دینے کے ساتھ ساتھ مرد کو بھی سزا ملتی تو شاید کافی حد تک اس قتل و غارت پر قابو پایا جا سکتا.......کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی...گناہ ایک طرف سے نہیں ہوتا ...لیکن جہنم میں ہمیشہ بیٹیوں کو ہی پهینک دیا جاتا ہے کیونکہ اس معاشرے کی عورت کچھ کمزور ہے یا پھر شاید مرد ہی کمزور ہیں...جو ان بے بس لڑکیوں کو ہی نشانہ بناتے ہیں. ........


آیت کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تها ..علاوہ اس کے کہ وہ اس وقت خاموش رہتی......
" اور پاکستان میں پچاس فیصد قتل میرے خیال میں خودکش دھماکوں کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں. .کیونکہ ہر دوسرے دن خبر سننے کو ملتی ہے فلاں مسجد میں دهماکہ فلاں جگہ اتنے لوگ شہید. .اتنے زخمی. ."...
انہوں نے ایک اور برائی پر انگلی اٹھائی. ....آیت کو اپنی کئی گئی سبهی تعریفیں بے معنی لگنے لگیں....اچهائی سے زیادہ برائی تهی پاکستان میں. ..
ہاں صیح کہتے ہیں آپ...آج کل خودکش بمبار کی تعداد میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے. .کوئی روکنے والا بھی تو نہیں ہے. ...زیادہ ان میں اپنے لوگ بھی شامل ہیں. ..آستین کے سانپوں سے کیسے جنگ ہو سکتی ہے. .
وہ افسوس کے ساتھ بتانے لگی. ..
"ان کا مقصد کیا ہوتا ہے آخر یہ لوگ چاہتے کیا ہیں." ..؟ اس بوڑھے نے تجسس سے پوچها. ....
"تباہی. ..ان کا مقصد تباہی پهیلانا ہے یا پھر ان کا نظریہ کچھ اور ہوتا ہوگا...یہ بات ماننے کے لیے میں ہرگز تیار نہیں وہ یہ سب پیسے کے لیے کرتے ہوں گے...کیونکہ پیسے کے لیے کوئی بھی اپنی جان نہیں دے گا اور مرنے کے بعد وہ پیسے ان کے کسی کام نہیں آئیں گے یہ بات انہیں معلوم ہے پهر بھی وہ یہ سب کرتے ہیں. ..کچھ تو ہے جو ان کے دماغ ہے جانے کیا سوچ کر وہ ایسا کرتے ہیں. ". .....
اس کی آواز میں شام کی اداسی تهی...بچے زور زور سے فٹ بال کو لات مار رہے تھے. ..وہ انہیں دیکھ رہی تھی. ......
"اور ایک اور مسئلہ مسلمان کچھ زیادہ ہی گمراہ ہو رہے ہیں. .یہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ انسانوں اور زمانے کے لوگوں سے مدد لیتے ہیں یعنی شرک کرتے ہیں. ...اور شرک کرنا تو بہت بڑا گناہ ہے. ...."...وہ اس بوڑھے کی بات سنتی جا رہی تهی. ..اسے یقین نہیں آیا کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیسے کر سکتا ہے. .؟" اللہ تعالیٰ کی برابری کون کر سکتا ہے." ...؟
" اگر آپ کو کهبی موقع ملا اپنے مسلمان بھائی بہنوں کے لیے کام کرنے کا تو آپ کیا کریں گی....."یہ سوال پہلے سے ہٹ کر تها.م..
"جو میں کر سکی جس حد تک کر سکی میں وہ ضرور کروں گی....میری خواہش ہے میں زندگی میں ایک بار کسی ایسے انسان سے ملوں جو شرک کرتا ہو اور اس سے پوچھوں گی وہ ایسا کیوں کرتے ہیں." ..؟
" اگر آپ کی اپنی جان کو خطرہ ہوا تو.."...؟
" زندگی میں بہت بار رسک لینا پڑتا ہے ...اور ویسے بھی میں نے اچهے کام بہت کم ہی کیے ہیں اگر زندگی نے کهبی موقع دیا تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گی..ویسے بھی اگر میری زندگی ختم ہو بھی گئی تو مجهے کوئی فرق نہیں پڑے گا کم از کم مجهے یہ پچهتاو تو نہیں ہوگا میں نے کچھ کرنے کی کوشش نہیں کی. ..میں نے بھی ہر پاکستانی کی طرح نیوز سن کر لمحہ بھر کے لیے افسوس کیا پهر سب بهول گئی ...".....
وہ ایک عزم سے کہہ رہی تھی وہ بوڑها مسکرا دیا...
" آپ کهبی پاکستان آئے ہیں.."...؟ اچانک بڑی دیر بعد آیت نے اس سے پوچها تها ان کی آنکھوں میں درد دکهائی دیا اسے.....
" ہاں میں کچھ سال پہلے گیا تھا پاکستان. ..میری پوسٹنگ وہیں ہوئی تھی. میں اپنی فیملی کے ساتھ تها . پاکستان مجهے اچها لگا
..وہ کافی خوبصورت ملک تها لیکن وہاں کے لوگ خوبصورت نہیں تهے ....شاپنگ مال میں ہونے والے خودکش دھماکے سے میں نے اپنی پوری فیملی کهو دی...اس کے بعد پاکستان سے میرا دل ایسے اٹھ گیا زندگی میں دوبارہ پاکستان جانا تو دور میں نے پاکستان کے بارے میں سوچا تک نہیں. ...اس ملک نے مجھ سے میرا سب کچھ چهین لیا.."......
انہوں نے اپنے گلاسز اتار کر نم آنکهوں کو صاف کیا...آیت بھی اداس ہو گئی........
واپس ہوسٹل آ کر بھی وہ اداس رہی...ایسا نہیں تها وہ پاکستان کے حالات سے انجان تهی لیکن یوں کسی اجنبی کے منہ سے پاکستان کی برائی سن کر اسے دلی تکلیف ہوئی...اس کا دل چاہا وہ ابهی پاکستان لوٹ جائے اور برائی کو جڑ سے اکھاڑ دے لیکن وہ صرف ایسا سوچ سکتی تهی ایسا کرنا اس کے بس کی بات نہیں تهی. ...مگر اس کی خواہش تهی وہ زندگی میں کهبی کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کرے گی جس سے اس کے ملک کو اس پر فخر ہوگا... ....
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
صبح کا وقت تها...پوجا نے صبح صبح ہی مائیکل کو بلا لیا تها...اسے اس وقت مائیکل بالکل بھی اچھا نہیں لگا کیونکہ وہ انوشیر کے ساتھ جهیل کے کنارے جانے والی تهی اور اس نے انوشیر کو میسج بهی کیا تها......
اور اب وہ آئینے کے سامنے بیٹهی تیار ہو رہی تهی جب مائیکل آیا...پوجا وہیں بیڈ پہ اس کے ساتھ بیٹھ گئی. .
وہ بالوں میں کنگھی کر رہی تهی اور گاہے بگاہے ان دونوں کو بھی دیکھ رہی تھی. ...
" پاکستانی گرلز آر سو بیوٹی فل ."..
( پاکستانی لڑکیاں بہت خوبصورت ہیں)
اچانک مائیکل نے تبصرہ کیا. .وہ بے ساختہ شرما گئی..اگر پاکستان میں کوئی اس سے یہ سب کہتا یا اتنا فری ہوتا تو وہ یقیناً برا مانتی لیکن وہ جس معاشرے میں رہ رہی تهی وہاں اتنی معمولی باتوں کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا تها.......
تهینکس. ...وہ اتنا ہی بولی. ....
پوجا اب اس کے لیے فریج سے جوس نکال رہی تهی ..اس کی اونچی ہیل کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تهی. .وہ ہیل اتنی اونچی تهی..آیت اس کی ہیل سے ہمیشہ چڑتی رہتی .کیونکہ وہ کئی بار ان ہیلز کو پہنے ہوئے گری تهی لیکن مجال ہے جو وہ اس ہیل کے علاوہ کچھ اور پہنے.......
اس نے اپنے بال باندھ دیے...اور سر پر دوپٹہ لے لیا وہ سرخ فراک میں ملبوس تهی....مائیکل بڑی گہری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا. .لیکن وہ اس بات سے انجان تهی....
پوجا فریج سے جوس نکال کر لے آئی...وہ ٹرے لیے مائیکل کے پاس پہنچی اور وہی ہوا جو اس نے سوچا تها.پوجا اپنی ہیل کی وجہ سے توازن برقرار نہ رکھ سکی اور اوندھے منہ فرش پر گر پڑی...سارا جسم مائیکل کے اوپر گرا تها...آیت نے بے اختیار پیچھے مڑ کر دیکھا. .وہ جس پوزیشن میں پڑی ہوئی تھی وہ دیکھ کر ہنس رہی تھی. ...مائیکل نے اسے دو چار برے برے القاب سے نوازا....وہ اٹھ کهڑی ہوئی مائیکل کی شرٹ پوری طرح خراب ہو چکی تهی...جو وہ اتار رہا تها. ..
اس نے شرٹ اتار کر پوجا کو دی اور سزا کے طور پر اسے صاف کرنے کے لیے کہا...پوجا بیچاری بادل نخواستہ واش روم میں گهس گئی. ..مائیکل اپنے کالے جسم کے ساتھ بنا شرٹ کے اسے بہت برا لگا. .بهلے ہی یہ لندن تها لیکن وہ ایک مسلمان تهی ایک پاکستانی مشرقی لڑکی...اسے اس طرح بالکل بھی اچها نہیں لگ رہا تها .....وہ کمرے سے باہر جانے کے لیے کهڑی ہوئی. ..جب اچانک کوئی دروازہ کهول کر اندر آیا...وہ انوشیر تها. ..جو مائیکل کو دیکھ چکا تھا اس کے ماتهے پر کچھ لکیریں نظر آئیں....پهر اس نے بھینچے ہوئے لبوں کے ساتھ آیت کو دیکها. ..وہ بے اختیار نگاہیں جهکا گئی...وہ اندازہ نہیں کر سکی انوشیر کو غصہ زیادہ آیا ہے یا برا زیادہ لگا...کیونکہ یہی دو تاثرات تھے اس کے چہرے پر. ....
اسے انوشیر غلط نہیں لگا. .اس طرح بنا شرٹ کے کسی کو اس کے کمرے میں دیکھ کر واقعی اسے برا ہی لگنا تها اور وہ تو تها بھی فل مشرقی مردوں جیسا....اس وقت اس نے کچھ نہیں کہا وہ خاموش رہا.. آیت اپنا پرس اٹها کر باہر چل دی...اس نے مائیکل کو بائے بھی نہیں کہا....انوشیر اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا. ..وہ جانتی تهی اس کا موڈ بری طرح آف ہو چکا ہے لیکن وہ اب کچھ نہیں کر سکتی تهی. ...وہ بائیک پہ بیٹها وہ خاموشی سے اس کے پیچھے بیٹھ گئی. ...انوشیر کی ایک عادت تهی وہ غصے میں بائیک بہت تیز چلاتا تها اور وہی یہ دیکهنا چاہتی تهی. ...لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران ہوئی انوشیر کو غصہ نہیں بہت زیادہ غصہ تها وہ بائیک فل سپیڈ سے چلا رہا تھا. ..اس نے انوشیر کے سینے کو ہاتهوں سے پکڑ لیا. .کیونکہ گرنے سے بچنے کے لیے وہ یہی کر سکتی تهی...عام حالات میں اگر وہ انوشیر کو ہاتھ لگاتی یا اس کا ہاتھ پکڑتی تو وہ بڑی آسانی سے اپنا ہاتھ چهڑا لیتا تها لیکن آج شاید وہ اتنے غصے میں تها کچھ بول بهی نہیں سکا.....
جهیل کا منظر آج اسے بالکل بھی اچها نہیں لگا..انوشیر دور خاموش بیٹها تها وہ اس سے نہ وجہ پوچھ سکتی تهی اور نہ ہی اپنی صفائی میں کچھ کہہ سکتی تهی...
آپ آج کے بعد مائیکل سے نہیں ملیں گی. ...
واپسی پر انوشیر نے کہا ..اس نے شکر ادا کیا کم از کم وہ کچھ بولا تو سہی.......
انوشیر نے اسے مائیکل سے ملنے کے لیے منع کیا تھا لیکن اس نے مائیکل سے ملنا اور باتیں کرنا ترک نہیں کیا تها...کیونکہ اس لگتا تھا انوشیر ایک شکی قسم کا مرد ہے اور وہ یونہی خواہ مخواہ کسی پر بھی شک کرتا ہے. ...ہاں البتہ اب وہ احتیاط برتی تهی مائیکل کے ساتھ اکیلی کهبی نہیں ملتی تهی....
اس دن بھی وہ تینوں یونیورسٹی کی خوبصورت گهاس پر بیٹهی تهیں...پوجا اپنے کالج کی کوئی کہانی سنانے میں مصروف تهیں وہ اور مائیکل بور ہو کر اس کی باتیں سن رہے تھے. .اسے پتا ہی نہیں چلا کب انوشیر آ کر ان کے سر پر کهڑا ہو گیا....وہ اسے دیکھ کر چونکی اور شرمندہ بھی ہوئی...اس نے دوپٹہ بھی نہیں پہنا تها وہ جلدی جلدی دوپٹہ درست کرنے لگی...انوشیر نے غصے سے اسے دیکها. ... ...
" جب میں نے آپ سے کہا تها آپ ان سے نہیں ملیں گی دوبارہ تو پھر کیوں ملیں آپ ان سے.....آپ کو شرم آنی چاہیے. ..."..
انوشیر غصے سے دهاڑا....اس کا چہرہ دهواں دهواں ہونے لگا ...اس کا بس نہیں چلا وہ آیت کو تهپڑ مار دے اور آیت اسے لگا انوشیر نے اس طمانچہ مار دیا...اس طرح دوستوں کے سامنے وہ اس کی کتنی بے عزتی کر رہا تھا. .کم از کم اس بات کا احساس ہونا چاہیے تھا اسے.....وہ بری طرح ہرٹ ہوئی...اسے انوشیر ہر غصہ بھی آیا.....
"آپ آئندہ ان سے نہیں ملیں گی...آئی بات سمجھ میں. ".؟ انوشیر نے انگلی اٹھا کر اسے وارننگ دی...بے عزتی کے احساس سے اس کی آنکهیں نم ہو گئیں...مائیکل اردو نہیں سمجھ سکتا تها لیکن پوجا ان کا ایک ایک لفظ سمجھ رہی تھی. ....

" میں آپ کی ملازم نہیں ہوں.. آپ ہوتے کون ہیں میری زندگی کے فیصلے کرنے والے ..میری زندگی ہے میں جیسے چاہوں گزاروں..."....وہ غصے پر قابو نہ رکھ سکی اور جو اس کے دل میں آیا وہ بول گئی...انوشیر نے تاسف سے اسے دیکها اور بنا کچھ کہے وہاں سے چلا گیا...وہ بھی وہاں مزید کهڑی نہیں رہ سکی.....
کمرے میں آ کر وہ منہ چهپا کر رونے لگی.. اسے اپنے رویے پر کوئی پچهتاوا نہیں تها...شام تک وہ اسی بات کے بارے میں سوچتی رہی.....
رات ہونے تک اسے اپنا رویہ غلط لگا .. پهر اسے افسوس ہونے لگا اور افسوس پچھتاوے میں بدلنے لگا ...پهر اسے وہ سارے احسان یاد آئے جو انوشیر نے اس پر کیے تهے....اس نے موبائل اٹها کر انوشیر کو سوری کا میسج کیا...اس نے کوئی جواب نہیں دیا پهر اس نے دوسرا میسج کیا...اس کا بھی جواب نہیں آیا. ..وہ اتنی شدت سے پہلی بار انوشیر کے میسج کا انتظار کرنے لگی. ...
ایک دو تین چار اس نے پورے ستر میسج کیے لیکن جواب ایک کا بھی نہیں آیا..اور نہ ہی وہ کال اٹینڈ کر رہا تها اب اسے بری طرح پچهتاوا ہونے لگا. انوشیر اس سے ناراض تها ...اور یہ پہلی بار ہوا وہ اس طرح اس سے ناراض ہو گیا....وہ لوگ جو کهبی نہیں روٹهتے اچانک روٹھ جائیں تو انہیں منانا کافی مشکل ہوتا ہے. ..وہ بے چین ہو کر ادهر ادهر ٹہل رہی تهی. .....
اپنے آپ کو کوسنے کے علاوہ وہ کچھ نہیں کر سکتی..رات ہو چکی تهی اور اس وقت وہ انوشیر کے اپارٹمنٹ اکیلی نہیں جا سکتی تھی. ...اسے اپنے آپ پر بے حد غصہ آنے لگا....
صبح جب وہ بیدار ہوئی تو سر میں درد کا احساس ہوا. .رات بهر وہ ٹینشن میں تهی..انوشیر کو اس نے پہلی بار ناراض کیا تها اور اسے اس بات کا بہت دکھ تها. .پوجا واک پر جا چکی تھی وہ واش روم میں جا کر منہ دهونے لگی..رات رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں سوجھ چکی تهیں.....
منہ ہاتھ دهو کر اس نے کالے رنگ کا دوپٹہ اٹهایا...اور عجلت میں دروازہ لاک کر کے کمرے سے باہر نکل آئی. .اس نے ناشتہ بھی نہیں کیا ...بهوک ہی نہیں تهی...صبح کی ہلکی ہلکی دهوپ لندن کی سرزمین کو چمکا رہی تھی. .....
وہ ٹیکسی میں بیٹهی اور سیدھا انوشیر کے اپارٹمنٹ پہنچی. .بهاگ کر اس نے سیڑھیوں کا راستہ عبور کا یہ فاصلہ اسے پل صراط جیسا لگا...اسے نہیں معلوم وہ کس بات پر اتنا پریشان تهی. ....
ایک سکینڈ بھی ضائع کیے بنا اس نے گهنٹی پہ انگلی رکهی اور زور زور سے بجاتی چلی گئی...دو منٹ تک وہ گهنٹی پر سے انگلی اٹهانا ہی بهول گئی..جب دروازہ کهلا تو اسے انوشیر نظر آیا...وہ بنیان میں تها اس کی آنکهیں نیند سے بوجھل نظر آ رہی تهیں. ..اسے وہاں دیکھ کر اس کی آنکهیں پوری کهل گئیں
آیت صبح جب بیدار ہوئی تو سر میں درد کا احساس ہوا. .رات بهر وہ ٹینشن میں تهی..انوشیر کو اس نے پہلی بار ناراض کیا تها اور اسے اس بات کا بہت دکھ تها. .پوجا واک پر جا چکی تھی وہ واش روم میں جا کر منہ دهونے لگی..رات رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں سوجھ چکی تهیں.....
منہ ہاتھ دهو کر اس نے کالے رنگ کا دوپٹہ اٹهایا...اور عجلت میں دروازہ لاک کر کے کمرے سے باہر نکل آئی. .اس نے ناشتہ بھی نہیں کیا ...بهوک ہی نہیں تهی...صبح کی ہلکی ہلکی دهوپ لندن کی سرزمین کو چمکا رہی تھی. ...
وہ ٹیکسی میں بیٹهی اور سیدھا انوشیر کے اپارٹمنٹ پہنچی. .بهاگ کر اس نے سیڑھیوں کا راستہ عبور کا یہ فاصلہ اسے پل صراط جیسا لگا...اسے نہیں معلوم وہ کس بات پر اتنا پریشان تهی. ....
ایک سکینڈ بھی ضائع کیے بنا اس نے گهنٹی پہ انگلی رکهی اور زور زور سے بجاتی چلی گئی...دو منٹ تک وہ گهنٹی پر سے انگلی اٹهانا ہی بهول گئی..جب دروازہ کهلا تو اسے انوشیر نظر آیا...وہ بنیان میں تها اس کی آنکهیں نیند سے بوجھل نظر آ رہی تهیں. ..اسے وہاں دیکھ کر اس کی آنکهیں پوری کهل گئیں. ....
آپ یہاں. ....اس کی حیرت بجا تهی..اتنی صبح اسے وہاں دیکھ کر انوشیر کو حیران ہی ہونا تها...م
"مہ...مہ...آپ سمجهتے کیا ہیں اپنے آپ کو...میں نے کتنے کالز ایس ایم ایس کیے آپ جواب کیوں نہیں دیتے. آپ کو کیا لگتا ہے میں مر جاؤں گی. ".وہ ہذیانی انداز میں چلائی. ..انوشیر سنجیدگی سے اسے دیکهتا رہا.....
"آپ اندر آئیں...."وہ باہر کوئی تماشا نہیں چاہتا تھا. ..آیت کی آنکھوں میں آنسو تهے ...وہ اس کے پیچھے پیچھے اندر آ گئی.....
" آئم سوری. ."..وہ روتے ہوئے بولی ..
' آپ نے ناشتہ کیا" ...؟
"مجهے نہیں معلوم میں کل کیا کہہ گئی...بعد میں مجهے افسوس ہوا. ..میں آپ سے. "....
" چائے لیں گی یا کچھ اور.."...؟
" میں بہت شرمندہ ہوں ..میں کل بھی آنا چاہتی تهی لیکن رات کافی ہوچکی تھی." .انوشیر کچن میں آگیا..وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے آئی ..وہ اب ناشتہ تیار کر رہا تھا ایسے جیسے اس کی بات سن ہی نہ رہا ہو. ......
"مما کہتی ہے میں بہت جذباتی ہوں...مجهے بات کرنے کی تمیز بالکل بھی نہیں ہے جو دل میں آتا ہے میں بول دیتی ہوں....اور بعد میں مجهے احساس ہوتا ہے .."...
وہ نم آواز کے ساتھ بول رہی تهی ....
" آملیٹ لیں گی آپ..."..؟انوشیر نے پوچها. ....
" آپ جو کہیں گے میں وہی کروں گی میں آئندہ." ....انوشیر نے اس کی بات کاٹ دی اور ناشتہ کی ٹرے اس کی طرف بڑهانے لگا.....
"یہ ناشتہ. ...".آیت کو اب سہی معنوں میں غصہ آیا...اس نے غصے سے ہاتھ آگے بڑها کر ٹرے کو فرش پر پهینک دیا. .انوشیر ہونٹ بھینچ کر کچھ لمحے اس ٹرے کو دیکهتا رہا ...
"آپ کو کیا لگتا ہے میں یہاں صبح صبح ناشتہ کرنے آئی ہوں.".وہ چلائی....انوشیر باہر جانے لگا..اس نے انوشیر کا ہاتھ پکڑ لیا. ....
"پلیز مجهے معاف کر دیں. ."...اس کی آنکھوں میں ایک التجا تهی انوشیر بے اختیار پهگل گیا .....
"اوکے .. "...کہہ کر وہ باہر جا کر صوفے پر بیٹھ گیا اس کے سر سے کوئی بهاری بوجھ ہٹ گیا. .....اس کی ناراضگی ختم ہو چکی تهی. ..وہ پہلے والے انداز میں اس سے باتیں کرتا رہا....آیت کو یہ ناراضگی کافی مہنگی پڑی تهی.....

انوشیر سے وعدہ کر لینے کے باوجود وہ مائیکل سے رابطہ ختم نہیں کر سکی ..ہاں اس نے پہلے کی طرح اس سے ملنا ترک کر دیا تها...لیکن جب وہ اس کے سامنے آ جاتا یا پوجا سے ملنے آتا تو مجبوراً وہ بھی اس سے بات کر لیتی. ....اور آج صبح صبح ہی پوجا نے اسے بتا دیا تها وہ سب ایک پارٹی میں جا رہے ہیں تو اسے بھی ان کے ساتھ چلنا ہوگا....اس کے ہزار منع کرنے کے باوجود پوجا اپنی ضد پر اڑی رہی.وہ انکار کر دیتی اگر پوجا نے اپنی دوستی کی قسم نہ دی ہوتی....مجبوراً اسے ہاں کہنا پڑا....لیکن دل ہی دل میں انوشیر سے کیا گیا وعدہ بھی یاد آیا.....وہ اس سے جهوٹ نہیں بولنا چاہتی اور سچ بهی نہیں بتا سکتی. ..کهبی کهبی ایسی پارٹیوں پہ جانے کا حرج نہیں تها...اور ویسے بھی اس وقت اس کے ساتھ سہولت یہ ہوئی انوشیر اس دن وہاں نہیں تها وہ اپنے کسی دوست کے ہاں ڈنر پر جا رہا تها اور یہ بات اس نے صبح میسج پر ہی بتائی....وہ ڈنر کے لیے یہاں سے پندرہ بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہی جانے والا تها....
پارٹی چونکہ رات کے وقت ہی تهی تو اسی مناسبت سے اس نے سفید رنگ کی ایک انارکلی فراک پہنی اور سر پر دوپٹہ اوڑھ لیا....اس کا دراز قد اور سمارٹ جسامت سفید فراک میں دمک رہا تها ...بالوں کو کنگھی کر کے اس نے پونی ٹیل میں قید کر دیا تها...
ہلکا سا میک اپ بھی کیا. ..پوجا باہر گئی ہوئی تھی جب واپس آئی تو اس کی تیاری دیکھ کر بے اختیار چیخ اٹهی....
"او مائی گاڈ تم پارٹی میں یہ فل کپڑے اور ماسیوں والا دوپٹہ پہن کر جاو گی."...اس نے ایک نظر اپنے کپڑوں کو دیکها ...
" ہاں تو . ".؟ پوجا نے گہری سانس خارج کی. ..
" حد ہے ویسے." .....
ان کی گاڑی رات کے دس بجے پارٹی کے مقام پر کهڑی تهی. ..مائیکل ڈرائیو کر رہا تھا وہ اپنا دوپٹہ سنبهال کر نیچے اتری..وہ کافی روپوش علاقہ لگا ..آس پاس کوئی دوسرا گهر کوئی عمارت نہیں تهی...
اندر قدم رکهتے ہی اس پر ایک بهیانک انکشاف ہوا جس کے بعد اس نے زمین کو اپنے قدموں تلے سے کهسکتے دیکها. ..پوجا نے کہا تها وہ پارٹی میں جا رہے ہیں لیکن اس نے یہ نہیں بتایا وہ پارٹی کسی کلب میں ہے......
" کلب ..".وہ زندگی میں کلب کهبی نہیں گئی..کلب کا نام سنتے ہی اسے وحشت ہونے لگتی ...وہ ایک ایسی پارٹی سمجهی تهی جس میں عورتیں ہوتی ہیں لیکن اس اندهیرے کلب میں نیم برہنہ حالت میں ڈانس کرتے وہ لڑکے لڑکیاں. ....
وہ وحشت سے سب کچھ دیکهے جا رہی تھی. .ڈی جے زور دار آواز میں میوزک بجا رہا تها...اسے لگا تها اس کے کان پهٹ جائیں گے.....جوش سے ناچتے وہ کپل اس کے اندر ایک عجیب ڈر پیدا کر رہے تھے. ....
پوجا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک کرسی کے پاس لے آئی ..وہ وہاں سے جانا چاہتی تھی بهاگ جانا چاہتی تھی دور کہیں بہت دور. .....
"پوجا یہ تم مجهے کہاں لے آئی ہو. "...اس نے ناک پر ہاتھ رکھ کر پوچها ہر طرف شراب کی بدبو تهی.....
" پارٹی.".اس نے تاسف سے پوجا کو دیکها....
" تمہیں پہلے بتانا چاہیے تها ...ہم کلب جا رہے ہیں." ..اسے افسوس ہونے لگا ..اس نے پہلے تصدیق کیوں نہیں کی..
"کیوں تم کهبی نہیں گئیں کیا ایسی پارٹیوں میں." ...پوجا نے پوچها اور اس کا جواب سننے سے پہلے ہی اٹھ کر وہاں سے چلی گئی....اب وہ کسی لڑکے کی بانہوں میں ہاتھ ڈالے رقص کر رہی تهی. ...اسے اس ماحول سے گهٹن کا احساس ہوا.....سیکڑوں نیم برہنہ لڑکیوں میں پورے کپڑوں میں ملبوس وہ واحد لڑکی کافی عجیب لگ رہی تھی. .....
مائیکل آ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا. .ڈی جے کی آواز لگاتار اس کے کانوں کو چیرنے لگی....
" یو وانٹ ڈرنک.."..مائیکل نے شراب کی بوتل اس کی طرف بڑهائی....اس نے ڈر کر کلمہ پڑھ اور کرنٹ کها کر سمٹ گئی.....یہ کیسا ماحول تها یہ سب کیسے لوگ تهے...وہ سب ایسے ناچ رہے تھے جیسے جنت میں کهڑے ہوں.....
"کیا تم میرے ساتھ ڈانس کرو گی" مائیکل نے پوچها. ...اس نے گهبرا کر سر نفی میں ہلا دیا. .لیکن مائیکل نے آگے بڑھ کر اس کی کلائی پکڑی. ...
"کم آن. ..".وہ سہم گئی....
" نو..نو..میں ڈانس نہیں کرتی. .."اس نے اپنی لرزش پر قابو پانے کی کوشش کی. ...
"کم آن بے بی کچھ نہیں ہوتا...."مائیکل نے اسے کهینچ کر اپنے سامنے کیا. ...وہ اپنا ہاتھ چهڑانے کی کوشش کر رہی تهی....بے بسی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے...مائیکل اب اسے ساتھ لیے ناچ رہا تها...اسے اچانک مائیکل سے نفرت ہونے لگی...انوشیر کی کہی ہوئی نصیحت یاد آئی...اسے افسوس ہوا اس نے پہلے انوشیر کی بات کیوں نہیں مانی...لیکن ہمیشہ وہ غلطی کر کے پچھتاتی تهی....
"آئی سیڈ لیو می" ....آواز بهرائی ہوئی تهی. .مائیکل نے اسے نہیں چهوڑا....وہ زبردستی اس کے ساتھ ناچ رہا تھا آیت نے چاروں طرف دیکھ کر پوجا کو ڈهونڈنے کی کوشش کی جانے وہ کہاں تهی.....مائیکل کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ رقص کر رہی تهی اور وہ اس لمحے کو کوس رہی تھی جب وہ پارٹی میں آنے کے لیے تیار ہوئی......
زور دار جهٹکے سے اس نے خود کو مائیکل کی بانہوں سے آزاد کیا...اور غصے سے ایک زناٹے دار تهپڑ مائیکل کے منہ پر مار دیا.....وہ تلملا اٹها. .اس نے سوچا نہیں تها وہ یوں اسے تهپڑ مار دے گی. .مائیکل کو بے عزتی کا احساس ہونے لگا...آس پاس ڈانس کرتے لوگ جو اس اونچی آواز سے جهوم رہے تھے کوئی بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تها. ....
مائیکل نے غصے میں آ کر اس کی کلائی پکڑی اور اسے کهینچ کر کہیں لے جانے لگا. .وہ رو رہی تھی چیخ رہی تھی ہیلپ می ہیلپ می پکار رہی تهی لیکن اتنی اونچی آواز میں اس کی معمولی آواز دب گئی ....
مائیکل اسے ایک چهوٹے کمرے میں لے آیا...آس پاس چاروں طرف شراب کی بوتلیں تهیں....مائیکل نے اسے زور دار دهکا دیا وہ منہ کے بل گر پڑی. ....ہونٹ زخمی ہو گئے. ...
میں تهوڑی دیر بعد آوں گا اور تمہارے ساتھ وہ کروں گا جو تم نے خواب میں بھی نہیں سوچا تها......مائیکل اسے دهمکی دے کر باہر چلا گیا اس نے دروازہ باہر سے ہی بند کر دیا. ..وہ قیامت کو اپنے سر پر آتا محسوس کر رہی تهی. ..قیامت کا منظر اس سے بهیانک ہوگا کیا.....روتے آنسو بہاتے وہ صرف اتنا سوچ رہی تھی کاش اس نے انوشیر کی بات مان لی ہوتی تو اتنی بڑی مصیبت سے دو چار نہیں ہوتی.....وہ کیا کرنے والا تها اس کے ساتھ. ..خوف کی ایک لہر اٹهی.....وہ تو کچھ بھی کر سکتا تها...اس فحش کلب میں اسے روکنے والا کون تها. ......
روتے ہوئے اس نے اللہ تعالیٰ کو پکارا. ...موبائل اس کے پاس تها اس نے انوشیر کو میسج کیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ یہاں سے کافی دور ایک ڈنر پہ گیا ہوا ہے. ..اسے خوش فہمی تهی وہ اس کے لیے ڈنر چهوڑ کر آئے گا....
وہ اس وقت اپنے دوست کے پاس تها جب موبائل کی بیپ بجی...جیب سے موبائل نکال کر اس نے آیت کا میسج اوپن کیا....
" Ap kahan ho. .jahan b ho plz jaldi ao me bohat bari musibat me hn. Mical mujhe 1 club me ly aya..plz plz ao me mar jaon gi...."
غصے کی ایک لہر اس کے جسم میں پیدا ہو گئی...بهاگ کر وہ وہاں سے اٹها اور بائیک پر بیٹها تها. ..اس کا دوست پیچھے آوازیں دیتا رہ گیا...مگر اس نے پوری رفتار سے بائیک دوڑا دی...
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
دو گهنٹے سے زیادہ ہو چکے تهے وہ اس چهوٹے سے کمرے میں بند تهی ہر طرف شراب کی ٹوٹی پھوٹی بوتلیں نظر آ رہی تهیں ان کی بدبو الگ پهیل رہی تهی. ..آیت کا وہاں دم گهٹنے لگا. ..یہ سب اس کی اپنی بے وقوفی کا نتیجہ تها وہ زندگی میں کئی بار اپنی حماقت کی وجہ سے پچهتائی تهی.....
مائیکل کو سمجهنے میں وہ غلطی کر گئی انوشیر اسے پہلی نظر میں ہی پہچان گیا....اور اب اس کمرے میں اسے قبر یاد آنے لگا...قبر بھی یونہی بهیانک ہوگا. .یا اس سے بھی بڑھ کر. ...وہ رو رو کر تهک چکی تهی آنسو خشک ہو چکے تهے. .اسے شاپنگ مال والا واقعہ یاد آیا وہ بھی ایک ایسا ہی کمرہ تها .....
تب انوشیر نے اس کی مدد کی اور آج....؟
زندگی اس پر تنگ ہونے لگی وہ روتے ہوئے بار بار اللہ کو آواز دے رہی تهی. .دروازہ کهلا اس نے آنکهیں میچ کر شدت سے دعا کی .کاش وہ انوشیر ہو لیکن اس کی دعا قبول نہیں ہوئی وہ انوشیر نہیں تها.....
وہ مائیکل تها..معصوم سا دکهنے والا وہ بهیانک انسان......وہ مکروہ مسکراہٹ لیے آگے بڑھا. .بے اختیار وہ کهڑی ہو گئی اور ڈرے ہوئے اسے دیکهنے لگی. .پهر آیت نے اسے شرٹ اتارتے دیکها....
وہ مزید خوف زدہ ہوگئی اس سے پہلے وہ آگے بڑهتا آیت نے شراب کی ایک بوتل اٹها کر اس کے سر پر دے ماری....
وہ کراہتے ہوئے گر پڑا اور پهر کهڑا بھی ہو گیا...اس نے آیت کے منہ پر ہاتھ رکها اس کی چیخ دب گئی...اب وہ اس مرد کے سامنے بے بس تهی....اسے کچھ دکهائی نہیں دے رہا تها سوائے اس شخص کے جس کے سانولے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ تهی......
اچانک اس کی مسکراہٹ غائب ہو گئی. ..اس نے آیت کے منہ سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا...وہ حیران ہو کر اسے دیکهنے لگی پهر آیت نے اسے لڑهکتے اور فرش پر گرتے نہیں دیکها اس نے سامنے کهڑے انوشیر کو دیکها جو ہاتهوں میں بوتل لیے کهڑا تها.......
وہ شخص جو ایک ہم سفر کی طرح اس کے ساتھ تها ہمیشہ سے آج بھی اس کی مدد کے لیے وہی شخص آیا...وہ روتے ہوئے اتنی جذباتی ہو گئی انوشیر کے سینے پر سر رکھ کر رونے لگی...انوشیر نے اسے خود سے الگ کیا اور اسے لے کر کلب سے باہر آ گیا...رات کا سناٹا تها...ہر طرف اندھیرا تها وہ تو ویسے بھی اندهی ہو چکی تهی. ..انوشیر نے ایک ٹیکسی روکی وہ خاموشی سے اس میں بیٹھ گئی ...اس کا دل بہت رونے کو چاہ رہا تھا. ...انوشیر اس کے ساتھ بیٹھ گیا وہ اس حالت میں نہیں تهی جو انوشیر اسے اکیلا چهوڑتا.وہ اس وقت اس کی کنڈیشن سمجھ سکتا تها.....
انوشیر نے کوئی غصہ کوئی شکوہ شکایت نہیں کی لیکن وہ تو انوشیر سے نگاہیں ملانے کے قابل بھی نہیں رہی تهی.... اس شخص نے زندگی میں کئی بار اسے منہ کے بل گرانے سے بچایا ہے اور آج ایک اور احسان کا بوجھ اس کے سر پر لاد دیا ہے. .کهبی وہ اس سے پوچهنا چاہتی تهی آخر اس کا اس کے ساتھ رشتہ کیا ہے وہ کیوں اس کے لیے ہر بار اپنی جان پر کهیل جاتا ہے........
انوشیر اسے لے کر اس کے کمرے میں آیا...پوجا وہیں بیٹهی تهی. ..اسے دیکھ کر وہ بهاگ کر اس کے پاس آئی....اس نے تشویش سے آیت کو دیکها. آیت نے نگاہیں چرائیں جیسے وہ اس سے ناراض ہو......
انوشیر اسے بستر پر لٹا کر واپس چلا گیا...پوجا اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی.....
" کیا ہوا آیت سب ٹهیک تو ہے."...وہ پوچھ رہی تهی..ایک شکوہ والی نظر اس ہر ڈال کر وہ پهوٹ پهوٹ کر رو پڑی...پوجا کو مزید تشویش ہونے لگی......
" تم نے ایسا کیوں کیا پوجا...تم مجهے وہاں لے کر کیوں چلی گئیں...اور لے کر گئیں تهیں تو میرے ساتھ تو رہتیں کم از کم.".....وہ شکوہ کر رہی تهی اس سے...پوجا شرمندہ ہونے لگی....
"آئم سوری آیت مجهے نہیں معلوم تها ..تم کلب میں پہلی بار جا رہی ہو .ورنہ میں تمہیں کهبی نہیں لے جاتی اور وہاں میں اپنے کچھ پرانے دوستوں کے ساتھ مصروف ہو گئی اور تمہارے بارے میں بهول ہی گئی...لیکن تم کہاں چلی گئیں تهیں تمہارے ساتھ کیا ہوا.."....؟
پوجا نے اس کی حالت پر غور کیا..اور آیت نے شروع سے لے کر آخر تک ساری بات بتائی اسے....پوجا کو یقین نہیں آیا مائیکل ایسا کچھ کر سکتا ہے اس نے آیت کو یقین دلایا وہ دوبارہ کهبی مائیکل سے نہیں ملے گی......آیت باقی رات یونہی روتی رہی. ..
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _

اس بار انوشیر اس سے ناراض نہیں ہوا تها شاید وہ اس کی آنکهوں میں پشیمانی دیکھ چکا تها.. ..اس نے مائیکل سے ملنا چهوڑ دیا انگریزوں سے وہ ایک بار پھر چڑنے لگی تهی...جو ایک بهروسے کی کونپل پهوٹ رہی تهی اچانک جل گئی......وہ اب زیادہ کسی سے رابطہ نہیں رکهتی تهی. ..دوستوں کے ساتھ بهی اس نے رابطہ تقریباً ختم کر لیا تها...اس کی صرف ایک ہی دوست تهی پوجا....وہ اس کے ساتھ اپنے دل کی ہر بات شئیر کرتی...اور انوشیر اس کے ساتھ اس کا رشتہ کیا تها وہ ابهی تک طے نہیں کر سکی.....
پاکستان بھی اس کا رابطہ ہمیشہ ہوتا...زیادہ وی عروہ آپی سے ہی بات کرتی. .مما بھی اس سے باتیں کرتی تهیں ابو سے بہرحال وہ مہینوں بعد رسمی گفتگو کر ہی لیا کرتی. ....
وہ ٹیرس پر کهڑی تهی اور پرندوں کو آسمان پر جهومتے دیکھ رہی تھی. .جب ہوسٹل کا چپڑاسی اس کے پاس آیا اور اس نے ایک پرچی اس کی طرف بڑهائی......وہ پرچی اس نے کهولی.....
اس پہ لکهی تحریر دیکھ کر وہ بالکل ساکت ہی رہ گئی ...
" تم ابهی تک یہیں ہو پاکستان نہیں گئیں لڑکی. ..لگتا ہے تمہیں اپنی زندگی پیاری نہیں ہے. "..تحریر کے الفاظ ہتهوڑے کی طرح اس کے دماغ میں برسنے لگے...کچھ دنوں سے وہ اس معاملے کو نظرانداز کیے ہوئے تهی...کوئی مذاق سمجھ کر. ..لیکن وہ سب ایک بار پھر اس کے سامنے آکر کهڑا ہو گیا.. یہ سب کون کر رہا ہے اس کی جان کا دشمن کون ہو سکتا ہے. .یہ سوال ایک بار اس کے دماغ میں تها...اسے انہی دو لڑکوں پر شک تها جسے اس نے تهپڑ مارا تها...یا پھر شاید وہ افریقن لڑکا جسے پہلے ہی دن اس نے کمرے سے نکلوا دیا تها...یا پھر مائیکل. ...؟.
لیکن یہ سب تو مائیکل کے ملنے سے پہلے ہی ہو رہا تھا..ہو سکتا ہے یہ مائیکل ہی ہو...اسے کچھ دنوں پہلے مائیکل کو مارا ہوا وہ تهپڑ یاد آیا ....اور اس کا شک یقین میں بدل گیا......
اگلے دن انوشیر سے باتوں باتوں میں اس نے ان لڑکوں کیا ذکر جنہوں نے سڑک پر بدتمیزی کی تهی..انوشیر سے یہ سن کر اسے حیرت ہوئی وہ لڑکے جیل میں ہیں اور وہ بھی اسی دن سے جس دن سے انہوں نے بدتمیزی کی تهی. ..اب الجهن مزید بڑھنے لگی...شک کے دائرے میں اب وہ افریقن لڑکا اور مائیکل تهے...ان ہی دونوں میں سے کوئی یہ سب کر رہا ہے اسے یقین تها. ......
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
آٹھ مہینے وہ گزار چکی تهی اب صرف چار مہینے بچے تهے .. پهر اسے پاکستان واپس جانا تها ایک بڑی سی ڈگری لیے..... لندن کی سرزمین کو ہمیشہ کے لیے چهوڑ کر...پهر وہی مشرقی زندگی. .ابو کی مرضی سے کسی بھی انجان لڑکے سے شادی وہی گھریلو زندگی. .دو چار بچے...کچن. .ساس سسر کی خدمت. . ..اور اس کے خوب ان کا کیا....؟
اس کے خواب تو ان سب چیزوں کے بیچ ادهورے ہی رہ جائیں گے. .وہ ناول جیسا ہیرو ایک بہت پیار کرنے والا شخص. ...وہ سب سپنے ٹوٹ جائیں گے.....وہ اس دن گهاس پر بیٹهے بیٹهے سوچ رہی تھی. .....
" زندگی کتنی تیز گزرتی ہے ناں پوجا...پتا ہی نہیں چلتا...اب لگتا ہے یہ سب کل کی بات ہو میں لندن آئی اور پہلے ہی دن کچن میں زور دار آگ لگائی"......
" پهر تمہیں کس نے بچایا."..پوجا نے تجسس سے پوچها. ...پتا نہیں تها کوئی....پروفیسر صاحب نے بتایا کسی نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میری جان بچائی لیکن میں کهبی اس سے ملی نہیں . .....وہ اداسی سے بولی......
" کہیں وہ انوشیر تو نہیں تها." ....پوجا نے اندازہ لگایا...اس نے سر نفی میں ہلایا.....
"نہیں وہ انوشیر نہیں تها کیونکہ انوشیر سے میں بعد میں ملی تھی. ..اور انوشیر شروع شروع میں کافی روڈ تها...بات بھی نہیں کرتا تها..."..
" واہ یار یہ تو پهر کوئی فلمی سین ہو گیا...کہیں تمہارے ناول کا ہیرو تو نہیں نکل کر آ گیا تمہیں بچانے"....
" ہو سکتا ہے. ."..پوجا کهلکلا کر ہنس پڑی. ..لیکن وہ سوچ میں گم ہو گئی اس سوال کا جواب تو اسے واقعی کهبی نہیں ملا وہ کون تها....اور اس دن ندی کے پاس " وہ چوڑیاں پهینکنے والا.....؟
اور وہ چاولوں میں زہر ملانے والا....؟
پرس میں ڈائمنڈ رنگ ڈالنے والا....".؟
یہ کچھ ایسے لوگوں تهے جو اسے کهبی نہیں ملے...
اس کے سر میں درد ہونے لگا. ......
اگلے دن موسم اچها تها اس کا موڈ تها باہر کهانے کو اور وہ تیار بھی ہوئی...اس نے انوشیر کو میسج کیا...انوشیر نے جواب میں کہا وہ بزی ہے نہیں آ سکتا...اس کا موڈ آف ہو گیا....اس کی کمپنی بورنگ ہی سہی لیکن اتنی بری کم از کم نہیں تهی......
اور اب یونیورسٹی میں اس کا موڈ مزید آف ہوتا اس لیے مجبوراً اکیلی ہی باہر نکل آئی...بادل آسمان کو گھیرے ہوئے تهے ...کئی لوگ سڑکوں پر دکهائی دیے اسے...
وہ ہاتھ بڑها کر ٹیکسی روکنے لگی. ..ٹیکسی روک کر وہ ہوٹل میں آئی....ہوٹل میں اس وقت کافی رش تها. ..وہ ہمیشہ اسی ہوٹل میں آتی تهی وہ ہوٹل زیادہ بڑا نہیں تها لیکن وہاں کا ماحول صاف اور پرسکون ضرور تها. ....وہ ایک کرسی پر جا کر بیٹھ گئی اس کے سامنے گلاب کے تازہ پهول رکهے ہوئے تهے...وہ ان پهولوں کی خوشبو میں کهو گئی...ویٹر آ کر اس کا آرڈر لینے لگا...اس نے اپنے لیے ایک سادہ سی ڈش منگوائی....ہوٹل میں ایک شخص گٹار بجا رہا تھا اس کی دهن میں ساری دنیا کہ اداسی سمائی ہوئی تهی...ایسے جیسے کچھ بچھڑنے کی آواز....جیسے کچھ ٹوٹنے کی آواز ہو.....وہ ٹهوڑی تلے ہتھیلی رکھ کر بے اختیار اس دهن بجانے والے کو دیکهتی رہی....
آس پاس ہر طرف لوگ تهے اور وہ درمیان کے ہی ایک ٹیبل پر بیٹهی تهی. ...ویٹر کهانا سرو کر کے جا چکا تها. ..وہ بے دلی سے کهانا کهانے لگی......
بہت اچانک اسے احساس ہوا جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہے. ..پیچھے آگے دائیں بائیں اس نے ہر طرف دیکها..پهر اسے یہ سب وہم لگا. .....
اچانک ایک زور دار گولی چلنے کی آواز گونجی....اور وہ گولی عین اس کے ٹیبل پر رکهے گلدان کو لگی....اس کی چیخ نکل گئی وہ بے اختیار کهڑی ہو گئی. .پورے ہوٹل میں شور پهیل گیا. .اس نے ڈر کر پیچھے دیکها....اور دروازے سے بهاگتے ہوئے جس شخص کو اس نے دیکها اس کے بعد سانسیں اس کا ساتھ چهوڑنے لگی تهیں...بے یقینی کی آخری سیڑھی تهی وہ جس پر آیت اس وقت کهڑی تهی.....وہ بهاگ کر دروازے تک آئی..وہ شخص ہوٹل سے باہر نکل چکا تها ...اس نے دور سے اس شخص کو بهاگتے ہوئے دیکها... ہوٹل میں ایک تہلکا مچا ہوا تها....لوگوں کی گہما گہمی تهی کئی لوگ اس سے ٹکرا رہے تھے لیکن وہ وہیں دروازے پر ہی پتهر بن گئی...اس بات میں کوئی شک نہیں تها وہ انوشیر ہے...اب یقین کرنے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا تها. .سب کچھ سامنے تها...بالکل قریب....اسے لگا وہ کهبی ہل نہیں سکے گی....کتنی دعائیں کی تهیں اس نے. ..کاش یہ شخص یہ سب نہ کر رہا ہو...لیکن وہی یہ سب کر رہا تھا. ...
اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر جیسے اپنی چیخ دبائی. ..وقت کی سوئی رک گئی...آس پاس آوازیں آنا بند ہو گئیں اس کا دل و دماغ صرف ایک ہی بات سوچ رہا تها. .
انوشیر اسے مارنا چاہتا ہے. ...وہ اس کا قتل کرنا چاہتا ہے وہ کئی بار ایسا کرنے کی کوشش کر چکا ہے لیکن وہ ہر بار بچ جاتی ہے. .....اسے حیرت سے زیادہ دکھ تها ..ساتھ ساتھ چلنے والے صرف دوست نہیں ہوتے. ..دشمن بھی ہوتے ہیں تو کیا انوشیر بھی اس کا کوئی دشمن تها...کوئی پرانی دشمنی. .....جس کا بدلہ وہ اس سے لے رہا ہے. .....جو بھی تها لیکن آیت آج ٹوٹ چکی تهی ..........
آیت ہوٹل میں بیٹهی تهی__آس پاس ہر طرف لوگ تهے. ...ویٹر کهانا سرو کر کے جا چکا تها. ..وہ بے دلی سے کهانا کهانے لگی......
بہت اچانک اسے احساس ہوا جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہے. ..پیچھے آگے دائیں بائیں اس نے ہر طرف دیکها..پهر اسے یہ سب وہم لگا. .....
اچانک ایک زور دار گولی چلنے کی آواز گونجی....اور وہ گولی عین اس کے ٹیبل پر رکهے گلدان کو لگی....اس کی چیخ نکل گئی وہ بے اختیار کهڑی ہو گئی. .پورے ہوٹل میں شور پهیل گیا. .اس نے ڈر کر پیچھے دیکها....اور دروازے سے بهاگتے ہوئے جس شخص کو اس نے دیکها اس کے بعد سانسیں اس کا ساتھ چهوڑنے لگی تهیں...بے یقینی کی آخری سیڑھی تهی وہ جس پر آیت اس وقت کهڑی تهی.....وہ بهاگ کر دروازے تک آئی..وہ شخص ہوٹل سے باہر نکل چکا تها ...اس نے دور سے اس شخص کو بهاگتے ہوئے دیکها... ہوٹل میں ایک تہلکا مچا ہوا تها....لوگوں کی گہما گہمی تهی کئی لوگ اس سے ٹکرا رہے تھے لیکن وہ وہیں دروازے پر ہی پتهر بن گئی...اس بات میں کوئی شک نہیں تها وہ انوشیر ہے...اب یقین کرنے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا تها. .سب کچھ سامنے تها...بالکل قریب....اسے لگا وہ کهبی ہل نہیں سکے گی....کتنی دعائیں کی تهیں اس نے. ..کاش یہ شخص یہ سب نہ کر رہا ہو...لیکن وہی یہ سب کر رہا تھا. ...
اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر جیسے اپنی چیخ دبائی. ..وقت کی سوئی رک گئی...آس پاس آوازیں آنا بند ہو گئیں اس کا دل و دماغ صرف ایک ہی بات سوچ رہا تها. .
انوشیر اسے مارنا چاہتا ہے. ...وہ اس کا قتل کرنا چاہتا ہے وہ کئی بار ایسا کرنے کی کوشش کر چکا ہے لیکن وہ ہر بار بچ جاتی ہے. .....اسے حیرت سے زیادہ دکھ تها ..ساتھ ساتھ چلنے والے صرف دوست نہیں ہوتے. ..دشمن بھی ہوتے ہیں تو کیا انوشیر بھی اس کا کوئی دشمن تها...کوئی پرانی دشمنی. .....جس کا بدلہ وہ اس سے لے رہا ہے. .....جو بھی تها لیکن آیت آج ٹوٹ چکی تهی
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
الجهن تهی..سوال تهے..کوئی بہت بڑا پزل تها جو اسے حل کرنا تها...یہ کیا ہو رہا تها اس کے ساتھ. .؟ انوشیر رضا کون ہے اور وہ کیا چاہتا ہے اس سے...وہ اسے مارنا چاہتا ہے کیوں ...اس نے تو کهبی کسی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا پهر وہ اس کا دشمن کیوں بن گیا.....

لیکن وہ اسے مار کیسے سکتا ہے وہ تو اسے مارنا بھی نہیں چاہتا اگر ایسا ہوتا تو وہ اسے اس دن شاپنگ مال والے حادثے سے نہ بچاتا....اور پھر اس دن جو ہیوی لوڈر آ رہا تھا وہ اگر اسے مارنا چاہتا تھا تو اسے بچے کے لیے کم از کم خود تو اس ہیوی لوڈر کے نیچے نہیں آتا.....اور آج ....؟
وہ بے بسی سے سر تهام کر بیٹھ گئی .جو شخص اتنا مذہبی ہے اس کی آنکھوں میں دیکهنے سے کتراتا ہے ..وہ اتنا بڑا گناہ کیسے کر سکتا ہے. ...
وہ اسے نہیں جانتا تھا مدد لینے وہ خود گئی تھی اس کے پاس....اور بعد میں بھی کچھ ایسا نہیں ہوا جس سے وہ اس کا دشمن بن جاتا.....یہ سوال وہ تهے جو اس کے ذہن میں تهے وہ انوشیر سے پوچهنا چاہتی تهی لیکن اس سے پوچھ نہیں سکتی تھی. .اگر اس ننانوے فیصد یقین تها یہ سب انوشیر کر رہا ہے تو ایک فیصد بے یقینی بهی تهی.....ایسا بھی ہو سکتا ہے وہ یہ سب نہ کر رہا ہو لیکن یہ نا ممکن تها اپنے دل کو جهوٹی تسلی دینے والی بات تهی....خود اس نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکها ہے ایک بار نہیں دو بار. ..وہ کم از کم انوشیر کو پہچاننے میں تو غلطی نہیں کر سکتی....اور اسے یاد آیا ہوٹل جانے سے پہلے اس نے انوشیر کو میسج کیا تها ....وہ ہوٹل جا رہی ہے یہ بات تو صرف انوشیر ہی جانتا تها وہ ایک فیصد بے یقینی بهی ختم ہو گئی....آیت کو یقین تها وہ اس بار غلط نہیں ہے. ..لیکن یہ سب اس کے ساتھ کیوں کیا جا رہا ہے بس یہی معلوم کرنا تها اسے...اور وہ یہ معلوم کرنا چاہتی تهی. ...
اس نے کئی بار انوشیر کی آنکھوں میں دیکها. .جن میں ہمیشہ معصومیت ہوتی کوئی دهوکہ کوئی فریب نہیں تها ان آنکھوں میں. .یا تو انوشیر کی آنکهیں اسے دهوکہ دے رہی تهیں یہ اس کی خود کی آنکهیں....
وہ بیڈ پر بیٹھ گئی..الجهنیں بڑهتیں جا رہی تهیں وہ جتنا سوچ رہی تهی سوال اتنے ہی بڑهتے جا رہے تھے. ..
انوشیر اس کے ساتھ ایسا کیوں کرے گا...؟
یہ سوال ایک بار پھر سے آ کر کهڑا ہو گیا. ...اور یہی سوال اسے سب سے زیادہ تنگ کر رہا تھا. .یقین کرنا مشکل تها وہ ایسا کچھ کر سکتا ہے. ...
" وہ دهمکی بهرے ختم بهیجنا..؟
وہ شاپنگ مال کا ایکسڈینٹ...؟
وہ ہیوی لوڈر والا ایکسڈینٹ. ...؟
وہ کهانے میں زہر.....؟
اور آج اس پر گولی چلانا. ....؟
اور دوسری طرف. ....
پل پل اس کا خیال رکهنا...
ہر بار اس کی مدد کے لیے آنا....
اس کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنا."....
یہ سب چیزیں کوئی ایک انسان تو نہیں کر سکتا. .؟ کیا ایسا ممکن ہے کوئی انسان کسی سے محبت بھی کرے اور نفرت بھی ...اس کا اس حد تک خیال رکهے کہ اس کے لیے اپنی جان پر کھیل جائے اور اس سے اتنی نفرت کرے اس پر گولی چلا دے....
یہ بہت بڑی پہیلی تهی اور اس پہیلی کا جواب انوشیر ہی دے سکتا تها ... ایک الجهن وہ سلجھا چکی تهی کم از کم اسے یہ تو پتا چلا یہ سب کون کر رہا ہے. .اس نے سوچا یہ سب مائیکل یا اس افریقن لڑکے کا کام ہے ایک نام جو اس نے نہیں سوچا تها اور نہیں سوچنا چاہتی تهی وہ انوشیر کا تها ... وہ کهبی یقین نہیں کرتی اگر سب کچھ اپنی آنکھوں سے نہ دیکهتی.....آنکهیں دهوکہ ضرور کهاتی ہیں لیکن جهوٹ کهبی نہیں بولتیں.....
سر درد سے پهٹ رہا تھا. .پوجا بھی نہیں تهی وہ کچن میں چلی آئی اور اپنے لئے چائے بنانے لگی....
" تیار ہو جاو انوشیر. .."..اس نے سوچا ....
"میں آوں گی اور تم سے ایک ایک سوال کا جواب جان کر ہی رہوں گی ..تم مجهے اس بار جهٹلا نہیں سکو گے..".
انوشیر نے شیلف سے قرآن پاک نکالا اور صوفے پر بیٹھ گیا. .اس نے سفید ٹوپی پہنی جو وہ نماز کے وقت پہنتا تها...چہرے پر معصومیت تهی....
وہ قرآن پاک کهول کر پڑهنے لگا روزانہ صبح شام وہ قرآن پاک کی تلاوت کرتا تها. ..وہ ترجمے والا قرآن پاک تها...اس کی انگلی اس آیت پر تهی جسے وہ پڑھ رہا تھا. . ...
اور جهوٹ.....اس سے آگے وہ پڑھ نہیں سکا...اس کی آنکهیں نم ہو گئیں جب کهبی وہ کہیں لفظ جهوٹ دیکهتا تو اسے اپنے آپ پر غصہ آنا لگتا...ایک شرمندگی ایک پچهتاوا ہونے لگتا. .....نماز قرآن روزوں کی پابندی کے باوجود اس نے جهوٹ بولا.....وہ شرمندہ تها. ....
لیکن مزید وہ اس جهوٹ کے دلدل میں نہیں رہ سکتا تها اس نے آیت سے جو جهوٹ بولا وہ اسے تیر کی طرح چهبنے لگا.....اسے وہ جهوٹ نہیں بولنا چاہیے تھا. ..
لوگوں کو سچ اور ایمانداری کا درس دینے والا وہ شخص خود اتنا بڑا جهوٹ کیسے بول سکتا تها. ...اب وقت آ گیا تها آیت کو سب سچ بتانے کا.....وہ مزید اس جهوٹ کے سہارے نہیں چل سکتا تھا. ....
وہ اس کے بارے میں کیا سوچے گی...سچ جان لینے کے بعد. ...وہ اس سے ناراض ہوگی یا شاید نفرت کرے گی
اس سے مزید قرآن پاک کی تلاوت نہیں ہو سکی اس نے قرآن پاک کو واپس شیلف میں رکھ دیا...اور وہیں سرخ آنکھوں کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا. .........
دروازے کی گهنٹی بجی. ....کچھ وقفے کے بعد وہ دروازہ کهولنے چلا گیا...سامنے آیت کو دیکھ کر وہ حقیقتاً چونکا....وہ بنا کسی وجہ کے کهبی اس کے اپارٹمنٹ نہیں آئی تھی ......
وہ سیاہ چادر کو اپنے گرد پھیلائے ہوئے تهی....انوشیر کچھ لمحے اس کی آنکھوں میں دیکهتا رہا. .کیا تها اس کی آنکھوں میں ....کوئی پوشیدہ شکوہ...
انوشیر دروازے کے سامنے سے ہٹ گیا وہ اندر چلی آئی....وہ کل رات سے سو نہیں سکی کچھ سوال اسے بہت تنگ کر رہے تھے. .......
ان سوالوں کے جواب شاید سامنے کهڑا شخص ہی دے سکتا تها. .....
" کیسی ہیں آپ...." ؟ انوشیر اس کی آنکھوں سے ڈر گیا تها. .کون سا تاثر تها اس کی آنکھوں میں اس وقت...
"کیسی ہو سکتی ہوں. ."..؟ یہ سوال کے جواب میں سوال تها ..اور یہ وہ جواب نہیں تها جو وہ ہمیشہ دیتی تهی...آج کچھ تو تبدیلی تهی...انوشیر کو لگا وہ اسے ہوٹل میں دیکھ چکی ہے. .........
"آپ مجهے ناپسند کرتے ہو...."؟ آیت نے انوشیر کی آنکھوں میں دیکها تها. ....وہ اس سوال کو سمجھ نہیں سکا....
"آپ مجھ سے غصہ ہو....".؟ دوسرا سوال بھی فراٹے سے کیا گیا ...انوشیر نگاہیں نیچے کیے کهڑا تها...مطلب وہ اسے ہوٹل میں دیکھ چکی تهی. ....
" آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں. ."..؟ بڑا درد ناک سوال تها یہ.....آیت کی آنکهیں نم ہوئیں تهیں..وہ بهرائی ہوئی آواز میں پوچھ رہی تھی. ... .
"نفرت. ..؟ اور اس سے. "....کیا ایسا ممکن تها....

"آپ کا دل چاہتا ہے مجهے قتل کر دیں...ہے ناں"....؟ انوشیر کے دل میں خنجر چلا تها.. کیا وہ ایسا چاہ سکتا ہے. ..آیت کی آنکھوں میں آنسو تهے. .ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کے آنسو سے اسے تکلیف ہونے لگی....
آپ مجهے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں. ....؟ وہ خاموش رہا. . کوئی جواب ہی نہیں تها اس کے پاس....
"مہ...مہ...میں ایسا .."...وہ بول نہیں سکا...وہ اسے سچ بتانا چاہتا تھا. ..لیکن الفاظ بولنے سے انکاری ہو گئے.......
"یہ لیں مجهے قتل کر دیں .."..انوشیر نے سر اٹها کر اسے دیکها. .اس کے ہاتهوں میں ایک بہت بڑا خنجر تها..جسے وہ دونوں ہاتهوں سے اس کی طرف بڑهائے کهڑی تهی. .انوشیر کو وہ خنجر اپنے اندر اترتا ہوا محسوس ہوا. ..........
" یہ ...یہ آپ کیا کر رہی ہیں"...وہ گڑگڑا گیا......
"میں کیا کر رہی ہوں...آپ بتائیں آپ کیا کر رہے ہیں". ..؟وہ زور سے چلائی...
"..جهوٹ کیوں بولا آپ نے مجھ سے. .". ؟ وہ نگاہیں چرا گیا......
$مجهے قتل کر کے آپ کو کیا ملے گا"...؟ اس کی آواز جیسے خلا سے آئی ہو.....
" میں آپ کو قتل نہیں کرنا چاہتا میں تو ."...آیت نے اس کی بات کاٹ دی. ......
"قتل نہیں کرنا چاہتے تو اس رات میرے کمرے میں کیا کرنے آئے تھے اور مجهے دهمکی کیوں دی...میں نے اپنی آنکھوں سے دیکها تها اور وہ پرچی جس پر آپ نے دهمکی لکھ کر بھیجی تھی کہ میں لنڈن چهوڑ دوں ...کیا وہ سب جهوٹ تها..اور کل ہوٹل میں گولی کس نے چلائی کیا آپ نے مجھ پر گولی نہیں چلائی...میں نے اپنی آنکھوں سے دیکها تها آپ کو ہوٹل سے باہر نکلتے ہوئے. ....اگر مجهے مارنا ہی تو اپنے ہاتهوں سے مارو میں اف تک نہیں کروں گی. .لیکن اس طرح پیٹھ پیچهے تو وار مت کرو..جهوٹ تو مت بولو..
یوں میرے بهروسے کا خون تو مت کرو .......آپ کے اندر دل نام کی کوئی چیز بھی ہے یا نہیں. ."
انوشیر تاسف سے اسے دیکهے گیا. ...
کتنی بدگمان تهی وہ لڑکی اس سے.. وہ اس سب کہانی کو اپنا من چاہا رنگ دے رہی تهی وہ سچ نہیں جانتی تھی. .وہ جو دیکھ چکی تهی وہی سوچ رہی تھی اسے وہی سوچنا تها......
"آپ نے ایسا کیوں کیا. .آپ نے میری اتنی مدد کی ..پهر مجهے مارنا بھی چاہتے ہو...آپ کی میرے ساتھ کیا دشمنی ہے. شرم آنی چاہیے آپ کو...آئندہ میں آپ سے کهبی مدد نہیں لوں گی آپ سے کهبی بات نہیں کروں گی..."....وہ روتے ہوئے ایک ایک قدم اٹهاتی پیچھے جا رہی تهی. ..وہ اسے روک نہیں سکا ...وہ اسے روکنا نہیں چاہتا تھا. .اس وقت اگر وہ اسے سچ بتا بھی دیتا وہ کهبی یقین نہیں کرتی. .ایسے میں اسے سچ بتا کر اپنی عزت گوانے کے مترادف تها. ....لیکن بنا سچ جانے وہ کیا کیا سوچ رہی تهی. ..اس نے اپنی آنکھوں میں نمی محسوس کیا.....وہ وہیں صوفے پر نڈهال سا گر گیا....
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
انوشیر کے ساتھ آیت نے رابطہ ختم کر لیا تها .کهبی کهبی اسے افسوس ہوتا اس رشتے کے ٹوٹ جانے پر..لیکن پهر وہ خود کو سمجهاتی جو رشتہ کهبی بنا ہی نہیں اس کے ٹوٹ جانے پر ملال کیسا....
انوشیر نے جو کیا وہ اسے نہیں کرنا چاہیے تها لیکن اس نے ہی یہ کیوں کیا یہ بات وہ نہیں جان سکی...اور اسے یقین تها وہ یہ سب کهبی نہیں جان سکے گی....کچھ سوالوں کے جواب اسے نہیں ملنے تهے .. لیکن ایک فائدہ بہرحال اسے ضرور ہوا تها اس نے انوشیر کے ساتھ رابطہ ختم کیا اس کے بعد سے اسے کوئی دهمکی آموز پرچیاں موصول نہیں ہوئیں.....
انوشیر نے خود سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی. .کچھ سفر زندگی میں بہت مختصر وقفوں کے لیے ہوتا ہیں ایسا ہی ایک سفر یہ بھی تها.....وہ دل لگا کر پڑهائی میں مصروف ہو گئ..وہ خود کو ہر طرح سے مصروف رکهنا چاہتی تهی. .جب کهبی وہ مایوس یا اداس ہوتی تو خود کو یہی سمجهاتی وہ یہاں .ان سب چیزوں کے لیے نہیں آئی ...لندن میں پڑهائی ہی اس کا خواب تها اور اسے بس وہی خواب پورا کرنا تها ویسے بھی یہاں اس کا قیام اب کم ہی رہ گیا تها.......
کچھ دنوں تک وہ ایگزامز دے کر پاکستان چلی جائے گی وہاں کوئی انوشیر نہیں ہوگا...
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اسی دوران پوجا نے سیر و تفریح کے لیے پلان بنایا ..اور اس پلان میں اس نے آیت کو بھی شامل کرنا چاہا. .گھومنے پھرنے کی وہ ویسے بھی شوقین تهی اور اس بار اسے پوجا کا پلان بھی معقول لگا تو وہ تیار ہو گئی.....پوجا نے یہاں سے چند کلومیٹر فاصلے پر ایک پہاڑی علاقے کے بارے میں بتایا...وہاں ایک خوبصورت جنگل ہے جہاں مختلف قسم کے درخت پائے جاتے ہیں. ..اور خوبصورت پہاڑ بھی ہیں تو وہاں جا کر ایک دن گزارنے میں کوئی مضائقہ نہیں تها. ......
پوجا اکیلی نہیں جا رہی تهی اس کا ایک بوائے فرینڈ بھی اس کے ساتھ تها اس بات پر اس نے اعتراض کرنے کی کوشش کی لیکن پوجا نے اس سے وعدہ کیا وہ پہلے کی طرح اسے اکیلا نہیں چهوڑے گی...ویسے بھی وہ ٹرپ صرف ایک دن کے لئے ہی تها......
یعنی صبح جانا تها اور شام کو واپس آنا تھا. .زیادہ دور بھی نہیں تها...اپنے آپ کو مصروف رکهنے اور الجهنیں کم کرنے کے لیے اسے یہی سب ٹهیک لگا........
پوجا نے بتایا تها وہ کافی سرد جگہ ہے اس لیے گرم کپڑے اور شال لے جانا ضروری ہے. ..اس نے نیلے فراک کے اوپر سفید سویٹر پہن لیا تها...اور دستانے بھی پرس میں رکھ دیے تهے.....
"تمہیں کهانا میں کیا پسند ہے. ."..؟ پوجا اچانک ایک کاغذ قلم لیے نمودار ہوئی....
"کچھ بهی جو تم لوگوں کو پسند ہو..."..وہ اس وقت ناول لیے بیٹهی تهی. ..پوجا کا جو بوائے فرینڈ تها جس کا نام اس نے رابرٹ بتایا تها وہ ابهی تک آیا نہیں تها اور اس کے آنے میں ابهی ڈیڑھ گهنٹہ باقی تها......
پهر بھی تمہاری اپنی بهی تو پسند ہوگی ...؟ پوجا پنسل منہ میں دبائے سوچ میں پڑ گئی. ....
"کچھ بهی برگر ، چپس وغیرہ بهی صیح رہے گا"...اس نے اپنی رائے دی....
"او ہیلو محترمہ ہم یہاں سے کچھ لے کر نہیں جا رہے ہم سب کچھ وہیں بنائیں گے تو کسی ایسی چیز کا نام بتاو جسے بنانا آسان ہو.." ....
اس نے چونک کر سر اٹهایا .....
"سب کچھ وہاں کیسے بن سکتا ہے ..."؟ وہ حیران ہوئی..
"یہی تو مزا ہے میری جان....".پوجا اب کاغذ پہ کچھ لکھ رہی تھی. ...وہ ابهی بهی الجهی ہوئی تھی. ...
"لیکن تم نے تو کہا تها وہ پہاڑی علاقہ ہے اور وہاں ہر طرف جنگل ہے..."..اس نے پوجا کو یاد دلایا .....
"ہاں تو کیا ہوا...پہاڑی علاقے میں اپنے لیے کچھ بنا کر کهانا کتنا زبردست لگے گا ناں...".
" زبردست. .".؟ کافی عجیب نہیں لگے گا.....
" کچھ بهی عجیب نہیں لگے گا...تم تو ہو ہی بور. ..
گوشت کتنا کافی رہے گا...".؟ پوجا نے اس سے رائے طلب کی. ....
"میں کیا کہہ سکتی ہوں ...تمہیں پتا...میں تو ابهی تک مراقبے میں ہوں...کمال کا سین ہوگا ناں ہم لوگ جنگل میں سو سال پرانے لوگوں کے جیسے اپنے لیے کهانا بنا رہے ہوں گے... .."..
پوجا نے اسے گهورنے پر اکتفا کیا. .نیچے رابرٹ کی ہارن سنائی دی...وہ دونوں پہلے سے ہی تیار بیٹهیں تهیں .
ہارن کی آواز سن کر دونوں کهڑی ہوئیں...پوجا نے ایک آخری نظر آئینے میں دیکها اور برتن اٹها کر باہر نکل گئی..وہ بهی پرس اور موبائل اٹها کر باہر آئی اس نے کمرے کا دروازہ لاک کر دیا...یونیورسٹی کی خوبصورت سڑک پر رابرٹ اپنی گاڑی میں ان کا منتظر تها......
اس کی گاڑی بنا چهت والی تهی اس نے رابرٹ کو سلام کیا...وہ چهوٹے قد والا ایک سفید فام انگریز تها...داڑھی نہیں تهی ہلکی ہلکی موچھیں چمک رہی تهیں...سر پہ اس نے کیپ پہنا ہوا تها..
وہ ونڈو کهول کر پوجا کے برابر بیٹھ گئی. .پوجا نے خوشی خوشی سن گلاسز لگائے اور کار ایک لمبے سفر کے لیے نکل پڑی....مارکیٹ سے انہوں وہ سامان بھی خریدا جس کی لسٹ انہوں نے بنائی تهی.....
گاڑی فل سپیڈ سے چل رہی تهی. .ساتھ میں خوبصورت انگریزی گانا بھی لگا تها..پوجا جهوم جهوم کر تالیاں بجا رہی تهی لیکن وہ اداس تهی.....
افسردہ چہرے کے ساتھ وہ باہر سڑک پر موجود درختوں کو دیکهے جا رہی تھی. .درخت بھی جواباً اداس لگے اسے....آسمان پر بادل تهے...نیلے رنگ کا آسمان اس وقت بالکل سیاہ ہو چکا تها...بارش بھی آنے والی تهی. ..اگر بارش آ گئی تو یہ لوگ کہاں جائیں گے...؟ کیا کریں گے...وہ ایسا کچھ بھی نہیں سوچ رہی تھی اور پوجا کی طرف سے بھی ایسی کوئی پریشانی نظر نہیں آ رہی تھی وہ خود کو اس وقت پوجا اور رابرٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی تهی. ..ہاں اس وقت وہ یہ نہیں جانتی تھی آگے چل کر اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے. ..رابرٹ پورے راستے خاموش رہا. .وہ زیادہ بولتا نہیں تها شاید....ایک گهنٹے بعد ان کی گاڑی ایک سنسان جنگلی راستے میں داخل ہو گئی....پوجا نے ہم پہنچ گئے کا زور دار نعرہ لگایا. ....گاڑیوں رابرٹ جهاڑیوں کے بیچ لے گیا...وہ اس جگہ کو دیکھ کر حیران رہ گئی وہ ایسی کوئی جگہ نہیں تھی جہاں قیام کیا جاتا یا پھر کوئی تفریح ہو سکتی. .....
آس پاس ہر طرف جنگل تها..درخت تهے درخت تهے...اس کے قد سے کہیں زیادہ اونچے اونچے درخت تهے...زمین پر سوکھے ہوئے پتوں کا ایک ڈھیر تها جو ہوا کی وجہ سے ادهر ادهر اڑ رہے تھے اور عجیب آوازیں پیدا کر رہے تھے. ......

وہ ان پتوں پر پوجا کے ساتھ چلتی ہوئی آگے بڑهی تهی. ..رابرٹ بہت پیچھے رہ گیا. ..
انسان تو کیا اسے کوئی جانور یا کوئی پرندہ بھی نظر نہیں آیا...یہ کیسا جنگل تها. ..ایک خوفناک جنگل جیسے فلموں میں ہوتے ہیں. ..اگر دن کا وقت نہ ہوتا اور پوجا اس کے ساتھ نہ ہوتی تو وہ یقیناً اس جنگل میں اپنے حواس قابو نہ رکھ پاتی........
" کیا تم اسی جنگل کی بات کر رہی تهیں." ..؟ اس نے چلتے چلتے پوجا سے پوچها.....
"ہاں ...کیوں اچها نہیں لگا کیا....؟" پوجا نے پوچها. .
"اچها.."؟تو کیا اس جنگل میں کچھ ایسا تها جو اسے اچها لگتا...وہاں تو اسے ایسا کچھ بھی نظر نہیں آیا جو اسے اچها لگتا لیکن اس نے پوجا سے مزید بحث نہیں کی. ..بحث کا فائدہ بھی تو نہیں تها اب کم از کم وہ لوگ واپس تو نہیں لوٹ سکتے تھے. .......
پوجا ایک بڑے درخت کے نیچے آکر رک گئی..اور اس نے آس پاس کا جائزہ لیا. ....
یہی جگہ سہی ہے ناں کیمپ لگانے کے لئے. پوجا نے پوچها.....اس نے آس پاس دیکها.اور برا سا منہ بنا کر کندهے اچکائے. ..رابرٹ دور سے آتق دکهائی دیا اس کے ہاتهوں میں وہ بهاری تهیلا تها جس میں کچھ سامان تها...کچھ سامان پوجا خود لے کر آئی تھی. .....پوجا رابرٹ سے اس کی رائے لینے کے بعد وہیں خیمہ لگانے لگی ...رابرٹ اس کی مدد کر رہا تھا جبکہ وہ خاموش تماشائی بنی سب دیکھ رہی تھی. .....
اس نے موبائل نکال کر کچھ تصویریں بنائیں...لیکن اس کا موڈ کافی آف ہو چکا تھا. .اسے یہ توقع نہیں تھی پکنک کے لیے کوئی ایسی جگہ کا انتخاب بھی کر سکتا ہے لیکن اسے یہ نہیں معلوم تها پکنک کے لیے کوئی آیا بھی نہیں تها.....
پوجا کیمپ لگانے کے بعد وہیں کهانے کا سامان نکالنے لگی....اور وہیں لکڑیوں کا ایک ڈھیر اکهٹا کر کے آگ جلانے لگی. ..بادلوں کی وجہ سے ٹهنڈ بڑهتی جا رہی تهی. .پوجا نے دو چار بار کوشش کی لیکن وہ باہر ہوا کی وجہ سے آگ جلانے میں ناکام نظر آئی...پهر رابرٹ کے مشورے پر اس نے کیمپ کے اندر ہی آگ جلانے کی کوشش کی اور وہ اس کوشش میں کامیاب ہو چکی تهی...رابرٹ بهی اس کے ساتھ تها...اب وہ دونوں اسے گوشت کاٹتے اور مصالحہ بناتے دکهائی دیے....وہ دلچسپی سے انہیں دیکهنے لگی اس نے پوجا کی کئی تصویریں بنائیں...پوجا وہ سب کام ایسے کر رہی تهی جیسے برسوں سے یہ سب کرتی آئی ہو....
آدهے گهنٹے بعد رابرٹ کو وہیں خیمے میں چهوڑ کر وہ دونوں فوٹوگرافی کرنے دور نکل آئیں...لیکن دور آنے پر بھی وہ جنگل ویسا ہی تها اس میں کوئی تبدیلی نہیں تهی ...ہر جگہ ویسے ہی درخت ویسے ہی پتے.....
اسے پوجا کی حماقت پہ واقعی افسوس ہونے لگا. .لیکن وہ اس سے کچھ کہہ نہیں سکتی تھی. ...
کافی دیر تک وہ وہیں بیٹھ کر باتیں کرتی رہیں...وقت آہستہ آہستہ آگے سرک رہا تھا. ..عصر کا وقت ہو رہا تها. .بادل اب بھی ویسے ہی تهے لیکن برس نہیں رہے تهے یہ گویا ایک غنیمت تهی.......
جب وہ واپس آئیں تو رابرٹ کهانا تیار کر چکا تها. .وہیں کیمپ کے اندر بیٹھ کر ہی انہوں نے انگاروں پر بنے کباب انجوائے کیے....اور ساتھ میں کوک کی بوتلیں بھی وہ لائے تهے .....بالکل اچانک ہی اسے انوشیر یاد آیا ...اگر وہ ہوتا تو...، ؟
"وہ کہاں ہوگا. اس دن کے بعد اس نے رابطہ کیوں نہیں کیا...اپنی صفائی میں کیوں کچھ نہیں بولا". ..وہ کوک ہونٹوں سے لگائے سوچ میں پڑ گئی. .......
رشتوں کا سفر " آپ " سے شروع ہو کر " تم " تک پہنچتا ہے تبهی رشتے مضبوط ہوتے ہیں لیکن انوشیر کے ساتھ اس کا رشتہ تو آپ والا ہی تها تو پھر وہ کیوں اس کے بارے میں سوچ رہی تھی ........
شام کی سنہری روشنی سیاہی میں بدلنے لگی..جب وہ آئے تهے اس وقت ہر طرف روشنی ہی روشنی تهی اب اندهیرا چهانے لگا تها.....وہ پوجا کے ساتھ کافی گهوم پهر رہی تھی. ...وہ حیران ہوئی جب رابرٹ نے کہا ..
میں چلتا ہوں......اس نے الجهے ہوئے انداز میں پوجا کی طرف دیکها. ..
"یہ کہاں جا رہا ہے اور ہمارے چلنے کا بھی تو وقت ہوگیا ہے ناں" ...؟
" یہ پاس ہی کسی کام سے جا رہا ہے تهوڑی دیر تک واپس آجائے گا"...پوجا نے بتایا. ..اور وہ رابرٹ کو دور جاتا ہوا دیکھ رہی تھی ...دل میں کچھ خطرناک اندیشے جنم لے رہے تھے. .....پوجا اس کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی تهوڑا آگے بڑهی. ...اس نے مغرب کی نماز نہیں پڑھی وہ پوجا کو باہر چهوڑ کر نماز ادا کرنے کیمپ کے اندر چلی گئی. ....دس منٹ لگے تهے اس نماز ختم کرنے میں جب وہ دس منٹ بعد باہر نکلی تو پوجا اسے کہیں دکهائی نہیں دی.......
وہ متلاشی نگاہوں سے ادهر ادهر دیکهنے لگی...تاریکی بڑھ چکی تهی وقت پهسل رہا تها. ...
لیکن پوجا وہ کہاں تهی...کہاں چلی گئی ایسے کیسے جا سکتی ہے. ....وہ وہیں کیمپ کے پاس کهڑی ہو کر چاروں طرف دیکهنے لگی ...دور دور تک پوجا کا نام و نشان تک نہیں تها...حیرت کے ساتھ ساتھ اسے ڈر بھی لگنے لگا......وہ تهوڑا آگے آئی...اس نے منہ کے درمیان ہاتھ کا گولا بنایا اور پوجا کو زور زور سے پکارنے لگی...اس کی اپنی ہی آواز اونچے اونچے درختوں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھی. ...اس کے ماتهے پر پریشانی کی لکیریں نمودار ہوئیں....
لیکن اس نے آواز دینا ترک نہیں کیا تها ...
" پوجا.."...درختوں کے بیچ زمین اور آسمان کے درمیان اس کی آواز معلق تهی کہیں. .....
" ہائے ڈارلنگ. .."..آواز اسے پیچھے سے سنائی دی..وہ کوئی بهاری مردانہ مانوس سی آواز تهی....اس نے تیزی سے سر گهمایا اس کا دوپٹہ سر سے اتر کر کاندهوں پر آ گرا......اسے لگا زمین اسے پناہ دینے سے انکاری ہو رہا ہے. ..سامنے کهڑے شخص کو دیکھ کر اس کے حواس گم ہو گئے. ....
"مائیکل. "...؟ نہیں نہیں وہ یہاں کیسے آ سکتا ہے اس کا یہاں کیا کام...؟ وہ مکروہ مسکراہٹ لیے کهڑا تها...اس پر کپکپاہٹ طاری ہونے لگی.......
"تہ..تہ..تم یہاں کیا کر رہے ہو پوجا کہاں ہے". ...؟ وہ دو قدم پیچھے ہٹی .....
":میں یہاں ہوں".....یہ پوجا کی آواز تهی. ...اس نے پیچھے مڑ کر دیکها...پوجا ہاتھ باندهے سپاٹ چہرہ لیے کهڑی تهی. ....
"پوجا...یہ ..یہ مائیکل یہاں کیسے" ..؟ الفاظ ٹوٹے نکل رہے تھے منہ سے.....
پوجا نے ایک زور دار قہقہہ لگایا. ..پهر وہ قہقہے لگاتی گئی..اور ان قہقہوں میں مائیکل کے قہقہے بھی شامل ہو گئے...وہ پهٹی ہوئی نگاہوں سے کهبی مائیکل کو تو کهبی پوجا کو دیکهتی.......
آیت پوجا کے ساتھ پکنک پر آئی ہوئی تھی مغرب کی نماز کا وقت ہوا وہ پوجا کو باہر چهوڑ کر نماز ادا کرنے کیمپ کے اندر چلی گئی. ....دس منٹ لگے تهے اس نماز ختم کرنے میں جب وہ دس منٹ بعد باہر نکلی تو پوجا اسے کہیں دکهائی نہیں دی.......
وہ متلاشی نگاہوں سے ادهر ادهر دیکهنے لگی...تاریکی بڑھ چکی تهی وقت پهسل رہا تها. ...
لیکن پوجا وہ کہاں تهی...کہاں چلی گئی ایسے کیسے جا سکتی ہے. ....وہ وہیں کیمپ کے پاس کهڑی ہو کر چاروں طرف دیکهنے لگی ...دور دور تک پوجا کا نام و نشان تک نہیں تها...حیرت کے ساتھ ساتھ اسے ڈر بھی لگنے لگا......وہ تهوڑا آگے آئی...اس نے منہ کے درمیان ہاتھ کا گولا بنایا اور پوجا کو زور زور سے پکارنے لگی...اس کی اپنی ہی آواز اونچے اونچے درختوں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھی. ...اس کے ماتهے پر پریشانی کی لکیریں نمودار ہوئیں....
لیکن اس نے آواز دینا ترک نہیں کیا تها ...
" پوجا.."...درختوں کے بیچ زمین اور آسمان کے درمیان اس کی آواز معلق تهی کہیں. .....
" ہائے ڈارلنگ. .."..آواز اسے پیچھے سے سنائی دی..وہ کوئی بهاری مردانہ مانوس سی آواز تهی....اس نے تیزی سے سر گهمایا اس کا دوپٹہ سر سے اتر کر کاندهوں پر آ گرا......اسے لگا زمین اسے پناہ دینے سے انکاری ہو رہا ہے. ..سامنے کهڑے شخص کو دیکھ کر اس کے حواس گم ہو گئے. ....
"مائیکل. "...؟ نہیں نہیں وہ یہاں کیسے آ سکتا ہے اس کا یہاں کیا کام...؟ وہ مکروہ مسکراہٹ لیے کهڑا تها...اس پر کپکپاہٹ طاری ہونے لگی.......
"تہ..تہ..تم یہاں کیا کر رہے ہو پوجا کہاں ہے". ...؟ وہ دو قدم پیچھے ہٹی .....
":میں یہاں ہوں".....یہ پوجا کی آواز تهی. ...اس نے پیچھے مڑ کر دیکها...پوجا ہاتھ باندهے سپاٹ چہرہ لیے کهڑی تهی. ....
"پوجا...یہ ..یہ مائیکل یہاں کیسے" ..؟ الفاظ ٹوٹے نکل رہے تھے منہ سے.....
پوجا نے ایک زور دار قہقہہ لگایا. ..پهر وہ قہقہے لگاتی گئی..اور ان قہقہوں میں مائیکل کے قہقہے بھی شامل ہو گئے...وہ پهٹی ہوئی نگاہوں سے کهبی مائیکل کو تو کهبی پوجا کو دیکهتی.......
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
انوشیر نے اپنی بائیک روک دی...اور لمبے لمبے ڈگ بهرتا سیڑھیاں چڑهنے لگا. ...آیت کے کمرے کے سامنے رک کر وہ ٹهٹک گیا. دروازے پہ لاک لگا تها...وہ وہاں نہیں تهی....اسے جهٹکا لگا....وہ کہاں گئی وہ بھی رات کو اس وقت ......ایک انجانا خوف اس کے دل میں اترنے لگا.....اس نے پاس والے کمرے کے دروازے پر دستک دی....ایک بهورے بالوں والی لڑکی نکلی. ..انوشیر نے اس سے آیت کے بارے میں پوچها اسے حیرت ہوئی وہ پکنک پر گئے ہیں اور یہ جان کر اسے کرنٹ لگا وہ دونوں پکنک پہ جنگل کی طرف گئے ہیں. ..بقول اس لڑکی کے یہ بات آیت نے اسے بتائی تهی صبح....وہ افسردہ سے چہرہ لیے واپس مڑا...اس نے تاسف سے اس بند دروازے کو دیکها. .....اور ایک زور دار مکا دیوار پر مارا...غصے سے اس کا چہرہ لال ہو گیا.....
" اف یہ پوجا...."..اسے پوجا پر حد سے زیادہ غصہ آنے لگا...اس کا دل چاہا وہ پوجا کو قتل کر دے یا اب تک اس کا قتل کر چکا ہوتا تو اچھا تها........
پوجا سے اس کی ملاقات یونیورسٹی آنے کے پہلے ہی دن ہوئی...اور پہلے ہی دن وہ اسے اچهی نہیں لگی. .کافی چھچھوری اور ماڈرن تهی وہ....ایسی لڑکیوں سے وہ نفرت کرتا تها انفیکٹ وہ تو لڑکیوں سے ہی نفرت کرتا تها.....پوجا اس کے سامنے آئی اور پوجا نے اسے صاف لفظوں میں اپنی پسندیدگی بتا دی....اس کے لیے یہ نئی بات نہیں تهی ...ہر دوسری لڑکی اس پر فدا ہو جاتی وہ اپنے غیر معمولی حسن سے ناواقف کهبی نہیں رہا تها بے نیاز ضرور تها......

اس نے پوجا کو صاف لفظوں میں کہا وہ لڑکیوں میں دلچسپی نہیں رکهتا خصوصاً اس میں. ..پوجا کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی تهی شاید.....اسے اتنے صاف انکار کی توقع نہیں تهی وہ خود بھی کوئی معمولی لڑکی نہیں تهی اسے آج تک کسی نے نہیں دهتکارا ہوگا. .اسے ٹھکرانے والا پہلا لڑکا وہ تها اور پوجا کے لیے یہ بات کسی بے عزتی جیسی تهی.......
اس کے بعد پوجا آیت کے روم میں شفٹ ہو گئی...وہ اسے دیکھ چکا تھا لیکن یہ بات اس نے سرے سے ہی نظر انداز کر دی...اسے لگا وہ اب تک سب کچھ بهلا چکی ہوگی مگر وہ غلط تها.....اس کا آیت کی روم میں شفٹ ہونا کوئی اتفاق نہیں تها. ......ایک سازش تها ایک گہری سازش...اسے اس بات کا غصہ تها وہ اس سے نہیں بات کرتا آیت سے بات کرتا ہے اس کی مدد کرتا ہے اور یہی وہ برداشت نہیں کر سکی..........
اس دن آیت کهلے بازوؤں والی ٹی شرٹ پہن کر باہر نکلی تو وہ اسے کافی بری لگی...وہ ایسی لڑکی نہیں تهی جو یوں اس طرح سر عام اپنا جسم دکهاتی. ..اور اسی دن ہی دو لڑکے اسے چهیڑنے لگا اس وقت اس نے ایک پل کے لیے بھی نہیں سوچا تھا وہ پوجا کے بھیجے ہوئے لڑکے ہو سکتے ہیں. ....اس نے ان لڑکوں کو جیل بهجوا دیا تها کیونکہ یہی سہی لگا تها اسے...اس کو آیت پر بھی غصہ تها اس کے کپڑوں پر بھی اس دن پہلی بار اس نے آیت کو تهپڑ مارا...جس کا بعد میں اسے بہت افسوس بھی ہوا.........
اور پهر آیت نے اسے کال کر کے شاپنگ مال بلایا...اس دن وہ ڈائمنڈ رنگ چوری کے الزام میں گرفتار ہونے جا رہی تهی. .اسے یقین تها وہ ایسی لڑکی نہیں ہے جو چوری کرے ..لیکن یہ سب کیسے ہوا اس کی پرس میں ڈائمنڈ رنگ کہاں سے آیا کس نے ڈالا ہوگا یہ سوال اسے پریشان کر رہا تھا. ..وہ چاہ کر بھی یہ نہیں سوچ رہا تها یہ سب پوجا کر رہی ہے. .......
پوجا سے وہ ایک دو بار پهر ملا تها اور ہر بار اس نے پوجا کو رکھائی سے جواب دیا...ایک غیرت مند مرد کی یہی نشانی ہوتی ہے وہ ہر دوسری لڑکی کی طرف نہیں کهینچا چلا جاتا اور وہ بے غیرت ہرگز نہیں تها.......
پهر کچھ دنوں بعد جو ہیوی لوڈر اس سے ٹکرایا جو آیت کے اوپر آ رہا تھا اس نے اسے بہت ڈرا دیا. .اس دن پہلی بار بیٹھ کر وہ یہ سب واقعات ترتیب دینے لگا تبهی اس کی چهٹی حس نے اسے پوجا کی طرف متوجہ کیا...وہ اگلے دن سیدھا یونیورسٹی آیا تها اس نے سپاٹ لہجے میں پوجا سے کہا. ....
" تم جو یہ سب کر رہی ہو یہ کرنا بند کر دو سمجهی...ورنہ میں جو کروں گا وہ تم برداشت نہیں کرو گی."...اس نے پوجا کو دهمکی دی تهی...
":تمہیں جو کرنا ہے کرو. ..یا تو مجھ سے پیار کرو یا پهر تمہیں حاصل کرنے کے لیے میں خود ہی کوئی راستہ نکالتی ہوں. .ویسے اگر تمہارا ارادہ آیت کو بتانے کا ہے تو یہ تمہاری بهول ہے وہ میرے خلاف تمہاری کسی بھی بات کا یقین کرے گی..."...
وہ سہی کہہ رہی تھی آیت پوجا کے خلاف کسی بھی بات پر یقین کهبی نہیں کرتی. .کیونکہ اس کم عرصے میں وہ اس کی اچهی دوست بن چکی تهی....اب اسے خود ہی کچھ کرنا تها...وہ مٹهیاں بهینچے اس دن وہاں سے چلا آیا تها.....اور پھر اس نے رات کے وقت پوجا کو سب کچھ بتانے کی کوشش کی. ....وہ جب رات کو ہوسٹل کے پاس آیا...تو عین ان کے کمرے والی کهڑکی سے کوئی اندر داخل ہو رہا تھا. .اس نے حیرت سے اس شخص کو دیکھا. ....وہ جب باہر نکلا تو وہ خود اس کهڑکی کے پاس چلا گیا یہ دیکهنے اس شخص نے کہیں آیت کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچایا اور یہ دیکھ کر اسے تسلی ہوئی آیت ٹهیک ہے. .وہ کهڑکی سے نیچے کود کر باہر آیا ......اس نے بات کرنے کا فیصلہ اگلے دن تک ملتوی کر دیا. .....
اگلے دن جب آیت نے اسے افطاری پر بلایا اس نے تبهی آیت کو پوجا کی اصلیت بتانے کا فیصلہ کیا تها...لیکن چاول کهاتے ہی اسے ابکائی آئی اور وہ بے ہوش ہو گیا...ہسپتال میں جب پولیس آیت کو لے جانے لگی تو اس کا دل جانتا تها وہ معصوم ہے بے گناہ ہے اس میں بھی پوجا کی کوئی سازش ہوگی....وہ اس سے بات نہیں کر سکا. ........
کچھ دنوں تک وہ اس سے اس معاملے پر بات نہیں کر سکا ...آیت کی مائیکل کے ساتھ ہیلو ہائے ہونے لگی وہ جانتا تها مائیکل بهی اس سازش کا حصہ ہے کیونکہ اس رات اس نے مائیکل کو ہی دیکها تها...اس نے آیت کو منع کر دیا اس سے ملنے کے لیے. ..لیکن وہ احمق تهی نادان تهی اسے اس کی بات سمجھ نہیں آئی...یونیورسٹی میں بھی اس نے کہا تها" آپ کون ہوتے ہیں مجھ پر حکم چلانے والے " یہ سن کر اسے کافی تکلیف ہوئی...وہ غصے میں اس وقت وہاں سے آ گیا تها لیکن آیت کے معاملے میں وہ لاپرواہ نہیں ہوا تها...پهر جب وہ کلب میں مائیکل اور پوجا کی سازش کا شکار ہوئی...تو اسے معلوم چلا ان سب میں آیت کا کوئی قصور نہیں ان دونوں نے جال ہی ایسی بچهائی ہے وہ خود کو روک ہی نہ سکی....اسے یقین تها اب وہ دوبارہ مائیکل سے کهبی نہیں ملے گی.....اور وہی ہوا. ...
.کچھ دن بعد آیت نے اسے ہوٹل پر کهانے کے لیے چلنے کو کہا وہ بزی تها...لیکن بعد میں اسے خیال آیا وہ اکیلی ہوگی...تو وہ ہوٹل پہنچا. ..وہ اسے ڈهونڈتے ڈهونڈتے آگے آیا...پهر کسی نے پیچھے سے آیت پر گولی چلائی اور دروازے کی طرف بهاگ گیا. .وہ بھی ان کے پیچھے بهاگا ...آیت نے اس شخص کو تو نہیں البتہ اسے ضرور دیکھ لیا تها پهر اسے یقین تها وہ اس سے سوال جواب کرنے آئے گی.....لیکن وہ اس حد تک بدگمان ہوگی اس سے یہ اس نے نہیں سوچا تها......
وہ کچھ دن اس سے رابطہ نہیں کر سکا ناں اس نے رابطہ کیا تها اور آج....یہ بهیانک انکشاف وہ پوجا کے ساتھ گئی ہے. ...اس کی چهٹی حس اسے کچھ غلط اشارے کر رہی تهی. ......وہ موٹر بائیک تک آیا..اس نے کک ماری کر بائیک پوری رفتار کے ساتھ دوڑا دی۔
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وہ کنفیوژڈ ہو کر پوجا کو دیکھ رہی تھی جو بے مقصد ہنس رہی تھی. .اس کی ہنسی میں ایک چهبن تهی...مائیکل آگے بڑھ رہا تھا. ..وہ خوف سے اسے دیکھ رہی تھی. ..مائیکل نے آگے بڑھ کر اس کی کلائی پکڑی. ..اور وہ کسی معصوم شکاری کی طرح اپنے شکار کو دیکهنے لگی. .اس نے رحم طلب نگاہوں سے پوجا کی طرف دیکها. ....وہ خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی. .....
بے بسی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے. ..مائیکل اس کهینچ کر کسی طرف لے کر جا رہا تها اس نے پوجا کو آواز دی مگر پوجا نہیں سن رہی تهی...کیا ہونے والا تها آج کی رات کیا کرنے والی تهی اس کے ساتھ. ...مائیکل اسے ایک درخت کے پاس لے آیا.. پوجا بھی ایک رسی لیے اس کے پاس آئی......مائیکل نے اسے دهکا دے کر درخت کے ساتھ لگایا اور اس کے کندھوں کو زور سے پکڑ لیا.....پوجا اب وہ باریک ڈوری اس کے گرد لپیٹنے لگی ایسے جیسے اسے باندها جا رہا ہو.......
اس نے تاسف اور غم کی ملی جلی کیفیت میں پوجا کو دیکها جس کے چہرے پر رحم نام کی کوئی چیز دور دور تک دکهائی نہیں دے رہی تهی. .....
":پوجا یہ سب کیا ہے...تم ...تم ...یہ کیا کر رہی ہو..."اس نے روتے ہوئے پوجا سے پوچها......
صبر کرو میری جان ابهی تو پارٹی شروع ہوئی ہے...پوجا نے اس ڈوری کو آخری بل دیا تها....
مائیکل پیچھے ہٹا تها....وہ مائیکل کو نہیں پوجا کو دیکھ رہی تھی. .دهوکے کی ایک سیڑھی ایسی ہوتی ہے جب انسان کو دهوکے سے زیادہ دهوکہ دینے والے پر حیرت ہونے لگتی ہے ...وہ بھی حیران سی تهی. ..جب رشتوں پر سے پردہ اٹهتا ہے تو کیا ایسی ہی تکلیف دہ حقیقت سامنے آتی ہے. ..یونہی سب ختم ہو جاتا ہے. ...
"پوجا خدا کے لیے مجهے کهولو...".وہ چلائی .پوجا نے ایک زور دار تهپڑ اس کے منہ پر لگایا اور دانت چبا کر اس کی آنکھوں میں دیکها.....
"شٹ اپ. ..کوئی مشورہ نہیں سمجهی. "...اس کے بال بکهر گئے...مائیکل دور ہاتھ باندهے کهڑا تها...جیسے اس کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہو.....
"کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ ایسا...میں نے کون سا گناہ کیا ہے ."...؟ وہ بے بس ہو کر رو رہی تھی. ....
"مجهے اتنا ذلیل کیا تم نے اور پوچهتی ہو میں نے کون سا گناہ کیا ہے" ....؟
" میں نے کیا کیا ہے. ."...ایک الجهن بهرا تاثر.....
"تم انوشیر کو مجھ سے کیوں چهیننا چاہتی ہو"....؟ پوجا نے زور سے اس کے بالوں کو پکڑا.......
"انوشیر. .."؟ آیت نے انوشیر کا نام دہرایا وہ کہاں سے آ گیا بیچ میں. ..
"ہاں میں انوشیر سے محبت کرتی ہوں لیکن وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا..."...پوجا نے دکھ کے ساتھ اسے دیکها. .." جانتی ہو وہ مجھ سے محبت کیوں نہیں کرتا.."..؟ آیت نے اس کی آنکھوں میں دیکها....
" کیونکہ وہ تم سے محبت کرتا ہے. "....بادلوں کی گرج سنائی دی اسے....وہ منہ کهولے حیرت سے پوجا کو دیکھ رہی تھی. ....
" نہیں. ..نہیں پوجا تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے ایسا کچھ نہیں ہے. . وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا.وہ تو بس یونہی." .......
پوجا نے اس کے منہ پر ایک اور تهپڑ مارا...اور غصے سے اس کی طرف دیکها......
" محبت نہیں کرتا....؟ تم کہتی ہوئی وہ تم سے محبت نہیں کرتا...یونہی کوئی کسی کے لیے آگ میں نہیں کود جاتا ...یونہی کوئی کسی کی مدد کے لیے شاپنگ مال میں نہیں پہنچ جاتا ...یوں ہی کوئی کسی کے لیے ٹرک کے نیچے نہیں آ جاتا. ...کوئی یونہی کسی کے لیے زہر نہیں کهاتا....کیا یہ محبت نہیں ہے. .اگر یہ محبت نہیں تو کیا ہے...وہ میرے لئے یہ سب کیوں نہیں کرتا وہ پوری یونیورسٹی میں کسی اور کے لیے یہ سب کیوں نہیں کرتا. ...جس دن اس نے مجهے ٹھکرایا تها اسی دن وہ تمہیں بچانے کے لیے آگ میں کود گیا..اپنی جان کی پروا کئے بنا...وہاں ہزاروں لوگ کهڑے تهے کوئی اور کیوں نہیں آیا تمہیں بچانے." ...؟
آیت اسے عجیب انکشافات کرتا دیکھ رہی تھی. ..
" محبت. .".؟ تو کیا وہ اس سے محبت کرتا ہے اور...اور اس دن اسے آگ سے انوشیر نے بچایا تها...حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تهے اس پر اور آج اس کو سارے سوالوں کے جواب مل رہے تھے لیکن کب کہاں کس موڑ پر. .....

" کتنی کوشش کی تهی میں نے اسے پانے کی اور تمہیں راستے سے ہٹانے کی مگر ہر بار تم جیت جاتیں.اس لئے نہیں کہ تمہاری قسمت اچهی ہے صرف اس لیے کے انوشیر تمہارے ساتھ ہے. ..."....
تیز تیز ہوائیں چلنے لگیں. .اس کے بال اڑنے لگے. ..پوجا اس کے سامنے کهڑی تهی اور وہ اس مضبوط درخت کے ساتھ بندھی ہوئی تهی......بے بس لاچار. ..
"کتنی بار ...کتنی بار میں نے تمہیں منہ کے بل گرانے کی کوشش کی مگر تم تو ایک نمبر کی ڈهیٹ نکلیں....
سب سے پہلے میں نے ان دو لڑکوں کو بهیجا تا کہ وہ تمہاری عزت کو داغ دار کریں اور تم انوشیر کی نگاہوں سے گر جاو. .مگر انوشیر نے تمہیں بچا لیا." ...
ایک اور بم گرا تها اس پر....تو کیا اس دن وہ لڑکے پوجا کے بھیجے ہوئے تهے ...اور وہ سب پوجا کر رہی تهی. .یہی تهی پوجا کی اصلیت. ..نقاب اٹهنے کے بعد کیا ہر خوبصورت رشتہ یوں ہی ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے. .....
"پهر میں نے تمہیں شاپنگ مال میں پهنسانے کی کوشش کی وہ ڈائمنڈ رنگ تمہارے پرس میں ڈال کر....اور وہ ہیوی لوڈر کا ایکسڈینٹ. ..وہ دهمکی آموز خط....وہ کهانے میں زہر. ...اس دن میں نے نمک کی جگہ زہر رکھ دیا تها... میں نے سوچا تها تم انہیں کهاتے ہی مر جاو گی لیکن مجهے نہیں معلوم تها وہ زہر انوشیر کی قسمت میں لکها ہے.......مائیکل کو استعمال کر کے میں نے تمہیں ہٹانے کی کوشش کی. . اور پھر اس دن جب تم ہوٹل گئیں تب میں نے تمہارا پیچها کیا...وہاں بھی انوشیر آ گیا.....,....میں نے جب جب تمہیں نقصان پہچانے کی کوشش کی انوشیر ایک سائے کی طرح تمہارے ساتھ رہا ....اور تم کہتی ہو یونہی. ..؟ اتنا سب کچھ کوئی یونہی کرتا ہے".......
پوجا نے استہزائیہ انداز میں اسے دیکھا....وہ پوجا کو دیکھ رہی تھی ...دوستی ٹوٹنے میں لمحہ لگا اعتبار پل بھر میں خاک کے اندر جذب ہو گیا...انسانوں کے کتنے کتنے چہرے ہوتے ہیں اور وہ ...وہ اب کس کس سے کہے گی وہ بڑی چہرہ شناس ہے وہ لوگوں کو سمجهنے کی صلاحیت رکھتی ہے. ...جو لڑکی اتنے دن تک اس کے ساتھ رہی وہ تو اسے بھی نہیں سمجھ سکی وہ تو انوشیر کو بھی نہیں سمجھ سکی...
پچهتاوا آنسو بن کر اس کے گالوں سے گرنے لگا...
" کیا گناہ کیا تها میں نے. .صرف محبت ہی کی تهی ناں انوشیر سے...اس کی مجهے اتنی بڑی سزا کیوں ملی...کیوں وہ شخص مجهے نہیں تمہیں چاہتا ہے. ..وہ مجھ سے کهبی کیوں نہیں کہتا سر پہ دوپٹہ لیا کرو. ..وہ میری اتنی فکر کیوں نہیں کرتا. ...پیار محبت؟، فکر، سب تمہارے لیے اور میرے لیے..
میرے لیے کچھ بھی نہیں. ..کچھ بهی نہیں". ...پوجا اب رو رہی تھی. ....
" وہ ایک بار میرا ہو جاتا میں اس کے لیے پوری کائنات سے لڑ جاتی..میں اپنا مذہب تبدیل کرتی میں مسلمان ہو جاتی. .لیکن وہ میرا ہوا ہی نہیں. ...تم میں آخر ایسا کیا ہے جو مجھ میں نہیں. .کیا تم مجھ سے زیادہ خوبصورت ہو..."..؟
"انوشیر کہتا ہے میں بری لڑکی ہوں...اور میں اس کے لیے ہر برائی چهوڑ دیتی. ..اور میں اتنی بری نہیں ہوں جتنی انوشیر کی محبت نے مجهے بنا دیا ہے. ..میں نے تمہارے ساتھ وہ سب خوشی کے ساتھ نہیں کیا میں صرف دل سے مجبور تهی...اور دل ہی انسان سے ہر صیح غلط کام کرواتا ہے". ....
"میں جانتی ہوں وہ مجھ سے کهبی بهی محبت نہیں کرے گا ..میں کهبی اسے حاصل نہیں کر سکوں گی...اور محبت میں زبردستی کهبی نہیں ہوتی....مرنے کے بعد پوچهو گی خدا سے وہ ایسا کیوں کرتا ہے کسی ایک کو دوسرے سے محبت کرواتا ہے اور پھر دوسرے کو تیسرے سے.اگر وہ میرا نہیں ہو سکتا تو میں اسے تمہارا بھی نہیں ہونے دوں گی...محبت کی اس آگ میں میں اکیلی نہیں جلوں گی...محبت کرنے کی قیمت تم لوگوں کو بھی ادا کرنی پڑے گی.........بائے فار ایور..:.
پوجا کہہ کر جانے کے لیے مڑی..اس نے چلا کر پوجا کو آواز دی...
" پوجا خدا کے لیے مجھ پر رحم کرو..میں اس سنسان جنگل میں اتنی رات کو اکیلے کیا کروں گی.....مجهے اکیلا چهوڑ کر مت جاو یہاں بہت خطرناک جانور ہوتے ہیں. .."..پوجا کے ہونٹوں پہ ایک تلخ مسکراہٹ آئی....
" میں تم پہ رحم نہیں کروں گی کیونکہ تم نے بھی مجھ پہ رحم نہیں کیا تها....اور تم خود ہی تو کہتی ہو اگر محبت سچی ہوئی تو وہ ضرور مل کر ہی رہے گی...یہ ایک طرح سے تم دونوں کی محبت کا امتحان ہے اگر وہ تم سے سچی محبت کرتا ہے تو تم اسے ضرور ملو گی. ....اور پھر میں مان لوں گی وہ کهبی میرا تها ہی نہیں. .پهر دونوں کے راستے سے ہٹ جاوں گی. ..بائے...بائے.....اینڈ آئم سوری. ...."پوجا تیز تیز قدم اٹهاتی دور جا رہی تهی وہ زور زور سے آوازیں دیتی رہ گئی مگر وہ سن نہیں رہی تهی....کچھ دیر بعد اس نے گاڑی کی ہیڈ لائٹ چمکتے دیکها پهر اس نے گاڑی دور جاتے دیکھا. ..دور بہت دور .اور وہ اس درخت کے ساتھ بندھی ہوئی تنہا رہ گئی... زور زور سے چلانے کی وجہ سے اس کا گلا بیٹھ گیا. .اس کی آواز نہیں نکل پا رہی تهی لیکن آنسو فوارے کی طرح بہہ رہے تهے. ...
یونہی کوئی کسی کے لیے آگ میں نہیں کود جاتا..
":آپ کے اندر دل نام کی کوئی چیز بھی ہے". ...
اس کی اپنی آواز گونجی....
" شرم آنی چاہیے آپ کو. .مجهے مار کر آپ کو کیا ملے گا. ..".اس کا دل چاہا وہ اپنے کانوں پر ہاتھ رکهے...اسے پچهتاوا ہونے لگا لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں تهی ...ہمیشہ سے اس کی عادت تهی وہ غلطی کر کے ہی پچھتاتی. ....اس شخص نے اس کے لیے کیا کچھ نہیں کیا اور وہ اسے ہر بار غلط سمجهتی تهی...اس نے کتنا برا بهلا کہا اسے...کتنی بے عزتی کی اس کی...اور وہ جواباً خاموش رہا اس نے کچھ بھی نہیں کہا اپنی صفائی بھی پیش نہیں کی. .
انوشیر تم کہاں ہو پلیز آ جاو میں پهر کهبی تم سے ناراض نہیں ہوں گی....اس کے دل نے پکارا.. .
":محبت. "..؟ پوجا کی کہی ہوئی بات یاد آئی اسے...
تو کیا وہ محبت تهی.جس رشتے کو وہ کهبی نام نہیں دے سکی اس کا نام یہی تها...او میرے اللہ. ...
اسے اس اندهیری جنگل میں گهٹن کا احساس ہوا. .ہر طرف درخت تهے اونچے اونچے اور رات کے وقت وہی درخت وحشت کا منظر پیش کر رہے تھے وہ ڈر رہی تهی. ..اسے خوف آنے لگا. ...اس نے اپنے بندھے ہوئے ہاتهوں کو دیکها. ..اس نے اپنے ہاتهوں کو چهڑانے کی کوشش کی لیکن بہت جلد ہی اسے احساس ہوا وہ ایسا نہیں کر سکتی. ....
اتنی رات کو اس جنگل میں کون اس کی مدد کرتا..اسے اپنی موت دکهائی دے رہی تهی بالکل سامنے. ..خطرناک جانور جنگلی کیڑے مکوڑے سانپ....وہ یہیں لندن کی سرزمین پر ہی غائب ہو جائے گی اور کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا. ......
وہ تو دن کو یہاں ڈر رہی تهی اور اب تو وہ اکیلی تهی صبح اس نے ایک پل کے لیے بھی نہیں سوچا تھا اس کے ساتھ یہ سب ہونے والا ہے اور وہ سوچ بھی کیسے سکتی تهی. ...جھینگروں کی آوازیں آنے لگیں...
اسے یقین تها تهوڑی ہی دیر بعد وہ جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال ہو رہی ہوگی...یہ خیال کتنا تکلیف دہ تها اور یہ سوچ کے وہ اس وقت اکیلی ہے ...اس کے دل کو کچھ ہونے لگا...دهڑکن بے قابو تهی. ..
کوئی ہے. ..ہیلپ می پلیز. ...وہ جتنی زور سے چلا سکتی تهی چلا رہی تھی. ...لیکن اس کی پکار سننے والا کوئی نہیں تها....اس کی اپنی ہی آواز پلٹ کر آ رہی تھی. ......
"جب کهبی تمہیں لگے تمہاری آواز خالی لوٹ رہی ہے تو اللہ کو آواز دے کر دیکھو. .خالی نہیں لوٹائی جاو گی. .اس کے کانوں میں جیسے اسم اعظم گونجا. "...
وہ اب اللہ کو پکار رہی تھی. ...
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اندهیرے کو چیرنے والی وہ واحد شے اس وقت انوشیر کے بائیک کی ہیڈ لائٹ تهی...بڑی تیزی سے بائیک چلاتا وہ اس جنگل کی طرف جا رہا تها....پاس یہی ایک ہی جنگل تها اور اسے یقین تها پوجا آیت کو لے کر اسی جنگل میں آئی ہوگی....اس کے ماتهے پر پریشانی کی لکیریں واضح نظر آ رہی تهیں..
وہ یہ سوچ سوچ کر ہی کانپ رہا تھا پوجا نے جانے کیا کیا ہوگا....وہ کسی بھی حد تک جا سکتی تھی اس کے سامنے کسی کی زندگی کی اہمیت ریت کے ذرے برابر بھی نہیں تهی...اسے افسوس ہو رہا تھا وہ آیت کو پہلے ہی صاف الفاظ میں اس کی اصلیت بتا دیتا.. وہ یقین کرتی یا نہیں لیکن سوچ میں ضرور پڑ جاتی...اب اگر وہ اسے نہیں ملی تو وہ خود کو ساری عمر معاف نہیں کر سکے گا. ......
رات کے دس بج رہے تھے وہ لوگ یہاں صبح ہی آئے تهے اتنی دیر کیا کیا ہوا ہوگا وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تها. ...سڑک کے چاروں طرف درخت تهے اور جنگل میں داخل ہونے کے دو ہی راستے تهے ایک راستہ جنگل کے پیچھے تها اور ایک سامنے ہی تها........
اس نے جنگل میں داخل ہونے والے راستے پر بائیک روک دی...اسے سامنے ایک بہت بڑا بورڈ نظر آیا جس پہ خطرناک کی علامت بنی ہوئی تھی. .یعنی کے اس جنگل میں خطرناک قسم کے جانور بھی پائے جاتے ہیں. ...ٹهنڈی ٹهنڈی ہوا اس کے جسم کے آر پار ہونے لگی...لیدر کی جیکٹ میں ملبوس ہونے کے باوجود بھی وہ سردی محسوس کر رہا تھا لیکن اسے اس وقت اپنی نہیں آیت کی فکر تهی.... .بائیک کو اس نے سائیڈ پر لا کهڑا کیا اور موبائل کی ٹارچ جلا کر وہ اس خطرناک جنگل میں اپنا قدم رکھ چکا تها..... .
خشک پتے اس کے قدم رکهنے کی وجہ سے شور پیدا کرنے لگے....وہ چاروں طرف ٹارچ لگا لگا کر دیکھ رہا تها.....اسے دور سے کچھ جنگلی جانوروں کی بهی آوازیں آنے لگیں...اس کی گهبراہٹ میں مزید اضافہ ہوا. .وہ پاگلوں کی طرح ادهر ادهر بهاگ رہا تها اور آیت آیت پکار رہا تها....اس کا دل رع دینے کا چاہ رہا تھا وہ جنگل کے وسط میں کهڑا زور سے اسے پکار رہا تھا اس کی آواز درختوں سے ٹکرا رہی تھی. ..لیکن کوئی جواب نہیں مل رہا تها......

اس کا گلا بیٹھ گیا. .حلق میں جلن محسوس ہوئی وہ زور زور سے کهانسنے لگا ... وہ تهوڑا اور آگے بڑها...اور اسے سامنے ہی ایک جگہ کوئی بہت بڑا سیاہ ہیولا دکهائی دیا...وہ انسان نہیں تها وہ کوئی درخت بهی نہیں تها .تو پهر وہ کیا ہو سکتا ہے. ...وہ محتاط ہو کر قدم اٹهاتا آہستہ آہستہ آگے جا رہا تها. ..اس نے ٹارچ اس طرف لگائی اب وہ وہاں اس ہیولے تک پہنچ چکا تها...وہ اسے صاف دیکھ سکتا تها ...اس نے سہی اندازہ لگایا وہ کوئی انسان یا درخت نہیں تها وہ ایک خیمہ تها....اور اب وہ اس خیمے کو چاروں طرف سے دیکهنے لگا...اس نے باہر کچھ خالی برتن دیکهے. ..پیاز کے چھلکے کچھ ہڈیاں...... وہ ٹارچ لے جا کر اندر کا جائزہ لینے لگا. .اندر باہر کچھ فالتو چیزیں بکهری پڑی تھیں. ..وہ اب تجسس سے ایک ایک چیز دیکھ رہا تھا. اچانک زمین پر پڑے ہوئے پرس کو دیکھ کر وہ چونکا....وہ پرس آیت کی ہے اس بات میں کوئی شک نہیں تها...یعنی صبح انہوں نے اسی جگہ کیمپ لگایا. ..اس نے پرس اٹهایا اور اسے کهول کر دیکها...وہ خالی تها اس میں کچھ بھی نہیں تها....اس نے پرس کو وہیں پهینک دیا اور ماتهے پر ہاتھ رکھ کر سوچنے لگا...پوجا نے آخر کیا کیا ہوگا اس کے ساتھ. ...
وہ کہاں ہوگی ...
":یا اللہ وہ کسی مصیبت میں نہ ہو...آپ اس کے حصے کی تکلیف مجهے دے دیں"....اس نے شدت سے دعا کی اور خیمے سے باہر نکل آیا...وہ اب آس پاس ٹارچ جلا کر دیکھ رہا تھا ...وہ ان بڑے بڑے درختوں کے بیچ ٹارچ کی مدد سے اسے ڈهونڈ رہا تها. ...جیسے وہ ان درختوں کے پیچھے ہی کہیں چهپی ہوئی ہو....
بهاگ کر اس نے ایک درخت پهر دوسرے تک گیا پهر تیسرے. ..لیکن نہیں اچانک وہ رک گیا اس نے مڑ کر اس دوسرے درخت کو دیکها...جس کی قد بلند تهی جس کا تنا کافی موٹا تها لیکن وہ تنے یا قد کو نہیں درخت پر لگے خون کے نشانات کو دیکھ رہا تھا. ......
وہ اس درخت کے پاس گیا...جس میں خون کے داغ نظر آئے..اس نے ہاتھ لگا کر دیکها خون سوکھ چکا تها. ..اور پھر اس نے آس پاس لائٹ لگائی...اسے نیچے پڑی ہوئی ڈوری دکهائی دی.........
تو اس کا مطلب پوجا نے اس درخت کے ساتھ آیت کو باندھ دیا تها...لیکن وہ وہ خود کو چهڑا کر کہاں چلی گئی....وہ ایک بار پھر اسے تلاش کرتا آوازیں دیتا آگے بڑھ گیا. ....
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وہ زخمی قدموں کے ساتھ بهاگ کر سڑک تک آئی.اسے یقین نہیں آیا وہ سڑک تک پہنچ گئی. .اس نے خدا کا شکر ادا کیا...یہ سب خواب کی طرح لگا اسے ..ایک گهنٹہ پہلے وہ درخت کے ساتھ رسیوں سے بندھی ہوئی تهی...اسے آس پاس کوئی راستہ کوئی ذریعہ نظر نہیں آ رہا تها جس سے وہ ان رسیوں سے نجات حاصل کرتی اس کے ڈر میں مزید اضافہ ہونے لگا. ...اس کی گهبراہٹ بڑھنے لگی اس نے ہر طرح سے زور لگا کر دیکھ لیا لیکن وہ خود کو اس رسی نما ڈوری سے آزاد نہیں کر سکی. ..وہ رسی اس کی طاقت سے کہیں زیادہ طاقتور تها.. .وہ بری طرح ناکام ہو چکی تهی. .وہ ہاتھ پاؤں مار مار کر تهک چکی تهی. ..اس کے آنسو خشک ہو چکے تهے وہ ہمت ہارنے لگی تهی...تهک کر اس نے اپنا توازن رسی پر ڈال دیا اور وہیں لڑهکنے والے انداز میں تنے کے ساتھ بیٹهنے کی کوشش کی. اس کے ہاتھ پہ زور دار رگڑ بھی آئی...یہ اس کی خوش قسمتی تھی اس کے جسم کی بوجھ کی وجہ سے ڈوری ڈهیلی پڑ گئی....
اس نے محسوس کیا. . اور پهر ہاتھ کو زور سے کهینچا .یقین کرنا مشکل تها لیکن وہ آزاد ہو چکی تهی اس کا ہاتھ کهل چکا تها وہ کئی لمحے اپنے ہاتھ کو دیکهتی رہی جیسے ہاتھ کو پہلی بار دیکھ رہی ہو.......
اور پهر اس نے خود کو مکمل طور پر آزاد کیا. ..آزاد ہو جانے کے بعد اس نے جو سب سے پہلے سوچا اب وہ کہاں جائے گی...خیمہ پاس ہی تها...اور ایک خیال اس کے دماغ میں جھماکے کی طرح آیا...اسے یاد تها اس کا پرس خیمے کے اندر ہی رہ گیا اور موبائل بھی اس پرس کے اندر ہے....وہ بهاگ کر خیمے کے اندر گئی اندهیرا تها اور اس اندهیرے میں وہ اندازے سے ہی پرس کو ڈهونڈنے میں کامیاب ہوئی. ..اس نے پرس میں ہاتھ ڈالا اور اسے یہ جان کر دکھ نہیں صدمہ لگا. پرس خالی ہے. .پوجا نے کوئی معمولی سازش نہیں کی تهی اسے سزا دینا اس کا مقصد نہیں تها وہ اسے ختم کرنا چاہتی تهی. ......
اس کا دل رونے لگا. .وہ خیمے سے باہر نکلی تهی اس کے پاس ایسا کوئی طریقہ نہیں تها جس سے وہ کسی سے رابطہ کرتی یا یہاں سے باہر نکلنے کی کوشش کرتی...اب اسے جو کرنا تھا جیسے کرنا تها صرف اندازے سے ہی کرنا تها. ...یعنی اندازے سے ہی اسے راستہ تلاش کرنا تها.. یہ کافی مشکل تها اسے تو یہ بھی نہیں معلوم تها سڑک کس طرف سے ہے..اور سڑک تو چهوڑو وہ تو یہ بھی نہیں جانتی تھی وہ خود کہاں کهڑی ہے...ایسٹ ویسٹ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تها...اللہ کا نام لے کر اس نے ایک طرف چلنا شروع کیا ...لیکن آدهے گهنٹے تک مسلسل بهاگنے سے ہی اسے احساس ہو گیا وہ غلط طرف آ گئی....کیونکہ اس طرف آگے جنگل ہی جنگل تها وہ افسردہ ہو کر واپس پیچھے کی طرف گهومی... .اندهیرے میں چلنا کافی مشکل تها اور راستہ تلاش کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل تها...لیکن مجبوری میں انسان کو ہر کام کرنا پڑتا ہے وہ بھی کر رہی تهی. ......
ﻭﮦ ﮐﻮئی خوفناک جنگل تها ﺷﺎﯾﺪ ﮐﻮئی ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﻭﮞ ﺑﮭﺮﺍ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻭﮦ ﺻﺤﯿﺢ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ کر سکی..۔ ﻭﮨﺎﮞ ﮔﮭﭩﺎ ﭨﻮﭖ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﭘﮭﺎﮌ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ رہی تهی ﻣﮕﺮ ﺍﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮭﺎئی ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﮔﮭﭗ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻨﺎئی ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺳﻮﭺ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍها ﺭہی تهی ...ﺩﻝ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺩﮬﮍﮐﺎ ﻟﮕﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﮔﻼ ﻗﺪﻡ ﮐﺴﯽ ﮔﮩﺮﯼ
ﮐﮭﺎئی ﻣﯿﮟ ﻧﺎ ﺟﺎ ﭘﮍﮮ
اسے کچھ آوازیں آ رہی تهیں لیکن وہ چلتی رہی پورے ایک گهنٹے بهاگنے کے بعد وہ اب جا کر سڑک پر پہنچی.....
سڑک پر پہنچ کر وہ کوئی گاڑی وغیرہ لے گی یہی سوچ کر وہ نکلی تھی لیکن اتنی رات کو اس سنسان سڑک پہ کوئی گاڑی کہاں سے ملتی اسے....
البتہ وہ سڑک تها وقفے وقفے سے کوئی ٹرانسپورٹ والی گاڑی گزر ہی جاتی لیکن وہ اس کے اشارے کے باوجود بھی نہیں رک رہے تھے. ..دوپٹہ وہیں کہیں گر رہے تھے بهاگنے کی وجہ سے جوتی ٹوٹ گئی اب وہ ننگے پاؤں ننگے سر کهڑی تهی......
اس کا سانس پهولا ہوا تها...اچانک ایک چهوٹی سی کار اسے آتی دکهائی دی....اس نے کار کو اشارہ کیا کار زرا فاصلے پر جا کر رک گیا. ....اور ریورس ہو کر پیچھے آیا....اس کار والے نے بٹن کے ذریعے ونڈو کهولا. ..وہ اس کی مشکور ہو گئی. ...اور مسکراتے ہوئے گاڑی میں بیٹهی. ...گاڑی کی نرم سیٹوں پر اسے تحفظ کا احساس ہوا.......گاڑی چلنے لگی اس نے رحمت کے اس فرشتے کی طرف دیکها جو ڈرائیونگ کر رہا تھا. ....
" تهینکس. "..بڑی دیر بعد وہ بولی. ..اور اس نے سر سیٹ کی پشت پر ٹیک دیا...آنکهیں بھی بند کر دیں...
" نو پرابلم ڈارلنگ. ".اس نے جهٹکے سے آنکهیں کهول دیں..اس کا دماغ آواز کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا لیکن آنکهیں اس سے پہلے ہی اس شخص کو دیکھ چکی تهیں...اسے ایک بار پھر سب کچھ وہیں لگا جہاں سے سب شروع ہوا تها......اس کا دل بری طرح دهڑک رہا تها وہ زور سے مائیکل کو گاڑی روکنے کا کہہ رہی تھی مگر وہ بے نیاز تها ایک دو بار اس نے شیشہ کهولنے کی بهی کوشش کی مگر کچھ بھی اس کے اختیار میں نہیں تها...وہ خود کو آکٹوپس کے گرداب میں محسوس کرنے لگی. .....مائیکل نے اس کی چیخوں اور مزاحمت سے تنگ آ کر اس بے ہوشی والا رومال سنگهایا اور اگلے ہی لمحے وہ ہوش و حواس کی دنیا سے باہر تهی..........
اندھیری رات کو آیت اپنے آپ کو رسیوں سے آزاد کر کے بهاگ رہی تھی تیز تیز......
پورے ایک گهنٹے بهاگنے کے بعد وہ اب جا کر سڑک پر پہنچی.....
سڑک پر پہنچ کر وہ کوئی گاڑی وغیرہ لے گی یہی سوچ کر وہ نکلی تھی لیکن اتنی رات کو اس سنسان سڑک پہ کوئی گاڑی کہاں سے ملتی اسے....
البتہ وہ سڑک تها وقفے وقفے سے کوئی ٹرانسپورٹ والی گاڑی گزر ہی جاتی لیکن وہ اس کے اشارے کے باوجود بھی نہیں رک رہے تھے. ..دوپٹہ وہیں کہیں گر رہے تھے بهاگنے کی وجہ سے جوتی ٹوٹ گئی اب وہ ننگے پاؤں ننگے سر کهڑی تهی......
اس کا سانس پهولا ہوا تها...اچانک ایک چهوٹی سی کار اسے آتی دکهائی دی....اس نے کار کو اشارہ کیا کار زرا فاصلے پر جا کر رک گیا. ....اور ریورس ہو کر پیچھے آیا....اس کار والے نے بٹن کے ذریعے ونڈو کهولا. ..وہ اس کی مشکور ہو گئی. ...اور مسکراتے ہوئے گاڑی میں بیٹهی. ...گاڑی کی نرم سیٹوں پر اسے تحفظ کا احساس ہوا.......گاڑی چلنے لگی اس نے رحمت کے اس فرشتے کی طرف دیکها جو ڈرائیونگ کر رہا تھا. ....
" تهینکس. "..بڑی دیر بعد وہ بولی. ..اور اس نے سر سیٹ کی پشت پر ٹیک دیا...آنکهیں بھی بند کر دیں...
" نو پرابلم ڈارلنگ. ".اس نے جهٹکے سے آنکهیں کهول دیں..اس کا دماغ آواز کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا لیکن آنکهیں اس سے پہلے ہی اس شخص کو دیکھ چکی تهیں...اسے ایک بار پھر سب کچھ وہیں لگا جہاں سے سب شروع ہوا تها......اس کا دل بری طرح دهڑک رہا تها وہ زور سے مائیکل کو گاڑی روکنے کا کہہ رہی تھی مگر وہ بے نیاز تها ایک دو بار اس نے شیشہ کهولنے کی بهی کوشش کی مگر کچھ بھی اس کے اختیار میں نہیں تها...وہ خود کو آکٹوپس کے گرداب میں محسوس کرنے لگی. .....مائیکل نے اس کی چیخوں اور مزاحمت سے تنگ آ کر اس بے ہوشی والا رومال سنگهایا اور اگلے ہی لمحے وہ ہوش و حواس کی دنیا سے باہر تهی...
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
پوجا بستر پر لیٹی تھی جب فون کی گھنٹی بجی ..اس نے خمار آلود آنکھوں سے موبائل پر نمبر دیکها. .مائیکل کا نمبر دیکھ کر وہ چونک گئی....اس نے فون کال سے لگایا. ..تو مائی مائیکل نے اسے جو خبر سنائی وہ سن کر سناٹے میں آ گئی..مائیکل کہہ رہا تها وہ رات کو کلب سے واپس آرہا تها جب اتفاقاً اسے آیت ملی.اس نے اسے گاڑی میں لفٹ دی تهی.. ....یہ خبر حیرت کا پہاڑ توڑ چکا تها اس پر. ..وہ وہاں سے کیسے نکلی اس نے خود کو رسی سے کیسے آزاد کیا ہوگا..اور سب سے بڑی بات وہ راستہ ڈهونڈنے میں کیسے کامیاب ہوئی......کہیں انوشیر تو اس تک نہیں پہنچ گیا...نہیں نہیں انوشیر وہاں کیسے جا سکتا ہے انوشیر کو تو معلوم ہی نہیں تها وہ کہاں ہے اور وہ تو کچھ دن سے آیت سے ناراض تها تو....؟
" اب وہ کہاں ہے".. اس نے مائیکل سے پوچها. ...
" ریڈ لائٹ ایریا..." .مائیکل نے بتایا.....
" ریڈ لائٹ ایریا". ..اس نام کو اس نے زیر لب دہرایا...اور مائیکل سے ایڈرس لے کر کاغذ پہ نوٹ کر لیا... .
اس کے ذہن میں ایک اور شیطانی خیال اچانک آیا...وہ مسکرا دی....
"تم کهبی میری چال سے نہیں بچ سکتیں آیت."...اس نے سوچا اور موبائل سے ایک اور نمبر ملانے لگی. ...
ہیلو لنڈن پولیس کالنگ. ...موبائل سے آواز آئی. .
اس نے پولیس کو اس ایریا کے بارے میں انفارمیشن دی..اور انہیں ایڈرس بھی لکهوا دیا..وہ لنڈن تها وہاں کی پولیس منٹوں میں ریڈ لگاتی. ..آیت ہوگی جیل میں اور اس کی بدنامی الگ. ....وہ سوچ سوچ کر ہی مسکرا رہی تھی. ...اور پهر کمبل اوڑھ کر سو گئی....
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _

انوشیر اس سنسان جنگل میں اتنی دیر سے آیت کو تلاش کر رہا تھا لیکن وہ اسے نہیں مل رہی تهی. ..پچهتاوا، افسوس ، دکھ، اضطراب، کیا تها جو وہ اس وقت نہیں محسوس کر رہا تھا .
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اس کی آنکھ کهلی. ..اسے تیز تیز روشنی کا احساس ہوا...اس نے آہستہ آہستہ سے آنکهیں کهولیں...اسے محسوس ہوا وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی ہے. ..اس نے آنکهوں کو زرا دائیں طرف گهمایا اسے دیوار پہ لگی پینٹنگ نظر آئی...وہ پینٹنگ کسی لڑکی کی تهی جس کے تمام کپڑے غائب تهے تقریباً. ..وہ جهٹکا کر اٹھ بیٹھی. پهر اس نے چاروں طرف دیکها ایسے کئی اور نیم برہنہ پینٹنگز نظر آنے لگیں....اس نے سوچنے کی کوشش کی وہ یہاں کیسے آئی .....
"پکنک پلان..رابرٹ....پوجا....مائیکل. "...اسے سب یاد آ گیا...
"یہ کون سی جگہ ہے. .".؟ وہ سوچنے لگی. .اس نے وہی کپڑے پہنے ہوئے تھے جو اس نے صبح سے پہنے تهے...وہ اٹھ کر دروازے تک آئی...دروازہ باہر سے بند ملا..اس کا خوف اور وحشت بڑهنے لگا....وہ سامنے لگے آئینے کے سامنے آئی ...اسے اپنے وجود اجنبی لگا. .سامنے کهڑی لڑکی کوئی اور تهی....بال بکهرے ہوئے. ..چہرے پہ کئی جگہ دهول اور داغ کے نشان...
اسے دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی. .تیزی سے اس نے پلٹ کر دیکھا..ایک عمر کی خاتون جس کے بال سرخ تهے اندر داخل ہوئی..وہ جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس تهی اس کے چہرے پہ مسکراہٹ تهی....آیت اسے دیکهتی رہ گئی. .....
" تم جاگ گئی ہو."؟ وہ انگریزی میں اس سے پوچھ رہی تھی. ..
" آپ کون ہیں اور میں یہاں کیسے آئی یہ کون سی جگہ ہے....؟" ایک ہی سانس میں اس نے کتنے سوال پوچھ ڈالے. ....
":مجهے اپنی دوست سمجهو. .اور تم اس وقت ایک اچهی جگہ پہ ہو. "..اس عورت نے مسکراتے ہوئے کہا..اس کے کهلے سلکی بال کاندهوں پر گرے تهے.....
" اچهی جگہ..".؟ اس نے نیم برہنہ پینٹنگز کو دیکها. ..
" یہ کون سی جگہ ہے". ...؟
" تم سا وقت ریڈ لائٹ ایریا میں کهڑی ہو.."..
"ریڈ لائٹ ایریا. .ریڈ لائٹ ایریا". ..پورے کمرے میں انہی الفاظ کی بازگشت شروع ہو گئی...اس نے وحشت زدہ ہو کر ان پینٹنگز کو دیکها...
ریڈ لائٹ ایریا. ..اس کی اب یہی اوقات رہ گئی تھی. .وہ ایسے کیسے جگہ آنا تو دور نام بھی سننا نہیں چاہتی تھی اور قسمت کی سفاکی تو دیکهو اس لڑکی کو کہاں لا کر پهینک دیا....اسے لگا وہ ایک بار پھر اسی جنگل میں کهڑی ہے اسی درخت کے ساتھ بندھی ہوئی. ..اسے وہ کمرہ قبر لگنے لگا....قبر سے بھی بڑھ کر. ....
" مہ...مہ..میں یہاں کیسے آئی ..کون لایا مجھے. .اسے گهن آنے لگی اپنے آپ سے اور اس جگہ سے. "
"تمہارا بوائے فرینڈ لایا تها تمہیں. .اور تمہیں یہیں چهوڑ کر چلا گیا...".
" بوائے فرینڈ. .مائیکل. "...؟
" نہیں وہ میرا بوائے فرینڈ نہیں تها. .اور میں میں ایسی لڑکی نہیں ہوں آپ پلیز. .."اس خاتون نے اس کی بات کاٹ دی. ..
" شروع شروع میں سب یہی کہتے ہیں بعد میں ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں. .ڈونٹ وری سب ٹهیک ہو جائے گا". .
"سب ٹهیک ہو جائے گا. ..؟اب ٹهیک ہونے کے لیے کیا بچا تها...اس سے تو بہتر تها وہ وہیں جنگل میں ہی مر جاتی کوئی جانور اسے کها لیتا کم از کم یہ سب تو نہ دیکهنا پڑتا....".
:"نو پلیز مجهے یہاں سے جانے دیں.."...وہ ان کے آگے ہاتھ جوڑنے لگی...خشک آنسو ایک بار پھر پهگلنے لگے.
"آئم سوری ڈیئر. ..اور یہ سیو جگہ ہے ٹینشن مت لو..یہاں تم کو بہت سارا پیسہ بھی ملے گا." ....وہ خاتون باہر چلی گئی اور جاتے جاتے اس نے دروازہ بند کر دیا. ....وہ وہیں بیڈ پر گر سی گئی....
اسے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آنے لگا..وہ اس اندهیرے میں کہیں غائب ہو چکی تهی .اس کا وجود کہیں کهو سا گیا تھا. ..قیامت کی گھڑیاں قریب تهیں اس کے لیے. ..موت کا منظر اس سے بڑھ کر تو نہیں ہوتا ہوگا....وہ چیخ چیخ کر رونا چاہتی تهی بے پناہ شدت سے....ریڈ لائٹ ایریا. .گناہ کا وہ دلدل جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تها اس کے پاس. ....وہ جگہ جس کا نام اس کی سات پشتوں نے کبھی نہیں سنا وہ وہیں پہنچ گئی. ....
اب یہیں اس کی زندگی گزر جاتی..سب کچھ دهرا کا دهرا رہ گیا...اس کی یہی عزت رہ گئی تھی. ..خواہشوں کا یہ سفر اس کے خوابوں کا شہر اس کے لیے اتنے سارے امتحان چهپائے ہوئے تها.....
وہ آنسو پونچھ کر اٹھ کھڑی ہوئی...اس نے دروازے کو چیک کیا وہ بند تها....وہ اب اس دروازے کو زور زور سے پیٹنے لگی لیکن اس کی چیخ و پکار سننے والا کوئی نہیں تها. .....وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تهی ..کتنی بے بس ہو چکی تهی وہ...کتنی مجبور کتنی لاچار ہو گئی تهی...اس دلدل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تها.......
کمرے میں کهڑکی نہیں تهی اور نہ ہی کوئی دوسرا راستہ. .سب کچھ بند ہو چکا تها اس کی سانسیں بهی بند ہونے لگی تهیں..........
یہ تو طے تها اب وہ یہاں سے کهبی نکل نہیں سکے گی اسے یہیں رہنا ہوگا...اور یہاں رہنے کا کیا مطلب تها اپنا جسم بیچنا.....ہر رات جینا ہر رات مرنا..
وہ مسلمان گهرانے کی لڑکی یوں اس طرح اس گندے بازار میں لا کر پهینک دی گئی. ......
پل پل مرنے سے بہتر ہے وہ ایک بار مر جاتی...اس نے فیصلہ کیا ..خودکشی کرنے کا فیصلہ. ..اور وہ ادهر ادهر کوئی ہتھیار دیکھ رہی تھی جس سے وہ اپنی نبض کاٹتی....کچھ نہیں ملا اسے.......پهر اس کی نظر چهت والے پنکهے پر پڑی. ...اس نے اپنے آپ کو لٹکانے کا فیصلہ کر لیا. ..اور وہ کسی کپڑے یا رسی کے لیے ادهر ادهر دیکهنے لگی. ..اسے الماری نظر آ گئی وہ دوڑ کر الماری تک گئی وہاں اسے ایک مفلر نما چهوٹا سا دوپٹہ ملا.....دروازے کو اس نے اندر سے بھی بند کر دیا تا کہ کوئی اسے روک نہیں سکے. .....
اس نے میز کو بیڈ کے اوپر رکها ...اور میز کے اوپر وہ چهوٹی سی کرسی رکھ دی...اس نے مفلر کو مضبوطی کے ساتھ پنکهے سے باندھ دیا.....اب وہ اپنے گلے میں گرہ ڈالنے لگی.....
"لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ." .اس نے کلمہ پڑها اور آخری گرہ لگایا. . وہ جانتی تهی خودکشی حرام ہے لیکن اس ذلت بهری زندگی سے عزت کی موت ہی بہتر نظر آئی اسے.......
گرہ لگانے کے بعد اس نے کرسی کو لات مار کر اپنے پاوں تلے ہٹانے کی کوشش کی لیکن اچانک ہی اس کی نظر فون پر پڑی. ....اسے ایسا لگا گهپ اندهیرے میں کوئی جگنو ہاتھ لگا ہے اس کے ......وہ فون کر سکتی تهی مگر کسے....؟ انوشیر کو...؟ ہاں اس کا نمبر اسے یاد تها...کیا وہ اس کی مدد کرے گا.؟ کیوں نہیں پہلے بھی کئی بار اس نے مدد کی. ..وہ سوچ میں پڑ گئی اس نے مفلر کو گلے سے نکالا اور چهلانگ لگا کر نیچے آئی.....جلدی جلدی وہ انوشیر کا نمبر ملانے لگی. ..اس کی قسمت اچهی تهی انوشیر نے پہلی ہی بیل پہ کال رسیو کر لی......
"ہیلو. .".انوشیر کی آواز آئی. ..وہ کچھ کہنے کی بجائے پهوٹ پهوٹ کر رو پڑی. .انوشیر اس کی آواز پہچان گیا...
"ہیلو ....آیت آپ کہاں ہو...ہیلو...میں کب سے آپ کو ڈهونڈ رہا ہوں....آپ ٹهیک تو ہیں ناں....ہیلو...."
":انوشیر آپ کہاں ہو.."..؟ وہ سسکتے ہوئے بولی.
" آپ کہاں ہو..".انوشیر نے پوچها. ....
"میں وہ.."...اور اس نے انوشیر کو شروع سے لے کر آخر تک ساری بات بتائی. ...ساری بات سننے کے بعد انوشیر سناٹے میں آ گیا وہ کچھ بھی بول نہیں سکا...بڑی دیر بعد اس نے کہا....
"آپ فکر نہ کریں میں ابهی آ رہا ہوں..".آیت نے تشکر آمیز انداز میں آنکهیں بند کیں دو آنسو نکل آئے......اس نے آسمان کی طرف دیکها. ...
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
انوشیر کو ایک گهنٹہ لگا تها اس ایرے تک آنے کے لیے. اور ایک گهنٹے بعد وہ گناہ کی اس دلدل کے سامنے کهڑا تها. ..یہ عمارت شہر سے دور کافی روپوش اور سنسان علاقے میں تها...یہاں پولیس کی ریڈ کا خطرہ کم ہی ہوتا ہے. ....اور آس پاس کوئی دوسری ایسی جگہ نہیں تهی اس لیے اسے یہی لگا مائیکل آیت کو لے کر یہیں آیا ہوگا......
ٹهنڈی ٹهنڈی ہوا چل رہی تهی اس وقت رات کے دو بج رہے تھے. ..اپنی بائیک سائیڈ پہ روک کر وہ اس عالیشان عمارت کے اندر داخل ہوا......باہر اندهیرا کیا گیا تھا تا کہ ہر دوسرے کو وہ عمارت نظر نہ آئے لیکن اندر اتنی روشنی تهی کہ اس کی آنکهیں چدهیانے لگیں...سامنے ایک گیلری تهی..دور تک جاتی ہوئی گیلری اس کے دونوں طرف کمرے بنے ہوئے تھے. وہ سوچے بنا بھی جانتا تھا ان کمروں میں کیا ہوتا ہوگا.. م اسے گهن آنے لگی اس جگہ سے. .نفرت سی ہونے لگی. .وہ گیلری کے اندر داخل ہوا. .......
اسے کچھ لوگ دکهائی دیے...کچھ لڑکے کچھ نیم برہنہ لڑکیاں....شراب کی بدبو...کیا کیا گندگی نہیں تهی وہاں...وہ بے نیازی سے ادهر ادهر دیکهے بنا چلتا جا رہا تها. ..اچانک ایک لڑکی اس کے سامنے آ گئی چلتے چلتے وہ رک گیا.اس لڑکی نے نیم کپڑے پہنے تهے اس کا جسم سارا عیاں تها..بے اختیار اس نے نگاہیں چرائیں. ...وہ لڑکی اب اس کے گالوں کو مسکرا کر چهو رہی تھی اس نے غصے سے اس لڑکی کا ہاتھ جهٹک دیا...اور آگے بڑها......

"آپ کو کس قسم کی لڑکی چاہیے مسٹر....ایک اور عورت اس کے پیچھے لگی..."وہ جلد ہی یہاں سے نکل جانا چاہتا تها. ...
"مجهے کچھ نہیں چاہیے. .".وہ رکھائی سے بولا..وہ عورت اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تهی. ...
"ہمارے پاس ، انڈین، یورپین ، امریکن ، دیسی ، ہر قسم کی لڑکیاں ہیں". ...وہ چلتے چلتے رکا اس نے غصے سے اس عورت کو دیکها. ...
"بولا ناں نہیں چاہیے بات سمجھ میں نہیں آ رہی." ..وہ اس کے غصے سے زرا بھی متاثر نہیں ہوئی....
"شراب ، ڈرگز ، کچھ او"ر....؟ اس نے گہری سانس لے کر جیب سے والٹ نکال کر کچھ پیسے اس کی طرف بڑهائے اس نے وہ پیسے مٹهی میں دبا لیے....وہ آگے بڑھ گیا..سامنے ہی اسے ایک عورت نظر آئی سرخ بالوں والی وہ صوفے پر ایک شان سے بیٹهی تهی اسے وہ یہاں کی سربراہ لگی......وہ اس کے پاس گیا اور اس سے کہا وہ پاکستانی لڑکی سے ملنا چاہتا ہے جو یہاں نئی آئی ہے. ....
اس خاتون نے اعتراض کیا وہ ابهی نئی ہے اور ایسے یوں وہ کسی کو اس سے نہیں ملا سکتے... انوشیر نے جھنجھلا کر والٹ نکالا یہاں سارا کهیل پیسے کا تها...آئی ڈی کارڈ اور کچھ ضروری کاغذات نکال کر اس نے وہ والٹ اس کے ہاتهوں پہ رکھ دیا... ..
اوکے...وہ والٹ چیک کرنے کے بعد بولی...پهر ایک اور لڑکی کو اس کی رہنمائی کے ساتھ بهیج دیا...وہ لڑکی اسے کمرے کے دروازے تک چهوڑ کر واپس پلٹ گئی....اس نے دروازہ کهولا جو باہر سے بند تها لیکن وہ اندر سے بھی بند تها اس نے دستک دی....آیت نے انوشیر کو سوراخ میں سے دیکھ لیا اور دروازہ کهولا....
انوشیر اندر داخل ہوا....وہ اسے دیکھ کر بے اختیار اس کے گلے لگ کر رونے لگی. .انوشیر نے اسے رونے سے نہیں روکا. .وہ کافی دیر تک اس کے سینے پر سر رکھ کر روتی رہی. .وہ اس کی کیفیت سمجھ سکتا تها...اسے اس لڑکی پر ترس آیا جانے اس نے کتنی تکلیفوں کا سامنا کیا تها. ..اس کا دل چاہا وہ اپنا دل نکال کر اس لڑکی کے قدموں میں ڈال دے ..اس کی اپنی آنکهیں بھی نم ہو گئیں....
انوشیر نے اسے خود سے الگ کرنے کی یا ہٹانے کی کوشش نہیں کی روتے روتے کتنے ہی لمحے یوں ہی بیت گئے جب آیت نے خود کو علیحدہ کیا....اور انوشیر کی آنکھوں میں دیکها. ..
وہ کون تها. ..؟ کوئی خواب..کوئی حقیقت کوئی معجزہ.... یا رحمت کا فرشتہ....ہر مصیبت میں ہر وقت وہ اسے کیسے بچا لیتا تها. ..انوشیر نے اس کا ہاتھ پکڑا اور باہر کی جانب بڑها. ...وہ اسے اس حالت میں تنہا نہیں چهوڑ سکتا تها .رو رو کر اس کی آنکهیں سوجهی ہوئی تهیں وہ کس تکلیف سے گزری ہوگی...انوشیر اندازہ بھی نہیں کر سکتا تها.....
وہ دونوں باہر نکل آئے...لیکن اس دن سب سے بڑا واقعہ یہ ہوا تها اس ریڈ لائٹ ایریا میں ریڈ پڑا تها....ان دونوں کئی نیم برہنہ لڑکیوں اور لڑکوں کو ادهر ادهر بهاگتے دیکها....پورے علاقے کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا تها....
سبهی اپنی جان بچانے کے لیے ادهر ادهر بهاگ رہا تهے...ہر طرف لنڈن یونیفارم میں ملبوس پولیس والے ہی نظر آ رہا تھا. .کسی کے لیے بھی بچ نکلنا مشکل تها...کیونکہ اندر باہر پولیس تهی...وہ دونوں بھی حواس باختہ ہو کر ایک دوسرے کو دیکهنے لگے...قدم آگے بڑهنے سے انکاری ہو چکے تهے. ...وہ جس ایریا میں تهے وہ دونوں بھی وہاں کا حصہ سمجهے جاتے...کوئی ان کے لاکھ یقین دہانی کرانے پر بھی یقین نہیں کرتا....
ایک ہال نما گیلری میں اس وقت وہ سب کهڑے تهے...جو جو اس دلدل میں راتیں گزارنے آئے تهے وہ سب ایک قطار میں کھڑے تهے....انوشیر اور آیت کو بھی اس قطار میں کھڑا کیا گیا. .آیت مسلسل روئے چلی جا رہی تهی اور انوشیر اسے آنکهوں ہی آنکهوں میں تسلی دے رہا تها. .......
پولیس کے اہلکار ان کے سامنے کهڑے تهے..ان کا سربراہ وہ سرخ بالوں والی عورت گرفتار ہو چکی تهی....ان سب کا جو حاکم تها جو سب سے بڑے عہدے پر فائز تها وہ ایک صوفے پر بیٹها سب لڑکے لڑکیوں کو گهور رہا تها. ..سب نگاہیں جهکائے کهڑے تهے....وہ سب شریف اور امیر گھرانوں کے بگڑے شہزادے تهے جو تهوڑی دیر پہلے مستی میں مگن تھے ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ان کے ساتھ یہ سب ہونے والا ہے. .
انوشیر پورے اعتماد کے ساتھ سینہ تان کر کهڑا تها کیونکہ وہ مجرم نہیں تها...اس پولیس افسر نے کهنکهار کر گلا صاف کیا. . ..
" تم سب لوگ میری بات سنو.". .اس پولیس نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا...وہ انگریزی میں بات کر رہا تھا اور چہرے سے ہی کافی کرخت نظر آ رہا تھا. سبهی اسے دیکهنے لگے. ...
" تم سبهی لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے. .تم میں سے کوئی کتنے ہی بڑے باپ کا بیٹا کیوں نہ ہو کسی کی بھی سفارش منظور نہیں کی جائے گی...اور اگر تم لوگوں نے قانون کو ہاتهوں میں لینے کی کوشش کی تو انجام بہت برا ہو سکتا ہے". . ..
" اریسٹ دیم..".اس نے حکم دیا.....
سبهی ہکا بکا ہو کر ایک دوسرے کو دیکهنے لگے...سرگوشیوں میں باتیں شروع ہوئیں...آیت اور انوشیر نے ایک دوسرے کو دیکها. اس کی آنکھوں میں ایک بے بسی تهی. ...جب ایک اہلکار آیت کو گرفتار کرنے پہنچا تبهی وہ آگے بڑھا. ...
" سر اسے گرفتار مت کیجئے. "....آیت رو رہی تهی. .
" کیوں بے...بہن لگتی ہے تیری." ....صوفے پر بیٹهے پولیس افسر نے پوچها...وہ اس کی گالی کو ضبط کر گیا.. وہ مزاجاً ایسا تها یا نہیں لیکن اس پولیس افسر کو یہاں کے ماحول نے غصہ دلا دیا........
"شی از مائی وائف سر...: "( یہ میری بیوی ہے )
اس نے بات سنبھالنے کے لیے سراسر جهوٹ بولا. .آیت نے منہ کهول کر حیرت سے اسے دیکها..اسے نہیں معلوم تها یہ معمولی جهوٹ اس کے گلے پڑ جائے گا.... ...وہ پولیس افسر کهڑا ہوا...اور ان کے پاس آیا.....
اب وہ انوشیر سے سوال کر رہا تھا ....کب ہوئی "شادی...کہاں ہوئی. ..کوئی گواہ.....یہاں کیا کرنے آئے..".انوشیر نے اسے کچھ سچ جهوٹ ملا کر یہاں آنے کی کہانی سنائی......لیکن وہ پولیس والا تها اپنی شکی عادت سے مجبور. ..ان کی کسی بھی کہانی پہ ظاہر ہے اس نے یقین نہیں کرنا تها....وہ دونوں اس وقت جہاں کهڑے تهے اول تو شریف آدمی وہاں آتے نہیں تهے اور اگر آتے بھی تهے تو وہ شریف نہیں ہوتے تهے.....
" میریج پیپرز ہیں.."؟ اس پولیس افسر نے پوچها. ..
" نہیں وہ..وہ...گهر میں پڑے ہوئے ہیں". .انوشیر نے روانی سے جهوٹ بولا. .آیت ڈری ہوئی تھی ....
" تو ...تم لوگوں کو جیل چلنا پڑے گا." ...وہ غصے سے بولا...آیت جیل کا نام سن کر ہی کانپ گئی. ..
"مجهے جیل نہیں جانا..".انوشیر نے اسے آنکهوں سے ریلکس ہونے کا اشارہ کیا. ....
" ہم کیوں جیل جائیں...ہم نے کوئی کرائم تو نہیں کیا. .اور آپ کا قانون یہ تو نہیں کہتا کسی بے گناہ کو سزا ملے....".دوسرے پولیس والے باقی لڑکے لڑکیوں کو گرفتار کر کے لے جا چکے تھے. .ہال میں وہی کهڑے تهے ان کا معاملہ زیر بحث تها......
قانون کیا کہتا ہے ہمیں مت سکهاو....اگر بے گناہ ہو تو ثبوت لاو یا پهر منگواو نہیں تو ہم جو کرتے ہیں ہمیں کرنے دو.......
."اوکے...ہم آپ کو اریسٹ نہیں کریں گے. .رول کے مطابق آپ کوئی پروف پیش کریں یا کوئی وٹنس یا پھر.
سر پلیز ہماری مجبوری سمجھیں. ...
آپ ہماری مجبوری سمجھیں مسٹر آپ کہہ رہے ہیں یہ آپ کی بیوی ہے اور آپ کے پاس کوئی ثبوت کوئی گواہ نہیں ہے اور ریڈ لائٹ ایریا میں کوئی اپنی بیوی کو لے کر نہیں گهومتا...... آپ کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو ثبوت اور گواہ پیش کریں یا پھر. ......
یا پھر. ...؟ انوشیر اور آیت نے الجھ کر اسے دیکھا. ...
یا پھر اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے تم دونوں ہماری آنکھوں کے سامنے شادی کرو....
اس نے اطمینان سے کہا...جب کہ ان دونوں پر کسی نے جیسے بم گرا دیا ہو......دونوں نے پهٹی نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکها. ................
آیت اور انوشیر پولیس کے ہاتھ لگ چکے تھے انوشیر نے ایک جهوٹ بولا لیکن پولیس نے پهر ایک عجیب شرط عائد کر دی.......
اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے تم دونوں ہماری آنکھوں کے سامنے شادی کرو....
اس نے اطمینان سے کہا...جب کہ ان دونوں پر کسی نے جیسے بم گرا دیا ہو......دونوں نے پهٹی نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکها. ....
"سوچ لو جو سہی لگے دس منٹ ہیں تم لوگوں کے پاس.".آیت ایک بار پھر رونے لگی وہ پولیس والا جا کر صوفے پر بیٹھ گیا. ..انوشیر نے " اب کیا کریں " والی نگاہوں سے آیت کی طرف دیکها.......
آیت کی نگاہوں کے سامنے دونوں جہان گهوم رہے تھے. .ایک مشکل کے بعد دوسری مشکل ایک مصیبت کے بعد اس سے بڑی مصیبت. ...
سب کچھ آنکھوں کے سامنے تها اس نے ذہن کو تھوڑا بہت سوچنے پر لگا دیا. .....
"اگر میں جیل میں گئی تو سب ختم ہو جائے گا. .یہ بات میڈیا پہ اچهالی جائے گی میری تصویریں نکالیں جائیں گی...میری بہت بدنامی ہوگی. .میرا سارا کیریئر برباد ہو جائے گا. ..لنڈن آنا میرا سب سے بڑا خواب تها اور میرا خواب ادهورا رہ جائے گا..میں بہت منتیں کر کے آئی ہوں یہاں... اور یہ بات پاکستان میں بھی پهیل جائے گی ابو میری جان لے لیں گے." ....
وہ روتے ہوئے جیسے آپ نے آپ سے مخاطب تهی....

" تو .کیا کریں.."..؟ انوشیر نے پوچها. ...اس نے پر امید نگاہوں سے انوشیر کی طرف دیکها. .اس کا انداز ایسے تها جیسے کہہ رہا ہو تم اگر جان بھی مانگو گی تو دوں گا.....
"میں جانتی ہوں میں بہت مطلبی ہوں آپ کو میری وجہ سے پہلے بھی کئی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے...لیکن یوں اس طرح زندگی کے اس موڑ پر میرے خواب ٹوٹنے نہ دیں...مجهے بازار میں ننگا ہونے سے بچا لیں...آپ ہی ایسا کر سکتے ہیں. ..میں جانتی ہوں یہ مشکل ہے لیکن. ..لیکن آپ پلیز مجھ سے نکاح کر لیں.....پلیز." .وہ ہاتھ جوڑ کر رو رہی تھی. . انوشیر کچھ لمحے اسے دیکهتا رہا ...
"آپ کو کیا لگتا ہے. ..میں آپ کو رسوا ہونے دے سکتا ہوں...".آیت نم آنکھوں سے مسکرا دی. . .
اور پهر وہ ہوا جو کسی نے بھی نہیں سوچا...ان دونوں نے پولیس کو ہاں کہہ دی اور انہیں بتایا وہ اسلامی طریقے سے نکاح کرنا چاہتے ہیں. ..اس پولیس افسر نے فوراً ہی کسی نکاح خواں کا انتظام کیا. .یہ اس کے لیے مشکل کام نہیں تها...اور ایک گهنٹے کے اندر اندر ان دونوں کا نکاح ہوگیا...اور وہ اس مشکل سے آزاد ہو کر ایک نئے رشتے کے ساتھ بندھ گئے....جب وہ اس ریڈ لائٹ ایریا سے باہر نکلی تب تک سب کچھ بدل چکا تها. .رشتے بدل چکے تھے رشتوں کے مطلب بدل چکے تهے. .جو شخص اس کے لیے اجنبی تها کهبی اب وہی شخص اس کا شوہر تها....وقت کتنی تیزی سے چلتا ہے ناں..انسان کو سوچنے سمجهنے کا موقع ہی نہیں ملتا اسے بھی موقع نہیں ملا....بس فیصلہ سنا دیا گیا تها. .ایک ہی رات میں زندگی اسے کہاں سے کہاں لے آئی. کتنا لمبا سفر طے ہو گیا ....اسے نہیں معلوم جو ہوا وہ سہی تها یا غلط لیکن جب جب جو جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے کسی کے لاکھ چاہنے کے باوجود قسمت کا لکها بدل نہیں جاتا....شاید لندن کی سرزمین میں اس کے ساتھ یہی سب ہونا لکها تها. ..انسان کیا کیا سوچتا ہے اور ہو کیا جاتا ہے. .انسان زندگی میں اپنی مرضی کے فیصلے کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان فیصلوں کو رد کر کے کہتا ہے ہوگا وہی جو میں چاہوں گا. ....
یہ فیصلہ بھی اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے کیا ہوگا...اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے کهبی غلط نہیں ہوتے...وہ خشک آنکهیں لیے خاموش تهی جیسے اب بولنے کے لیے کچھ باقی ہی نہ رہا ہو. ..واقعی اب بولنے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا تها...انوشیر اسے بائیک پر بٹها کر اپنے اپارٹمنٹ لے آیا....اور اسے بیڈ پر بٹها دیا.....اتنی رات کو اسے ہوسٹل میں داخل ہونے کی اجازت نہیں مل سکتی تهی.....
وہ حیران نگاہوں سے ادهر ادهر دیکهنے لگی...یہ سب کچھ اجنبی تها اس کے لیے. ..وہ دن میں غیر لڑکوں کے کمرے میں آنے سے ڈرتی تهی اور آج رات وہ اس کمرے میں اس بیڈ پر بیٹهی تهی. ..کیونکہ اسے حق حاصل تها وہ شخص اب اس کے لیے غیر کہاں تها وہ تو اسلامی طریقے سے اس کا شوہر بنا تها اور اس نے خود ہی تو قبول کیا....وہ نکاح کے دوران بھی گم سم بیٹهی رہی جب اسے قبول ہے کرنے کے لیے کہا گیا تبهی اس نے قبول ہے کہا......وہ اس شخص کو اپنی مرضی سے قبول کر چکی تهی. ..اور وہ شخص کیا اسے وہ زبردستی تهوپ دی گئی. ..کیا وہ اس رشتے سے خوش نہیں ہے. ...کیا اس نے محض اس کی عزت بچانے کے لیے نکاح کیا ہے ....
" یوں کوئی کسی کے لیے اتنا سب کچھ نہیں کرتا.."..
پوجا کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے.. تو کیا کچھ اور بھی ہے....اس سمجھوتے کے علاوہ...ہونہہ تقدیر نے کیسا مذاق کیا تها اس بے بس لڑکی کے ساتھ ..وہ اس کے لیے پانی لے آیا تها...وہ بنا کچھ کہے پانی پینے لگی...وہ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا اس نے آیت کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتهوں میں لے لیا. ..اسے یاد پہلے جب کهبی وہ اس کا ہاتھ پکڑتی تو وہ خود ہی چهڑا لیتا لیکن اب وہ اختیار رکهتا تها صرف اس کے ہاتھ پر نہیں اس کے پورے وجود پر .....
آپ تهک گئیں ہوں گی تهوڑا آرام کر لینا. ...
وہ کہہ رہا تها. .وہ کچھ نہیں بولی ایک خاموش مجسمے کی طرح بیٹهی ہوئی تھی وہ تو واقعی پتهر بن گئی. .انوشیر نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر لیٹایا اور اس پر کمبل اوڑھ دی....اور خود جا کر صوفے پر لیٹ گیا....
وہ اس کی مشکور تهی...ہمیشہ سے آج بھی. ..
صبح جب اس کی آنکھ کهلی تب تک انوشیر ناشتہ بنا چکا تها ..وہ ہاتھ منہ دهونے کے لیے واش روم گئی کل کی نسبت اس نے آج خود کو ہلکا پھلکا محسوس کیا.جب وہ باہر آئی...تو. وہ ناشتہ لیے اس کا منتظر تها...
وہ وہیں بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی. .اس نے اسے کهانے کو کہا لیکن وہ اپنے کانپتے ہاتهوں سے کچھ کها نہیں پا رہی تهی. ..اس کے ہاتھ کیوں کانپ رہے تھے سردی کی وجہ سے یا کچھ اور وجہ تهی ....؟
انوشیر اپنے ہاتهوں سے اسے ناشتہ کرانے لگا .وہ بھی بنا مذاحمت کے ناشتہ کر رہی تهی. ..دن کے دس بجے وہ اسے اپنی بائیک پر لے کر یونیورسٹی پہنچا...بائیک روک کر اس نے آیت کا ہاتھ پکڑا اور اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا ....اندر داخل ہوا. اسے سامنے ہی پوجا دکهائی دی جو کسی بات پر ہنس رہی تھی ان دونوں کو یوں سا دے کر اس کی ہنسی کو بریک لگ گئی...وہ حیران اور تاسف سے انہیں دیکھ رہی تھی. .
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
"تم کہیں جا رہی ہو پوجا. ...؟" آیت نے پوجا سے پوچها وہ روتے ہوئے اپنا سامان پیک کر رہی تهی. ..وہ جواباً کچھ نہیں بولی اور بیگ میں اپنے کپڑے رکهنے لگی....
"پلیز بتاو پوجا تم کہاں جا رہی ہو...".اس نے پوجا کو بازوؤں سے پکڑا. ....
"میں انڈیا جا رہی ہوں...ہمیشہ ہمیشہ کے لیے. .".وہ پوجا کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی.....
لیکن تم اس طرح. ..مطلب تمہاری پڑهائی تو ادهوری ہے ..وہ حیران ہوئی....
جہاں محبت ہوتی ہے وہ کچھ اور نہیں سوچا جا سکتا کوئی کچھ سوچ بھی نہیں سکتا...یہ بات تم نہیں " سمجهو گی جب تمہیں کسی سے محبت ہوگی تب تمہیں سمجھ آئیں گی میری باتیں......"وہ آنسو پونچھ کر بتا رہی تھی. .....
"آئم سوری پوجا. ..لیکن میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا"...سب انجانے میں ہو گیا....وہ پوجا سے معذرت کر رہی تهی. ...
" معافی تمہیں نہیں مجهے مانگنی چاہیے. ..میں نے بہت غلط کیا تمہارے ساتھ. ..لیکن میں صرف دل سے مجبور تهی . .میں نے انوشیر کی محبت میں ہی یہ سب کیا ہے میں اندهی ہو گئی مجهے کچھ نظر نہیں آیا...لیکن تم پلیز مجهے غلط مت سمجهنا میں اتنی بری نہیں ہوں...."..
"میں تم سے ناراض نہیں ہوں پوجا. .میں سمجھ سکتی ہوں محبت انسان کو کچھ بھی سوچنے سمجهنے کے قابل نہیں چهوڑتا...لیکن تم اس طرح یوں تو مت جاو پلیز. ....."پوجا بیگ میں کپڑے ڈالتے ڈالتے رک گئی اس نے آیت کی آنکھوں میں دیکها. .....
"مجهے جانا چاہیے مجهے نہیں معلوم یہاں رہ کر میں اور کون سا تماشا کروں گی اور سچ پوچھو تو میں یہ دیکھ ہی نہیں سکتی انوشیر کسی اور سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا مجهے نہیں چاہتا میں برداشت کر لوں گی لیکن وہ میری آنکھوں کے سامنے کسی اور کو چاہے کسی اور کو پسند کرے یہ برداشت نہیں ہوگا مجھ سے. .. میں نے کل رات تم سے کہا تها اگر تمہاری محبت سچی ہوئی تو وہ تمہیں ضرور ملے گا اور وہ تمہیں ملے گا اپنے وعدے کے مطابق مجهے اب پیچھے ہٹ جانا چاہیے. ...".....آیت کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے اس نے پوجا کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ پر اپنے برابر بٹهایا. ..
"مجهے ساری زندگی افسوس رہے گا میری وجہ سے تمہیں تمہاری محبت نہیں مل سکی...کاش مجهے پتا ہوتا تو میں کهبی لنڈن نہیں آتی...مجهے نہیں پتا تھا میں یوں کهبی اس طرح کسی کے دل توڑنے کی وجہ بنوں گی. ."....آیت نے کہا......
"افسوس تو مجهے رہے گا...آخری سانس تک میں نے تم جیسی پیاری دوست کا بهروسہ توڑا...اور تمہیں کانٹوں پر پهینک دیا...اور انوشیر میرا کهبی نہیں تها اگر وہ تمہارا نہ بھی ہوتا تب بھی وہ میرا نہیں تها......لیکن تمہیں معلوم ہے وہ تمہیں پہلے سے جانتا تها. .اس کی آنکھوں میں دیکھ کر ایسا ہی لگتا ہے مجهے.".....
پوجا نے نے اس کے گالوں کو چهو کر کہا. .
"تو کیا انوشیر اسے پہلے سے جانتا تها مگر کیسے"...؟
وہ ایک بار پھر سے الجهی. ...لیکن اگلے ہی لمحے پوجا کی طرف متوجہ ہو گئی....
" پوجا پلیز مت جاو."....

"جانا تو مجهے پڑے گا..میں یہاں نہیں رک سکتی اور تم پلیز مجهے خوشی خوشی وداع کرو...اگر یوں روتے ہوئے وداع کیا تو میں ساری زندگی پریشان رہوں گی..میں تمہیں ہمیشہ یاد رکهوں گی...تمہارے ساتھ گزارے دن میری زندگی کے بہت خوبصورت دن تهے...تم بہت یاد آو گی آیت. ..."......
وہ رو رہی تھی. ...وہ دونوں ہی رو رہی تهیں..پوجا نے روتے روتے اپنا بیگ اٹهایا...وہ اس کے ساتھ باہر تک آئی. .پهر سیڑهاں عبور کر نیچے پہنچی. ..مائیکل گاڑی میں پوجا کی منتظر تهی. .مائیکل نے اسے معذرت خواں نگاہوں سے دیکها. ...
"میں تمہیں بہت بہت مس کروں گی پوجا. "..وہ پوجا سے آخری بار گلے ملی تھی. ....
"میں بهی." .پوجا نے اس کا گال چوما اور گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی. .وہ است دیکهتی رہی گاڑی سٹارٹ ہوئی پوجا جاتے ہوئے ہاتھ سے اسے الوداع کہہ رہی تھی اور وہ سوچ رہی تهی زندگی میں آخری الوداع کتنی کهٹن ہوتی ہے. .
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
شام کی اداسی اس کی آنکھوں میں اتر آئی تهی...اس نے نہیں سوچا تها وہ پوجا کو اتنا مس کرے گی..زندگی میں جو لوگ بہت قریب ہوتے ہیں چاہے وہ اچهے ہوں یا برے جب وہ اچانک بچهڑ جاتے ہیں تو درد ہوتا ہے. ....
اور وہ جانتی تھی پوجا بری نہیں ہے. .اس نے صرف پیار میں اندهی ہو کر غلط کیا ہے. .اور اب جب وہ چلی گئی تو اسے لگا وہ سارے جہان کی خوشیاں سمیٹ کر لے گئی. .اس کے ساتھ اس نے اتنا اچها وقت گزارہ تها زندگی کی کچھ خوبصورت یادیں تهیں...وہ ان لمحوں کو کهبی بهول نہیں سکے گی...یہ وقت اسے بہت یاد آئے گا.....کاش زندگی میں آخری الوداع نہیں ہوتا. .تو کوئی بھی اداس نہیں ہوتا...یہ احساس کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے جس سے محبت کرو جس کو چاہو اسے پهر ہمیشہ کے لیے کهو دو...وہ چیز ملتی ہی کیوں ہے جو ہماری ہوتی ہی نہیں ....جانے پوجا اب کہاں ہوگی...کیسی ہوگی...کیا وہ اسے یاد کرتی ہوگی...
اور وہ خود تو صبح شام اسے یاد کرتی ..کمرے میں ہر جگہ وہی نظر آتی....اف اس کی باتیں اور اس کے بوائے فرینڈز. ....
انوشیر کے ساتھ اس کا نیا رشتہ بندها تها اور یہ سب اس کے لیے غیر متوقع تها ..اسے نہیں معلوم تها اسے کیسے ری ایکٹ کرنا چاہیے. ..اسے خوش ہونا چاہیے یا اداس....وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تهی. ....
انوشیر میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی وہ پہلے سے بھی زیادہ اس کا خیال رکهنے لگا تها..اور وہ بھی اس رشتے کو قبول کرنے کی کوشش کر رہی تهی..کیونکہ اسے یہی کرنا تها اب....اس نے نہیں سوچا تها یوں لنڈن میں اس کا نکاح ہو جائے گا لیکن اب جب کہ یہ ہو چکا ہے تو اسے سوچنا تها.....
اسے رشتے کو بنائے رکهنا چاہیے یا ختم کر دینا چاہیے. .کهبی کهبی وہ سوچنے بیٹھ جاتی...کهبی وہ اسے توڑنے کے بارے میں سوچتی ...ایسے کیسے نکاح ہو سکتا ہے اور یوں وہ پاکستان جا کر کیا جواب دے گی جب سب سوال کریں گے. ..وہ سب کا سامنا کیسے کرے گی . . .لیکن کهبی وہ اس رشتے کو قائم رکھنے کے بارے میں سوچتی....
ہو سکتا ہے ان دونوں کا ملنا کوئی اتفاق نہ ہو..یہ سب تقدیر کاتب کا فیصلہ ہو...پوجا کا ان کی زندگی میں آنا انوشیر کو اس کے مزید قریب لانا اور اچانک نکاح ..اس ناول کا ہیرو جو اسے بہت پسند تها...وہ جانتی تهی انوشیر اس سے زیادہ خوبصورت ہے اور اس سے زیادہ اچها ہے...کیا اسے اس کے خوابوں کا شہزادہ مل گیا ..کیا وہ انوشیر تها....
کیا اس سے انوشیر جتنی محبت کوئی اور کر سکتا ہے...کهبی نہیں. . دل نے جواب دیا...اس جیسا شخص اس دنیا میں ہے ہی نہیں. .دنیا میں دوسرا ایسا انسان نہیں ہے جو اس سے اتنی محبت کرے.....
وہ شخص سائے کی طرح ہمیشہ اس کے ساتھ تها اس نے کئی بار اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس کی زندگی بچائی....انوشیر نے اس رشتے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی. ..وہ فیصلہ اس پر چهوڑ چکا ہے شاید. ..اس رشتے کی وجہ سے ان کی زندگیوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی لیکن کچھ نہ کچھ چینج ہو گیا تها...جیسے پہلے انوشیر اس کا ہاتھ پکڑنے سے کتراتا تها اب ہمیشہ اس کا ہاتھ پکڑ کر چلتا. ..اسے اپنے ہاتهوں سے کهانا کهلاتا ..اس کی ضرورت کی ہر چیز اپنے پیسوں سے خرید کر اسے دیتے...وہ مشرقی شوہروں والے سارے فرض نبها رہا تها اور وہ خود بھی ایک مشرقی بیوی بننے کے کوشش کر رہی تهی جیسے پہلے کی طرح وہ انوشیر کے ساتھ ہنس کر کهلکلا کر بات نہیں کرتی تهی. ..اس کے ساتھ مذاق نہیں کرتی تهی ...اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس نے کهبی بات نہیں کی...اب وہ اس کی آنکهوں میں دیکهنے سے کتراتی تهی . انوشیر یقیناً اس کی اس تبدیلی کو محسوس کر رہا تھا. . ...لیکن وہ خود اب بنا کسی خوف کے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر ہی بات کرتا اور پہلے کی طرح شرماتا نہیں تها...پہلے اگر وہ اس سے بات کرتا تو ادهر ادهر دیکھ رہا ہوتا ......
بہت زیادہ رومینٹک تو خیر وہ اب بھی نہیں تها..مزاج اس کا اب بھی ہمیشہ کی طرح سنجیدہ اور سڑیل تها لیکن وہ پہلے کی نسبت کافی بدل چکا تها........
اور جانے کیوں اسے یہ تبدیلی اچهی لگ رہی ..
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اس دن جب وہ بیدار ہوئی تو اس نے اپنے آس پاس گلاب کی خوشبو کو محسوس کیا. .بے ساختہ اس کی نظر سامنے رکهے گلدان پر گئی...جہاں تازے گلاب لگے ہوئے تھے .وہ مسکرا دی.. لیکن حیران نہیں ہوئی کیونکہ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا تها جب سے اس کا نکاح ہوا تھا انوشیر یونہی تازے خوبصورت پهول لا کر وہاں سجا دیتے....اسے نہیں معلوم تها وہ اتنی صبح یہ پهول کہاں سے لاتا ہوگا. ....لیکن لال گلاب محبت کی نشانی ہوتی ہے یہ وہ ضرور جانتی تهی..........
وہ اس نکاح کو قبول کر چکا ہے اور اس سے خوش ہے یہ وہ سمجھ رہی تھی لیکن وہ خود ابهی بهی الجهن میں تهی اس رشتے کو لے کر. ..کمبل ہٹا کر وہ واش روم میں گئی...منہ ہاتھ دهونے کے بعد وہ اپنے لیے ناشتہ بنانے چلی گئی. .....
اور کاونٹر پر بڑا سا شاپر دیکھ کر بھی وہ نہیں چونکی اور مسکرا دی...پهر اسے یاد آیا انوشیر روزانہ اس کے لیے ریڈی میڈ ناشتہ لاتا تها....وہ شاپر اٹها کر باہر آئی اور سوچ میں پڑ گئی اسے اس سب کے بدلے کیا کرنا چاہیے. .. محبت کا جواب محبت سے دینا چاہیے. ....؟
ناشتے کے بعد وہ نہا کر تیار ہوئی...ایگزامز میں کچھ ہی دن باقی تهے اور وہ مکمل تیاری کر رہی تهی. .وہ شام تک کمرے میں گهسی رہی اس دوران انوشیر نے کئی میسج بھی کیے....جن میں وہ اس سے ملنے کی درخواست کر رہا تھا لیکن اس نے معذرت کر کے بتا دیا وہ ابهی پڑھ رہی ہے اور امتحانات کے دنوں میں وہ اپنی مصروفیات کم کرنا چاہتی ہے. ......
شام کے وقت وہ یونہی یونیورسٹی سے باہر نکل آئی..موسم کافی خوشگوار تها وہ سڑک پر چہل قدمی کرتی رہی ....پارک یہاں سے زیادہ دور نہیں تها اس لیے اس نے پارک جانے کا فیصلہ کیا. ..دس منٹ بعد وہ پارک کے اندر تهی....اس وقت پارک میں لوگ زیادہ نہ تهے ...وہ آس پاس دیکهتی آگے بڑھ رہی تهی لیکن سامنے بنچ پر بیٹهی اس اداس بچی نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا. .....
وہ خوبصورت نو دس سال کی بچی جس نے گلابی رنگ کی فراک پہنی تهی...ہتھیلی ٹهوڑی تلے دیے کافی اداس نظر آئی اسے...وہ اپنے قدم روک نہیں سکی ایک نے اختیار سی کیفیت میں اس کے قدم آگے بڑهنے لگے.......
وہ اس بچی کے پاس آئی ..اور اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی ..وہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوئی....
" ہائے وٹس یو آر نیم "..؟ ( تمہارا نام کیا ہے)
اس نے بچی سے پوچها. .وہ بچی پہلی بار اس کی طرف متوجہ ہوئی اس کی آنکھوں میں ایک الجهن پیدا ہو گیا.....
"گڑیا.."..وہ بڑی معصومیت سے بولی. ...وہ کچھ لمحے اسے دیکهتی رہی وہ حیران ہوئی وہ لڑکی اسے پاکستانی لگی......
" تم اردو بول سکتی ہو."..؟
" ہاں.."...


0 Comments: